Category Archives: Uncategorized

اصلی شہد

Standard

اصلی شہد
فرید صاحب امریکہ کے دورے سے واپس لوٹے تو ان کے جسم میں جگہ جگہ گرمی دانے نکل آئے پھر پھنسیاں نکلیں اور بعد میں ایک پھوڑا بھی نکل آیا۔ محلہ میں ایک پرانے حکیم صاحب رہا کرتے تھے۔ جب ان کو دکھایا تو انھوں کہا کہ بیرونی ملک میں الٹی سیدھی غذا کھانے سے فساد خون کی بیماری پیدا ہو گیپ ہے۔ ایک ماہ دوا کھائیں اس کے بعد اصلی شہد روزانہ صبح کو ایک چمچہ پی لیا کریں ان شاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ فرید صاحب نے دوا لی اور ایک ماہ نہایت اہتمام سے استعمال کی۔ الحمد للہ ٹھیک ہو گئے لیکن کمزوری باقی رہی تب ان کو شہد کی ضرورت پیش آئی اپنے بیٹے انس کو انھوں نے شہد لانے کے لئے بازار بھیجا اور وہ دو سو روپیہ میں فرانس کی بنی ہوئی عمدہ شہد کی شیشی لے آئے جب انس میاں حکیم صاحب کو شہد دکھانے گئے تو انھوں نے پوچھا یہ شہد کہاں سے لیا انس نے بتایا کہ وہ بڑے بازار میں وہاں گئے جہاں بہت سی اعلیٰ قسم کی شہد کی دوکانیں تھیں بڑے بڑے شو کیس میں شہد کی شاندار بوتلیں رکھی تھیں دوکانیں برقی روشنی سے چمک رہی تھیں۔
کافی لوگ ان دوکانوں سے شہد خرید رہے تھے جن پر بڑے بڑے بورڈ ’’شفائے کامل‘‘ اور ’’علاج عاجل‘‘ کے لگے ہوئے تھے۔ حکیم صاحب یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا کہ یہ شہد اسی دوکان پر واپس کر آؤ۔ در اصل آج کل اصلی شہد کی پہچان بہت مشکل ہے۔ لوگ بڑے بڑے بورڈ اور چمکتی ہوئی دوکانوں کے دھوکے میں آ جاتے ہیں جو شہد مغرب سے آتا ہے اس میں معجون شباب آور قسم کی دوا ملی ہوتی ہے۔ جس کے استعمال سے انسان کی جنسی ہوس بڑھ جاتی ہے اور وہ اس کو اچھا سمجھتا ہے۔ لیکن چند ہفتہ بعد اس میں دوگنی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ جو شہد مشرق سے آتا ہے اس میں نشہ آور دوا ملی ہوتی ہے۔ جس سے انسان پر نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ فائدہ ہو رہا ہے۔ لیکن کمزوری اپنی جگہ باقی رہتی ہے۔
حکیم صاحب نے انس سے کہا اسی بازار کے آخر میں ایک پرانی دوکان ہے جس پر اسلم نا م کا شخص بیٹھا ہے میں اس کے دادا سے شہد لیا کرتا تھا۔ تم وہاں جاؤ۔ انس نے چمک کر کہا میں نے وہ ٹوٹی پھوٹی دوکان دیکھی ہے اس پر لکھا ہے اصلی شہد جو فساد خون کو دور کرتا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا جو آدمی دوکان پر بیٹھا ہے خود وہ فساد خون کا مریض ہے۔ اور اس کے بدن پر پھنسیاں نکلی ہوئی ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ جب تمہارا شہد خون صاف کرتا ہے تو تم خود کیوں استعمال نہیں کرتے۔ اس پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حکیم صاحب نے کہا اس بدحالی اور بیماری سے اصلی شہد کے خواص پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جو بھی اسے صحیح طور پر استعمال کرے گا فائدہ اٹھائے گا۔ تم اس کی بد حالی کو مت دیکھو اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔ تم وہی اصلی شہد لے کر آؤ جس کے مقابلے کا پورے بازار میں کوئی دوسرا شہد نہیں ہے۔ تم کو اپنے علاج سے غرض ہے۔اپنی صحت کی فکر کرو۔
میں نے جب یہ قصہ مولانا رشیدالدین صاحب کو سنایا تو انھوں نے چمک کر کہا یہ تو ہمارے دین اسلام کی کہانی ہے لوگ اصلی شہد چھوڑ کر ملاوٹی شہد خریدتے ہیں اور دوکانوں کی چمک دمک پر چلے جاتے ہیں لیکن اصلی طالب پرانی دوکان پر ہی جاتے ہیں چاہے بیچنے والا خود استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بیمار دکھائی دے۔ اس کی بدحالی اس کی بے عملی کا نتیجہ ہے اصلی شہد میں آج بھی شفا موجود ہے۔
٭٭٭
موت کا تختہ
ایک بار شہر میں سالانہ کھیلوں کا مقابلہ ہو رہا تھا دور دور سے کھلاڑی اس مقابلے میں شرکت کے لئے آئے۔ جب پانچ کلو میٹر کی دوڑ کا دن آیا تو کئی درجن لوگوں نے اس میں شرکت کی ، دوڑ قریب کے ایک گاؤں سے شروع ہو کر اسٹیڈیم پر ختم ہونی تھی راستہ میں ایک لکڑی کا پل بھی پڑتا تھا۔ سب تیاری کے بعد صبح سات بجے ریس شروع ہوئی ، بائیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان آگے نکل رہا تھا پل تک پہونچتے پہونچتے اس نے سارے دوسرے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا اب پل پر وہ سب سے آگے جا رہا تھا اس کی نظر اسٹیڈیم کے جھنڈے پر تھی جو بس ایک کلو میٹر باقی رہ گیا تھا۔
لیکن یہ کیا اچانک پل کا ایک تختہ ٹوٹا اور وہ خوبصورت نوجوان نیچے گرتے ہی دریا کی موجوں میں غرق ہو گیا ،لوگ دریا کی طرف دوڑ پڑے سارا کھیل خراب ہو گیا ، غوطہ خوروں نے ایک گھنٹہ بعد اس کی لاش کنارے پر لا کر رکھ دی۔ لوگ رو رہے تھے سینہ پیٹ رہے تھے۔ ایک بوڑھے آ دمی نے کہا ا س کا وقت آگیا تھا اس کو کوئی آگے پچھے نہیں کر سکتا۔ لوگوں کو اس واقعہ پر عجیب حیرت ہوئی۔
دراصل یہ دنیا ایک ریس کورس ہے اس میں جگہ جگہ پل ہیں جن میں بہت سے لکڑی کے تختے لگے ہوئے ہیں ہر شخص پیدا ہوتے ہی اس میدان میں دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ دور سے اس کو امیدوں کے جھنڈے نظر آنے لگتے ہیں وہ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہو جاتا ہے۔ سانس پھول جاتا ہے لیکن دوڑتا رہتا ہے۔
ایک بار شہر میں سالانہ کھیلوں کا مقابلہ ہو رہا تھا دور دور سے کھلاڑی اس مقابلے میں شرکت کے لئے آئے۔ جب پانچ کلو میٹر کی دوڑ کا دن آیا تو کئی درجن لوگوں نے اس میں شرکت کی ، دوڑ قریب کے ایک گاؤں سے شروع ہوکر اسٹیڈیم پر ختم ہونی تھی راستہ میں ایک لکڑی کا پل بھی پڑتا تھا۔ سب تیاری کے بعد صبح سات بجے ریس شروع ہوئی ، بائیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان آگے نکل رہا تھا پل تک پہونچتے پہونچتے اس نے سارے دوسرے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا اب پل پر وہ سب سے آگے جا رہا تھا اس کی نظر اسٹیڈیم کے جھنڈے پر تھی جو بس ایک کلو میٹر باقی رہ گیا تھا۔
لیکن یہ کیا ۔۔۔۔اچانک پل کا ایک تختہ ٹوٹا اور وہ خوبصورت نوجوان نیچے گرتے ہی دریا کی موجوں میں غرق ہو گیا ،لوگ دریا کی طرف دوڑ پڑے سارا کھیل خراب ہو گیا ، غوطہ خوروں نے ایک گھنٹہ بعد اس کی لاش کنارے پر لا کر رکھ دی۔ لوگ رو رہے تھے سینہ پیٹ رہے تھے۔ ایک بوڑھے آ دمی نے کہا ا س کا وقت آگیا تھا اس کو کوئی آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔ لوگوں کو اس واقعہ پر عجیب حیرت ہوئی۔
دراصل یہ دنیا ایک ریس کورس ہے اس مںم جگہ جگہ پل ہیں جن میں بہت سے لکڑی کے تختے لگے ہوئے ہیں ہر شخص پیدا ہوتے ہی اس میدان میں دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ دور سے اس کو امیدوں کے جھنڈے نظر آنے لگتے ہیں وہ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہو جاتا ہے۔ سانس پھول جاتا ہے لیکن دوڑتا رہتا ہے۔ دوڑتے دوڑتے کسی پل کا کوئی تختہ ٹوٹ جاتا ہے اور اچانک وہ اپنی قبر کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ لوگ روتے ہیں سینہ کوبی کرتے ہیں لیکن یہ حادثہ اچانک عمل میں نہیں آتا ہر شخص کی قبر پیدائش کے وقت ہی تیار کر کے چھپا دی جاتی ہے در اصل ہمارا پورا ریس کورس قبروں پر ہی بنا ہوا ہے۔ لوگ دوڑتے رہتے ہیں دوڑتے رہتے ہیں اور اپنی قبر تک پہونچ جاتے ہیں اچانک پل کا تختہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تمناؤں کے جھنڈے دور چمکتے ہوئے رہ جاتے ہیں اور لوگ دوسری دنیا میں پہونچ جاتے ہیں۔
قابلِ مبارکباد ہیں وہ لوگ جو حقیقت کو سمجھتے ہیں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اپنے وقت کو قیمتی بناتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا اگر تم صبح کر لو تو شام کی توقع مت کرو اور شام کر لو تو صبح کا اعتماد نہ کرو نہ جانے کون سا قدم قبر کے تختہ پر پڑ جائے۔
٭٭٭

وقت ختم
یہ میڈیکل کالج میں داخلہ کا امتحان تھا بڑے ہال میں دور تک امیدواروں کی قطاریں پرچہ حل کرنے میں مصروف تھیں۔ عامر بھی بڑے انہماک سے سوالوں کا جواب لکھ رہا تھا کہ اچانک ہال میں ایگزامنر کی آواز گونج اٹھی’ Time over‘ (ٹائم ختم ہو گیا ) Pen Down قلم گرا دو چند سیکنڈ کے بعد دوسری آواز آئی ’کاپی چھین لو‘ وہ ہکا بکا رہ گیا ابھی اس کے دو سوال باقی تھے جن سے وہ مقابلہ میں کامیاب ہو سکتا تھا۔ ذرا سی دیر میں ایگزامنر اس کے سر پر آگیا اور زور سے کہا Pen down۔
اس نے نہایت لجاجت کے انداز میں کہا پانچ منٹ اور دے دیجئے بس پانچ منٹ۔ ایگزامنر نے سنی ان سنی کر دی اور کاپی اس کے ہاتھ سے چھین لی۔ عامر کی آنکھ سے دو آنسو ٹپکے اور اس نے کہا آہ میں ہار گیا۔
سنتے ہیں ایک بادشاہ نے قبر کا حال معلوم کرنے کے لئے اعلان کیا کہ جو شخص رات قبر میں گذار کر یہ بتائے کہ کیا حال ہوا اس کو ایک لاکھ روپیہ انعام ملے گا۔ ایک بخیل نے سوچا یہ تو لکھ پتی بن جانے کا سنہرا موقع ہے ایک رات میں کیا ہوتا ہے دیکھا جائے گا۔ بس وہ تایر ہو گیا اور لوگ جلوس کی شکل میں اس کو بادشاہ کے پاس لے جانے لگے۔ راستے میں ایک فقیر ملا اس نے بخیل کے آگے ہاتھ پھیلا دیا۔ بخیل نے کہا تجھے معلوم نہیں میں نے آج تک کسی کو بھیک نہیں دی۔ فقیر نے کہا کچھ بھی دیدے صدقہ تیرے کام آئیگا۔ بخیل نے اِدھر اُدھر دیکھا زمین پر ایک بادام کا چھلکا پڑا تھا اس نے وہی اٹھا کر فقیر کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر میں جلوس بادشاہ کے پاس پہونچا اور بادشاہ نے دوسرے دن خود قبرستان جا کر بخیل کو دفن کرا دیا۔
بخیل نے قبر میں لیٹ کر اپنے ماحول کا جائزہ لیا اور ایک لاکھ روپیہ پانے کی خوشی میں جلدی ہی سو گیا تھوڑی دیر میں پھوں پھوں کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک نہایت خوفناک کالا ناگ اس کے سامنے کھڑا ہے۔ وہ خوف سے کانپنے لگا۔ اس نے زور زور سے چیخنا شروع کیا لیکن افسوس اس کی آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا۔ کالے ناگ کی لال لال آنکھیں اس پر گڑی ہوئی تھیں وہ زور سے چیخا ارے ہے کوئی جو مجھے اس ناگ سے بچائے۔ اتنے میں ناگ نے آگے بڑھ کر زور سے اس سینے پر پھن مارا .. اس نے خوف سے کانپتے ہوئے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں لیکن یہ کیا۔ وہ اس کو کاٹ نہیں سکا اس نے آنکھیں کھول دیں دیکھا کہ ایک بادام کا چھلکا ناگ کے پھن کو روک رہا ہے ناگ پیچھے ہٹا اور گھوم کر داہنی طرف ڈسنے کے لئے آیا اچانک وہ بادام کا چھلکا کود کر داہنی طرف آگیا اور سانپ کے پھن کو روک دیا۔ رات بھر یہی سلسلہ جاری رہا ناگ کود کود کر ہر طرف ڈسنے کے لئے آتا اور بادام کا چھلکا اس کو روک دیتا تھا۔ صبح ہوتے ہوتے بخیل کا سارا جسم گھل گیا وہ صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ، چہرہ زرد ہو گیا ، حلق خشک ہو کر آواز بند ہو گیر۔
دوسرے دن لوگوں نے قبر کھولی بڑی مشکل سے کھینچ کر اس کو باہر نکالا وہ ایک زندہ لاش تھا وہ کسی سے نہیں بولا اشارہ سے گھر جانے کو کہا وہاں جا کر اپنی ساری دولت اور مال و متاع جو برسوں میں جمع کیا تھا سب ایک دن میں اللہ کی راہ میں لٹا دیا۔
یہ واقعہ جب ایک دولتمند تاجر نے سنا جو عرصہ سے بیمار چلے آرہے تھے تو انھوں اپنی چیک بک نکال کر ایک یتیم خانہ کے نام ایک لاکھ روپیہ کا چیک لکھ دیا۔ لیکن ابھی وہ دستخط کر ہی رہے تھے کہ آواز آئی ’’ٹائم اوور ‘‘ ان کا ہاتھ کانپنے لگا اور پیچھے گر کر ان کا انتقال ہو گیا۔ بنک نے آدھے دستخط کا چیک قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
سنتے ہیں چین اور جاپان میں جب کوئی بڑا کام دو سال بعد بھی کرنا ہو تو ایک بڑا الیکٹرانک Count Down کلاک دو سال کے منٹ کا لگا دیتے ہیں ہر ایک منٹ کے بعد وہ ایک منٹ کم کر دیتا ہے۔ سب کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اب اس کام کے کرنے میں مثلاً 1,051,000 منٹ رہ گئے ہیں۔ ہر لمحہ ایک ایک منٹ کم ہو کر اخیر میں دو سال بعد وہ کلاک زیرو پر آ جاتا ہے اور وہ کام پورا ہو جاتا ہے۔
در اصل ہر انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کی عمر کا کلاک بھی کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔اور اس کی عمر کی مدت اس پر نصب کر دی جاتی ہے۔ ہر لمحہ ا س میں ایک ایک منٹ کم ہوتا رہتا ہے۔ اور وقت پورا ہونے پر وہ شخص اپنا سفر پورا کر لیتا ہے۔ قدرت کی گھڑی سانسوں کی مقدار پر چلتی ہے۔ جس طرح گھڑی کا پنڈولم دائیں بائیں طرف جاتا ہے اسی طرح سانس انسان کے سینے کے اندر باہر آتا جاتا رہتا ہے۔ جس وقت یہ سانس پورے ہو جاتے ہیں گھڑی بند ہو جاتی ہے۔ ہر شخص اپنے وقت کو پورا کرتا ہے۔ کوئی چار سال میں چلا جاتا ہے کوئی چوبیس میں اور کوئی چوراسی میں۔ لیکن جس وقت سانس پورے ہو جاتے ہیں اس میں کوئی ایک سانس کا بھی اضافہ نہیں کر سکتا۔ ٹائم اوور کا بورڈ اس کے سامنے لٹکا دیا جاتا ہے۔
ہمارے خالق کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہماری عمر کو ہم سے چھپا رکھا ہے۔ اس میں یہ راز پوشیدہ ہے کہ ہم کو ہر وقت واپس جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہ اگر وہاں آج ہی چلے گئے تو کیا حساب دیں گے۔ دوسرے یہ کہ اگر انسان کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ دو سال بعد مر جائے گا تو وہ دو سال پہلے ہی مر جائے گا یعنی مرنے کے غم میں بستر مرگ پر پڑ جائے گا۔ اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ اگر صبح کر لو تو شام کا انتظار مت کرو اور اگر شام کر لو تو صبح پر اعتماد مت کرو۔
ایک مسلمان رات کو سوتے وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے کہ اے میرے رب میں نے اپنی کمر زمین پر( مثل قبر ) رکھ دی اگر تو نے اسی رات میں مجھے بلا لیا تو میرے گناہوں کو بخش دے اور اگر میں صبح کو زندہ اٹھا اور تو نے ایک دن کی زندگی اور عطا فرما دی تو اس کی حفاظت فرما اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بھلا اس سے بھی عمدہ کوئی دعا ہو سکتی ہے اور یہ ایک نیک مسلمان کی روز کی دعا ہے۔ ہم کو بھی۔ ٹائم اوور کی آواز آنے سے پہلے اچھے نمبر کما لینے چاہئیں تاکہ امتحان میں پاس ہو جائیں۔
٭٭٭

ایر کارگو
سعید اور فرید ایک دونوں ایک ہی ضلع کے رہنے والے تھے دونوں کو ایک ساتھ امارات میں آنے کا موقع ملا۔ اور دونوں نے الگ الگ اپنی بزنس جمالی۔ اپنے ملک سے سستا مال منگا منگا کر اچھے داموں میں فروخت کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دس سال کی مختصر سی مدت میں دونوں لکھ پتی بن گئے۔ فرید نے شارجہ میں عمدہ فیلا بنا لیا امریکن کار خرید لی اور اعلیٰ قسم کے فرنیچر سے اپنے گھر آراستہ کر لیا۔ وہ نہایت ٹھاٹ کی زندگی بسر کر رہا تھا کہ پچھلے مہینے اچانک وہاں کی حکومت نے دونوں کا خروج نہائی لگا دیا۔فرید کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن اس عیش و عشرت کی زندگی کو اچانک چھوڑ کر جانا پڑے گا۔ اس نے یہاں رہ کر جتنی دولت کمائی تھی وہ سب یہیں پر خرچ کر ڈالی تھی۔ اس اچانک تبدیلی پر اس نے اپنا فیلا فروخت کرنا چاہا لیکن کوئی آدھی قیمت دینے پر بھی تیار نہ ہوا۔ اسے بہت صدمہ ہوا یہی حال اس کی دونوں امریکن کاروں کا ہوا۔ تب اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا سارا سامان اپنے ساتھ اپنے ملک لے جائے۔ اس نے ایک سامان پیک کرنے والی کمپنی کو بلا کر چار کنٹینر سامان سے بھروا دئے۔ جس میں بیڈ روم سیٹ ، ڈرائنگ سیٹ ، چار عمدہ صوفے ، اے سی ، ڈش ، بڑا ٹی وی وی سی آر ، عمدہ قسم کے پردے ، دفتر کی مز کرسیاں اور دونوں کاریں شامل تھیں۔ اسی درمیان اس کو خیال آیا کہ جس گاؤں میں وہ رہتا تھا اس میں بجلی نہیں ہے۔ اس لئے اس نے بقیہ رقم سے اپنے ٹی وی کے لئے ایک بڑا سا جنریٹر بھی خرید ڈالا۔ یہ سب کرنے کے بعد جب اس نے کارگو کمپنی کو بلا کر اپنے گاؤں تک سامان پہونچانے کے لئے کہا تو اس نے چالیس ہزار یال کا تخمینہ دیا۔ یہ سن کر فرید کے ہوش اڑ گئے۔ اس کے پاس نقد رقم بہت کم تھی کوئی دوسرا شخص جاتے ہوئے مسافر کو ادھار دینے پر بھی تیار نہیں تھا۔ فرید سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ حکومت کی طرف سے اس کے پاس صرف تین دن رہ گئے تھے جس میں اس کو ملک چھوڑ دینا تھا۔ جب سامان لے جانے کا کوئی انتظام نہ ہو سکا تو اس نے سارا سامان اپنے ایک دوست کے پاس چھوڑ دیا اور روتا ہوا ایر پورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ہر شخص یہی کہہ رہا تھا کہ اس قدر بے کار چیزوں کے جمع کرنے میں کیا عقلمندی تھی دراصل اسے بھی اپنی کم عقلی پر غصہ آ رہا تھا لیکن اب سوائے افسوس کے اور کیا ہو سکتا تھا۔ ایر پورٹ پر اس کی ملاقات اپنے پرانے دوست سعید سے ہوئی جو اس کے ساتھ ہی آیا تھا اور اس کے ساتھ ہی جا رہا تھا اسے سعید کو دیکھ کر نہایت حیرت ہوئی سعید بہت خوش تھا اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بریف کیس تھا جس میں کچھ ضروری کاغذات رکھے ہوئے تھے۔ ۔ فرید نے سعید سے پوچھا تمہارا سامان کہاں ہے سعید نے جواب دیا کیسا سامان۔ وہ میں نے پہلے ہی سے ایر کارگو کرا دیا۔ میرے ہاتھ میں سوائے اس بریف کیس کے اور کچھ نہیں ہے۔ نہایت ہلکا پھلکا سفر ہو گا۔ فرید نے پوچھا تم نے اپنے مکان کا کیا ؟ سعید نے کہا کون سا مکان ؟ میں تو کرایے پر رہتا تھا مجھے معلوم تھا کہ یہاں کا قیام عارضی ہے اور ایک دن مجھے یہاں سے Final Exit پر جانا ہے۔ جس میں واپسی کا امکان بھی نہںں دراصل میرا گھر تو میرا وطن ہے۔ اصلی وطن آخرت کا گھر میں نے وہاں کئی بڑے بڑے باغات لگائے ہیں ایک عمدہ کوٹھی خریدی۔ اس کو عمدہ سامان سے سجایا ہے۔ گو میں نے خود جا کر یہ سب کچھ نہیں دیکھا ہے لیکن میرے والد نے نصیحت کی تھی اور سب تفصیل فون پر بتائی تھی۔ مجھے اپنے والد پر پورا اعتماد ہے۔ فرید نے یہ سب سن کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کاش میں نے بھی اپنے لئے وہاں ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا ہوتا۔ جہاں جا کر مدت دراز تک رہنا ہے۔ فرید نے کہا سعید تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔ میں نے جو کچھ کمایا وہ سب یہیں لگا دیا۔ اور سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ جا رہا ہوں۔ ہائے میں لٹ گیا۔ ہائے میں برباد ہو گیا۔ اب کوئی دوسرا موقع بھی سامنے نہیں۔ امارات کا قیام ختم ہو گیا۔ جوانی کے دن بھی ڈھل گئے۔ یہ سارا سامان جو کل تک مجھے نہایت عزیز تھا آج میری نظر میں ایک کباڑ سے زیادہ نہیں۔ آہ میں نے اپنی ساری صلاحیتیں فضول چیزوں کے کمانے میں صرف کر دیں۔
کاش میں نے بھی اپنے وطن آخرت کے بنکوں میں دولت جمع کی ہوتی۔ کاش میں نے بھی باغات لگائے ہوتے۔ جن کے پھلوں سے میں لطف اندوز ہوتا۔ کاش میں نے تھوڑا تھوڑا سامان ایر کارگو سے اپنے مکان کو سجانے کے لئے بھیج دیا ہوتا۔ اور آج میں بھی سعید کی طرح خوش و خرم مسکراتا ہوا ہلکا پھلکا آخری سفر پر روانہ ہو جا تا۔ سعید نے فرید کو دلاسا دیتے ہوے کہا میرے دوست زیادہ ر نج نہ کر و۔ اب بھی وقت ہے کچھ آخرت کے بنک میں جمع کرالو۔ کچھ اچھے اعمال ایر گارگو کر کے آگے بھیج دو ہمیشہ عیش کرو گے۔
٭٭٭

دولتمند
رات کے دس بجے کا وقت تھا سیٹھ نواز علی سمرو آیل ملوں کے مالک اپنے دفتر میں اکیلے بیٹھے تھے کہ ایک ادھیڑ عمر کا شخص ان کے کمرے میں داخل ہوا اس نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کر کے کہا سیٹھ صاحب مجھے ایک ہزار روپے کی سخت ضرورت ہے آپ دے دیں تو مہربانی ہو گی..سٹھم صاحب نے اپنی موٹی موٹی چشمہ لگی آنکھوں سے نو وارد کو گھور کر دیکھا ان کو اس کے چہرے پر عجیب سی بشاشت نظر آئی ..انہوں نے کھا بیٹھ جاؤ اور جو میں پوچھتا جاؤں بتاتے جاؤ ..نو وارد سنبھل کر بیٹھ گیا ..
سوال … تم نے نمک کھانا کب چھوڑا
جواب ..ابھی دو پہر جو کھچڑی کھائی تھی اس کے بعد کچھ نہیں کھایا۔
س ..شکر کتنے سال سے نہیں چکھی۔
ج .. الحمد لللہ آج صبح چائے میں دو چمچے ڈالی تھی..
س۔ تم نے اپنا گردہ کتنے میں بدلوایا۔
ج۔ بچوں کی اماں نے پچھلے جمعے کو گردے کلیجی پکائے تھے بس وہی کھائے تھے..
س۔ تمہاری آنکھ کا آپریشن کب ہوا
ج۔ میرا تو نہیں میری دادی کی آنکھ کا آپریشن پچھلے سال ہوا تھا اب ٹھیک ہے۔
س۔ تمہارے لڑکے کینیڈا کی کونسی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔
ج۔ میرا لڑکا احمد محلے کی مسجد مںر حفظ کر رہا ہے۔
س۔ تمہاری لڑکی نے کس امریکن سے شادی کی۔
ج ..میری بچی صائمہ کا رشتہ حافظ محمد صدیق سے آیا ہے ..
س۔ تمہاری بیوی پچھلے سال سے سوئزرلینڈ کے کس ہوٹل میں رہتی ہے ..
ج۔ جی ہم دونوں گلی سمرو کے کچے مکان میں رہتے ہیں۔
س۔ تم کو پچھلے سال کتنا نقصان ہوا۔
ج۔ جی پچھلی برسات میں ہماری چھت گر گیہ تھی اب ہم نے ٥٠٠ روپے میں کھپریل ڈلوا لی ہے
اس جواب پر سیٹھ صاحب جھلا گئے کھڑے ہو کر چلا کر کہا یہ دیکھو اس سال مجھے ایک مل سے دو سو ملیون کا نقصان ہوا… اس پر نووارد گھبرا گیا… لیکن دوسرے لمحے ہی سیٹھ صاحب نے دوسری رپورٹ اٹھاتے ہوے کہا.. لیکن دوسرے مل سے تین سو ملیون کا فائدہ ہوا۔
سیٹھ صاحب نے نو وارد سے پوچھا.. تمہارا نام کیا ہے اس نے جواب دیا …ثروت حسین ..
سیٹھ صاحب یہ سن کر چلائے .. واقعی تم صاحب ثروت ہو میں تو فقیر ہوں فقیر۔
۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے دس ہزار کے نوٹ ثروت حسین کی طرف ڈال دئے
ثروت حسین نے ان میں سے ایک ہزار روپے لے لئے اور باقی نو ہزار میز پر رکھتے ہوے کہا.. میں نے آپ سے ایک ہزار روپوں کے لئے کہا تھا اس سے زیادہ نہیں لوں گا… ثروت حسین سلام کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا…
سیٹھ صاحب سنبھل کر بولے… ثروت واقعی دولتمند تم ہو کاش میں اپنی ساری پراپرٹی سے تمہاری دولت خرید سکتا۔
٭٭٭
دوستی کی خاطر
یہ جب کی بات ہے جب شیر خان نے لالہ بنسی دھر سے پانچ سو روپے ادھار لیے تھے اس وقت اس کا دوست جیون بھی اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا لالہ نے یہ روپے چھ ماہ کی مدت پر دئے تھے ..لیکن جب یہ مدّت گزر گیپ۔تو شیر خان نے دو ماہ کی مدّت طلب کی جو لالہ نے دے دی مگر دو کیا جب چار ماہ گزر گئے اور لالہ بنسی دھر روپیہ مانگنے گیا تو شیر کہن نے روپیہ دینے سے انکار کر دیا اور ساتھ میں یہ بھی کہ دیا کہ تم جھوٹ بولتے ہو میں نے تم سے کوئی روپیہ نہیں لیا ..جاؤ رپٹ لکھا دو تھانے میں …
بس اب تو بات ہی الٹ گی شیر خان نے نہ صرف یہ کہ ایک سال گزر جانے پر روپے نہیں دیے بلکہ روپے لینے سے ہی انکار کر دیا۔لالہ بیست دھر کو بڑی حیرت ہوئی اس کو یاد آیا کہ روپیہ دیتے وقت جیون بھی وہاں بیٹھا تھا جیون بڑا سچا پکا اور نمازی آدمی تھا اسی لئے لوگ اس کو ملا جیون کہتے تھے۔ لالہ بنسی دھر نے عدالت میں درخواست لگا دی اور یہ بھی لکھ دیا کہ ملا جیون سے اس کی تصدق کر لی جائے۔
ہوا شیر خان کو جب یہ پتہ چلا تو وہ بہت پریشان ہوا۔ لیکن اس کو یہ اطمینان ہوا کہ معاملہ ملا جیون کے ہاتھ میں ہے اور ملا جیون اس کا پکّہ دوست ہے وہ فورا ملا جیون کے پاس گیا اور سارا معاملہ اس کو سنا دیا اور یہ کہا یہ میری عزت کا سوال ہے میں تم کو اپنی دوستی کا واسطہ دیتا ہوں ..ملا جیون بہت پریشانی میں پھنس گیا کچھ دیر بعد اس نے سوچ کر کہا ..شیر خان اگر کسی آدمی کے دو دوست ہوں ایک نیا دوست .. ایک پرانا.. تو اس کو کس کا ساتھ دینا چاہیے.. شیر خان نے چمک کر کہا.. پرانے کا… میں تو تمہارا پرانا دوست ہوں.. شرا خان مطمن ہو کر چلا گیا۔
چند ہفتہ بعد عدالت میں پیشی ہوئی ..بنسی دھر نے اپنا معاملہ پیش کیا جج صاحب نے بہ حیتد گواہ ملا جیون کو طلب کیا۔ شیر خان بہت خوش تھا اس کی دوستی کام آ رہی تھی ..ملا جیون آیا اور بیان دیا ..لالہ بنسی دھر سچ کہتا ہے اس نے شیر خان کو پانچ سو روپے میرے سامنے دئے تھے ..شیر خان جھوٹ بولتا ہے۔عدالت نے مقدمہ خارج کر دیا اور شیر خان کو دو ہفتہ کے اندر ادائیگی کا حکم دے دیا۔
شیر خان شیر کی طرح بپھرا ہوا ملا جیون کے پاس آیا اور کہا تم دھوکے باز ہو تم نے مجھے دھوکا دیا ملا جیون نے نرمی سے کہا ناراض مت ہو.. میں نے یہ کام تمہارے مشورہ سے کیا ..میرا مشورہ… کیا خاک مشورہ …ملا جیون نے کہا تم کو یاد نہیں میں نے تم سے کہا تھا کہ اگر کسی آدمی کے دو دوست ہوں ایک نیا ایک پرانا .. تو اس کو کس کا کہنا ماننا چاہیے..تم نے جواب دیا پرانے کا ..بس پھر میں نے تمہارے مشورہ پر عمل ..اور پرانے دوست کا کہنا مانا…..کون ہے تمہارا پرانا دوست.. شیر خان …۔ نے چمک کر کہا
میرا پرانا دوست اللہ ہے.. ملا جیون نے کہا ..جس سے میری پچاس سال پرانی دوستی ہے روز میں اس کے پاس وقت گزارتا ہوں اس کی باتیں سنتا ہوں اپنی باتیں سناتا ہوں.. اس نے کہا دیکھو جھوٹ کبھی نہیں بولنا … بس میں نے یہ کام اس کی دوستی کی خاطر کیا… رہا تمہارے قرضہ کا سوال تو کل میں نے اپنا مکان رہن رکھ کر لالہ بنسی دھر کو پانچ سو روپے دے دیے ہیں اب وہ تمہارے پاس قرض مانگنے نہیں آئے گا۔
٭٭٭
پارس پتھر
اس کا نام عمر تھا قسمت کا دھنی تھا جو چیز وہ ہاتھ میں لیتا تھا وہ چمک اٹھتی تھی کہتے ہیں اگر وہ مٹی اٹھاتا تھا وہ اس کے ہاتھ میں آ کر سونا بن جاتی تھی اس کو اپنے باپ سے ورثے میں دس ملیں ریال ملے تھے اس سے اس نے ایک فیکٹری خریدی جو پانچ سال میں ہی دوگنی ہو گی پھر اس کی آمدنی سے اس نے شیر(حصص) خریدے جو دس گنے ہو گئے بس پھر کیا تھا ہر طرف دولت ہی دولت تھی وہ حیران تھا کہ اتنی دولت کا کیا کرے اس نے سویزر لینڈ کے ایک ہوٹل میں بڑا حصّہ خرید لیا چند سال بعد مالکان نے پورا ہوٹل اس کے ہاتھ بیچ دیا جس کو اس نے بڑھا کر دوگنا کر دیا۔
ایک دن وہ بیٹھا ہوا اپنے کاروبار کی سالانہ رپورٹ دیکھ رہا تھا جس کی مالیت اب سو ملیون سے زیادہ تھی ہر ماہ کئی ملیون کا اس میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس قدر دولت کا کیا کرے۔ اچانک ایک بوڑھے سے مولوی صاحب ہاتھ میں تھیلا اٹھائے ہانپتے کانپتے اس کے کمرے میں داخل ہوے اور سلام علیکم کہ کر صوفے پر بیٹھ گئے۔ پہلے انہوں نے پسینہ خشک کیا سانس درست کیا پھر فرمایا۔ ہمارے یتیم خانے میں پچاس بچے رہتے ہیں اس ماہ کے بعد ان کے لئے راشن کا کوئی انتظام نہیں۔ کم از کم دن میں ایک وقت دال روٹی دینے کے لئے ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ آپ سے جو تا ون ہو سکے وہ فرما دیں۔
عمر مبہوت بنا ہوا ان کی بات سنتا رہا۔ پھر پوچھا یہ یتیم خانہ کیا ہوتا ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیا یہ وہ گھر ہے جہاں ایسے معصوم بچے رہتے ہیں جن کے ماں باپ وفات پا چکے ہیں اب ان کی پرورش کی ذمہ داری پوری قوم پر عاید ہوتی ہے۔ عمر نے انجان بن کر پوچھا اگر مزید روپے کا انتظام نہ ہو سکا تو کیا ہو گا ..مولوی صاحب نے آہستہ سے کہا۔ پانی پی کر بچے بھوکے سو جائیں گے۔
عمر کے منہ سے ایک دم چخو نکل گیک ..بچے بھوکے سو جائیں گے اور میری دولت کے انبار یوں ہی بڑھتے رہیں گے وہ رونے لگا اس کی آنکھوں سے بہتے ہوے آنسو اس چیک بک پر گرے جو اس کے ہاتھ میں تھی۔
اس نے نہایت رازدارانہ انداز میں مولوی صاحب سے کہا میں آپ سے کچھ مشورہ کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ بات آپ اپنے تک ہی رکھے گا۔ میرے پاس اچھی خاصی دولت ہے جو میں نے اپنی محنت اور عقلمندی سے کمائی ہے۔ میں اس کے بارے میں آپ کی رائے لیتا ہوں۔ مولوی صاحب نے آہستہ سے پوچھا۔ کتنی دولت ہے عمر نے جواب دیا یہی کوئی دو سو ملین ..مولوی صاحب نے پھر آہستہ سے کہا پہلے تو آپ پانچ ملیون اس پر زکات دیجئے ..عمر نے چونک کر کہا۔ پانچ ملیون ؟ مولوی صاحب نے کہا یہ تو الله کا حق ہے عمر نے کہا اچھا یہ میں ضرور دوں گا ..پھر مولوی صاحب نے پوچھا آپ نے اپنے لئے کوئی گھر بنایا ..عمر نے جواب دیا کوئی ایک گھر… میں نے پوری کالونی بنائی ہے ..
مولوی صاحب نے کہا یہاں نہیں …جنت میں.. عمر نے جواب دیا اس کے بارے میں تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں۔ مولوی صاحب نے کہا الله کے حبیب صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا جس نے دنیا میں مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا ..اسی طرح آپ صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا جس نے کسی یتیم کی کفالت کی وہ اور میں جنت میں ایک ساتھ ہوں گے ..اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے کہ حضور کے ساتھ جنت میں رہنے کا موقع مل جائے .. یہ سب سن کر عمر رونے لگا اس نے کہا مولوی صاحب آپ نے میری آنکھیں کھول دین۔ دولت نے مجھے اندھا کر دیا تھا
آپ کے یتیم خانے کی میں کفالت لیتا ہوں کل معائنہ کرنے آؤں گا اور ایک مسجد کا نقشہ بھی بنوا لینا ..مولوی صاحب نے کہا تم تو پارس ہو …عمر نے جواب دیا میں نہیں … پارس تو آپ ہیں… جن کے ایک ہی مس نے پتھر کو سونا بنا دیا۔
٭٭٭

حور کا بچہ
ایک ٹیلیفون : خالہ جا ن سنا ہے آپ نے اپنے بیٹے کے لئے کوئی لڑکی دیکھی ہے
جواب: ہاں بیٹی.. الله تمہارا بھلا کرے ایک لڑکی دیکھی ہے.. بڑی پیاری لڑکی ہے..تیکھے نقوش ..گول چہرہ چاند جیسا ..بڑی بڑی آنکھیں ..جیسے گلاب کے کٹورے ..اونچی پیشانی ..لمبی گردن مور جیسی ..خاندان اونچا ..زبان اس قدر شیریں کہ بات کرتی ہے تو منہ سے پھول جھڑتے ہیں ..بیٹی لڑکی کیا ہے حور کا بچہ ہے..میں تو جلد ا ز جلد اس کو بیاہ کر لاؤں گی.. کہیں یہ موتی ہاتھ سے نہ نکل جائے …۔
ایک ماہ بعد دوسرا فون : خالہ جان مبارک ہو ماشاء اللہ آپ کے گھر میں چاند اتر آیا.. اب تو ہر طرف نور ہی نور ہو گا ..
جواب :ہاں بیٹی شادی تو خیر سے ہو گئی ..دلہن بھی گھر آ گی .. اچھی ہے لیکن …۔ اچھا خیر میں بعد میں بات کروں گی اس وقت ذرا مصروف ہوں..
ایک ماہ بعد تیسرا فون :ہاں خالہ جان آپ تو ملتی ہی نہیں ہیں … کیا ہر وقت دلہن سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔
جواب : کون دلہن…۔کیسی دلہن .. وہ تو میری سا س ہے ..دن بھر پلنگ توڑتی رہتی ہے ..میرے اوپر حکم چلاتی ہے.. جس دن سے گھر میں قدم رکھا ہے میرا بیٹا میرے ہاتھ سے چھن گیا ..الله ایسے منحوس قدم کسی کونہ بنائے.. بات کرتی ہے تو منہ سے آگ اگلتی ہے ..رنگت چٹی ضرور ہے لیکن چہرے پر ذرا کشش نہیں ..دن بھر چہرے کی لیپا پوتی کرتی رہتی ہے پھر بھی وہی چڑیل کی چڑیل …تم مجھ سے کبھی اس کے بارے میں بات نہ کرنا ..میں اس کا نام بھی نہیں سننا چاہتی.. کل موہی کہیں کی ..خدا ایسی بہو کسی کو نہ دے…۔ ..ٹیلیفون بند ….
خالہ جان …خالہ جان…..فون بند کرنے سے پہلے…۔ بس میری ایک بات سن لیجئے …۔اگر آپ کی بیٹی سارہ جس کی شادی ابھی چھ ماہ پہلے ہوئی ہے …اس کے با رے میں کوئی ایسا ہی کہے تو آپ کو کیسا لگے گا…
جواب : الله میری توبہ ..ایسا تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں
٭٭٭

ایمر جینسی لائٹ
یہ پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ میں رات کے آٹھ بجے اپنے دفتر کی آٹھویں منزل پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی سارا علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا عجیب بھیانک منظر تھا دور دور تک کہیں روشنی کا نام نہیں تھا کمرے کا ایر کنڈیشن بھی بند ہو گیا ذرا سی دیر میں سارا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔ شیشے کی عمارت میں بڑھتی ہی گرمی سے سا نس پھولنا شروع ہو گیا میں جلدی سے باہر نکلنے کے لئے اٹھا لیکن اٹھتے ہی دروازے سے ٹکرا گیا مجھے ابھی تک یہ علم بھی نہیں تھا کہ کرسی سے دروازے تک کتنے قدم کا فاصلہ ہے۔ خیر کسی طرح لفٹ تک پہونچا لیکن آہ … وہ لفٹ بھی بند پڑی تھی اور اس میں سے ان لوگوں کے چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں جو لفٹ میں پھنس گے تھے .. کئی جگہ ٹھوکریں کھا کر زینے تک پہونچا اور دیوار کے سہارے ٹٹول ٹٹول کر نیچے اترنا شروع کیا .. کئی جگہ ٹھوکر کھائی کئی مرتبہ گر پڑا ..آٹھ منزل کی سیڑھیاں ایک مصیبت بن گئیں…
خدا خدا کر کے کسی طرح اپنی کار تک پہنچا اور اس کا دروازہ کھولتے ہی شہر میں بجلی واپس آ گئی سارا شہر پھر اسی طرح جگمگانے لگا میں نے اپنا جائزہ لیا کئی جگہ چوٹ لگی ماتھے سے خون نکل رہا تھا کپڑے پسینے میں شرابور تھے اور میں ایک پرانے مریض کی طرح بس اپنے بستر پر گر جا نا چاہتا تھا ۔
بجلی گئی اور ایک گھنٹے میں آ گئی لیکن یہ ایک گھنٹہ میری زندگی میں ایک انقلاب برپا کر گیا کہ ہم کتنے مصنوعی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں..دوسرے دن میں نے محسوس کیا کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہمارے دفتر میں ایک امرجینسی لایٹ کا ہونا ضروری ہے تا کہ نہ میز سے ٹھوکر لگے نہ دروازے سے سر ٹکرائے ..میں نے ایک کمپنی کو ٹیلیفون کیا اور وہاں سے ایک سیلزمین کیٹلاگ لے کر آ گیا اس نے اپنی فنکاری د کھائی اور کہنا شروع کیا.. ہماری کمپنی کی لایٹ بہت پائیدار ہے پانچ سال کی گارنٹی ہے اس کو آپ ایک بار دیوار پر لٹکا کر بجلی کا کنکشن لگا دیجئے اور بس ..جس وقت بھی بجلی بجھے گی یہ جل اٹھے گی.. آپ کو بجلی جانے کا احسا س بھی نہیں ہو گا۔ اس کی بیٹریاں اصلی جاپانی ہیں.. چین کی بنی ہوئی نہیں ہیں.. بس سال میں ایک بار اس کی سروس کرا لیا کیجئے۔کبھی آپ کو اندھیرے سے سابقہ نہیں پڑے گا۔
میں نے سیلزمین کا بیان بہت غور سے سنا اچانک مجھے خیال آیا.. یہ تو ایک گھنٹے کا اندھیرا تھا .. اور قبر کا اندھیرا …میں نے سنبھل کر سیلزمین سے پوچھا بجلی جاتے ہی آپ کی لایٹ خود بخود روشن ہو جاتی ہے اس نے جواب دیا.. یہ آٹومیٹک ہے میں نے پوچھا اس کی بیٹری کب بدلوانی پڑتی ہے اس نے جواب دیا.. یہی کوی سال دو سال بعد..
میں نے جلدی سے یہ کہ کر اس کو رخصت کیا کہ جلد ایک امر جینسی لایٹ بھیج دو اور میں فورا آٹھ کر مسلم یتیم خانے کے دفتر گیا اور تین ہزار روپے جمع کراتے ہوے آہستہ سے کہا ..یہ میری امر جینسی لایٹ کے ہیں ..ہر سال بیٹری کے الگ سے دوں گا..ناظم صاحب میری بات نہ سمجھ سکے انہوں نے فرما یا میں نے یہ رقم کفالت یتیم کی مد میں جمع کر لی ہے الله آپ کا دل منوّر کرے ..میں نے آہستہ سے کہا… اور قبر بھی۔۔۔
٭٭٭
ریشم کی ڈوری
چند لوگ ایک کشتی میں سفر کر رہے تھے دریا بہت چوڑا تھا اور اس میں طغیانی آئی ہوئی تھی رات کے وقت اس کی موجیں ڈراؤنی شکل اختیار کر رہی تھیں اچانک۔ ہوائیں تیز ہو گیںل اور دریا کے اندر طوفانی کیفیت پیدا ہو گیص بوڑھے ملاح نے کشتی کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لکنر دیکھتے دیکھتے کشتی پانی میں الٹ گئی۔ اور اس کے چاروں مسافر پانی میں غوطے کھانے لگے کچھ لوگوں کو تیرنا آتا تھا وہ ادھر ادھر ہاتھ پیر مارنے لگے سب سے نازک معاملہ ماجد کا تھا جس کو تیرنا بالکل نہیں آتا تھا دو چار غوطے کھانے میں ہی موت سامنے نظر آنے لگی۔
اتنے میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک موٹر بوٹ تیزی سے دریا کو پار کر رہی ہے کچھ ہی دیر میں وہ موٹر بوٹ اس کے قریب سے گزری اس نے دیکھا موٹر بوٹ سے ایک ریشم کی ڈوری پانی پر لہرا رہی ہے ماجد نے جھپٹ کر اس کو پکڑ لیا اس کو پکڑتے ہی اس کو ایک طرح کا اطمینان حاصل ہو گیا وہ ڈوبنے کے خطرے سے بچ گیا موٹر بوٹ تیزی سے کنارے کی طرف جا رہی تھی ماجد اس کی ڈوری کو مضبوطی سے پکڑے رہا۔
اس نے دیکھا اس کے تیرنے والے ساتھی پانی میں ڈبکیاں لگا رہے ہیں اس نے ان کو آواز دی کہ آگے بڑھ کر اس ڈوری کو پکڑ لو لیکن انہوں نے کہا ہم کو تیرنا آتا ہے ہم اپنی طاقت سے تیر کر پار ہو جائیں گے بلکہ انہوں نے ماجد سے بھی کہا کہ ڈوری چھوڑ دو ہمارے ساتھ آ جاؤ لکنہ ماجد نے ایک نہ سنی اور ڈوری کو مضبوطی سے پکڑے رہا کچھ دیر بعد موٹر بوٹ کنارے پر آ لگی اور ماجد صحیح سلم کنارے پر پہنچ گیا تھوڑی دیر بعد اس کو دو ساتھیوں کی لاش پانی پر بہتی نظر آئی اس نے کہا افسوس اگر انہوں نے بھی ریشم کی ڈوری مضبوطی سے پکڑ لی ہوتی تو اس دریائے شور میں ڈوبنے سے بچ جاتے
گھر پہنچ کر جب یہ واقعہ ماجد نے اپنے والد کو سنایا تو انہوں نے کہا بیٹے تم نے بہت اچھا کیا جو مضبوط رسی پکڑ لی اور دریائے شور کو آسانی سے پار کر لیا بیٹے یہ دنیا بھی دریائے شور ہے بس جو شخص الله کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے وہ سلامتی سے پار ہو جاتا ہے اور جو اپنی مرضی پر چلنے کی کوشش کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔
٭٭٭

نوری
جب میں ایک عزیز کی عیادت کے لئے اسپتال پہونچا تو وہاں انتظار کے کمرے میں ایک صاحب کو دیکھا جو اپنی ایک بی کو لئے ہوے بیٹھے تھے بچی کی عمر کوئی چار سال رہی ہو گی گول چہرہ کھلتا ہوا رنگ گھونگریالے بال بڑی بڑی آنکھیں بڑی پیاری بچی تھی میں نے بچی کا نام پوچھا اسکے والد نے اس کا نام نوری بتایا وہ خود ایک ورکشاپ میں میکنک کا کام کرتے ہیں اور اپنی اہلیہ اور نوری کے ساتھ قریب ہی میں رہتے ہیں دو دن پہلے اچانک ان کی اہلیہ کے جسم میں درد ہوا اور سارا جسم اکڑ گیا وہ مثل ایک لکڑی کے تختے کے ہو گیںب۔ دائیں بائیں کسی طرف گردن بھی نہیں موڑ سکتی تھیں فورا ان کو اسپتال میں داخل کیا گیا ڈاکٹروں نے کئی ٹیسٹ بتائے، کئی ہفتے علاج چلے گا۔
میں ان سے ساری بات سن ہی رہا تھا کہ نوری نے آہستہ سے کہا اماں اور اپنے والد کی طرف دیکھنے لگی میں نے دیکھا اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے میرے اوپر اس منظر کا بڑا اثر ہوا میں اٹھا اور قریب کی دکان سے ایک کھلونا اور چاکلیٹ لے کر آیا میں نے پہلے کھلونا اس کی طرف بڑھایا اس نے نگاہ بھر کر کھلونا دیکھا لیکن ہاتھ بڑھا کر نہیں لیا اس نے پھر آہستہ سے کہا اماں اور اپنے والد کی طرف دیکھنے لگی میں اس کے ضبط پر حیران رہ گیا اب میں نے چاکلیٹ کا پیکٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھایا نوری نے غور سے چاکلیٹ دیکھی پھر اس نے زور سے کہا اماں اور باپ سے چپٹ کر رونے لگی
میرا دل یہ منظر دیکھ کر تڑپ اٹھا اس معصوم سی تتلی کو کتنا لگاؤ تھا اپنی اماں سے نہ کوی کھلونا اسے اچھا لگا نہ چاکلیٹ اسے اپنی طرف کھینچ سکی میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور زبان سے یہ الفاظ نکلے کاش مجھے بھی اپنے رب سے اتنی ہی محبت ہوتی جتنی اس معصوم بچی کو اپنی اماں سے ہے میں بچشم نم وہاں سے اٹھ کر چلا آیا رات کو تہجّد کی نماز میں میں نے دعا کی میرے پروردگار نوری کی ماں کو صحت دے کر نوری سے ملا دے اور مجھ کو نوری جیسی اپنی محبت عطا فرما ۔ امین۔
٭٭٭

پروانے کی موت
برسات کے دن تھے ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا ایک ننھا سا پروانہ جھاڑیوں میں ٹکراتا پھر رہا تھا کہ اچانک دور سے اسے ایک روشنی نظر آئی اور وہ اڑتا ہوا اس کے قریب پہونچا اس نے دیکھا ایک مکان کے اندر ایک خوبصورت سے چاندی کے شمعدان میں ایک شمع جل رہی ہے پاس ہی ایک ننھی سی بچی بیٹھی ہوئی ایک نظم پڑھ رہی ہے۔
لب پہ آتی ہے دوا بن کے تمنّا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدا یا میری
دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر طرف میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ننھا سا پتنگا اس دعا سے بہت متاثر ہوا اور اس نے لمبی سی آمین کہی پروانہ سیدھا شمع کے پاس گیا اور اس سے کہا تھوڑی سی روشنی مجھے دے دو میں بھی اس ظلمت کدے میں نور کی کرنیں پھیلاؤں گا۔
طویل قامت شمع نے پروانے سے پوچھا تم کو معلوم ہے یہ روشنی مجھ کو کہاں سے ملی ہے یہ نور خدواندی ہے جو مجھ کو عطا ہوا ہے۔میں دنیا کو روشنی دینے کے لئے خود کو جلا کر راکھ کر دیتی ہوں میری عمر ایک رات سے زیادہ نہیں لیکن اس ایک رات میں ہی میں وہ خِدمَت انجام دیتی ہوں کہ لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں او ر اپنی ہر مجلس میں مجھے جگہ دیتے ہیں
مُنے سے پتنگے نے کہا میں بھی تمہاری طرح روشنی پھیلاؤں گا اور اندھیرے کی چادر پھر دوں گا۔
شمع نے محبت بھرے انداز میں کہا میرے پیارے پروانے میں تمہارے جذبے کی قدر کرتی ہوں لیکن تم یہ خیال اپنے دل سے نکال دو۔
پروانے نے جواب دیا میں اپنی زندگی کو کامیاب بنانا چاہتا ہوں میں چھوٹا ضرور ہوں لیکن عزم بلند رکھتا ہوں میں اندھیرے کے خلاف جہاد کروں گا روشنی پھیلا کر رہوں گا۔
پروانے نے یہ کہا اور دیوانہ وار شمع کا طواف کرنے لگا۔
شمع حیرت سے اسے دیکھنے لگی اس کا دل دھڑکنے لگا سات چکر پورے کرنے کے بعد وہ اچانک شمع کی لو کی طرف بڑھا اور نہایت بہادری کے ساتھ اس کے اندر داخل ہو گیا۔
ایک دم ایک چھوٹا سا شعلہ اٹھا اور پروانہ جل کر شمع کے قدموں میں گر گیا۔
شمع کی آنکھ سے دو موٹے موٹے آنسو نکلے اور پروانے پر آگرے شمع نے جھک کر پروانے کو دیکھا اس کا سارا جسم جل کر خاک ہو گیا تھا لیکن اس کے ہونٹ حل رہے تھے۔ وہ کہہ رہا تھا میں کامیاب ہو گیا میں نے روشنی پھیلانے کی کوشش میں شہادت حاصل کی۔ شمع تم گواہ رہنا شمع تم گواہ رہنا۔
پروانے کی آواز بند ہو گیہ لیکن اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ باقی تھی۔
شمع کا کلیجہ پھٹ گیا وہ زار و قطار رونے لگی میرے پیارے پروانے میں تم کو کبھی نہیں بھولوں گی
تم نے ایک نیک کام کا قصد کیا اور اپنا عزم پو را کر دکھایا۔
شمع روتی رہی روتی رہی اور آج تک پروانے کی یاد میں آنسو بہاتی ہے اور کہتی ہے……
کر گیا نام وفا پروانہ
اپنی لو میں تو سبھی جلتے ہیں
شمع کی لو میں جلا پروانہ
٭٭٭

میاں فضلو کی نوکری
پہ جب کی بات ہے جب میاں فضلو جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے اور کوی بات بھی نہیں پوچھتا تھا اچانک ایک دن میرے پاس آئے۔ عمدہ سلکن شیروانی لٹھے کا پاجامہ سیاہ بوٹ سر پر سنہری کلاہ کا طرّہ چمک رہا تھا میں نے انجان بن کر پو چھا۔ آپ کا تعارف … فرمانے لگے فضل محمد خان مصاحب نواب جام نگر ۔میں نے پلٹ کر کھا یہ دھونس کسی اور پر جمانا مجھے تو سیدھی بات بتاؤ یہ تم دھوڑی کی جوتی سے کانپوری بوٹ تک کیسے پہنچے …میاں فضلو فورا اپنی اوقات پر اتر آئے اور میرے پاس کھسک کر کان میں کہنے لگے۔ مجھے نواب صاحب کے یاشں حاضری مل گیآ ہے .. اب تو ہم بھی سنبھل کر بیٹھ گئے اور ان سے کارگزاری سننے لگے۔ انہوں نے کہنا شروع کیا .. ہوا یوں کہ ایک صاحب ہم کو نواب صاحب کے دربار لے گیے..آپ کو معلوم ہے یہ ساری ریاست ان کی ہے۔ بڑے رتبے والے ہیں عجیب بات ہے بہت محبت سے ملے اپنے قریب بلایا اور کہا کبھی کسی بات کی فکر مت کرنا کوی بات بھی پریشانی کی ہو فورا مجھے بتا دینا میں تمھاری مدد کروں گا انہوں نے مجھے اپنا فون نمبر بھی دے دیا۔ میں نے بےچینی سے پوچھا۔ آگے کیا ہوا۔ کیا کام دیا تم کو۔کام کچھ بھی نہیں۔ بس یہ کہا صبح شام سلام کے لیے آ جایا کرو کھانا تم کو شاہی دستر خوان سے ملتا رہے گا۔ ہماری ریاست میں جو لوگ ہم سے واقف نہیں ان کو ہمارے بارے میں بتاتے رہنا۔ کوئی برائی کرے اس کو سمجھانا کوئی اچھے کام کرے ہم سے ملاقات کرنا چاہے اس کو ہمارے پاس لے آنا اور ہاں یہ تمھاری شاہی وردی ہے اس کو پہنا کرو لوگ تمھاری عزت کریں گے۔ میاں فضلو یہ بیان کر رہے تھے کہ ان کی نظر ہمارے چہرے پر پر پڑی اور وہ اچھل کر بولے۔ارے آپ رو رہے ہیں یہ آنسو کس بات کے۔ یہ تو خوشی کی بات ہے۔میں نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ میاں فضلو میں اپنی بد نصیبی پر رو رہا ہوں میں بھی ایک نواب کا نوکر ہوں بلکہ وہ تو نوابوں کا نواب ہے یہ ساری ریاست اسی کی ہے بڑی طاقت والا ہے وہ بھی مجھ سے محبّت کرتا ہے اس نے بھی مجھ سے کہا گھبرانا مت جب کوی بات ہو مجھ کو پکار لینا میں فورا تمھاری مدد کروں گا۔ اس نے بھی مجھ سے کہا بس دن میں چند بار سلام کے لئے آ جایا کرو جو لوگ میری ذات کو نہیں جانتے ان کو میرے بارے میں بتایا کرو۔ جو برائی کرے اس کو روکو جو بھلائی کرے اس کی مدد کرو جو مجھ سے ملنا چاہے اسے میرے دربار میں لے او اور سنو اپنے کھانے پینے کی فکر مت کرنا ہمارے شاہی دستر خوان سے روزانہ تمھیں توشہ پہنچتا رہے گا۔ اور ہاں یہ تمھاری وردی ہے اسکو پہنا کرو لوگ تمھاری عزت کریں گے۔
میاں فضلو چونک کر بولے۔ پھر آپ نے کیا کیا؟
میں نے روتے ہوے جواب دیا۔ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ نہ وردی پہنی۔ نہ سلام کو گیا۔ نہ کسی کو اس کے بارے میں بتایا …۔بس روز اسکے یہاں سے توشہ آتا ہے وہ میں کھا لیتا ہوں۔
وہ بولے جو ملازم مالک کا کچھ کام نہیں کرتے مفت کا مال کھاتے ہیں تنخواہیں لیتے ہیں لوگ ان کو نمک حرام کہتے ہیں۔
میں نے کہا۔ فضلو تم سچ کہتے ہو۔
٭٭٭
چاند تارہ
شادی کے دو سال بعد جب اللہ تعالیٰ نے ہلال کو بیٹا دیا تو اس نے اس کا نام چاند رکھا ۔ پھر دو سال بعد ایک بیٹی ہوئی ۔ اس کا نام تارہ تجویز ہوا۔ بس اب کیا تھا سارے گھر مین بہار آ گئی ہر طرف چاند تارہ کا شور تھا ، ہر وقت ان کی پیاری پیاری باتیں تھیں۔
ہلال کے محلے سے کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں انجینئر بن بن کر کر امریکہ جا رہے تھے ۔غریب ماں باپ نے ادھار قرض کر کے ان کو اچھی تعلیم دلائی لیکن وہ سب غیروں کے کام آئی ۔ڈالروں کی چمک نے سب کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا تھا ہلال کے دل میں بھی یہی خیال پیدا ہوا وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلا کر امریکہ بھیجے گا ۔ بس پھر کیا تھا ۔ اس کے سر پر امریکہ کی دھن سوار ہو گئی ۔ اس نے دونوں بچوں کو مشنری اسکول میں داخل کیا انگریزی بولنا سکھائی انگریزی لباس انگریزی کھانا انگریزی اسٹائل سکھایا ۔دونوں اسکول کالج میں جولی اور لَولی کہلانے لگے ۔ بی ایس کی ڈگری مکمل کرتے ہی ہلال نے دونوں کے لئے امریکہ کا پروگرام بنایا لڑکی کو رشتہ مل گیا وہ کینیڈا چلی گئی ۔ چاند نے بھی امریکہ جا کر ایک یہودی بیوہ سے شادی کر لی اور وہیں کی نیشنلٹی لے لی ۔ دونوں گھروں میں ڈالروں کی ریل پیل ہو گئی ۔ مغربی طرز زندگی اس قدر اپنایا کہ مشرقی انداز بالکل بھول گئے ۔ بچوں کے نام بھی گڈو ببلو ہو گئے ۔ یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ہمارے یہاں احمد اور عائشہ نام ہوا کرتے تھے ۔ چاند اور تارہ دونوں اپنی اساس اور بنیاد کو بھلا بیٹھے ۔
ہلال اور اس کی بیوی اختری دونوں اپنے اسی پرانے مکان میں رہتے تھے پڑوس میں محبوب حسین پتنگ باز کا مکان تھا ۔ جس میں ان کے پوتا پوتی اور نواسہ نواسی کے کھیل کود کی بہار رہتی تھی وہ غریب تھے لیکن خوش تھے ۔ ہلال امیر تھا اس کے پاس بچوں کے بھیجے ہوئے ڈالر تھے لیکن وہ خوش نہیں تھا ۔ اس کے گھر میں ہمیشہ ویرانی چھائی رہتی تھی۔ ایک دن عصر کی نماز کے بعد جب وہ قرآن شریف پڑھ رہا تھا تو اچانک اس کی آنکھ اس آیت پر جم گئی ( بل توثرون الحیاۃ الدینا والآخرۃ خیر و ابقیٰ . وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى) بلکہ تم (اﷲ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے) دنیاوی زندگی (کی لذتوں) کو اختیار کرتے ہو. حالانکہ آخرت (کی لذت و راحت) بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے) وہ آخرت کے لفظ پر چونک پڑا ۔ اس نے تو کبھی آخرت کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا ۔ وہ تو بس دنیا کی زندگی بنانے کی دھن میں لگا ہوا تھا ۔ یہی کچھ اس نے اپنے دونوں بچوں کو سکھایا تھا ۔ وہ سوچتا رہا اس کے دل کو گھبراہٹ نے گھیر لیا وہ گھر سے باہر ٹہلنے چلا گیا ۔
باہر بہت سے لوگ پتنگ اڑا رہے تھے شام کے نیلگوں آسماں پر ہرے رنگ کی ایک پتنگ جس پر چاند تا رہ بنا ہوا تھا خوب لہرا رہی تھی کبھی شرق میں اڑتی کبھی غرب کی طرف جاتی ۔ کبھی گہرا غوطہ لگا کر پھر چاند کی طرح بادلوں کے بیچ سے نکل آتی ۔ عجیب بہار دکھا رہی تھی ۔ اچانک آسمان پر ایک دوسری پتنگ ظاہر ہوئی جس پر کالا ناگ بنا ہوا تھا اونچی اڑان لیکر وہ چاند تارہ سے ٹکرائی لیکن چاند تارہ کنی کاٹ کر نکل گئی دونوں میں تھوڑی دیر داؤ پیچ ہوتے رہے ۔ کبھی یہ اوپر کبھی وہ اوپر ۔ اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ چاند تارہ والی پتنگ کٹ گئی جو ابھی آسماں پر دمک رہی تھی ۔ چرخی سے ڈور ٹوٹتے ہی ہوا کے جھونکوں سے ٹکراتی ہوئی نیچے گرنے لگی ۔ ہر طرف ایک شور اٹھا پتنگ لوٹنے والے اپنے بانس اور جھاڑو لے کر گرتی ہوئی پتنگ کی طرف دوڑ پڑے ۔ لوگ کہہ رہے تھے چاند تا رہ مشکل سے ملتی ہے۔ زمین کے قریب آتے ہی پتنگ لوٹنے والوں نے اسے بانسوں پر اٹھا لیا بہت سے لوگ جھپٹ پڑے ۔ چاند تارہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ۔ کانپ کیںر گئی اڈہ کہیں گیا ،چاند کہیں گیا تارہ کہیں ۔ ذرا سی دیر میں ہرے رنگ کی پتنگ کے پراخچے اڑ گئے ۔
ہلال یہ منظر دیکھ کر کانپ اٹھا ۔ پاس میں محبوب حسین کٹی ہوئی پتنگ کی چرخی لئے ہوئے کھڑے تھے ۔ اس نے ڈوبی ہوئی آواز سے پوچھا محبوب یہ کیا ہوا ؟ ۔ محبوب حسین بولے ’’یہ تو ہونا ہی تھا ۔ پتنگ کی طاقت چرخی سے بندھے رہنے میں ہوتی ہے ۔ جب پتنگ بہت اونچی ہو کر اپنی ڈور چرخی سے توڑ لیتی ہے تو ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح زمیں پر آ گرتی ہے اور پھر زمین والے مفت کا مال سمجھ کر اس کو لوٹتے ہیں ۔ اس چھینا جھپٹی میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ چاند کہیں تارہ کہیں کانپ کہیں اڈا کہیں ۔
ہلال نے محبوب حسین کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔ بس محبوب بس ۔ میری بھی چرخی سے ڈور ٹوٹ گئی ہے ۔ اللہ میرے چاند تارہ کی حفاظت فرمائے۔
٭٭٭
ریا کاری کا انعام
جب ایک وزیر صاحب کا انتقال ہوا تو وہ بہت مطمئن تھے کہ ان کی بخشش ضرور ہو جائے گی۔ ابھی پچھلے ہفتہ ہی ایک صحافی نے ( جو ان کا وظیفہ خوار تھا) ان کی ایک فوٹو البم تیار کی تھی جس میں ان کو پچاس سے زیادہ مشروعات کا افتتاح کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔جس میں بہت سے مدرسہ ، بہت سے اسکول اور بہت سے خیراتی ادارے شامل تھے۔ ہر جگہ ان کا نام پتھر پر کھود کر لگایا گیا تھا۔ ہر جگہ ان کی شان میں قصیدے پڑھے گئے اخباروں میں خبریں چھپیں اور خوب واہ واہ ہوئی تھی۔<جب وہ قبر میں اترے تو دیکھا کہ ان کے اعمال ایک بڑی ترازو میں تولے جا رہے ہیں۔ اخباروں اور اشتہاروں کا ڈھیر ہے وہ سب کے سب ترازو کے پلڑے میں بھر دئیے گئے۔ اتنے میں اعلان ہوا کہ جن جن کاموں کے اخبار اور اشتہار چھپے ہیں ان کا معاوضہ دنیا میں ہی دے دیا گیا۔ لوگوں سے خوب واہ واہ کرا دی گئی یہ اعلان سنتے ہی ایک فرشتے نے ایک پھونک ماری اور کاغذوں کا سارا ڈھیر ہوا میں اڑ گیا۔ ان کا پلڑا ہلکا ہو کر آسمان سے جا لگا۔ وزیر صاحب ایک دم رونے لگے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دنیا کی یہ واہ واہ ان کے سارے اعمال کو ضائع کر دے گی اب ان کے پاس چند اسکولوں کا افتتاح رہ گیا تھا اس کے بارے میں اعلان ہوا کہ جن اداروں کے افتتاحی کتبوں پر ان کا نام پتھروں پر کھدا ہوا ہے( یعنی جن کی واہ واہ مرنے کے بعد بھی جاری کی گئی ہے) وہ سارے ادارے ان کے نام سے نکال دئیے جائیں۔ اس اعلان پر تو وزیر صاحب دھاڑیں مار مار کر رونے لگے کیونکہ کوئی مدرسہ کوئی اسکول ایسا نہ تھا جس پر اپنے نام کا پتھر لگوانے کی انہوں نے پہلے سے تصدیق نہ کر لی ہو۔ وہ تمنا کرنے لگے کاش کوئی شخص جا کر ان تمام کتبوں کو توڑ دیتا جس پر ان کا نام کندہ تھا۔لیکن افسوس کوئی ان کی فریاد سننے والا نہ تھا۔اب انہوں نے اپنے اعمال کے پلڑے کو دیکھا وہ بالکل خالی پڑا تھا ان کا سارا بھرم ٹوٹ گیا۔ دنیا میں و ہ بڑے مخیر مانے جاتے تھے انہوں نے بڑے بڑے کام کئے لیکن شہرت کی چاٹ نے انکے سارے اعمال کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔وہ رو روکر عرش الہٰی کی طرف دیکھنے لگے اور رحم کی بھیک مانگنے لگے۔اتنے میں ایک فرشتہ ایک چھوٹی سی ڈبیہ لے کر آیا اور اس کو ان کے اعمال کے پلڑے میں رکھ دیا۔ اچانک وہ پلڑا نیچے کی طرف آگیا وہ حیرت سے اس ڈبیہ کو دیکھنے لگے کھول کر دیکھا تو یاد آیا کہ ایک دن سردیوں کی رات میں جب وہ گھر واپس آرہے تھے تو دیکھا کہ مسجد کی نالی کا پانی راستہ میں بہہ رہا ہے ۔ نالی بند ہے۔انہوں نے چاہا کہ اس کو کھول دیں لیکن کوئی ڈنڈا یا لکڑی نہیں ملی تو انہوں نے اپنا ہاتھ گندی نالی میں ڈال کر کوڑا نکال دیا۔ نالی صاف ہو گئی پانی بہنے لگا ۔ سڑک بھی صاف ہو گئی گھر آ کر انہوں نے اپنا ہاتھ صابن سے دھو لیا اس عمل کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ بس قادر مطلق نے اسی پر ان کی بخشش فرما دی۔
٭٭٭

Advertisements

گدھے کے سینگ

Standard

گدھے کے سینگ
یہ اس زمانے کی کہانی ہے جب یہ دنیا نئی نئی بنی تھی۔ زمین پر آدمیوں نے پھیل کر بستیاں بسا لی تھیں۔ حیوان جنگلوں میں پھرا کرتے تھے۔ آدمیوں نے گائے بھینسوں کو پال کر ان کا دودھ نکالنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے بچھڑوں کو بیل بنا کر کھیتی باڑی کا کام لینے لگے تھے، لیکن گدھے کو کسی نے نہ پکڑا تھا۔ وہ دوسرے جانوروں کے ساتھ جنگل میں پھرا کرتا تھا۔ اس وقت گدھا ایسا نہیں تھا جیسا اب ہے۔ اس وقت اس کے سر پر دو بڑے بڑے سینگ تھے، مگر گدھے کو اپنے سینگوں کی خبر نہیں تھی۔ جنگل میں آئینہ تو تھا نیں جو کوئی اپنا عکس اس میں دیکھ لیتا اور پھر جنگل میں آئینہ کہاں سے آتا، آدمیوں نے ابھی آئینہ نہیں بنایا تھا۔ بہت سی چیزیں ضرورت پڑنے پر آدمی بناتے جا رہے تھے۔ سنا ہے آئینہ سکندر بادشاہ کے عہد میں اس کے حکم سے تیار ہوا تھا۔ خیر، تو گدھا جنگل کے ہرنوں، بارہ سنگھوں کو دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ میں ان سے ڈیل ڈول میں بہت بڑا ہوں، اگر ان کی طرح میرے بھی سینگ ہوتے تو میں سب سے زیادہ رعب دار ہوتا۔ اسی دھن میں ایک دن وہ ندی پر گیا۔ اس روز ندی کا بہاؤ رُکا ہوا تھا اور پانی ٹھہرا ہوا تھا۔
گدھے نے جیسے ہی پیاس مٹانے کے لیے پانی میں منہ ڈالا اسے اپنا عکس پانی میں نظر آیا۔ حیران ہو کر دیکھنے لگا کہ اس کے سر پر تو دو لمبے لمبے سینگ ہیں۔ وہ اپنی اگلی ٹانگیں تو سر پر نہیں پھیر سکتا تھا۔ یہ اندازہ کرنے کے لیے کہ سچ مچ اس کے سینگ ہیں، جلدی جلدی پانی پی کر وہاں سے چل دیا۔ ایک کیلے کا درخت سامنے تھا۔ اس میں سینگ مار کر دیکھا۔ سینگ کی نوک تنے میں گھس گئی۔ اب تو گدھا بہت ہی خوش ہوا اور سینگوں کو ہلاتا ہوا آگے چلا۔ ایک خرگوش اچھلتا کودتا جا رہا تھا۔ گدھے نے اسے ڈانٹ کر روکا۔ خرگوش سہم کر کھڑا ہو گیا۔ گدھے نے کہا:
ایک سینگ اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے خرگوش کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
خرگوش ڈر گیا اور منہ بسورتے ہوئے بولا: “میں نے کیا قصور کیا ہے؟”
گدھے نے اکڑ کر کہا:
“تُو بہت گستاخ ہے۔ میرے سامنے سے چھلانگیں لگاتا ہوا چلا جاتا ہے۔ ٹھہر کر ادب سے مجھے سلام نہیں کرتا۔”
خرگوش نے معافی مانگی اور پچھلی دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو کر اور اگلی ٹانگ ایک ماتھے پر رکھ کر سلام کیا۔ گدھا یہ کہہ کر کہ اب کبھی سلام کیے بغیر میرے سامنے سے نہ جانا، آگے چل دیا۔تھوڑی دور پر ایک گیدڑ ملا۔ گدھے نے اسے بھی روک کر کہا:
ایک سینگ اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے گیدڑ کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
گیدڑ تو بزدل ہوتا ہی ہے۔ اتنے بڑے گدھے کو یہ دھمکی دیتے دیکھ کر کانپنے لگا اور جھجھکتے جھجھکتے بولا:
“گدھے صاحب ! اگر مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہے تو آپ بڑے ہیں، مجھے چھوٹا سمجھ کر معاف کر دیں۔”
گدھے نے اس سے بھی یہی کہا: “تم بے ادب ہو، مجھے سلام نہیں کیا کرتے۔” گیدڑ نے بھی گردن جھکا کر بڑی عاجزی سے سلام کیا۔ یہاں سے بھی گدھا آگے چلا تو لومڑی ملی۔
لومڑی بڑی مکار اور ہوشیار ہوتی ہے۔ وہ گدھے کو اکڑتے اتراتے دیکھ کر سمجھ گئی کہ یہ بے وقوف جانور آج کس وجہ سے اینٹھ رہا ہے۔ جیسے ہی گدھا قریب آیا، بولی: “گدھے صاحب! آداب عرض کرتی ہوں۔ اس وقت کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟”
گدھے نے کہا: “آج جنگل کے گستاخ جانوروں کو ادب اور تمیز سکھانے نکلا ہوں، جو حیوان مجھے سلام نہیں کرتا، اس سے کہتا ہوں:
ایک سینگ اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے لومڑی کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
لومڑی بڑی تجربے کار تھی۔ اسے معلوم تھا کہ انسان، حیوان سے بڑا عقلمند ہوتا ہے۔ اس نے اونٹ اور گھوڑے جیسے بڑے جانوروں کو غلام بنا لیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اس احمق گدھے کو بھی انسان تک پہنچانا چاہیے۔ اس لیے کہنے لگی:
“ایک آدمی کو میں نے جنگل کے کنارے دیکھا تھا۔ چار پاؤں سے چلنے والے جانور تو بے چارے سیدھے سادے ہیں، آپ تو اس جانور کو ٹھیک کیجیے جو دو پاؤں سے سر اٹھا کر چلتا ہے۔ آپ کے مقابلے میں ہے تو دُبلا پتلا، مگر بہت گستاخ اور بڑا سر کش ہے۔”
گدھے نے پوچھا: “کیا اس کے سینگ میرے سینگوں سے بھی بڑے ہیں؟”
لومڑی نے جواب دیا: “بڑے چھوٹے کیسے، اس کے تو سرے سے سینگ ہی نہیں۔ خوامخواہ کا غرور ہے اور ہم سب جنگلی جانوروں سے اپنے آپ کو برتر سمجھتا ہے۔”
گدھے نے پھر سوال کیا: “کیا اس کا منہ میرے منہ سے بڑا ہے؟ اور اس کے لمبے لمبے نوکیلے دانت ہیں؟”
لومڑی نے کہا: “نہیں، کلھیا کی طرح ذرا سا منہ ہے اور گھاس کھانے والے ہرن چکاروں جیسے چھوٹے چھوٹے دانت ہیں۔ اگلے پاؤں جن سے وہ چلتا نہیں، انھیں ہاتھ کہتا ہے، وہ پچھلی ٹانگوں سے بھی پتلے اور چھوٹے ہیں۔ کان اتنے ذرا ذرا سے ہیں کہ آپ کے ایک کان سے آدمیوں کے بہت سے کان بن سکتے ہیں۔ بس شیخی ہی شیخی ہے۔”
گدھے نے کہا: “مجھے بتاؤ وہ کدھر ہے؟ میں ابھی جا کر اس کی ساری شیخی کرکری کر دوں؟”
لومڑی نے جس جگہ آدمی کو دیکھا تھا۔ اشارہ کر کے بتا دیا اور گدھا فوں فاں کرتا ہوا اس طرف چل دیا۔
جو آدمی وہاں پھر رہا تھا اس نے اعلیٰ درجے کا تیزاب بنایا تھا۔ اسے بوتل میں لیے اس کی آزمائش جنگلی جانوروں کی ہڈیوں پر ڈال ڈال کر کر رہا تھا کہ یہ گلتی ہیں کہ نہیں۔ ایک ہڈی کو گلتے دیکھ کر وہ اپنی کامیابی پر خوش ہو رہا تھا کہ گدھا وہاں پہنچا۔ آدمی کے ڈیل ڈول کو دیکھ کر دل میں ہنسا کہ اگر اس کو گرا کر میں اس پر گر پڑوں تو یہ میرے بوجھ سے ہی کچل کر رہ جائے گا۔ بڑی آن سے سر اٹھا کر بولا:
ایک سینگ سے اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے آدمی کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
اس آدمی نے جو یہ سنا تو بڑے اطمینان سے گدھے کو دیکھا اور بولا: “میں تو آپ کی دعوت کرنے آیا ہوں اور آپ میرا پیٹ پھوڑنا چاہتے ہیں۔ یہ کیسی اُلٹی بات ہے؟”
گدھے نے کہا: “میری دعوت کس چیز کی؟ میرے کھانے کے لیے جنگل میں گھاس بہت ہے۔”
آدمی نے جواب دیا: “گھاس کیا چیز ہے! میں آپ کو ایسی عمدہ چیز کھلاؤں گا، جو آپ نے کبھی نہ کھائی ہو، میرا ایک زعفران کا کھیت ہے جو لہلہا رہا ہے اور بہت خوشبودار ہے۔ آپ اسے چریں گے تو پھر آپ کی سانس سے ایسی خوشبو نکلے گی کہ سارا جنگل مہک اٹھے گا اور سب چرند پرند حیران ہو ہو کر آپ سے پوچھیں گے کہ یہ مہک آپ میں کیونکر پیدا ہو گئی؟ اس کے کھانے سے آپ اتنے خوش ہوں گے کہ ہر وقت ہنستے رہا کریں گے۔”
گدھا آخر گدھا تھا آدمی کی باتوں مںو آ گیا اور کہنے لگا: “لومڑی بڑی جھوٹی ہے۔ وہ تو کہتی تھی کہ آدمی بہت برا ہوتا ہے۔ تم تو بہت اچھے ہو۔ جلدی سے مجھے زعفران کے کھیت پر لے چلو۔”
آدمی نے گدھے کو ساتھ لے کر اپنی بستی کا رُخ کیا جو وہاں سے بہت دُور تھی۔
تھوڑی دُور چل کر آدمی نے گدھے سے کہا: “آپ کے چار پاؤں ہیں اور میں دو پاؤں سے چلتا ہوں، آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ اگر آپ بُرا نہ مانیں تو میں آپ کی پیٹھ پر بیٹھ جاؤں اور راستہ بتاتا ہوا چلوں۔”
گدھے نے زعفران کے لالچ میں اس کی بات مان لی اور آدمی گدھے پر سوار ہو گیا۔ ابھی دونوں کچھ ہی دور ہی گئے تھے کہ آدمی بولا: “گدھے میاں! آپ پھدکتے ہوئے بہت تیز تیز چلتے ہیں، میں کہیں گر نہ پڑوں۔ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے سینگ ہاتھوں سے پکڑ لوں؟”
گدھے نے اجازت دے دی۔ آدمی نے سینگ اوپر سے پکڑ کر سینگوں کی جڑوں پر تیزاب کے قطرے ٹپکا دیے۔ ذرا دیر میں دونوں سینگ ٹوٹ کر گرنے لگے۔ آدمی نے ان کو ہاتھ میں لے کر پیچھے کی طرف زور سے پھینک دیا۔ گدھے کا منہ آگے کی طرف تھا، وہ کیا دیکھتا، اسے خبر بھی نہ ہوئی اور دونوں سینگ غائب ہو گئے۔
چلتے چلتے بہت دیر ہو چکی تھی۔ گدھے کو تکان ہونے لگی تو بولا: “اے آدمی! اتنی دور تو آ گئے، زعفران کا کھیت کہاں ہے؟”
آدمی بستی تک اس پر سوار ہو کر جانا چاہتا تھا، بولا: “تھوڑی دور اور چلو۔”
گدھے کو شبہ گزرا کہ یہ آدمی دھوکا دے کر میری پیٹھ پر تو سوار نہیں ہوا، کہنے لگا: “میری پیٹھ سے اترو اور مجھے بتاؤ! وہ زعفران کا کھیت کہاں ہے؟”
آدمی گدھے پر سے اترا اور درخت کی ایک ڈال توڑ کر اس کی قمچی بنانے لگا۔ گدھے کو آدمی کے ٹھہرنے پر غصہ آ گیا۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی، جھنجلا کر بولا: “اے آدمی! تو زعفران نہیں کھلائے گا؟”
آدمی نے کہا: “کہیں گدھے بھی زعفران کھاتے ہیں؟”
اس پر گدھا آدمی کو مارنے پر آمادہ ہو گیا اور اپنی بات دہرائی:
ایک سینگ اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے آدمی کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
یہ سُن کر آدمی ہنسا اور بولا: “گدھے تیرے سینگ کہاں ہیں؟ وہ تو غائب ہو گئے۔ اب تُو کیا میرا پیٹ پھوڑے گا۔ جدھر کو میں کہوں سیدھا سیدھا چل، نہیں تو مارے قمچیوں کے تیری کھال اُدھیڑ دوں گا۔”
گدھے نے اپنا سر ایک پیڑ سے ٹکرا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سر پر سینگ موجود ہی نہیں۔ آدمی نے قمچیوں کی مار سے اسے اپنے گھر کے راستے پر لگا لیا اور دروازے کے آگے کھونٹا گاڑ کر ایک رسی سے باندھ دیا۔
اب گدھا بے چارہ آدمی کا بوجھ ڈھوتا ہے، سواری دیتا ہے، گاڑی کھینچتا ہے اور اپنی اس حماقت پر پچھتاتا ہے کہ سینگ پا کر میں اتنا مغرور کیوں ہو گیا تھا۔ سخت شرمندگی اسے آدمیوں کی بات سُن کر ہوتی ہے، جب کوئی آدمی بغیر کہے سُنے چلا جاتا ہے تو دوبارہ ملنے پر لوگ اس سے کہتے ہیں:
“تم ایسے غائب ہوئے، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔”
٭٭٭

مشرقی ترکستان

Standard

مشرقی ترکستان

مشرقی ترکستان چین میں مسلم اقلیت پر مشتمل خطے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ چین کے مقبوضات میں سے ایک اسلامی مستقل شناخت رکھنے والے وسیع خطے کا نام ہے۔ سنکیان جو اپنی اسلامی شناخت کو بچانے کیلئے کوشاں ہے تو یہ چین کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ غاصب ملک کے قبضے سے آزادی پانے کی جدوجہد ہے۔ اقوام عالم میں یہ ایک مفتوحہ قوم کا تسلیم شدہ حق ہے اور اسلامی اصطلاح میں جہاد کہلاتا ہے۔
گویا مشرقی ترکستان قصہ پارینہ ہے۔ مسلم اُمہ کے اذہان میں جگہ نہ پا سکنے والے کاشغر کا خطہ۔ اُمت مسلمہ پر پے درپے ایسے مصائب آئے ہیں کہ اُن میں گھر کر کتنے ہی مسائل اپنی طرف توجہ ہی مبذول نہیں کرا سکے۔ انہیں فراموش کردہ مسائل میں مشرقی ترکستان کا بھی شمار ہوتا ہے جو چین کے جابرانہ تسلط میں اپنا اسلامی تشخص گم کرتا جا رہا ہے۔ چین گزشتہ کئی سالوں سے مشرقی ترکستان کے اسلامی شناخت پر مبنی تاریخی ورثے کو مٹاتا چلا جا رہا ہے۔ چین نے اس علاقے پر قبضہ جما کر اسے سنکیان کے نام سے اپنا ایک صوبہ (شينگ) قرار دے دیا ہے۔ چین کے قبضے سے لے کر آج تک اِس غاصبانہ قبضے کے خلاف عالم اسلام سے کوئی آواز نہیں اٹھی ہے۔
مشرقی ترکستان میں اسلامی تشخص کو مٹانے کیلئے چین ہر غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام کر رہا ہے، اپنے مذموم مقاصد کیلئے چین مخلوط تربیتی پروگرام ترتیب دیتا ہے تاکہ وہاں بداخلاقی اور زناکاری کو فروغ حاصل ہو اور اسلام مردوزن کو جس اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اس کا برسرعام تمسخر اڑا سکے۔ مقامی مسلمان قائدین نے جب ایسے تربیتی پروگرام کے خلاف آواز بلند کی تو چین نے ساڑھے تین لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قتل کردیا۔ ان قتل ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے قائدین میں چند نامور نام بھی تھے جنہوں نے ترکستان میں قربانی کی داستانیں رقم کی ہیں جن میں عبدالرحیم عیسٰی، عبدالرحیم سیری اور عبدالعزیز قاری جیسے نام شامل ہیں۔
دو کروڑ کی آبادی پر مشتمل مشرقی ترکستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے کیلئے اور بالخصوص عقیدہ اسلام کو مسخ کرنے کیلئے چین نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔
چین جیسے دیوہیکل ملک سے اپنے اسلامی تشخص کو بچانے کیلئے وہ تنہا ہی برسرپیکار رہتے ہیں۔ یہاں بسنے والے مسلمان یہ حق رکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں بسنے والے مسلمان ان کی تاریخ، ثقافت اور جہاد سے روشناس ہوں اور دُنیا میں ان پر جو ظلم اور غاصبانہ قبضہ کیا گیا ہے اس کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک ہنستا بستا مسلم آبادی والا خطہ خاموشی سے چین کے قبضے میں چلا گیا۔
آپ کو نقشے میں مشرقی ترکستان نامی کوئی ملک نہیں ملے گا۔ مشرقی ترکستان سیاسی لحاظ سے سنکیان ہے جو چین کے نقشے میں آپ کو ملے گا۔
متحدہ ترکستان کو ہتھیانے کیلئے روس اور چین کے مابین بارہا چپقلش رہی ہے بالآخر دونوں نے متحدہ ترکستان کو تقسیم کرلیا اور مغربی ترکستان پر روس کا قبضہ اور مشرقی ترکستان پر چین کا قبضہ بلاکسی بین الاقوامی مداخلت کے قبول کرلیا گیا۔
مشرقی ترکستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان سے بڑا ہے اس کی آبادی دو کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اور مسلمان واضح ترین اکثریت میں ہیں۔ مشرقی ترکستان کا دارالحکومت کاشغر ہے جسے قتیبہ بن مسلم باھلی نے فتح کیا تھا۔ اُس زمانے میں ترکستان کا اسلامی شناخت پر مشتمل نیلے رنگ کا پرچم تھا جس میں روپہلی چاند تارا چمکتا دمکتا نظر آتا تھا۔
1945ء سے ہی چین نے مشرقی ترکستان کو کئی خطوں میں تقسیم کردیا تھا اور شہروں اور قصبوں کے نام بھی تبدیل کر دیئے تھے۔ ابتدائی سالوں میں مساجد مقفل ہوا کرتی تھیں لیکن بعد میں حکومت کی کڑی نگرانی میں مساجد کھلنے کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔
ترکستانی مسلمان چین کے اس قبضے سے کبھی مطمئن نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ ترکستان میں چین سے آزادی کی تحریکیں اٹھتی رہتی ہیں۔ چین کا پہلا قبضہ ١٧٦٠ءمیں ہوا تھا ١٨٦٣ءمیں آزادی کی پرزور تحریک اٹھی اور اُس نے مشرقی ترکستان کو واگزار کرا لیا۔ یعقوب خان بادولت کی قیادت میں مشرقی ترکستان ایک مستقل ملک قرار پایا اور یعقوب خان نے عثمانی خلیفہ سلطان عبدالعزیز خان کی بیعت کا اقرار کیا۔روس اور چین وسطی ایشیا میں بھلا کسی آزاد مسلم اسلامی ملک کو کب گوارا کرتے تھے چنانچہ محض تیرہ برس بعد چین نے مشرقی ترکستان پر قبضہ کرلیا۔
ترکستان کی تاریخ کے مطابق امیر معاویہ کے دور میں ہی اہل کاشغر اسلام سے شناسائی حاصل کر چکے تھے، عبدالکریم صادق بوگرا خان حاکم ترکستان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی ٩٦٠ءمیں اسلام پورے ترکستان میں پھیل گیا تھا بلکہ وسطی چین کی طرف دعوت اِسلام پہنچانے کا فریضہ بھی ترکستان نے انجام دیا تھا۔ عربی زبان میں دینِ اِسلام کی تعلیم کا رواج بھی اِسی زمانے میں ہوا تھا۔
ترکستان کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا قطعاً خلاف ضابطہ نہیں ہے اور نہ ایسا سمجھنا چاہیے، مشرقی ترکستان ایک اختلافی مسئلہ ہے جس پر چین کا قبضہ چلا آرہا ہے مشرقی ترکستان چین کا صوبہ نہیں ہے بلکہ ایک اسلامی ملک پر چین نے قبضہ کیا ہے اور یہاں کی مسلم آبادی کو کسی صورت میں چین کی اقلیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مشرقی ترکستان کے مسلمان کبھی اس قبضے سے مطمئن نہیں ہوئے اور برسوں سے اپنے اسلامی تشخص کے احیاءکیلئے جہاد کر رہے ہیں اور قربانیوں کی داستان لکھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس طویل جہاد میں اب تک دس لاکھ نفوس قربانی دے چکے ہیں، جہاں مغربی ترکستان روس کے تسلط سے چھٹکارا پاکر آزاد ہو چکا ہے وہاں مشرقی ترکستان بھی پیچھے رہنے والا نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ہی خطہ ہے جسے روس اور چین نے اپنے درمیان تقسیم کر رکھا تھا مشرقی ترکستان کے مسلمان ابھی تھکے نہیں ہیں اور نہ ہی اُمت مسلمہ کی ہمدردیوں سے مایوس ہیں۔ اُن کا مبارک جہاد اسلامی مملکت کے قیام تک جاری وساری ہے۔
مشرقی ترکستان میں جہاد کی شمع بجھائی نہیں جا سکی، ١٩٣١ءمیں مشرقی ترکستان کا بیشتر حصہ واگزار کرا لیا گیا تھا۔ ١٩٣٣ءمیں مشرقی ترکستان نے اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا اور کاشغر کو دارالحکومت قرار دیا گیا مگر روس چین گٹھ جوڑ سے یہ آزادی برقرار نہ رہ سکی۔ ایک مرتبہ پھر ١٩٤٤ءمیں دو صوبے آزاد کرا لئے گئے اور ایلی کو صدر مقام قرار دیا گیا۔ مشرقی ترکستان کی اِس چھوٹی سی مملکت نے باقی علاقے بھی آزاد کرانے میں پیش رفت جاری رکھی لیکن روسی اور چینی تعاون پھر اِس کی کامیابی میں آڑے آیا، دوسری طرف اسلامی ممالک سے اس تحریک کے لئے کوئی آواز اور حمایت نہ مل سکی اور نہ ہی اِس مسئلہ کو اسلامی ممالک نے کسی بین الاقوامی فورم پر اٹھایا، یہی وجہ ہے کہ مشرقی ترکستان کی تاریخ اور جہادی سرگرمیوں سے مسلمانوں کی کثیر تعداد ناواقف ہے۔
اگرچہ مسئلہ فلسطین اور گیارہ ستمبر جیسے گھمبیر مسائل کے بارے میں مسلمانوں کے ذرائع ابلاغ بہت کچھ لکھتے رہے ہیں اور ابلاغ عامہ میں تقریباً ہر روز ان کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے مشرقی ترکستان مسلمانوں کے ابلاغ عامہ میں کوئی خاص جگہ نہیں پا سکا۔ اس مسئلے کو سیاسی اور ابلاغ عامہ کی سطح پر فراموش کر دینے کا نتیجہ اس طرح نکلا ہے کہ مسلمانوں کا ایک وسیع قطعہ اراضی چین نے ہتھیا کر وہاں کے مسلمانوں کو باقی اُمت سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ مسلمانوں کی سرزمین اور وہاں کے باشندے ہرگز اس لائق نہیں کہ اُن کی اسلامی شناخت آہستہ آہستہ چین کے الحاد میں تحلیل ہونے کیلئے چھوڑ دی جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ مشرقی ترکستان میں اسلامی شناخت کو ختم کرنے کیلئے چین ایک طرف تو وہاں چین کے غیر مسلم اقوام کو لا کر بسا رہا ہے تاکہ مسلم آبادی غالب ترین اکثریت نہ رہ سکے یا کم از کم بڑے شہروں کی حد تک ایک معتدبہ تعداد غیر مسلم باشندوں کی دکھلائی جا سکے اور دوسری طرف اسلامی عقیدے کو مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کے ذہن سے محو کرنے کیلئے مختلف حربے بھی استعمال کر رہا ہے اور تیسری طرف روس کی طرح چین بھی یہاں کی معدنی اور زرعی پیداوار کو نچوڑ کر دوسرے صوبوں میں لے جاتا ہے۔
مشرقی ترکستان کے معدنی وسائل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں ١٢١ اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں۔ کم وبیش ٥٦ کانیں سونے کی دھات حاصل کرنے کیلئے چین کی سرپرستی میں شبانہ روز کام کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں معدنی تیل، یورینیم، لوہا اور سیسہ بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ خوردنی نمک اس کثرت سے پیدا ہوتا ہے کہ کل عالم کو ایک ہزار سال تک مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حلال جانوروں کی٤٤ انواع پائی جاتی ہیں۔
مشرقی ترکستان کی آبادی ایک ہی نسل اور ایک ہی تاریخ رکھنے والی آبادی پر مشتمل ہے۔ بنا بریں پہلی صدی کے اختتام تک کاشغر سمیت پوری آبادی اسلام میں داخل ہو گئی تھی۔ یہ سنی العقیدہ ہیں اور وہاں حنفی مذہب رائج ہے۔
اگر ہمیں اپنی تاریخ پڑھنے کا موقع ملے تو ہمیں اپنے علمی اثاثہ سے معلوم ہوگا کہ وسطی ایشیا کی اقوام اتراک کہلاتی ہیں اور اسی وجہ سے اس علاقے کو ترکستان کہا گیا ہے۔ ترک اقوام نے اسلام کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں اُس سے ہم خوب واقف ہیں۔ ترک اقوام اسلامی اُمت کا ایک مستقل جزولاینفک ہیں۔ ترکوں کی ان خدمات میں ماضی قریب تک مشرقی ترکستان کا ایک فعال کردار رہا ہے اگرچہ یہ کردار ہمارے ہاں کوئی بڑی پذیرائی حاصل نہیں کر سکا جس کی وجہ ابلاغ عامہ کی خیانت ہے اور اب بھی وہاں اسلامی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئی ہیں بلکہ برابر زور پکڑ رہی ہیں۔
یہ درست ہے کہ اُمت مسلمہ گوناگوں مسائل میں گھری ہوئی ہے لیکن اگر یہ اُمت ایک جسم کی مانند ہے تو پھر ہر زخم اپنا زخم ہے اور ہر زخم مرہم کا متقاضی ہے۔

پھلوں سے علاج

Status

پھلوں سے علاج

مشہور بات ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم اور اماں حوا کو پیدا کر کے باغ بہشت میں ٹہرنے کا حکم دیا تو ان کی خوراک بہشت کے ثمرات تھے اور وہ انھیں کھا کر بہشت کی عیش کے مزے لیتے تھے نیز آخرت میں بھی مومنوں کو بہشتی فواکہات کا وعدہ کیا گیا ہے ، حضرت آدم جب زمین پہ آباد ہوئے تو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زمین کے میوہ جات اور پھلوں پہ گزارہ کرتے تھے، بعد کی نسلوں نے زبان کے چٹخارے کے لئے پیاز لہسن غلہ اور ماش وغیرہ کی خواہش کی اور وہ پیسنے پکانے کی مصیبت میں گرفتار ہوگئے، نیز انسانی نسل کی افزائش سے قدرتی پھل اور میوے ان کے لئے کافی ثابت نہ ہوئے اس لئے وہ اناج کے مخمصے میں پھنس گئے،

میوے اور پھل انسان کی قدرتی غذا ہیں اور ان میں ہر قسم کے مفید اجزا بکثرت موجود ہیں اگر انسان اعتدال کو ملحوط رکھتے ہوئے اس قدرتی غذا پر اکتفا کرے تو کوئے بیماری پاس نہیں آتی بلکہ اگر غیر قدرتی غذا کے استعمال سے کوئی بیماری پیدا ہو تو اس کا ازالہ بھی پھلوں اور میوہ جات کے استعمال سے ہوسکتا ہے ، گویا میوے اور پھل غذا کی غذا اور دوا کی دوا ہیں ، دیگر دوائیں جن کو انسان بطور علاج استعمال کرتا ہے ان میں سے زیادہ تر بد ذائقہ تیز اور زہریلی ہوتی ہیں ان دواؤں کا معدہ کی اندرونی اور باریک رگوں پہ برا اثر پڑتا ہے بعض اوقات یہ اعصاب کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں اس کے برخلاف پھل خوش ذائقہ اور طبیعت کے موافق ہیں یہ اعضائے بدن اور اعصاب کو طاقت دیتے ہیںچھوٹے بچون کی حقیقی غزا ماں کے دودھ کے بعد میوے اور پھل ہیں اگر ان کو گوشت یا دیگر مصنوعی غذاوں کی عادت نہ ڈالی جائے تو ہر عمر کے بچوں کے لئے پھلوں سے بہتر اور کوئی غذا نہیں ۔ بچوں کے امراض میں جن ادویہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی پھلوں سے پوری کی جاسکتی ہے ، دوائیں انسانی بدن سے غیر مانوس ہوتی ہیں اور بچوں کی صحت اور تندرستی پر مضر اثر ڈالتی ہیں بچے مٹھائی کے مقابلے میں پھلوں کو تر جیح دیتے ہیں ۔

شیریں پھل جو سورج کی حرارت سے پکتے ہیں ان میں شکر اور دوسرے طاقتور اجزا پائے جاتے ہیں ان میں زیادہ تر حصہ پانی کا ہوتا ہے اس کے علاوہ ان میں چکنائی بھی ہوتی ہے بعض میں نشاستہ اور شکر زیادہ ہوتی ہے ،تمام چیزیں انسانی جسم کو پرورش کرنے اور طاقت دینے میں بے نظیر ہیں ،جوشکر پھلوں میں پائی جاتی ہے وہ دوسری قسم کی شکروں کے مقابلے میں زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتی ہے اور جسم کی نشونما اور طاقت دینے میں بہت مفید ہوتی ہے یہ جسم کو حرارت اور طاقت بخشتی ہے ،مصنوعی شکر بدن میں جوش اور تحریک پیدا کرتی ہیں جن کے کثرت استعمال کا نتیجہ ہمیشہ مہلک ثابت ہوتا ہے اس کے برخلاف میوہ جات کی شکر اصلی طاقت اور قوت کی سرمایہ دار ہے ۔

شکر کے علاوہ بعض پھلوں میں نمک اور ترشی کا مادہ بھی ہوتا ہے ان میں فاسفورس بھی بکثرت ہوتی ہے یہ سب سے زیادہ طاقتور چیز ہے جن لوگوں کو خون کی خرابی کی وجہ سے کمزوری لاحق ہوجاتی ہے ان کے لئے پھلوں کا نمک بہت مفید ہوتا ہے ان میں جو ترشی پائی جاتی ہے خواہ کسی قسم کی ہو ہمیشہ نفع بخش ہوتی ہے اور کبھی نقصان نہیں دیتی ،

سرخ رنگ کے پھلوں میں فولاد کی کافی مقدار ہوتی ہے ان میں گندھک اور فاسفورس کے اجزا بھی پائے جاتے ہیں اگر انسان سوچ سمجھ کہ اس قسم کے پھلوں کا انتخاب کرے تو اس سے بدن کا خون صاف پیدا ہوتا ہے اور ان کے استعمال سے اکثر امراض کا ازالہ ہوجاتا ہے ۔

گرمیوں میں تربوز اور کھیرے کی بہتات ہوتی ہے۔ دھوپ کی تمازت کم کرنے کیلئے دونوں پھل مفید ہیں اور یہ دونوں پھل معدے کی گرمی کو دور کرتے ہیں۔

کھیرا: دھوپ کی تپش سے چہرہ تمتما جائے تو ایک کھیرے کو کدوکش کرکے چہرے پر پھیلا لیں۔ ململ کا ٹکڑا چہرے پر رکھ لیں اور پندرہ منٹ کے بعد چہرہ دھولیں۔

کھیرے کے استعمال کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کے باریک قتلے کاٹ لیں۔ ایک گلاس گرم پانی کسی برتن میں ڈال کر کھیرے کے قتلوں کو بھگودیں۔ ایک گھنٹے بعد کھیرے کے قتلے چھان کر نکال لیں۔ اس محلول میں عرق گلاب ملالیں۔ تقریباً چارپانچ چمچ کے برابر اس محلول کو ششی میں ڈال کر فریج میں محفوظ کرلیں۔ وقت ضرورت روئی کے ٹکڑے کو اس محلول میں بھگو کر چہرے پر لگائیں۔ خاص طور پر ناک اور ٹھوڑی پر۔ روغنی جلد کیلئے آزمودہ نسخہ ہے۔

لیموں: لیموں میں زمانہ قدیم سے خوبصورتی کی افزائش کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیموں سے جلد سکڑجاتی ہے کھلے مسام بند ہوجاتے ہیں اور سانولی رنگت میں نکھار آجاتا ہے۔ خشک جلد کیلئے لیموں کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ لیموں چکنی جلد کیلئے اکسیر کاکام دیتا ہے۔ ایک بڑے چمچ عرق گلاب میں ایک چمچ چائے والا لیموں کا رس ملا کر اس محلول سے چہرہ صاف کریں۔ چہرے کے علاوہ کہنیوں پر ملیں۔ سیاہ جلد سفید ہوجائے گی۔

سیب:سیب خشکی پیدا کرتا ہے۔ سیب کو کدوکش کرلیں۔ کٹے ہوئے سیب کوچہرے پر پھیلا لیں۔ اس کے لگانے سے جلدکی چکنائی کم ہوجاتی ہے۔ کھلے مسام بند ہوجاتے اور چہرے پر چمک پیدا ہوتی ہے۔ پندرہ منٹ کے بعد چہرہ دھولیں۔

ماسک:آپ کوجان کر حیرت ہوگی کہ بہت سے ماسک پھلوں‘ سبزیوں‘ انڈوں‘ دودھ اور وٹامن سے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ انڈوں کو ماسک کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ انڈے ہر قسم کی جلد کیلئے مفید ہوتے ہیں۔

تازہ پھلوں میں اسٹرابری کو کاٹیے یا اسے اچھی طرح کچل کر چہرے پر ملیے۔ اس طرح کیلے کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیلے میں وٹامن‘ کیلشیم‘فاسفورس اور پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کیلے حساس جلد کیلئے بہت مفید ہیں۔

مکئی ماسک: کارن یعنی بھٹے کے چند دانے لے کر اس کا جوس نکال لیں۔ جوس میں سے نکلنے والا سفید مادہ چہرے اور گردن پر لگا کر سوکھنے دیں۔ پھر چہرہ صاف کرلیں۔

مہاسے سے احتیاط اور علاج

جلد کی نامکمل صفائی بھی مہاسوں کا سبب بنتی ہے۔ جلد کے معاملے میں بے احتیاطی‘ تھکن‘ نیند پوری نہ ہونا اور غیرمتوازن غذا کے اثرات براہ راست چہرے پر نظر آتے ہیں۔ ذہنی دباؤ بھی مہاسوں کا سبب بن جاتا ہے۔ دراصل ان حالات میں روغنی غدود زیادہ سرگرم ہوکر زائد چکنائی پیدا کرنے لگتے ہیں جو جلد کے مساموں کے ذریعے خارج ہونے لگتے ہیں۔ پہلے یہ چکنائی بلیک ہیڈز بناتی ہے جو جلد کی سطح کی مناسب دیکھ بھال اور صفائی سے ختم ہوجاتے ہیں اگر چہرے کی صفائی پر دھیان نہ دیا جائے تو چہرے پر اس کی مستقل موجودگی مہاسوں کی صورت اختیار کرلیتی ہے کیونکہ جلد کا معمولی انفیکشن بھی نظر اندازہ کیا جائے تو مہاسے اور جلدی پھوڑے میں موجودہ زہریلا مواد بدنما نشانات چھوڑ دیتا ہے۔

مہاسے کے مریض کو عموماً خون اور پیشاب ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ ممکن ہے اس کی وجہ پیٹ کے کیڑے‘ بڑی آنت یا چھوٹی آنت کا کوئی انفیکشن ہو۔ عموماً جلدی امراض کا تعلق پیٹ کی بیماریوں اور نظام ہضم کی خرابی سے ہوتا ہے۔ اگر پیٹ یا نظام ہضم میں کوئی خرابی نہ ہو اور تمام ٹیسٹ بھی کلیئر ہوں تو پھر وٹامن کی گولیوں‘ فریش فروٹ‘ جوس تازہ سبزیوں اور چکنائی کے بغیر کھانوں کے استعمال اور ہلکی ورزش سے آپ اس قسم کے مسائل پر قابو پاسکتی ہیں۔

مہاسوں کیلئے ضروری ہدایات

٭ بلیک اور وائٹ ہیڈز کی مستقل صفائی۔

٭ جلد پر موجود زائد چکنائی کو صاف کرنا۔

٭ مسامات کو بند کرنا اور جلدی انفیکشن کا بروقت علاج۔

٭ صحت مند جلد کیلئے ضروری چیز پانی بھی ہے۔ روزانہ دو لٹر پانی پینے کی روٹین بنالیں تاکہ جسم صحت مند اور جلد صاف ستھری رہے۔ ریشہ دار خوراک کے استعمال سے آپ کو باقاعدگی کے ساتھ اجابت ہوتی ہے جس کے باعث آپ کی رنگت صاف اور روشن ہوجاتی ہے۔ جلد کے بعض خلیوں کی افزائش و مرمت کیلئے وٹامن اے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے خشکی اور خارش پیدا ہونے کی شکایت ہونے لگتی ہے اور جلد کی لچک کم ہوجاتی ہے۔ یہ وٹامن گاجر‘ گوبھی‘ پالک اور خوبانی میں پایا جاتا ہے جس وٹامن کی جسم میں کمی ہو وٹامن گولیوں کی بجائے خوراک کی شکل میں زیادہ فائدہ مند ہوں گے۔

وٹامن سی آپ کی جلد کو ٹائٹ یا تنا ہوا رکھتا ہے۔ یہ وٹامن سٹرابری‘ پھل‘ گوبھی‘ ٹماٹر اور سلاد میں پایا جاتا ہے۔

چہرے کی کیلیں دور کرنے کا طریقہ

اگر چہرے پر کیلیں نکل آئیں تو پھٹکڑی پانی میں گھول کر لگانے سے یہ کیلیں ہفتہ دس دن میں ختم ہوجاتی ہیں۔

چہرے کی جھریاں دور کرنے کا طریقہ: کاغذی لیموں کے ایسے ٹکڑے لیں جن کا رس نکال لیا گیا ہو۔ اس کو چہرے پر ملیں۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد چہرہ دھولیں۔

داغ اور پھنسیاں دور کرنے کیلئے

سنگترے کے چھلکوں کو سوکھا کر پیس لیں اور تازہ پانی میں ملا کر چہرے پرملیں۔

    سیب

  سیب بہترین دماغی غذا ہے کیونکہ اس میں دوسرے پھلوں کی نسبت فاسفورس اور فولاد زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے اور فاسفورس دماغ کی اصلی غذا ہے سیب جگر کے فعل کو درست کر کے سستی رفع کرتا ہے۔  ذہنی اور دماغی قوت بخشتا ہے اس کے متواتر استعمال کرنے سے خون صالح پیدا کرتا ہے۔ رنگت نکھرتی ہے، رخساروں میں سرخی پیدا ہوتی ہے۔ گردے اور دانتوں کے لیے بھی فائدہ بخش ہے خواتیں کو خصوصیت کے ساتھ سیب زیادہ مقدار میں کھانا چاہیے بےبیز کی دفعہ بکثرت استعمال سے فیمیل کو بہت سی بیماریوں سے دور رکھتا ہے تاثیر کے لحاظسے سیب گرم تر ہے سیب کا مربہ دماغ اور خون کی کمزوری کیلیے مفید ہے سیب کسی حد تک بھاری اور دیرپا ہضم ہوتا ہے۔

دھنیا

سرد خشک ہے۔ سبزیؤن کو لذیذ اور خوشبو دار بناتا ہے۔ دل اور دماغ کو طاقت دیتا ہے۔ نیند لاتا ہے۔ قابض ہے۔ بھوک لگاتا ہے۔زود ہضم ہے۔ جگر معدے اور انتریوں کو طاقت بخشتا ہے۔ یہ کچا ہی کھایا جاتا ہے۔ کھٹائی کے شاقین اس میں سرکہ ملا کر کھاتے ہیں جو کہ مفید نہیں سلاد کے ساتھ ٹماٹر کھائے جائیں تو زیادہ مفید ہے۔دھنیا بخار کی شدت اور سوجن کو کم کرتا ہے۔ ماہرین صحت  کے مطابق خشک دھنیا بخار کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دھنیا ٹھنڈی تاثیر کی حامل خوشبو دار سبزی ہے ۔اس میں موجود پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، ،وٹامن اے اور وٹامن بی کافی مقدار موجود ہے۔طبی ماہرین اسے معدے کے لئے بھی بہترین قرار دیتے ہیں۔ اسے معدے کی کاکردگی بہتر بنانے والی دوائوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دھنیئے کے استعمال سے بخار کی شدت اور سوجن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔۔جبکہ جوڑوں کے درد کے لئے بھی دھنیا بے حد مفید ہے۔۔یہ جسم میں انسولین کی پیداوار بڑھا کر شوگر لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔

    انار

  انار کی تین اقسام ہوتی ہیں، کھٹا انار، میٹھا انار اورکھٹا میٹھا انار، میٹھا انار اور انار کھٹا میٹھا انارکے خواص تقریبا 1 جیسے ہیں جب کہ کھٹے انار کے خواص تھوڑے مختلف ہیں۔ انار کا رنگ سرخ و سبز ہوتا ہے جب کےاس کے دانوں کا رنگ سفید اور سرخ ہوتا ہے اس کا مزاج سرد تر بدرجہ اول ہے بعض اطباء اسے معتدل بھی کہتے ہیں اور کچھ کے نزدیک اس کا مزاج سرد خشک ہے لیکن سرد تر مزاج صحیح ہے اس کی خوراک حسب طبیعت ہے مگر دوا کے طور پر اسکا پانی دو تولہ تک ہے۔ اس کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں

    انار دل کو طاقت دیتا ہے

    جگر کی اصلاح کرتا ہے

    خون صالح پیدا کرتا ہے

    انار گرم مزاجوں کے لیے عمدہ غذا ہے

    اس کا زیادہ استعمال پیٹ میں ہوا پیدا کرتا ہے

    انار پیاس کو تسکین دیتا ہے

    انار قابض ہے اس لیے اس کا زیادہ استعمال غذا کو فاسد کرتا ہے

    انار تپ دق کے مریضون کے لیے بہتریں غذا ہے

    انار قلیل الغذا ہے اور بچوں کو دانت نکالتے وقت دست آنے کی صورت میں بے حد مفید ہے

    انار پیٹ کو نرم کرتا ہے

    انار کھٹا میٹھا صفرا اور جوش خون بلڈ پریشر میں تسکین دیتا ہے

    انار یرقان میں بھی مفید ہے

    اس کے استعمال سے ذہنی بےچینی دور ہوتی ہے

    قے اور متلی کو روکتا ہے

    پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے سوزاک دور کرنے میں بہترین دوا ہے

بیگن

گرم خشک ہے۔خون کو بگاڑتا ہے۔تھوڑا اور کبھی کبھی کھائیں بلغمی مزاج والوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔تر کھانسی اور منہ میں پانی آنے میں مفید ہے۔بھوک لگاتا ہے ہاضمہ کو طاقت دیتا ہے

  سٹرابری

  سٹرابری کھانے سے یاداشت بہتر بنائی جا سکتی ہے، سٹرابری کو غذائیت سے بھر پور بینائی بڑھانے امراض قلب اور جلد کی شادابی کیلئے بہترین قرار دیا ہے۔ سٹرابری کینسر سے بچاو¿ کیلئے بھی انتہائی مفید ہے۔ سٹرابری میں فولک ایسڈ اور اینٹی ایکسڈینٹس وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو کینسر کی روک تھام میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 6 ماہ تک روزانہ 7 گرام تک سٹرابری کے استعمال سے امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ سٹرابری بینائی ، قلب اور جلد کیلئے بہترین ہے ,

لیچی کا استعمال جلد کیلئے انتہائی مفید

گرمیوں میں پھلوں کی بہار نظر آتی ہے۔ایسی ہی ایک سوغات لیچی بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس موسم میں لیچی کا استعمال نہایت ہی مفید ہے۔اوپر سے سرخ اور اندر سے رس دار سفید گودے والی کھٹی میٹھی لیچی، گرمیوں کا خاص پھل ہے۔جس میں مختلف قسم کے نیوٹریشنز اور وٹامنزموجود ہوتے ہیں۔خاص طور پرلیچی میں وٹامن سی کی بڑی مقدارموجود ہوتی ہے۔روزانہ سو گرام لیچی کا استعمال پورے دن کی وٹامن سی کی ضرورت پوری کردیتا ہے۔ لیچی میں چکنائی بہت ہی کم ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے یہ پھل تمام عمر کے افراد کے لیے فائدے مند ہے۔تازہ لیچی اسکن بہتر بناتی ہے اور جسم کو طاقت دیتی ہے۔

    بادام

  موسم سرما میں اس کے استعمال سے کھانسی اور دمہ سے محفوظ رہاجا سکتا ہے۔  بادام کھانے سے حافظہ تیز ہوتا ہے۔  بادام انسانی جسم کی کئی کمزوریوں کو دور کرتا ہے۔  بادام کھانے سے کھانسی اور دمہ سے بچا جاسکتا ہے۔ بادام کا استعمال دل کو بھی مضبوط رکھتا ہے۔  بادام کی مناسب مقدار روزانہ کھانے سے موسم سرما کے دوران نہ صرف نظر کی کمزوری سے بچا جاسکتا ہے بلکہ سینے کی تکالیف سے بھی دور رہاجاسکتا ہے۔

میں ایک میاں ہوں

Standard

میں ایک میاں ہوں

میں ایک میاں ہوں۔ مطیع وفرمانبردار، اپنی بیوی روشن آراء کو اپنی زندگی کی ہر ایک بات سے آگاہ رکھنا اصول زندگی سمجھتا ہوں اور ہمیشہ اس پر کاربند رہا ہوں۔ خدا میرا انجام بخیرکرے۔

 Image

چنانچہ میری اہلیہ میرے دوستوں کی تمام عادات وخصائل سے واقف ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرے دوست جتنے مجھ کو عزیز ہیں اتنے ہی روشن آراء کو برے لگتے ہیں۔ میرے احباب کی جن اداؤں نے مجھے محصور کررکھا ہے انہیں میری اہلیہ ایک شریف انسان کے ليے باعث ذلت سمجھتی ہیں۔
آپ کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ خدانحواستہ وہ کوئی ایسے آدمی ہیں، جن کا ذکر کسی معزز مجمع نہ کیا جاسکے۔ کچھ اپنے ہنر کے طفیل اور کچھ خاکسار کی صحبت کی بدولت سب کے سب ہی سفید پوش ہیں۔ لیکن اس بات کو کیا کروں کہ ان کی دوستی میرے گھر کے امن میں اس قدر خلل انداز ہوتی ہے کہ کچھ خاکسار کی صحبت کی بدولت سب کے سب ہی سفید پوش ہیں۔ لیکن اس بات کو کیا کروں کہ ان کی دوستی میرے گھر کے امن میں اس قدر خلل انداز ہوتی ہے کہ کچھ کہہ نہیںسکتا۔
مثلاً مرزا صاحب ہی کو لیجیئے، اچھے خاصے اور بھلے آدمی ہیں۔ گو محکمہ جنگلات میں ایک معقول عہدے پر ممتاز ہیں لیکن شکل وصورت ایسی پاکیزہ پائی ہے کہ امام مسجد معلوم ہوتے ہیں۔ جواٴ وہ نہیں کھیلتے، گلی ڈنڈے کا ان کو شوق نہیں۔ جیب کترتے ہوئے کبھی وہ نہیں پکڑے گئے۔ البتہ کبوتر پال رکھے ہیں، ان ہی سے جی بہلاتے ہیں۔ ہماری اہلیہ کی یہ کیفیت ہے کہ محلے کا کوئی بدمعاش جوئے میں قید ہوجائے تو اس کی ماں کے پاس ماتم پرسی تک کو چلی جاتی ہیں۔ گلی ڈنڈے میں کی آنکھ پھوٹ جائے تو مرہم پٹی کرتی رہتی ہیں۔ کوئی جیب کترا پکڑا جائے تو گھنٹوں آنسو بہاتی رہتی ہیں، لیکن وہ بزرگ جن کو دنیا بھر کی زبان میں مرزا صاحب کہتے تھکتی ہے وہ ہمارے گھر میں “موئے کبوترباز” کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں کبھی بھولے سے بھی میں آسمان کی طرف نظر اٹھا کر کسی چیل، کوئے، گدھ، شکرے کو دیکھنے لگ جاؤں تو روشن آراء کو فوراً خیال ہوجاتا ہے کہ بس اب یہ بھی کبوتربازبننےلگا۔
اس کے بعد مرزا صاحب کی شان میں ایک قصیدہ شروع ہوجاتا ہے۔ بیچ میں میری جانب گریز۔ کبھی لمبی بحر میں، کبھی چھوٹی
بحرمیں۔
ایک دن جب یہ واقعہ پیش آیا، تو میں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اس مرزا کمبخت کو کبھی پاس نہ پھٹکنے دوں گا، آخر گھر سب سے مقدم ہے۔ بیوی کے باہمی اخلاص کے مقابلے میں دوستوں کی خوشنودی کیا چیز ہے؟ چنانچہ ہم غصے میں بھرے ہوئے مرزا صاحب کے گھر گئے، دروازہ کھٹکھٹایا۔ کہنے لگے اندر آجاؤ۔ ہم نے کہا، نہیں آتے تم باہر آؤ۔ خیر اندر گیا۔ بدن پر تیل مل کر ایک کبوتر کی چونچ منہ میں لئے دھوپ میں بیٹھے تھے۔ کہنے لگے بیٹھ جاؤ ہم نے کہا، بیٹھیں گے نہیں، آخر بیٹھ گئے معلوم ہوتا ہے ہمارے تیور کچھ بگڑے ہوئے تھے، مرزا بولے کیوں بھئی؟ خیرباشد! میں نے کہا کچھ نہیں۔ کہنے لگےاسوقت کیسے آنا ہوا؟
اب میرے دل میں فقرے کھولنے شروع ہوئے۔ پہلے ارادہ کیا کہ ایک دم ہی سب کچھ کہہ ڈالو اور چل دو، پھر سوچا کہ مذاق سمجھے گا اس ليے کسی ڈھنگ سے بات شروع کرو۔ لیکن سمجھ میں نہ آیا کہ پہلے کیا کہیں، آخر ہم نے کہا۔
“مرزا، بھئی کبوتر بہت مہنگے ہوتے ہیں؟”
یہ سنتے ہی مرزا صاحب نے چین سے لے کر امریکہ تک کے تمام کبوتروں کو ایک ایک کرکے گنوانا شروع کیا۔ اس
 کے بعد دانے کی مہنگائی کے متعلق گل افشانی کرتے رہے اور پھر محض مہنگائی پر تقریر کرنے لگے۔ اس دن تو ہم یوں ہی چلے آئے لیکن ابھی کھٹ پٹ کا ارادہ دل میں باقی تھا۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ شام کو گھر میں ہماری صلح ہوگئی۔ ہم نے کہا، چلو اب مزرا کے ساتھ بگاڑنے سے کیا حاصل؟ چنانچہ دوسرے دن مرزا سے بھی صلح صفائی ہوگئی۔
لیکن میری زندگی تلخ کرنے کے ليے ایک نہ ایک دوست ہمیشہ کارآمد ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فطرت نے میری طبیعت میں قبولیت اور صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے کیونکہ ہماری اہلیہ کو ہم میں ہر وقت کسی نہ کسی دوست کی عادات قبیحہ کی جھلک نظر آتی رہتی ہے یہاں تک کہ میری اپنی ذاتی شخصی سیرت بالکل ہی ناپید ہوچکی ہے۔
شادی سے پہلے ہم کبھی کبھی دس بجے اٹھا کرتے تھے ورنہ گیارہ بجے۔ اب کتنے بجے اٹھتے ہیں؟ اس کا اندازہ وہی لوگ لگاسکتے ہیں جن کے گھر ناشتہ زبردستی صبح کے سات بجے کرا دیا جاتا ہےاور اگر ہم کبھی بشری کمزوری کے تقاضے سے مرغوں کی طرح تڑکے اُٹھنے میں کوتاہی کریں تو فوراً ہی کہہ دیا جاتا کہ ہے کہ یہ نکھٹو نسیم کی صحبت کا نتیجہ ہے۔ ایک دن صبح صبح ہم نہا رہے تھے، سردی کا موسم ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے، صابن سر پر ملتے تھے تو ناک میں گھستا تھا کہ اتنے میں ہم نے خدا جانے کس پراسرار جذبے کے ماتحت غسل خانے میں الاپنا شروع کیا۔ اور پھر گانے لگے کہ “توری چھل بل ہے نیاری۔۔۔”اس کو ہماری انتہائی بدمذاقی سمجھا گیا، اور اس بدمذاقی کا اصل منبع ہمارے دوست پنڈت جی کو ٹھہرایا گیا۔
لیکن حال ہی میں مجھ پر ایک ایسا سانحہ گزرا ہے کہ میں نے تمام دوستوں کو ترک کر دینے کی قسم کھالی ہے۔
تین چار دن کا ذکر ہے کہ صبح کے وقت روشن آراء نے مجھ سے میکے جانے کے لیے اجازت مانگی۔ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے، روشن آراء صرف دو دفعہ میکے گئی ہے اور پھر اس نے کچھ سادگی اور عجز سے کہا کہ میں انکار نہ کرسکا۔ کہنے لگی تو پھر میں ڈیڑھ بجے کی گاڑی میں چلی جاؤں؟ میں نے کہا اور کیا؟
وہ جھٹ تیاری میں مشغول ہوگئی اور میرے دماغ میں آزادی کے خیالات نے چکر لگانے شروع کئے۔ یعنی اب بےشک دوست آئیں، بےشک ادوھم مچائیں، میں بےشک گاؤں، بےشک جب چاہوں اُٹھوں، بےشک تھیٹر جاؤں، میں نے کہا۔
“روشن آراء جلدی کرو، نہیں تو گاڑی چھوٹ جائے گی۔” ساتھ اسٹیشن پر پر گیا۔ جب گاڑی میں سوار کراچکا تو کہنے لگی “خط ضرورلکھتے رہئے گا!” میں نے کہا”ہر روز اور تم بھی!”
“کھانا وقت پہ کھا لیا کیجیئے گا اورہاں دھلی ہوئی جرابیں اور رومال الماری کے نچلے خانے میں پڑے ہیں”۔ اس کے بعد ہم دونوں خاموش ہوگئے۔ اور ایک دوسرے کے چہرے کو دیکھتے رہے۔ اس کی آنکھو میں آنسو بھر آئے، میرا دل بھی بیتاب ہونے لگا اور جب گاڑی روانہ ہوئی تو میں دیر تک مبہوت پلیٹ فارم پر کھڑا رہا۔
آخر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا کتابوں کی دکان تک آیا اور رسالوں کے ورق پلٹ پلٹ کر تصویریں دیکھتا رہا۔ ایک اخبار خریدا، تہہ کرکے جیب ڈالا اور عادت کے مطابق گھر کا ارادہ کیا۔
پھر خیال آیا کہ اب گھر جانا ضروری نہیں رہا۔ اب جہاں چاہوں جاؤں، چاہوں تو گھنٹوں اسٹیشن پر ہی ٹہلتا رہوں، دل چاہتا تھا قلابازیاں کھاؤں۔
کہتے ہیں، جب افریقہ کے وحشیوں کو کسی تہذیب یافتہ ملک میں کچھ عرصہ رکھا جاتا ہے تو گو وہ وہاں کی شان وشوکت سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن جب واپس جنگلوں میں پہنچتے ہیں تو خوشی کے مارے چیخیں مارتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی کیفیت میرے دل کی بھی ہو رہی تھی۔ بھاگتا ہوا اسٹیشن سے آزادانہ باہر نکلا، آزادی کے لہجہ میں تانگے والے کو بلایا اور کود کر تانگے میں سوار ہوگیا۔ سگریٹ سلگا لیا، ٹانگیں سیٹ پر پھیلا دیں اور کلب کو روانہ ہوگیا۔
رستے میں ایک بہت ضروری کام یاد آیا، تانگہ موڑ کر گھر کی طرف پلٹا، باہر ہی سے نوکرکو آوازد دی۔
“امجد”
“حضور!”
“دیکھو، حجام کو جاکے کہہ دو کہ کل گیارہ بجے آئے۔”
“بہت اچھا۔”
“گیارہ بجے سن لیا نا؟ کہیں روز کی طرح پھر چھ بجے وارد نہ ہوجائے۔”
“بہت اچھا حضور۔”
“اور اگر گیارہ بجے سے پہلے آئے، تو دھکے دے کر باہر نکال دو۔”
یہاں سے کلب پہنچے، آج تک کبھی دن کے دو بجے کلب نہ گیا تھا، اندر داخل ہوا تو سنسان۔ آدمی کا نام ونشان تک نہیں سب کمرے دیکھ ڈالیے۔ بلیرڈ کا کمرہ خالی، شطرنج کا کمرہ خالی۔ صرف کھانے کے کمرے میں ایک ملازم چھریاں تیز کررہا تھا۔ اس سے پوچھا”کیوں بے آج کوئی نہیں آيا؟”
کہنے لگا “حضور آپ جانتے ہیں، اس وقت بھلا کون آتا ہے؟”
بہت مایوس ہوا باہر نکل کر سوچنے لگا کہ اب کیا کروں؟ اور کچھ نہ سوجھا تو وہاں سے مرزا صاحب کے گھر پہنچا معلوم ہوا ابھی دفتر سے واپس نہیں آئے، دفتر پہنچا دیکھ کر بہت حیران ہوئے، میں نے سب حال بیان کیا کہنے لگے۔ “تم باہر کے کمرے میں ٹھہرو، تھوڑا سا کام رہ گیا ہے، بس ابھی بھگتا کے تمہارے ساتھ چلتا ہوں، شام کا پروگرام کیا ہے؟”
میں نے کہا۔ “تھیٹر!”
کہنے لگے۔ “بس بہت ٹھیک ہے، تم باہر بیٹھو میں ابھی آیا۔”
باہرکے کمرے میں ایک چھوٹی سی کرسی پڑی تھی، اس پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا اور جیب سے اخبار نکال پڑھنا شروع کردیا۔ شروع سے آخر تک سب پڑھ ڈالا اور ابھی چار بجنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا، پھر سے پڑھنا شروع کردیا۔ سب اشتھار پڑھ ڈالےاور پھر سب اشتہاروں کو دوبارہ پڑھ ڈالا۔
آخر کار اخبار پھینک کر بغیر کسی تکلف یا لحاظ کے جمائیاں لینے لگا۔ جمائی پہ جمائی۔
جمائی پہ جمائی۔ حتیٰ کہ جبڑوں میں درد ہونے لگا۔
اس کے بعد ٹانگیں ہلانا شروع کیا لیکن اس سے بھی تھک کیا۔
پھر میز پر طبلے کی گتیں بجاتا رہا۔
بہت تنگ آگیا تو دروازہ کھول کر مرزا سے کہا۔ “ابے یار اب چلتا بھی ہے کہ مجھے انتظار ہی میں مار ڈالے گا، مردود کہیں کا، سارا دن میرا ضائع کردیا۔”
وہاں سے اُٹھ کر مرزا کے گھر گئے۔ شام بڑے لطف میں کٹی۔ کھانا کلب میں کھایا۔ اور وہاں سے دوستوں کو ساتھ ليے تھیٹر گئے، رات کے ڈھائی بجے گھر لوٹے، سرہانے پر سر رکھا ہی تھا، کہ نیند نے بےہوش کردیا۔ صبح آنکھ کھلی تو کمرے میں دھوپ لہریں مار رہی تھی۔ گھڑی کو دیکھا تو پونے گیارہ بجے تھے۔ ہاتھ بڑا کر میز پر سے ایک سگریٹ اٹھایا اور سلگا کر طشتری میں رکھ دیا اور پھر اونگھنے لگا۔
گیارہ بجے امجد کمرے میں داخل ہوا کہنے لگا “حضور حجام آیا ہے۔”
ہم نے کہا۔ “یہیں بلا لاؤ”۔ یہ عیش مدت بعد نصیب ہوا، کہ بستر میں لیٹے لیٹے حجامت بنوالیں، اطمینان سے اٹھے اور نہا دھو کر باہر جانے کےليے تیار ہوئے لیکن طبیعت میں وہ شگفتگی نہ تھی، جس کی امید لگائے بیٹھے تھے، چلتے وقت الماری سے رومال نکالا تو خدا جانے کیا خیال۔ دل میں آیا، وہیں کرسی پر بیٹھ گیا۔ اور سودائیوں کی طرح اس رومال کو دیکھتا رہا۔ الماری کا ایک اور خانہ کھولا تو سردئی رنگ کا ایک ریشمی دوپٹہ نظر آیا۔ باہر نکالا، ہلکی ہلکی عطر کی خوشبو آرہی تھی۔ بہت دیر تک اس پر ہاتھ پھیرتا رہا دل بھرآیا، گھر سونا معلوم ہونے لگا۔ بہتر اپنے آپ کو سنبھالا لیکن آنسو ٹپک ہی پڑے۔ آنسوؤں کا گرنا تھا کہ بیتاب ہوگیا۔ اور سچ مچ رونے لگا۔ سب جوڑے باری باری نکال کر دیکھے لیکن نہ معلوم کیا کیا یاد آیا کہ اور بھی بےقرار ہوتا گیا۔
آخر نہ رہا گیا، باہر نکلا اور سیدھا تار گھر پہنچا۔ وہاں سے تار دیا کہ میں بہت اداس ہوں تم فوراً آجاؤ!
تار دینے کے بعد دل کو کچھ اطمینان ہوا، یقین تھا کہ روشن آراء اب جس قدر جلد ہوسکے گا، آجائے گی۔ اس سے کچھ ڈھارس بندھ گئی اور دل پر سے جیسے ایک بوجھ ہٹ گیا۔
دوسرے دن دوپہر کو مرزا کے مکان پر تاش کا معرکہ گرام ہونا تھا۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ مرزا کے والد سے کچھ لوگ ملنے آئے ہیں اس ليے تجویز یہ ٹھہری کہ یہاں سے کسی اور جگہ سرک چلو۔ ہمارا مکان تو خالی تھا ہی، سب یار لوگ وہیں جمع ہوئے۔ امجد سے کہہ دیا گیا کہ حقے میں اگر ذرا بھی خلل واقع ہوا تو تمہاری خیر نہیں۔ اور پان اس طرح سے متواتر پہنچے رہیں کہ بس تانتا لگ جائے۔
اب اس کے بعد کے واقعات کو کچھ مرد ہی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ شروع شروع میں تو تاش باقاعدہ اور باضابطہ ہوتا رہا۔ جو کھیل بھی کھیلا گیا بہت معقول طریقے سے قواعدوضاوبط کے مطابق اور متانت وسنجیدگی کے ساتھ۔ لیکن ایک دو گھنٹے کے بعد کچھ خوش طبعی شروع ہوئی، یار لوگوں نے ایک دوسرے کے پتے دیکھنے شروع کردیئے۔ یہ حالت تھی کہ آنکھ بچی نہیں اور ایک آدھ کام کا پتہ اُڑا نہیں اور ساتھ ہی قہقہےپر قہقہے اُڑنے لگے۔ تین گھنٹے کے بعد یہ حالت تھی کہ کوئی گھٹنا ہلا ہلا کر گا رہا ہے کوئی فرش پر بازو ٹیکے بجا رہا ہے۔ کوئی تھیٹر کا ایک آدھ مذاقیہ فقرہ لاکھوں دفعہ دہرا رہا ہے۔ لیکن تاش برابر ہورہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد دھول دھپا شروع ہوا، ان خوش فعلیوں کے دوران میں ایک مسخرے نے ایک ایسا کھیل تجویز کردیا۔ جس کے آخر میں ایک آدمی بادشاہ بن جاتا ہے ہے۔ دوسرا وزیر، تیسرا کوتوال اور جو سب سے ہار جاتا ہے۔ وہ چور۔ سب نے کہا “واہ واہ کیا بات کہی ہے”۔ ایک بولا۔ “پھر آج جو چور بنا، اس کی شامت آجائے گی”۔ دوسرے نے کہا۔ “اور نہیں تو کیا بھلا کوئی ایسا ویسا کھیل ہے۔ سلطنتوں کے معاملے ہیں سلطنتوں کے!”
کھیل شروع ہوا۔ بدقسمتی سے ہم چور بن گئے۔ طرح طرح کی سزائیں تجویز ہونے لگیں۔ کوئی کہے، “ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے جائے اور حلوائی کی دکان سے مٹھائی خرید کر لائے”۔ کوئی کہے، “نہیں حضور، سب کے پاؤں پڑے، اور ہر ایک سے دو دو چانٹے کھائے۔” دوسرے نے کہا “نہیں صاحب ایک پاؤں پر کھڑا ہو کر ہمارے سامنے ناچے۔” آخر میں بادشاہ سلامت بولے۔ “ہم حکم دیتے ہیں کہ چور کو کاغذ کی ایک لمبوتری نوک دار ٹوپی پہنائی جائے اور اس کے چہرے پر سیاہی مل دی جائے۔ اور یہ اس حالت میں جاکر اندرسے حقے کی چلم بھر کر لائے۔” سب نے کہا۔ “کیا دماغ پایا ہے حضور نے۔ کیا سزا تجویز کی ہے! واہ واہ!”
ہم بھی مزے میں آئے ہوئے تھے، ہم نے کہا “تو ہوا کیا؟ آج ہم ہیں کل کسی اور کی باری آجائے گی۔” نہایت خندہ پیشانی سے اپنے چہرے کو پیش کیا۔ ہنس ہنس کر وہ بیہودہ سی ٹوپی پہنی، ایک شان استغنا کے ساتھ چلم اٹھائی اور زنانے کا دروازہ کھول کر باورچی خانے کو چل دیئے اور ہمارے پیچھے کمرہ قہقہوں سے گونج رہا تھا۔
صحن پر پہنچےہی تھے کہ باہر کا درواز کھلا اور ایک برقعہ پوش خاتون اندر داخل ہوئی، منہ سے برقعہ الٹا تو روشن آراء!
دم خشک ہوگیا، بدن پر ایک لرزہ سا طاری ہوگیا، زبان بند ہوگئی، سامنے وہ روشن آراء جس کو میں نے تار دے کر بلایا تھا کہ تم فوراً آجاؤ میں بہت اداس ہوں اور اپنی یہ حالت کو منہ پر سیاہی ملی ہے، سر پر وہ لمبوتری سی کاغذ کی ٹوپی پہن رکھی ہے اور ہاتھ میں چلم اٹھائے کھڑے ہیں، اور مردانے سے قہقہوں کا شور برابر آرہا ہے۔
روح منجمد ہوگئی اور تمام حواس نے جواب دے دیا۔ روشن آراء کچھ دیر تک چپکی کھڑی دیکھتی رہی اور پھر کہنے لگی۔۔۔ لیکن میں کیا بتاؤں کہ کیا کہنے لگی؟ اس کی آواز تو میرے کانوں تک جیسے بیہوشی کے عالم میں پہنچ رہی تھی۔
اب تک آپ اتنا تو جان گئے ہوں گے، کہ میں بذات خود از حد شریف واقع ہوا ہوں، جہاں تک میں، میں ہوں مجھ سے بہتر میاں دنیا پیدا نہیں کرسکتی، میری سسرال میں سب کی یہی رائے ہے۔ اور میرا اپنا ایمان بھی یہی ہے لیکن ان دوستوں نے مجھے رسوا کردیا ہے۔ اس ليے میں نے مصمم ارادہ کرلیا ہے کہ اب یا گھر میں رہوں گا یا کام پر جایا کروں گا۔ نہ کسی سے ملوں گا اور نہ کسی کو اپنے گھر آنے دوں گا سوائے ڈاکیے یا حجام کے۔ اور ان سے بھی نہایت مختصر باتیں کروں گا۔
“خط ہے؟”
“جی ہاں”
“دے جاؤ، چلے جاؤ۔”
“ناخن تراش دو۔”
“بھاگ جاؤ۔”
بس، اس سے زیادہ کلام نہ کروں گا، آپ دیکھئے تو سہیٴ!