Author Archives: masoodnk

اُمّہات المومنین

Standard

اُمّہات المومنین
مرتبہ : مسعود نبی خان
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی الہ و اصحابہ و ازواجہ و بارک وسلم اجمعین
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت مبارکہ کی برکت سے ازواج مطہرات کا مقام و مرتبہ بہت ہی ارفع و اعلی اور بلند و بالا ہے، ان کی شان میں قرآن حکیم کی کئی آیات بینات نازل ہوئیں اور حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی احادیث شریفہ میں بھی ان کی عظمت و فضیلت اور خصائص و کمالات کا تذکرہ موجود ہے- چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ – ترجمہ: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو- (سورۂ احزاب- 32)
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام رازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 606ھ نے لکھا ہے: یعنی فیکن غیر ذلک امر لا یوجد فی غیرکن وھو کونکن امھات المومنین و زوجات خیر المرسلین- ترجمہ: یعنی ازواج مطہرات وہ خصوصی شان رکھتی ہیں جو دوسری خواتین نہیں رکھتیں، یہ برگزیدہ و عفت مآب خواتین تمام مومنین کی مائیں اور نبیوں کے سردار کی بیبیاں ہیں- تفسیر الرازی، سورۃ الاحزاب، 32-
اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ازواج مطہرات حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کاشانۂ اقدس کی برکت سے دنیا کی تمام خواتین میں ایک منفرد و ممتاز مقام کی حامل بن گئیں جس میں کوئی ان کا شریک نہیں ہے-
دوسری آیت شریفہ میں ارشاد باری تعالی ہے: وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْؕ ترجمہ: اور آپ کی بیویاں مومنین کی مائیں ہیں- سورۂ احزاب- 6
نیز ارشاد الٰہی ہے: وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزْوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعْدِہٖۤ اَبَدًا ؕ ترجمہ: اے ایمان والو!)اور یہ ناجائز ہے کہ کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد آپ کی بیبیوں سے نکاح کرو- سورۂ احزاب- 53
اور یہ بھی ارشاد ہے: وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ترجمہ: اور جب نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج سے تم کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو- سورۂ احزاب- 53
کنزل العمال میں حضورصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: خيارکم خيارکم لنسائی ۔
ترجمہ : تم میں سب سے بہتر افراد وہ ہیں جو میری ازواج مطہرات کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والے ہوں ۔
کنزل العمال ،کتاب الفضائل ۔ فصل ازواجہ علیہ الصلوة والسلام ،حدیث نمبر: 24400
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات کی تعداد اور ان کے ساتھ نکاح کی ترتیب کے بارے سیرت نگاران کا قدرے اختلاف ہے، البتہ گیارہ امہات المومنین کے بارے میں سب کی رائے متفق ہے-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی متعدد شادیوں کا ایک عظیم مقصد یہ رہا کہ مختلف قبائل سے رشتۂ اخوت قائم ہو جائے اور اس کی وجہ سے واقعۃً اسلام کے فروغ میں بڑی مدد ملی اور مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا-
ازواج مطہرات میں چھ کا تعلق قبیلہ قریش سے ہے، حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا- چار ازواج مطہرات قبیلۂ قریش کے علاوہ عرب کے دیگر قبائل سے ہیں اور ایک زوجۂ مطہرہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بنی اسرائیل کے قبیلہ بنی نضیر کی ہیں-سبل الہدی والرشاد ج11 جماع أبواب ذكر أزواجه صلى الله عليه وسلم ص143

ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا- کنیت: ام ہند، لقب: طاہرہ
نسب مبارک یہ ہے: خدیجۃ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ،قصی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جد امجد ہیں-
ماں کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا جو خاندان عامر بن لوئی سے تھیں-
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد خویلد بن اسد ایک کامیاب تاجر تھے، اپنے قبیلہ میں بڑی با عظمت شخصیت کے مالک تھے، بلکہ اپنی خوش معاملگی و دیانتداری کی بدولت تمام قریش میں بے حد ہر دلعزیز اور محترم تھے-
حضرت خدیجۃ الکبریٰ عام الفیل سے پندرہ سال قبل 555ء میں پیدا ہوئیں -بچپن ہی سے نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں، جب سن شعور کو پہنچیں تو ان کی شادی ابو ہالہ ہند بن نباش تمیمی سے ہوئی- ابو ہالہ کے انتقال کے بعد حضرت خدیجۃ (رضی اللہ عنہا) کی دوسری شادی عتیق بن عابد مخزومی سے ہوئی، کچھ عرصہ بعد عتیق بن عابد مخزومی بھی فوت ہو گئے- اور عابد مخزومی کے انتقال کے بعد کچھ ایسی دل برداشتہ ہوئیں کہ دنیوی معاملات سے دور رہنے لگیں اور زیادہ وقت خانۂ کعبہ میں گزارنے لگیں ، آپ کی زندگی میں تقدس یہیں سے پیدا ہوا ، اس دوران قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے آپ سے نکاح کا پیغام بھیجا، آپ نے سب کو رد کر دیا، کیونکہ آپ دولت و ثروت کے علاوہ حسن صورت اور حسن سیرت میں بھی ممتاز درجہ رکھتی تھیں، اور زمانۂ جاہلیت میں “طاہرہ” کے لقب سے مشہور تھیں-
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد نکاح
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نکاح کی خواہش ظاہر کی اور 40 سال کی عمر میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نکاح میں آئیں، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر 25 برس تھی- ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا، 500 درہم کے برابر سونا مہر مقرر ہوا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجیت میں آگئیں- ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وہ لازم تکریم اور لائق تعظیم خاتون تھیں جن کی زندگی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نور ہدایت کی روشنی میں سب سے پہلے منور ہوئی اور خواتین میں سب سے پہلے اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئیں-
حلیۂ نبوی سے متعلق مفصل روایت آپ ہی سے مروی ہے- ابتدائے اسلام میں جب کہ ہر طرف سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مخالفت کا طوفان اٹھ رہا تھا، ایسے کٹھن وقت صرف ان ہی کی وہ ذات تھی جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مونس حیات بن کر آپ کو تسلی دیتی- انہوں نے ایسے خوفناک اور خطرناک اوقات میں جس استقلال اور استقامت کے ساتھ خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اور جس طرح تن ،من، دھن سے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں قربانی پیش کی، اس خصوصیت میں آپ کو تمام ازواج مطہرات پر ایک فوقیت و فضیلت حاصل ہے- اسی وجہ سے بعض علماء نے آپ کو تمام امہات المومنین میں افضل قرار دیا-
آپ کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی خدمت میں کھانے کا ایک برتن لے کر حاضر ہو رہی ہیں، جب یہ آپ کے پاس آ جائیں تو آپ ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام فرمائیں- اور ان کو جنت میں موتی کے ایک عالیشان محل کی خوشخبری سنادیں، جس میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی- (بخاری)
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دریافت کرنے پر ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی، جب سب لوگوں نے میرےساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں، اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جب لوگ مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہیں تھے، اس وقت حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) نے اپنا سارا مال مجھے پیش کر دیا- اور ان ہی کے بطن سے اللہ تعالی نے مجھے اولاد عطا فرمائی جن میں 2 صاحبزادے اور 4 صاحبزادیاں ہیں- (زرقانی)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مقدس زندگی کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شروع ہی سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مزاج شناس تھیں- شاید یہی وجہ تھی کہ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور غار حرا سے واپس لوٹنے کے بعد سارا واقعہ من و عن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سامنے بیان کر دیا- اس حیرت انگیز واقعہ کے بعد طبیعت متاثر ہو گئی تھی تو فرمایا: زملونی زملونی، مجھے چادر اڑھاؤ ، مجھے چادر اڑھاؤ، آپ نے حکم کی تعمیل کی اور پوچھا آپ اتنے دنوں سے کہاں تھے؟ آپ کی تلاش میں میں کئی آدمیوں کو بھیج چکی ہوں، اس واقعہ کے بعد آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: آپ سچ فرماتے ہیں، غریبوں کی دستگیری کرتے ہیں، مہمان نواز ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، امانت گزار ہیں، دکھیوں کے خبر گیر ہیں، اللہ آپ کو تنہا نہ چھوڑے گا-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دنیا میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کا انگور کھلایا تھا- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت تھی، آپ جب تک بقید حیات رہیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں کیا، آپ کے وصال سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بے پناہ صدمہ ہوا اور آپ اکثر ملول رہنے لگے، حضرت خدیجۃ الکبری کے وصال کے بعد بھی آپ کو ان سے اتنی محبت تھی کہ جب کوئی قربانی کرتے تو پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو گوشت بھیجتے اور بعد میں کسی اور کو دیتے، جب کبھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا کوئی رشتہ دار آپ کے پاس آتا تو آپ ان کی بے حد خاطر مدارات فرمایا کرتے – حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی رحلت کے بعد مدت تک حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس وقت تک گھر سے باہر تشریف نہ لے جاتے جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اچھی طرح تعریف نہ کر لیتے- اسی طرح جب گھر تشریف لاتے تو ان کا ذکر کر کے بہت کچھ تعریف فرماتے- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس عمل سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ان پر رشک آتا تھا- حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تا دم آخر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مثالی کردار پیش کیا اور شکایت کا کوئی موقع نہ دیا-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے علاج و معالجہ اور تسکین و تشفی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی –
وصال اقدس: حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا 25 سال تک خدمت گزاری کا شرف حاصل کیں اور ہجرت سے 3 برس قبل 65 سال کی عمر پاکر ماہ رمضان المبارک میں مکہ معظمہ کے اندر وفات پائیں- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جحون (جنت المعلی) میں خود بہ نفس نفیس ان کی قبر میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپرد خاک فرمایا چونکہ اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا اس لئے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی- (زرقانی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، کنیت: ام عبداللہ (بھانجے کے نام پر) ، لقب: صدیقہ اور حمیرا
نسب مبارک یہ ہے: عائشہ بنت ابوبکر صدیق بن قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن یتیم بن مرہ بن کعب بن لوی-
والدہ کا نام ام رومان بنت عامر تھا جو جلیل القدر صحابیہ ہیں-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی علی صاحبہ والصلوۃ والسلام کے چار سال بعد ماہ شوال میں پیدا ہوئیں ، آپ حضر ت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نور نظر اور دختر نیک اختر ہیں، بچپن ہی سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زیر سایہ پرورش پائیں – حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بچپن ہی سے بیحد ذہین اور ہوشمند تھیں، بچپن کی باتیں انہیں یاد تھیں- امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ جب آیۃ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَ السَّاعَۃُ اَدْہٰی وَ اَمَرُّ-(سورۃ القمر: 46 ) مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کھیل کود میں مشغول تھیں- یعنی ابھی آپ لڑکپن کا دور گزار رہی تھیں-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اعلان نبوت کے دسویں سال اور ہجرت کے تین سال قبل ماہ شوال میں ہوا- ایک دفعہ ماہ شوال کے مہینے میں عرب میں طاعون کی خوفناک وباء پھیلی جس نے ہزاروں گھرانوں کو ویران کر دیا ، اس وقت سے شوال کا مہینہ اہل عرب میں منحوس سمجھا جاتا تھا، وہ اس مہینے میں خوشی کی تقریب کرنے سے احتراز کرتے تھے، چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح شوال میں ہوا اور خطبۂ نکاح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھا اور رخصتی بھی چند سال بعد شوال ہی میں ہوئی، اس مبارک نکاح کی برکت سے شوال کی نحوست کا وہم لوگوں کے دلوں سے دور ہوا- آپ کا مہر 500 درہم مقرر ہوا- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ پیدائشی مسلمان تھیں- ان ہی سے روایت ہے کہ “جب میں نے اپنے والدین کو پہچانا انہیں مسلمان پایا”- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر روز ازل سے کفر و شرک کا سایہ تک نہ پڑا-
چند مخصوص فضائل میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تمام صحابہ اور صحابیات میں امتیازی حیثیت رکھتی ہیں- بہ روایت قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں کہ دس اوصاف مجھ میں ایسے ہیں جن میں دوسری ازواج مطہرات سے کوئی میری شریک نہیں-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے سوا کسی دوسری کنواری خاتون سے نکاح نہیں فرمایا-
میرے سوا ازواج مطہرات میں سےکوئی بھی ایسی نہیں جن کے ماں اور باپ دونوں مہاجر ہیں-
اللہ تعالی نے میری براءت و پاکدامنی کا بیان آسمان سے قرآن (سورۂ نور) میں نازل فرمایا-
نکاح سے قبل حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دکھلا دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تین راتیں خواب میں مجھے دیکھتے رہے- (مشکوٰۃ)
میں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک ہی برتن سے پانی لے کر غسل کیا کرتے تھے- یہ شرف میرے سوا ازواج مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا-
حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نماز تہجد پڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی- امہات المومنین میں سے کوئی بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس کریمانہ محبت سے سرفراز نہیں ہوئیں-
میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں سوئی رہتی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر خدا کی وحی نازل ہوا کرتی تھی- یہ وہ اعزاز خداوندی ہے جو میرے سوا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کو حاصل نہیں ہوا-
وصال اقدس کے وقت میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنی گود میں لئے ہوئے بیٹھی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وصال ہوا-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا-
حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا روضۂ انور خاص میرے گھر میں بنا- (زرقانی، جلد 3 )
علمی شان
زہری فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کا تمام امہات المومنین اور تمام خواتین کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے بڑھا رہے گا- آپ کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی خطیب کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح و بلیغ نہیں دیکھا- (طبرانی)
اکابر صحابہ کو جب بھی کوئی اشکال پیش آتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف رجوع کرتے، عہد صحابہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم ، تفقہ اور تاریخ دانی مسلم تھی- یہاں تک کہا گیا کہ احکام شرعیہ کا چوتھائی حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے- صحابہ کو آپ کے یہاں مشکل مسئلہ کا حل مل جاتا تھا- (ترمذی)
حضرت عروۃ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ میں نے قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ اور علم الانسان میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو اشعار عرب کا جاننے والا نہیں پایا- وہ دوران گفتگو بر موقع کوئی نہ کوئی شعر پڑھ دیا کرتی تھیں جو بہت ہی برمحل اور مناسب و موزوں ہوا کرتا تھا-
علم طب اور مریضوں کے علاج معالجہ میں بھی انہیں کافی مہارت تھی- حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جو آپ کے بھانجے ہیں فرماتے ہیں کہ ایک دن حیران ہو کر بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اے اماں جان! مجھے آپ کے علم حدیث و فقہ پر کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ آپ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجیت و محبت کا شرف پایا ہے، اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سب سے زیادہ محبوب ترین زوجۂ مقدسہ ہیں- سنن ابو داؤد میں روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اے باری تعالی : یوں تو میں سب ازواج سے برابر کا سلوک کرتا ہوں، مگر دل میرے بس میں نہیں کہ وہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو زیادہ محبوب رکھتا ہے- یا اللہ اسے معاف فرما، چنانچہ مجھے اس پر بھی کوئی تعجب نہیں ہے-
اور اس پر بھی کوئی تعجب و حیرانی نہیں ہے کہ آپ کو عرب کے اس قدر زیادہ اشعار کیوں اور کس طرح یاد ہو گئے؟ اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ حضر ت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نور نظر ہیں اور وہ اشعار عرب کے بہت بڑے حافظ و ماہر ہیں، مگر میں اس بات پر بہت ہی حیران ہوں کہ آخر یہ طبی معلومات اور علاج و معالجہ کی مہارت آپ کو کہاں سے اور کیسے حاصل ہو گئی؟ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی آخری عمر شریف میں اکثر علیل ہو جایا کرتے تھے اور عرب و عجم کے اطباء آپ کے لئے دوائیں تجویز کرتے تھے، اور میں ان دواؤں سے آپ کا علاج کرتی تھی- اس لئے مجھے طبی معلومات بھی حاصل ہو گئیں-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زہد و تقوی کی پیکر ہیں اور آپ کو عبادت الٰہی سے بے انتہا شغف رہا- فرض نمازوں کے علاوہ سنتیں اور نوافل بھی کثرت سے پڑھتی تھیں- تہجد کی نماز اور چاشت کی نماز کا ساری عمر میں کبھی ناغہ نہیں کیا- حج کی شدت سے پابند تھیں- رمضان المبارک کے علاوہ نفلی روزے بھی بڑی کثرت سے رکھتی تھیں-
دل میں حد درجہ کا خوف خدا تھا- عبرت کی کوئی بات یاد آ جاتی تو بے اختیار رونے لگتیں، ایک مرتبہ فرمایا کہ میں کبھی سیر ہو کر نہیں کھاتی کہ مجھے رونا آتا ہے، ان کے ایک شاگرد نے پوچھا: یہ کیوں؟ فرمایا: مجھے وہ حالت یاد آتی ہے جس میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دنیا کو چھوڑا، خدا کی قسم !آپ نے کبھی دن میں دو بار سیر ہو کر روٹی اور گوشت نہیں کھایا-
اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جان چھڑکتی تھیں، ایک دفعہ آپ رات کے وقت اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ کھلی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود نہ پایا تو سخت پریشان ہوئیں، دیوانہ وار اٹھیں اور ادھر ادھر اندھیرے میں ٹٹولنے لگیں- اخیر ایک جگہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قدم مبارک پایا، دیکھا تو آپ سربسجود یاد الٰہی میں مشغول ہیں، اس وقت انہیں اطمینان ہوا-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی محبوب زوجہ مطہرہ ہیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم طہارت میں بہت اہتمام فرماتے تھے اور اپنی مسواک بار بار دھلوایا کرتے تھے، اس خدمت کا شرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حاصل تھا، شدت مرض میں کمزوری کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی مسواک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے ، وہ اپنے دانتوں میں چبا کر نرم کرتیں اور پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم استعمال فرماتے- جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم احرام باندھتے یا احرام کھولتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جسم مبارک میں خوشبو لگاتی تھیں-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حیات مبارکہ کے چار واقعات بے حد اہم ہیں:
( 1 ) افک ( 2 ) ایلا (3) تحریم (4) تخییر
جنگ احد میں زخمیوں کو پانی پلایا، ام المومنین فطری طور پر نہایت دلیر اور نڈر تھیں، راتوں کو اٹھ کر قبرستان جاتی تھیں- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے جبریل امین علیہ السلام کا سلام آتا-
الغرض فی الحقیقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا پایۂ علم و فضل اتنا بلند تھا کہ اس کو بیان کرنے کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہیں- یہاں ہم اسی قدر لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں-
اخلاق عالیہ
فضائل اخلاق کے لحاظ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا رتبہ بہت بلند تھا، وہ بے حد فیاض، مہمان نواز اور غریب پرور تھیں، ایک بار حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک لاکھ درہم بھیجے- انہوں نے اسی وقت مکمل رقم فقراء و مساکین میں تقسیم کر دی، اس دن روزے سے تھیں، خادمہ نے عرض کیا:”ام المومنین! افطار کے لئے گوشت خرید لیا ہوتا” فرمایا :”تم نے یاد دلایا ہوتا”-
موطا امام مالک میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن روزے سے تھیں اور گھر میں ایک روٹی کے سوا کچھ نہ تھا، اتنے میں ایک سائلہ نے آواز دی، انہوں نے باندی کو حکم فرمایا کہ روٹی سائلہ کو دے دے ، باندی نے کہا: شام کو افطار کس چیز سے کریں گی؟ ام المومنین نے فرمایا: تم یہ اسے دے دو، شام ہوئی تو کسی نے بکری کا گوشت ہدیہ بھیج دیا- باندی سے فرمایا: دیکھو! اللہ نے روٹی سے بہتر چیز بھیج دی ہے-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے رہنے کا مکان امیر معاویہ کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا، انہیں جو قیمت ملی وہ سب راہ خدا میں دے ڈالی-
ام المومنین کو غیبت اور بد گوئی سے سخت اجتناب تھا، آپ سے مروی کسی حدیث میں کسی شخص کی توہین یا بد گوئی کا ایک لفظ بھی نہیں ہے- وسعت قلب کا یہ عالم تھا کہ اپنی سوکنوں کی خوبیاں اور مناقب خوشدلی سے بیان کرتی تھیں-
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں تمام ازواج مطہرات کے دس دس ہزار درہم سالانہ مقرر تھے، البتہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارہ ہزار دینار تھے- سب کچھ رہنے کے باوجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ موٹے اور کم قیمتی کپڑے پہنتی تھیں- البتہ ان کپڑوں کو ارغوانی یا زعفرانی رنگ میں رنگ لیتی تھیں- ہاتھوں کی انگلیوں میں سونے اور چاندی کی انگوٹھی بھی پہن لیتی تھیں، باریک کپڑوں سے ان کو سخت نفرت تھی- پردے کا اہتمام کرتیں، مدینہ منورہ میں ایک نابینا جن کا نام اسحق تھا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں مسائل دریافت کرنے کے لئے آیا کرتے تھے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے پردہ فرماتی تھیں، اسحق نابینا نے ایک دن کہا”میں تو اندھا ہوں، آپ مجھ سے پردہ کیوں کرتی ہیں؟” جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا “میں تو اندھی نہیں ہوں”- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فضیلتیں بہت ہیں- آپ رضی اللہ عنہا کے بارے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” جس طرح تمام کھانوں میں بہتر ثرید ہے، اسی طرح تمام عورتوں میں بہتر عائشہ ہے”-
آپ کی ذات گرامی خوبیوں کا مجموعہ تھی، آپ کی ایک بڑی خوبی زہد و قناعت تھی، ساری زندگی فقر و تنگدستی میں گزاری مگر ایک حرفِ شکایت زبان پر نہیں لایا-
کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا تھا، اسی کو دھو دھو کر پہنتی تھیں- کردار کا سب سے روشن پہلو ،ان کی سخاوت تھی- نہایت دریا دل اور فیاض واقع ہوئیں- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بہت قریب سے دیکھا تھا ، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں آپ کی ہر بات بڑا وزن رکھتی ہے- آپ کی روایات کی بڑی اہمیت ہے-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ عدیم المثال ایثار تھا کہ آج فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ،شاہ لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوئے اقدس میں استراحت فرما ہیں-
وصال اقدس: 17 رمضان شب سہ شنبہ 57ھ یا 58 ھ میں مدینہ منورہ کے اندر آپ کا وصال ہوا- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق رات میں لوگوں نے آپ کو جنت البقیع میں دوسری ازواج مطہرات کی قبروں کے پہلو میں دفن کیا- (زرقانی، اکمال حاشیہ الکمال)
عالم اسلام کے لئے رشد و ہدایت، علم و فضل اور خیر و برکت کا ایک عظیم مرکز بنی رہیں- آپ سے 2210 (دو ہزار دو سو دس) احادیث شریفہ مروی ہیں- بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ احکام شرعیہ کا ایک چوتھائی حصہ آپ سے منقول ہے-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے شاگردوں کی تعداد دو سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے- جس میں قاسم بن محمد،مسروق تابعی ، عائشہ بنت طلحہ ، ابو سلمہ ، عروہ بن زبیر اور ابو موسی اشعری وغیرہ رضی اللہ عنہم بہت مشہور ہیں-

ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: سودہ رضی اللہ عنہا ، آپ قریش کے قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں-
نسب مبارک یہ ہے: سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبد و بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر لوی – ماں کا نام شموس بنت قیس تھا جو انصار کے خاندان بنو نجار سے تھیں-
اللہ تعالی نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہایت صالح طبیعت عطا کی تھی، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح آپ کے چچازاد بھائی سکران بن عمر سے ہوا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت حق کا آغاز کیا تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے ساتھ اسلام لائیں، اس طرح آپ کو قدیم الاسلام ہونے کا شرف بھی حاصل ہے- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے ساتھ اسلام لانے کے بعد ہجرت کر کے حبشہ چلی گئیں، کئی برس وہاں رہ کر مکہ مکرمہ واپس لوٹے- چند دن بعد حضرت سکران رضی اللہ عنہ کے وصال سے پہلے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے ایک خواب دیکھا،چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدل چلتے ہوئے آپ کی طرف تشریف لائے اور ان کی گردن پر اپنا قدم مقدس رکھ دیا- جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اس خواب کو اپنے شوہر سکران بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اگر تمہارا یہ خواب سچا ہے تو میں یقیناً مرجاؤں گا اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تم سے نکاح فرمائیں گے- اس کے بعد دوسری رات حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے یہ خواب دیکھا کہ ایک چاند ٹوٹ کر ان کے پیٹ پر گر پڑا ہے، صبح سکران رضی اللہ عنہ سے اس خواب کا بھی ذکر کیا تو سکران بن عمر رضی اللہ عنہ نے چونک کر کہا اگر تمہارا یہ خواب سچا ہے تو میں اب بہت جلد انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نکاح کرو گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا- اسی دن حضرت سکران رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے اور چند دنوں کے بعد وصال کر گئے- (زرقانی)
ایک بیٹا عبدالرحمن نامی یادگار چھوڑا جو مشرف بہ اسلام ہوئے اور خلافت فاروقی میں جنگ جلولاء میں شہید ہوئے-
چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئی تھیں- یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وصال کر گئی تھیں، بن ماں کے بچوں کو دیکھ دیکھ کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارک افسردہ اور غمگین رہتی تھی، آپ کی یہ حالت دیکھ کر ایک جاں نثار صحابیہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے ایک دن بارگاہ نبوی میں عرض کی :حضور کو ایک مونس اور رفیق حیات چاہئیے- اگر اجازت ہو تو آپ کے نکاح ثانی کے لئے کہیں پیام دوں؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کے اس مخلصانہ مشورہ کو قبول فرمایا اور فرمایا کہ کس جگہ پیام دینے کا خیال ہے؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اگر کنواری سے نکاح کرنا چاہیں تو آپ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں- اگر بیوہ سے چاہیں تو حضرت سودہ بنت زمعہ موجود ہیں، جو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی اتباع کیں- آپ نے فرمایا دونوں جگہ پیام دے دو- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چونکہ قریب قریب ایک ہی زمانہ میں ہوا، مورخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 10 نبوی میں ہوا نکاح کا خطبہ ان کے والد نے پڑھایا اور 400 درہم مہر مقرر ہوا- چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد امہات المومنین کے زمرے میں داخل ہو گئیں اور زندگی بھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجیت کے شرف سے سرفراز رہیں اور انتہائی والہانہ عقیدت و محبت کے ساتھ آپ کی وفادار اور خدمت گزار رہیں-
اس نکاح کی خبر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبداللہ بن زمعۃ کو ہوئی جو ابھی کافر تھے، انہوں نے اپنے سر پر خاک ڈالی، جب مشرف بہ اسلام ہوئے تو کہا : مجھے اپنی اس حماقت پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نکاح میری بہن کے ساتھ ہونے پر میں نے اپنے سر پر خاک ڈال لی-
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بے حد فیاض او رسخی تھیں- ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے درہموں سے بھری ہوئی ایک تھیلی بھیجی، انہوں نے پوچھا اس میں کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: درہم ، فرمائیں: تھیلی کھجوروں کی ہے اور اس میں درہم ہیں- یہ کہہ کر تمام درہم ضرورت مندوں میں اس طرح بانٹ دئیے جس طرح کھجوریں تقسیم کی جاتی ہیں-
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نہایت رحم دل اور سخی تھیں، اور جو کچھ آپ کے پاس آتا تھا اسے نہایت فراخ دلی سے حاجت مندوں میں تقسیم کر دیتی تھیں- حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے میں لکھا ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا دستکار تھیں اور طائف کی کھالیں بنایا کرتی تھیں- اس سے جو آمدنی ہوتی تھی اسے راہ خدا میں خرچ کر دیتی تھیں- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی عمر زیادہ ہو چکی تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ابھی نوعمر تھیں اس لئے انہوں نے اپنی باری بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی ، جسے انہوں نے خوشی سے قبول کر لیا- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ میں نے کسی عورت کو جذبۂ رقابت سے خالی نہ دیکھا سوائے سودہ رضی اللہ عنہا کے- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نہایت پاکیزہ اخلاق کی حامل تھیں ، ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سوائے سودہ رضی اللہ عنہا کے کسی عورت کو دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا نہ ہوئی کہ ان کے جسم میں میری روح ہوتی- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے مزاج میں ظرافت تھی، آپ کا قد دراز تھا، دراز قد ہونے کی وجہ سے آپ کی چال چلن دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسکراتے تھے اور آپ کی اداؤں پر تبسم فرماتے تھے- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا 10 ہجری میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئیں، چونکہ دراز قد اور فربہ اندام تھیں، اس لئے تیز چلنے سے مجبور تھیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مزدلفہ سے روانگی سے پہلے انہیں چلے جانے کی اجازت دے دی تاکہ بھیڑ بھاڑ سے تکلیف نہ ہو- حجۃ الوداع کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمام ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے فرمایا: اس حج کے بعد اپنے گھروں میں بیٹھنا چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشاد کا جو مطلب سمجھا اس پر سختی سے تعمیل کی- دوسری ازواج مطہرات ادائے حج پر اس حکم کا اطلاق نہیں کرتی تھیں لیکن سودہ رضی اللہ عنہا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال اقدس کے بعد بھی ساری عمر گھر سے باہر نہ نکلیں اور فرمایا کہ میں حج اور عمرہ دونوں کر چکی ہوں، اب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشاد کے مطابق گھر سے باہر نہ نکلوں گی-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صلب مبارک سے آپ کو کوئی اولاد نہیں تھی-
وصال مبارک: آپ کا وصال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ماہ ذوالحجہ 23 ھ میں ہوا، آپ کی نماز جنازہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور مدینہ منورہ جنت البقیع میں آپ کی تدفین عمل میں آئی-
آپ سے 5 احادیث شریفہ مروی ہیں، ایک صحیح بخاری میں اور 4 سنن اربعہ میں ہیں-

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا قریش کے خاندان عدی سے تھیں-
سلسلہ نسب یہ ہے: حفصہ بنت عمر فاروق بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی-
والدہ کا نام حضرت زینب بنت مظعون تھا، جو بڑی جلیل القدر صحابیہ تھیں، عظیم المرتبت صحابی حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ماموں اور فقیہ اسلام حضرت عبداللہ بن عمر ان کے حقیقی بھائی تھے-
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ اللہ عنہا بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ سال قبل عین اس سال جب قریش خانۂ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے، پیدا ہوئیں، آپ کا پہلا نکاح خنس بن حذافہ سہمی سے ہوا- حضرت حفصہ اور حضرت خنس دعوت حق کی ابتداء میں اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہو گئے اور مدینہ طیبہ کو ہجرت کی- حضرت خنس رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں زخم کھائے اور واپس آ کر ان ہی زخموں کی وجہ سے شہادت پائی- حضرت خنس رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے کوئی اولاد نہیں چھوڑی-
حضرت خنس رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، جب عدت کے دن پورے ہو گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے نکاح ثانی کی فکر لاحق ہو گئی، کیونکہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا عین جوانی کے عالم میں اچانک بیوہ ہو گئی تھیں، جس کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کافی مغموم رہتے تھے- چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہ صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غم کو محسوس کیا بلکہ اس کا مداوا کرنے کی سعی فرمائی اور وہ اس طرح کہ خود حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے عقد کی خواہش کی- یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لئے مژدہ تھا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے ماہ شعبان 3 ہجری میں نکاح فرمایا اور یہ ام المومنین کی حیثیت سے کاشانۂ نبوی کی سکونت سے مشرف ہو گئیں-
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، اس لئے مزاج میں ذرا تیزی تھی، حضرت امیر المومنین ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں ان کی کسی سخت کلامی سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دل آزاری نہ ہو جائے، چنانچہ بار بار آپ ان سے فرماتے تھے کہ جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے طلب کر لو ، اگر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تم سے ناراض ہو گئے تو تم خدا کے غضب میں گرفتار ہو جاؤ گی-
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی- جبریل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوئے-
ارجع حفصۃ فانھا صوامۃ قوامۃ وانھا زوجتک فی الجنۃ- ترجمہ: حفصہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کر لیجئے وہ بڑی روزہ دار اور عبادت گزار عورت ہے، اور جنت میں آپ کی بیوی ہے- (ابن سعد اور طبرانی)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بہت ہی شاندار بلند ہمت اور سخاوت شعار خاتون تھیں، حق گوئی، حاضر جوابی اور فہم و فراست میں اپنے والد بزرگوار کا مزاج پایا تھا- اکثر روزہ دار رہا کرتی تھیں اور تلاوت قرآن مجید اور قسم قسم کی عبادتوں میں مصروف رہا کرتی تھیں- صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا دجال کے شر سے بہت ڈرتی تھیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دجال کے خروج کا محرک اس کا غصہ ہو گا-
مسند احمد میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی تعلیم کا کافی اہتمام فرمایا، حضرت شفاء بنت عبداللہ عدوبہ رضی اللہ عنہا سے ان کو لکھنا پڑھنا سکھوایا اور مسند امام احمد میں ہے کہ حضرت شفاء نے ان کو چیونٹی کاٹنے کا منتر بھی سکھایا تھا-
رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قرآن حکیم کے تمام کتابت شدہ اجزاء کو یکجا کر کے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھوا دیا، یہ اجزاء حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد تا زندگی آپ کے پاس رہے، یہ ایک عظیم الشان شرف تھا جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہوا-
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اتنی سخی تھیں کہ وفات سے پہلے حضرت عبداللہ کو وصیت کی کہ ان کی غابہ کی جائیداد کو صدقہ کر کے وقف کر دیں-
وفات: شعبان 45ھ میں مدینہ منورہ کے اندر وفات پائی- اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کا زمانہ تھا اور مروان بن حکم مدینہ کا گورنر تھا، اس نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور نبی حزم کے گھر سے مغیرہ بن شعبہ کے گھر تک جنازہ کو کاندھا دیا، اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جنازہ کو قبر تک لے گئے، پھر ام المومنین کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور بھتیجوں نے قبر میں اتارا-
حدیثیں: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے 40 حدیثیں مروی ہیں، ان میں 4متفق علیہ ، 4 صحیح مسلم میں اور باقی دیگر کتب احادیث میں ہیں-
ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہا
آپ کا نام: حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا، لقب : ام المساکین-
نسب مبارک یہ ہے: زینب بنت خزیمہ بن حارث بن عبداللہ بن عمرو بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ کی بیٹی تھیں اور والدہ کا نام ہند بنتِ عوف تھا-
حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا شروع ہی سے نہایت دریا دل اور کشادہ دست تھیں، فقیروں اور مسکینوں کی امداد کے لئے ہر وقت کمربستہ رہتی تھیں، اور بھوکوں کو نہایت فیاضی سے کھانا کھلایا کرتی تھیں، ان صفات کی وجہ سے جاہلیت کے زمانہ ہی سے ام المساکین (مسکینوں کی ماں) کے لقب سے مشہور ہوئیں- حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبداللہ بن جحش سے ہوا ، جو جلیل القدر صحابی تھے- 3ھ میں جنگ احد کے موقع پر اس جوش سے حصہ لیا کہ تلوار ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی، اسی حالت میں لڑتے لڑتے رتبۂ شہادت پر فائز ہوئے-
حضرت زینب رضی اللہ عنہ اللہ عنہا کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوا اور مہر 12 اوقیہ قرار پایا- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نکاح کے بعد تین مہینے ہی گزرے تھے کہ پیغام اجل آ گیا- حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کے بعد دوسری زوجۂ مطہرہ یہی تھیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں وصال کیا-
حضرت زینب رضی اللہ عنہا پسندیدہ اخلاق کی مالک تھیں، لوگوں کو فائدے پہنچاتی تھیں، یتیموں اور بیواؤں کی خدمت کرتی تھیں، آپ کے بطن مبارک سے کوئی اولاد نہیں-
وصال مبارک: 4 ربیع الآخر میں 30 برس کی عمر پاکر وصال فرمائیں اور جنت البقیع کے قبرستان میں دفن ہوئیں، خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں میں رخصت ہوئیں ، دوسری ازواج مطہرات نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد وصال کیا-

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: ہند، کنیت: ام سلمہ، قریش کے خاندان مخزوم سے تھیں-
نسب مبارک یہ ہے: ہند بنت ابی مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم- والدہ کا نام عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ تھا ، خاندان قریش سے تھیں، آپ کے والد کا نام بعض مورخین کے نزدیک “سہیل” ہے-
آپ کے والد ایک دولتمند اور بے حد فیاض آدمی تھے، ان کی سخاوت اور دریادلی کی شہرت چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی، بیسیوں لوگ ان کے دسترخوان پر پلتے، کبھی سفر کرتے تو اپنے تمام ہمراہیوں کی خوراک اور دوسری ضروریات کی کفالت ان ہی کے ذمہ ہوتی، ان فیاضیوں کی بدولت لوگوں نے انہیں “زاد الراکب” کا لقب دے رکھا تھا، اور وہ تمام قبائلِ قریش میں نہایت عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے-
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنے باپ کی مانند بے حد سخی تھیں، دوسروں کو بھی سخاوت کی ترغیب دیتی تھیں، ناممکن تھا کہ کوئی سائل ان کے گھر سے خالی ہاتھ چلا جائے، زیادہ نہ ہوتا تو تھوڑا یا جو کچھ بھی ہوتا، سائل کو عطا کر دیتیں- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح آپ کے چچازاد بھائی ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی رضی اللہ عنہ سے ہوا- ان ہی کے ساتھ وہ مشرف بہ اسلام ہوئیں اور ان ہی کے ساتھ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کیں اور پھر وہاں سے مکہ واپس آ کر مدینہ کی طرف ہجرت کیں- آپ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ آپ سب سے زیادہ ہجرت کرنے والی خاتون تھیں- حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے-
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے راہ حق میں جو مصیبتیں اٹھائی تھیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس کا بے حد احساس تھا، چنانچہ عدت گزارنے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معرفت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے قبول کر لیا-
ماہ شوال 4ھ میں وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نکاح میں آ گئیں، نکاح کے وقت ان کی عمر 26 سال تھی، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو مہر میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کھجور کی چھال سے بھرا ہوا ایک چرمی تکیہ، دو مشکیزے اور دو چکیاں عطا فرمائیں، جو کسی ازواج مطہرات کو عطا نہیں فرمائی تھیں- نکاح کے بعد وہ حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے گھر لائی گئیں- ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے توبہ کرنے کی خوشخبری حجرہ کے دروازے پر کھڑی ہو کر آپ نے ہی دی تھی- ایک دن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے گھر تھے، آیت تطہیر اِنَّمَا یُرِیدُ اللہُ لِیُذْہِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ اَہلَ الْبَیتِ (سورۃ الاحزاب- 33 ) کا نزول ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد ازواج مطہرات میں حسن و جمال کے ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں-
امام الحرمین کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی عورت کو غیر معمولی دانشمند نہیں جانتا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کر کے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ منورہ واپس لوٹ جائیں، کیونکہ اس شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے، لوگ اس رنج و غم میں تھے، ایک شخص بھی قربانی کیلئے تیار نہیں تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کے اس طرز عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ خود قربانی ذبح فرمائیں، احرام کھول دیں اور سرمنڈوالیں- چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسا ہی کیا، صحابہ کرام نے یقین کر لیا کہ اب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلح حدیبیہ کے معاہدہ سے ہرگز ہرگز نہ بدلیں گے، صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اپنی اپنی قربانیاں دیں اور احرام اتار کر سر منڈوا لیا- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی دانشمندی اور عقل و ذہانت کی وجہ سے یہ مسئلہ حل ہو گیا- یہ آپ کی دانشمندی کی سب سے بہتر مثال ہے- (صحیح بخاری)
اللہ تعالی نے انہیں خوبروئی، علم و ذہانت اور اصابت رائے کی نعمتوں سے کافی حصہ دیا تھا- قرآن کریم کی قرات نہایت عمدہ طریقے سے کرتی تھیں اور آپ کی قرأت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قرات سے مشابہت رکھتی تھی-
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو حدیث سننے کا بہت شوق تھا، ایک دن بال گندھوا رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور خطبہ دینا شروع کیا، ابھی زبان مبارک سے “یا ایھا الناس” نکلا تھا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اٹھ کھڑی ہوئیں اور اپنے بال خود باندھ لیں، اور بڑے انہماک سے پورا خطبہ سنا، سرور عالم سے نہایت عقیدت تھی، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے موئے مبارک تبرکاً چاندی کی ڈبیہ میں محفوظ رکھے تھے-
صحیح بخاری میں ہے کہ صحابہ میں سے کسی کو تکلیف پہنچتی تو وہ ایک پیالہ پانی سے بھر کر ان کے پاس لاتے ، وہ موئے مبارک نکال کر اس پانی میں حرکت دے دیتیں، اس کی برکت سے تکلیف دور ہو جاتی-
مسند احمد میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے کہ ہمارا قرآن میں ذکر نہیں- حضو ر صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی بات سنکر منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی: ان المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خبرگیری کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں جاتی تھیں، ایک دن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو علیل پاکر ان کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے منع فرمایا- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی نہایت زاہدانہ تھی، عبادت الٰہی سے بڑا شغف تھا، ہر مہینہ میں تین روزے نفل رکھا کرتیں، اوامر و نواہی کی بے حد پابند تھیں-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صلب مبارک سے آپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک شیشی میں آپ کو مٹی عطا فرمائی تھی اور فرمایا جب اس کا رنگ سرخ ہو جائے تو سمجھ لینا کہ امام حسین شہید ہوئے- چنانچہ 61 ھ میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں شہید ہو گئے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے ،سر اور ریش مبارک گرد آلود ہے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : یا رسول اللہ! کیا حال ہے، آپ نے فرمایا: حسین کے مقتل سے آ رہا ہوں، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ کھلی اور اس مٹی کو دیکھا جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو دی تھی، وہ سر خ ہو چکی تھی اور بے اختیار رونے لگیں-
وفات: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے 63 ھ میں 84 سال کی عمر میں وفات پائی- تمام ازواج مطہرات میں آپ ہی سب سے اخیر میں انتقال فرمائی اور جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواج مطہرات کے پہلو میں دفن ہوئیں-
حدیثیں: علامہ ابن قتیم کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فتاوی سے ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہوسکتا ہے، آپ کے فتاوی بالعموم متفق علیہ ہے- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے 378 حدیثیں مروی ہیں-

ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: رملہ، کنیت: ام حبیبہ
نسب مبارک یہ ہے: ام حبیبہ بنت سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس- والدہ کا نام صفیہ بنت العاص تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، گویا حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا امیر معاویہ کی حقیقی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی زاد بہن تھیں-
حالات زندگی اور نمایاں پہلو
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی سے سترہ سال قبل مکہ میں پیدا ہوئیں- حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح عبید اللہ بن جحش سے ہوا، دونوں بھی اسلام لانے کے بعد ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے- وہاں جانے کے بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام حبیبہ رکھا، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو شرف صحابیت حاصل ہے اور ان ہی کے نام پر ام حبیبہ کنیت رکھی گئی اور پھر اسی کنیت سے مشہور ہوئیں- چند روز کے بعد عبید اللہ مرتد ہو کر عیسائی بن گیا مگر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا برابر اسلام پر قائم رہیں-
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبید اللہ کے نصرانی ہونے سے پہلے آپ نے اس کو ایک نہایت بری طرح اور بھیانک شکل میں خواب میں دیکھا، بہت گھبرائی، صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ عیسائی ہو چکا ہے- میں نے خواب بیان کیا (شاید متنبہ ہو جائے) مگر کچھ توجہ نہیں کی اور شراب نوشی میں برابر منہمک رہا، حتی کہ اسی حالت میں مرگیا-
چند روز کے بعد خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص یا ام المومنین کہہ کر آواز دے رہا ہے، جس سے میں گھبرائی، عدت کا ختم ہونا تھا کہ یکایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پیغام آ گیا- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عالم غربت میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بیوہ ہونے کی اطلاع ملی تو ایام عدت پورے ہونے کے بعد حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی شاہ حبشہ کے پاس اسی غرض کے لئے بھیجا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے نکاح کا پیغا م دے- نجاشی نے اپنی ایک لونڈی کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پیغام نکاح حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا، انہیں بے حد مسرت ہوئی، اظہار مسرت میں لونڈی کو چاندی کی دو انگوٹھیاں، کنگن اور نقرئی انگوٹھیاں عطا کیں، اور خالد بن سعید بن العاص کو جو آپ کے ماموں کے بیٹے تھے، وکیل مقرر کیا- شام کو نجاشی نے حضرت جعفر بن ابو طالب اور دوسرے مسلمانوں کو بلاکر خود خطبہ نکاح پڑھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے 400 دینار مہر ادا کیا- رسم نکاح سے فراغت کے بعد حضرت خالد بن سعید نے سب کو کھانا کھلا کر رخصت کیا-
نکاح کے کچھ عرصہ بعد حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شراجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ام المومنین کا لقب پایا- اس طرح ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا-
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا پاکیزہ ذات ، حمیدہ صفات کی جامع اور نہایت ہی بلند ہمت اور سخی طبیعت کی مالک تھیں اور بہت ہی قوی الایمان تھیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں قدیم الاسلام کا شرف بخشا- ان کے والد ابو سفیان جب کفر کی حالت میں تھے، بے تکلف ان کے مکان میں جا کر بستر نبوت پر بیٹھنے لگے، فوراً ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بستر الٹ دیں، اور ابو سفیان کو ناگوار گزرا- اس بستر پر اپنے باپ کا بیٹھنا بھی تمہیں اچھا نہیں لگا؟ بولیں : بے شک مجھے پسند نہیں کہ ایک مشرک بستر نبوت پر بیٹھے- ابو سفیان خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا اور کہا میرے پیچھے تو بہت بگڑ گئی ہے-
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ابو سفیان اپنی بیٹی کے حسن و جمال پر فخر کیا کرتے تھے- مسند احمد میں ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بارہ رکعت نفل روزانہ پڑھے گا ، اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا- چنانچہ اس کے بعد حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ساری زندگی کبھی اس نماز کا ناغہ نہیں کیا-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ، انتقال کے وقت حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے اور آپ کے درمیان سوکنوں کے تعلقات تھے، اگر کوئی غلطی مجھ سے ہوئی ہو تو معاف کر دیجئے، اور حضرت ام سلمہ سے بھی یہی الفاظ کہے، اس کے بعد فرمایا: اللہ آپ کو خوش رکھے، آپ نے مجھے خوش کیا-
وفات: 44ھ میں 73 سال کی عمر پاکر اپنے بھائی امیر معاویہ کے عہد حکومت میں وفات پائی اور جنت البقیع میں ازواج مطہرات کے حظیرہ میں مدفون ہوئیں- (زرقانی، مدارج النبوۃ)
حدیثیں: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے 65 حدیثیں مروی ہیں- دو حدیثیں بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں، اور ایک حدیث وہ ہے جس کو تنہا مسلم نے روایت کیا ہے- باقی حدیثیں دیگر کتب احادیث میں ذکر ہیں-
ان کے شاگردوں میں ان کے بھائی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، ان کی صاحبزادی حضرت حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے بھانجے ابو سفیان بن سعید رضی اللہ عنہم بہت مشہور ہیں-
ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا
نام: زینب کنیت: ام الحکم ان کا تعلق قریش کے خاندان اسد بن خزیمہ سے تھا-
سلسلۂ نسب یہ ہے: زینب بنت جحش بن رتاب بن لعمیر بن صبرۃ بن مرۃ بن کثیر بن غم بن دودان بن سعد بن خزیمہ- ماں کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب تھا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پھوپھی تھیں، اس لحاظ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں-
حالات زندگی اور نمایاں پہلو: حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان خوش قسمت لوگوں میں تھیں جنہوں نے السابقون الاولون بننے کا شرف حاصل کیا- 13 سال بعد بعثت میں اپنے اہل خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا تھا – مگر چونکہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا خاندان عرب کی ایک بہت ہی شاندار خاتون تھیں اور حسن و جمال میں بھی یہ خاندان عرب کی بے مثال عورت تھیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے متبنیٰ بنا لیا تھا مگر پھر بھی چونکہ وہ پہلے غلام تھے، اس لئے حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان سے خوش نہیں تھیں اور اکثر میاں بیوی میں ان بن رہا کرتی تھی، یہاں تک کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان کو طلاق دے دی-
اس واقعہ سے فطری طور پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قلب نازک پر صدمہ گزرا، چنانچہ ان کی عدت گزرنے کے بعد محض حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی دلجوئی کے لئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس اپنے نکاح کا پیغام بھیجا- روایت ہے کہ یہ پیغام بشارت سن کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے دو رکعت نماز ادا کی اور سجدہ میں سر رکھ کر یہ دعا مانگی کہ خداوند! تیرے رسول نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے، اگر میں تیرے نزدیک ان کی زوجیت میں داخل ہونے کے لائق عورت ہوں تو یا اللہ! تو ان کے ساتھ میرا نکاح فرما دے- ان کی یہ دعا فورا ہی قبول ہو گئی- اس نکاح کے بارے میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کسی مخلوق سے مشورہ نہیں بلکہ فرمایا :اپنے پروردگار عزوجل سے مشورہ یعنی استخارہ نہ کر لوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں فرشتوں کی موجودگی میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا، اب زمین میں بھی اسی اعلان کی ضرورت تھی، چنانچہ جبریل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے- فَلَمَّا قَضٰی زَیدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا- ترجمہ: پس جب زید (رضی اللہ عنہ) اپنی حاجت پوری کرچکے اور ان کو طلاق دے دی تو اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہم نے زینب (رضی اللہ عنہا) کا نکاح تم سے کر دیا- (سورۃ الاحزاب- 37 )
اس آیت کے نزول کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور ان کو یہ خوشخبری سنائے کہ اللہ تعالی نے میرا نکاح ان کے ساتھ فرما دیا ہے- یہ سنکر ایک خادمہ دوڑتی ہوئی آئی اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچی اور یہ آیت سناکر خوشخبری دی- اذا تقول للذی انعم اللہ علیہ الخ وانعمت علیہ الخ-
حضرت زینب اس بشارت سے اس قدر خوش ہوئیں کہ اپنا زیور اتار کر اس خادمہ کو انعام دیا اور خود سجدہ میں گر پڑیں اور اس نعمت کے شکریہ میں دو ماہ لگاتار روزہ دار رہیں- روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے بعد ناگہاں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے مکان تشریف لے گئے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)! بغیر خطبہ اور بغیر گواہ کے آپ نے میرے ساتھ نکاح فرما لیا، آپ نے آپ کا نام پوچھا کیونکہ آپ کا اصلی نام “برہ” تھا تو آپ نے بجائے “برہ” کے زینب تجویز کیا- استیعاب
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تیرے ساتھ میرا نکاح اللہ تعالی نے کر دیا ہے اور حضرت جبریل اور دوسرے فرشتے اس نکاح کے گواہ ہیں- 4 یا 5 ہجری میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نکاح میں آئیں- اس وقت آپ کی عمر 35 سال تھی اور مہر 400 درہم مقرر ہوا-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح پر جتنی بڑی دعوت ولیمہ فرمائی اتنی بڑی دعوت ولیمہ ازواج مطہرات میں سے کسی کے نکاح کے موقع پر بھی نہیں فرمائی- آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دعوت ولیمہ میں تمام صحابہ کرام کو نان و گوشت کھلایا-
فضائل و مناقب: حضرت زینب رضی اللہ عنہا ازواج مطہرات سے بطور فخر کہا کرتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے اولیاء نے کیا، اور میرا نکاح اللہ تعالی نے سات آسمانوں میں کیا- (رواہ الترمذی)
شعبی نے ایک مرسل روایت نقل کی ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہا کرتی تھیں کہ یا رسول اللہ میں تین وجہ سے آپ پر ناز کرتی ہوں-
میرے اور آپ کے جد امجد ایک ہیں یعنی عبدالمطلب، ایک روایت میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں-
اللہ تعالی نے آپ کا نکاح مجھ سے آسمان پر فرمایا-
جبریل امین اس بارے میں ساعی رہے-
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فضائل و مناقب میں چند احادیث بھی مروی ہیں- چنانچہ روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد تم ازواج مطہرات میں سے میری وہ بیوی سب سے پہلے وفات پاکر مجھ سے آ کر ملے گی جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہے- یہ سن کر تمام ازواج مطہرات نے ایک لکڑی سے اپنا اپنا ہاتھ ناپا تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جو بلند قد کی مالک تھیں، اسی لئے آپ کا ہاتھ سب سے لمبا نکلا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد ازواج مطہرات میں سب سے پہلے زینب رضی اللہ عنہا نے وفات پائی، تو اس وقت پتہ چلا کہ ہاتھ لمبا ہونے سے مراد کثرت سے صدقہ دینا تھا- حضرت زینب رضی اللہ عنہا دستکاری کا کام کرتی تھیں، اس کی آمدنی فقراء و مساکین پر صدقہ کر دیا کرتی تھیں- حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کی خبر سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے ایک قابل تعریف عورت جو سب کے لئے نفع بخش تھی اور یتیموں او ر بوڑھی عورتوں کا دل خوش کرنے والی تھی، آج دنیا سے چلی گئیں- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ بھلائی اور سچائی میں اور رشتہ داروں کے ساتھ مہربانی کے معاملہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے متعلق فرمایا “میں نے اپنے دین کے معاملہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بہتر کوئی عورت نہیں دیکھی”-
واقعۂ افک کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم علیہ وسلم کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ سے استفسار فرمایا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بڑے وثوق کے ساتھ جواب دیا: مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اچھائیوں کے علاوہ کسی بات کا علم نہیں-
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہمسری کا دعوی تھا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح کئی خصوصیات کا مظہر تھا، جس میں مختصر اور چند یہ ہیں:
جاہلیت کی رسم کہ متبنیٰ حقیقی بیٹے کا درجہ رکھتا ہے مٹ گیا-
لوگوں کو حقیقی باپ کے علاوہ دوسرے (منہ بولے باپ) سے منسوب نہ کرو-
آیت حجاب نازل ہوئی اور پردہ کا رواج ہوا- (اور چند باتیں اوپر ذکر کی گئی تھیں)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا عبادت میں بہت خشوع و خضوع کے ساتھ مشغول رہتی تھیں- ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے متعلق فرماتی ہیں: “بڑی نیک، بڑی روزہ رکھنے والی اور بڑی تہجد گزار تھیں، بڑی کمانے والی تھیں جو کماتیں کل مساکین پر صدقہ کر دیتی تھیں”-
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب پہلی مرتبہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا سالانہ نفقہ جو بارہ ہزار درہم تھے، بیت المال سے آپ کے پاس آئے تو بار بار کہتی تھیں کہ اے اللہ! آئندہ یہ میرے پاس نہ آئے، چنانچہ اسی وقت تمام مال اقارب اور حاجت مندوں میں تقسیم کر دیا-
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ہوئی تو یہ فرمایا کہ کچھ ایسا نظر آتا ہے کہ اللہ کی طرف خیر اور بھلائی کا ارادہ ہے- فوراً ہزار درہم روانہ کئے اور سلام کہلا بھیجا کہ وہ بارہ ہزار تو خیرات کر دئیے، یہ ایک ہزار اپنی ضرورتوں کے لئے رکھ لیں- حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے وہ ہزار بھی اسی وقت تقسیم کر دئیے- جب سب مال تقسیم ہو گیا تو برزہ بنت رافع نے کہا: اللہ تعالی آپ کی مغفرت فرمائے، آخر ہمارا بھی اس مال میں کچھ حق ہے- آپ نے فرمایا: اچھا جو رقم اس کپڑے کے نیچے موجود ہو وہ تم لے لو- برزہ نے کپڑا اٹھاکر دیکھا تو پچاسی درہم تھے- جو مال آپ تقسیم کر رہی تھیں اس پر آپ نے کپڑا ڈال دیا تھا اور برزہ آپ کے حکم کے مطابق فلاں فلاں یتیم کو دے آؤ تو وہ دے کر آ رہی تھی- سب مال ختم ہونے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے اللہ اس سال کے بعد عمر کا وظیفہ مجھ کو نہ پائے-
آپ کی وفات کا سال: سن 20 ھ یا 21 ھ میں 53 برس کی عمر پاکر مدینہ منورہ میں دنیا سے رخصت ہوئیں- ان کی وفات سے مدینہ کے فقراء و مساکین میں حشر برپا ہو گیا، کیونکہ وہ مربی و دستگیر تھیں ، وفات کے وقت سوائے ایک مکان کے ترکہ میں کچھ نہیں چھوڑا، سب راہ خدا میں لٹا چکی تھیں، وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کپڑے خوشبو لگا کر کفن کے لئے بھیجے لیکن حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی سے جو کفن تیار رکھا تھا ان کی بہن حمنہ نے صدقہ کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے کفن میں ان کو کفنایا گیا- نماز جنازہ فاروق اعظم نے پڑھائی اور تمام کوچہ بازار میں فاروق اعظم نے اعلان کرایا کہ “تمام اہل مدینہ اپنی مقدس ماں” کی نماز جنازہ کے لئے حاضر ہو جائیں- وفات سے کچھ دیر پہلے وصیت کی کہ مجھے تابوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اٹھایا جائے- چنانچہ وصیت پوری کی گئی، وفات کے دن شدید گرمی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قبر کی جگہ پر خیمے لگوا دئیے اور محمد بن عبداللہ بن جحش، اسامہ بن زید، عبداللہ بن ابی احمد اور محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا اور جنت البقیع میں دوسری ازواج مطہرات کے ساتھ دفن ہوئیں-
حدیثیں: حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے 11 حدیثیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کی ہیں، جن میں سے دو حدیثیں بخاری ومسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہیں، باقی نو دیگر کتب احادیث میں لکھی ہوئی ہیں-

ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا
نام: جویریہ اور برہ نام تھا، قبیلہ خزاعہ کے خاندان مصطلق سے تھیں-
نسب مبارک یہ ہے: (جویریہ) برہ بنت حارث بن ابی ضرار بن خبیب بن عائذ بن مالک بن . . (مصطلق)
حالات زندگی اور نمایاں پہلو : حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ،حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں، جو قبیلۂ بنی مصطلق کا سردار تھا- پہلا نکاح اپنے عم مسافع بن صفوان (ذی شعر) سے ہوا جو غزوۂ مریسع میں قتل ہوا-
اس لڑائی میں کثرت سے لونڈی غلام مسلمانوں کے ہاتھ آئے ، ان ہی لونڈیوں میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، جب مال غنیمت کی تقسیم ہوئی تو وہ ثابت بن قیس بن شماس انصاری کے حصہ میں آئیں، چونکہ قبیلۂ کے رئیس کی بیٹی تھیں، لونڈی بن کر رہنا گوارا نہ ہوا، حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ مجھ سے کچھ روپیہ لے کر چھوڑ دو، وہ راضی ہو گئے اور 19 اوقیہ سونے پر کتابت ہوئی ہے-
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور کہا میں مسلمان، کلمہ گو عورت ہوں اور قبیلۂ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی بیٹی ہوں- 19 اوقیہ سونے پر ان سے عہد کتابت کیا- یہ رقم میرے امکان میں نہ تھی، لیکن میں نے آپ کے بھروسہ پر اس کو منظور کر لیا اور اب آپ سے اس کا سوال کرنے کے لئے آئی ہوں، ان کی فریاد سن کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رحم آ گیا اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کروں تو کیا تم اس کو منظور کر لو گی- تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ اس سے بہتر سلوک اور کیا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری کتابت کی رقم میں خود ادا کر دوں اور تم کو آزاد کر کے میں خود تم سے نکاح کر لوں تاکہ تمہارا خاندانی اعزاز و وقار باقی رہے- یہ سن کر حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کی شادمانی و مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی- انہوں نے اس اعزاز کو خوشی خوشی منظور کر لیا اور یہ ام المومنین کے اعزاز سے سرفراز ہو گئیں-
آپ کا نکاح 5 ھ شعبان میں ہوا، 400 درہم مہر مقرر ہوا- اس وقت آپ کی عمر 20 سال تھی، جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا، تمام مجاہدین ایک زبان ہو کر کہنے لگے کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نکاح فرما لیا اس خاندان کا کوئی فرد لونڈی غلام نہیں رہ سکتا-
چنانچہ اس خاندان کے جتنے فرد لونڈی غلام مجاہدین اسلام کے قبضہ میں تھے، فوراً ہی سب سے سب آزاد کر دئیے گئے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کسی عورت کا نکاح حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے نکاح سے بڑھ کر مبارک ثابت نہیں ہوا، کیونکہ اس نکاح کی وجہ سے بنی مصطلق کے سینکڑوں گھرانے آزاد کر دئیے گئے اور آزاد کردہ غلاموں کی تعداد ایک روایت کے مطابق 700 بتائی گئی- (زرقانی، جلد 3 )
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے میرے قبیلہ میں تشریف لانے سے 3 رات پہلے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ مدینہ سے ایک چاند نکلتا ہوا آیا اور میری گود میں گر پڑا، اس خواب کا ذکر میں نے کسی سے نہیں کیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مجھ سے نکاح کرنے کے بعد میں اس کی تعبیر سمجھ گئی (زرقانی)
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا اصلی نام برہ (نیکوکار) تھا لیکن اس نام سے بزرگی اور بڑائی کا اظہار ہوتا ہے اس لئے ان کا نام بدل کر جویریہ (چھوٹی لڑکی) رکھ دیا-
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو عبادت الٰہی سے نہایت شغف تھا، عبادت کے لئے مسجد کے نام سے گھر میں ایک جگہ مخصوص کر رکھی تھی- چنانچہ جامع ترمذی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم علیہ وسلم علی الصبح تشریف لائے نصف النہار کے بعد پھر تشریف لائے اور مجھ کو مشغول عبادت دیکھا، اور فرمایا: اس وقت سے اب تک اسی حالت میں ہو، آپ نے کہا: ہاں، تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو کچھ کلمات بتلائے دیتا ہوں، وہ پڑھ لیا کرو، ان کو تمہاری نفل عبادت پر ترجیح حاصل ہے- مسلم اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ چار کلمے تیرے بعد تین بار کہے ہیں کہ اگر ان کو تیری نمازوں سے جو تولا جائے جو تو نے صبح سے نصف النہار تک پڑھی ہیں، تمہاری نفل عبادت پر ترجیح حاصل ہے، وہ چار کلمے وزن میں بڑھ جائیں گے-
ایک دن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کچھ کھانے کو ہے؟ عرض کیا: میری کنیز نے صدقہ کا گوشت دیا تھا بس وہی موجود ہے، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: لے آؤ، جس کو صدقہ دیا گیا اس کو پہنچ چکا- حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو عزت نفس کا بہت خیال تھا-
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے دو بھائی اور والد اپنی قوم کے قیدیوں اور اپنی بیٹی جویریہ رضی اللہ عنہا کو چھڑانے کے لئے چند اونٹنیاں اور لونڈیاں ساتھ لائے- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو اونٹ اور لونڈیاں فلاں پہاڑ کے پیچھے چھپا آئے ہو؟ یہ سننا ہی تھا کہ ان کے اندھیرے دل میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوت کا نور چمک اٹھا اور فوراً کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوئے- (کتاب استیعاب)
وفات: 50ھ میں 65 برس کی عمر پاکر مدینہ طیبہ میں وفات پائی اور حاکم مدینہ مروان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور جنت البقیع کے قبرستان میں مدفون ہوئیں- (زرقانی، جلد 2 )
حدیثیں: حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے 7 حدیثیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہیں، جن میں سے دو حدیثیں بخاری شریف میں اور دو حدیثیں مسلم شریف میں باقی تین حدیثیں دیگر کتب احادیث میں مذکور ہیں- آپ کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت جابر، حضرت عبد بن صباغ اور ان کے بھتیجے حضرت طفیل رضی اللہ عنہم وغیرہ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل ہیں- (مدارج النبوۃ، جلد 2 )

ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالی عنہا
نام صفیہ ہے ، آپ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے تھیں۔
سلسلۂ نسب یہ ہے: صفیہ بنت حیی بن اخطب بن شعیۃ بن ثعلبہۃ بن عامر بن عبید بن کعب بن خزرع بن ابی حبیب بن نجام بن ینحوم ۔
ماں کا نام: برہ (ضرہ) بنت سموئل تھا حییبن اخطب بنو نضیر کا سردار تھا۔
حیی بن اخطب ، حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہونے کی وجہ سے اپنی قوم میں بے حد معزز و محترم تھا۔ تمام قوم اس کی وجاہت کے آگے سرجھکاتی تھی، چودہ بر س کی عمر میں حضرت صفیہ کی شادی ایک مشہور اور نامور شہسوار سلام مشکم قرظی سے ہوئی لیکن دونوں میاں بیوی میں بن نہ آئی نتیجتاً سلام بن مشکم نے انہیں طلاق دے دی۔ اس طلاق کے بعد حیی بن اخطب نے ان کا نکاح بنی قریظہ کے مقتدر سردار کنانہ بن ابی الحقیق سے کر دیا وہ خیبر کے رئیس ابو رافع کا بیٹا تھا اور خیبر کے قلعہ القموس کا حاکم تھا، کنانہ معرکۂ خیبر میں مقتول ہوا، معرکہ کے بعد تمام قیدی اور مال غنیمت ایک جگہ جمع کیا گیا ، جب مال غنیمت کی تقسیم ہونے لگی تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے لئے پسند فرمایا، چونکہ وہ اسیران جنگ میں ذو صفت تھیں، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! صفیہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کی رئیسہ ہیں، خاندانی وقار ان کے لباس سے عیاں ہے، وہ ہمارے سردار یعنی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موزوں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشورہ قبول فرمایا اور حضرت دحیہ کلبی کو دوسری لونڈی عطا فرما کر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور انہیں یہ اختیار دے دیا کہ چاہیں وہ اپنے گھر چلی جائیں یا پسند کریں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آ جائیں۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنا پسند کیا اور ان کی رضامندی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی کو ہی ان کا مہر قرار دیا ، خیبر سے چل کر مقام صہبا‘‘ میں اترے اور ’’صہبا‘‘ کے مقام میں رسم عروسی ادا کی گئی، ولیمہ عجب شان سے ہوا، چمڑے کا دسترخوان بچھا دیا گیا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اعلان کر دو کہ جس کے پاس جو کچھ توشہ جمع ہے وہ لے آئے، کسی نے کھجور لایا، کسی نے پنیر، کسی نے ستو لایا، اور کسی نے گھی،جب اس طرح کچھ جمع ہو گیا تو سب نے ایک جگہ بیٹھ کر کھا لیا، اس ولیمہ میں گوشت اور روٹی کچھ نہ تھا۔ (بخاری، مسلم)۔ مقام ’’صہبا‘‘ میں تین روز قیام رہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا پردے میں رہیں، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو خود حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اونٹ پر سوار کر کے عبا سے ان پر پردہ کیا کہ کوئی نہ دیکھ سکے، گویا کہ یہ اعلان تھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ام المومنین ہیں، ام ولد نہیں۔ (بخاری،مسلم)
مدینہ طیبہ پہنچ کر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر اتارا، ان کے حسن و جمال کا شہرہ سن کر انصار کی عورتیں اور دوسری خواتین اور ازواج مطہرات انہیں دیکھنے آئیں، جب دیکھ کر جانے لگیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پہچان لیا اور فرمایا: عائشہ! تم نے اس کو کیسا پایا؟ جواب دیا: یہودیہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہو، وہ مسلمان ہو گئیں اور ان کا اسلام اچھا اور بہتر ہے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر چند ابھرے ہوئے نشانات تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ یہ نشانات کیسے ہیں؟ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ میں نے ایک خواب میں دیکھا کہ آسمان سے چاند ٹوٹا میری گود میں گرا، میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا تو اس نے زور سے میرے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا تو یثرب کے بادشاہ کی تمنا کرتی ہے، اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نہایت حلیم الطبع، خلیق، کشادہ دل اور صابرہ تھیں۔ جب وہ ام المومنین کی حیثیت سے مدینہ تشریف لائیں اور حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا انہیں دیکھنے آئیں تو انہوں نے اپنے بیش قیمت طلائی جھمکے اپنے کانوں سے اتار کر حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کو دئیے اور ان کی ساتھی خواتین کو بھی کچھ نہ کچھ زیور عطا فرمایا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت محبت تھی اور ہر موقع پر ان کی دلجوئی فرماتے تھے، ایک بار سفر میں ازواج مطہرات ساتھ تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا، وہ بہت غمزدہ اور پریشان ہو گئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تشریف لا کر ان کی دلجوئی کی اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایک اونٹ دے دو، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس زیادہ اونٹ تھے، وہ نہایت سخی اور با مروت تھیں، لیکن ان کی زبان سے نکل گیا ‘‘یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں’’ ۔ یہ کلمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آیا اور آپ نے دو تین ماہ تک حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے کلام تک نہ کیا، پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعہ اپنا قصور معاف کرا لیا۔ قبول اسلام کے بعد یہودیت کا طعن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لئے بڑی دل آزاری کا ہوتا تھا لیکن وہ نہایت صبر و تحمل سے کام لیتیں اور کسی کو سخت جواب نہ دیتی تھیں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پست قد کے بارے میں کہا کہ اتنی ہے اتنی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور فرمایا: اگر اس بات کو سمندر کے پانے میں ڈال دیا جائے تو سارا سمندر مکدر ہو جائے گا۔
ایک روز حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رو رہی تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کی؟ معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم تمام ازواج مطہرات میں افضل ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرہ ہونے کے علاوہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابتدار ہیں، لیکن تم یہودی ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی دلجوئی کے لئے فرمایا: حضرت عائشہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہما جب یہ کہتی ہیں کہ ان کا خاندان نبوت سے تعلق ہے تو تم نے کیوں نہ کہہ دیا کہ میرے باپ ہارون علیہ السلام اور میرے چچا موسی علیہ السلام اور میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو گئے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا جو اپنی باری کا دن کسی کو نہیں دیتیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے کر معاف کرا لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری وقت جب بہت علیل رہتے تھے، اکثر ازواج مطہرات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف لاتی تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بے چین دیکھا تو عرض کیا: ‘‘کاش آپ کی بیماری مجھے ہو جاتی’’۔ دوسری ازواج مطہرات نے ان کی طرف دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا اظہار عقیدت بالکل سچا ہے، دل سے بالکل وہ یہی چاہتی ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے اچھا کھانا پکانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی۔
عفو و درگزر
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ ام المومنین میں ابھی تک یہودیت کی بو پائی جاتی ہے، وہ ہفتہ کے دن کو اچھا سمجھتی ہیں اور یہودیوں سے دلی لگاؤ رکھتی ہیں۔ تحقیق کے لئے امیر المومنین خود تشریف لے گئے اور احوال معلوم کئے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جب سے خدا نے مجھے ہفتہ کے بدلہ جمعہ عنایت فرمایا مجھے ہفتہ کو دوست رکھنے کی ضرورت نہیں رہی، ہاں یہودیوں سے بے شک مجھے لگاؤ ہے کہ وہ میرے قرابتدار ہیں اور مجھے ان کے ساتھ صلہ رحمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ حضرت امیر المومنین ان کی حق گوئی سے بہت خوش ہوئے اور واپس تشریف لے گئے، اس کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی سے دریافت کیا کہ میری شکایت پر کس چیز نے تجھے آمادہ کیا، اس نے کہا: شیطان نے بہکایا، اس کے بعد ام المومنین نے راہ خدا میں لونڈی کو آزاد کر دیا۔
علم و فضل میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا مرتبہ بلند تھا، کوفہ کی عورتیں اکثر ان کے پاس مسائل دریافت کرنے آتی تھیں، بے حد درد مند تھیں، 35ھ میں خلیفہ سوم حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کا بلوائیوں نے محاصرہ کر لیا تو ان کو بہت رنج ہوا۔ حالات بگڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے مکان جانے سے رہ گئیں اور حضرت امام حسین بن علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہاتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانا بھیجا۔
وصال مبارک: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رمضان المبارک 50ھ میں 60 سال کی عمر میں وصال کیا اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ ذاتی مکان راہ خدا میں دے دیا تھا، ترکہ میں ایک لاکھ درہم نقد چھوڑے، وصیت کی کہ ان کے یہودی بھانجے کے لئے ہیں۔ لوگوں نے دینے میں تامل کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہلا بھیجا: اللہ سے ڈرو، چنانچہ ان کی وصیت کی تعمیل کر دی گئی۔
مروی احادیث مبارکہ: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے 76 حدیثیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، جن میں ایک حدیث بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے۔ اور باقی روایات دیگر کتب احادیث میں درج ہیں۔ ن کی حدیثوں کو حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ، حضرت اسحاق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت یزید بن معتب رضی اللہ عنہ اور حضرت مسلم بن صفوان رضی اللہ عنہ نے چند احادیث مبارکہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان کی ہیں۔
ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح میں آنے کے بعد آپ کا نام میمونہ رکھا جس کا معنی برکت دہندہ ہے ، آپ قبیلہ قیس بن عیلان سے تھیں۔
سلسلۂ نسب یہ ہے: میمونہ بنت حارث بن حزن بن بحیر بن ہزم بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ بن معاویہ بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان ۔ والدہ کا نام ہند بنت عوف بن زہیر بن حارث بن حماطہ بن جرش تھا۔
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی سے ہوا، انہوں نے کسی وجہ سے طلاق دے دی، پھر ابو رہم بن عبدالعزی کے نکاح میں آئیں۔ 7 ھ میں انہوں نے وفات پائی اور حضرت میمونہ بیوہ ہو گئیں، اسی سال حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، تو حضور صلی الہ علیہ وسلم کے عم محترم حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لینے کی تحریک کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم رضامند ہو گئے۔ چنانچہ احرام کی حالت میں ہی شوال 7ھ میں 500 درہم مہر پر حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا۔ عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ سے دس میل کے فاصلہ پر بمقام ‘‘سرف’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابو رافع رضی اللہ عنہ ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر اسی جگہ آ گئے اور یہیں رسم عروسی ادا ہوئی، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زوجۂ مطہرہ تھیں، ان سے نکاح کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اور نکاح نہیں فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نہایت خداترس اور متقی تھیں، ہم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والی اور صلہ رحمی کا خیال رکھنے والی تھیں۔
مدینہ طیبہ میں ایک دفعہ ایک خاتون سخت بیمار ہو گئی، اس نے منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو بیت المقدس جا کر نماز ادا کروں گی، اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کر لی، منت پوری کرنے کے لئے بیت المقدس جانے کا ارادہ کیا، سفر پر روانہ ہونے سے قبل حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے رخصت ہونے آئی اور تمام ماجرا بیان کیا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھایا کہ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ بیت المقدس جانے کے بجائے مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں نماز پڑھ لو منت بھی پوری ہو جائے گی اور ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ آپ کے اس مبارک مشورے سے سفر کی تکالیف سے بچ گئیں اور مسجد نبوی کی اہمیت سے بھی واقف ہو گئیں۔
ایک دن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو آپ کے بھانجے تھے، اس حال میں آئے کہ بال پراگندہ اور بکھرے ہوئے تھے‘ آپ نے فرمایا: یہ حالت کیوں ہے؟ تو بولے میری بیوی ایام میں ہے، کیونکہ وہ ہی مجھے کنگھا کرتی تھی تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کبھی ہاتھ بھی ناپاک ہوتے ہیں اور فرمایا: کہ ہم اس حالت میں ہوتی تھیں اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری گود میں سر رکھ کر لیٹتے تھے اور قرآن کریم تلاوت فرماتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہایت بلیغ انداز میں سمجھایا کہ عورتیں اس حالت میں حسی طور پر ناپاک نہیں ہوتیں بلکہ یہ ناپاکی حکمی ہوا کرتی ہے۔
شریعت کی خلاف ورزی پر جلال کا اظہار فرماتیں اور برائی سے بروقت منع فرماتیں، چنانچہ ایک دفعہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا ایک قریبی رشتہ دار اس حالت میں حاضر ہوا کہ اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی، وہ سخت غضبناک ہوئیں اور اسے جھڑک کر کہا کہ آئندہ کبھی میرے گھر میں قدم نہ رکھنا۔
راہ خدا میں انہوں نے لونڈی کو آزاد کر دیا، اس کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو فرمایا: خدا تم کو جزائے خیر دے۔
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بہت ہی مخیر اور فیاض تھیں، وقتاً فوقتاً قرض لینے کی نوبت آ جاتی تھی۔ ایک دفعہ بہت زیادہ رقم قرض لے لیں، کسی نے پوچھا: ام المومنین! اتنی زیادہ رقم کی ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟ فرمایا: میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت سے قرض لیتا ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کے قرض کی ادائیگی کے اسباب مہیا کر دیتا ہے۔
وصال مبارک: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے 51 ھ میں “سرف” کے مقام پر وصال فرمایا اور اسی چھپر میں آپ کی آرام گاہ ہے جہاں آپ کی رسم عروسی ادا ہوئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نماز جنازہ پڑھائی۔ محدث عطاء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جنازہ کو زیادہ حرکت نہ دو، یہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقۂ حیات ہیں۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس، یزید بن اصم، عبداللہ بن شداد اور عبداللہ خولانی رضی اللہ عنہم نے قبر شریف میں اتارا۔ (زرقانی، جلد 3)
روایت کردہ احادیث شریفہ: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے 76 حدیثیں مروی ہیں، ان میں سے 7 متفق علیہ ، ایک صحیح بخاری میں اور ایک صحیح مسلم میں ہے، بعض کا کہنا ہے کہ 5 احادیث صحیح مسلم میں منفرد ہیں۔ ان کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن شداد ، عبدالرحمن بن سائب رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ ازواج مطہرات کے علاوہ دو بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چار کنیزیں تھیں، جن میں سے دو مشہور ہیں۔

ام المومنین ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام : ماریہ قبطیہ بنت شمعون رضی اللہ عنہا ، آپ کو مقوقس کے شاہ اسکندریہ نے بطور نذرانہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، حضرت ماریہ مصر کی رئیس زادی تھیں، عزیز مصر، مقوقس نے قافلۂ ماریہ کو بڑے اہتمام اور عظیم الشان تحائف کے ساتھ رخصت کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قافلہ کا شاندار استقبال کیا اور حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ام سلیم بنت ملحان کے گھر اتارا جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا واپسی میں راستہ میں حاطب بن بلتعہ کی دعوت اسلام سے مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی بہن سیرین بھی آئی تھیں، جن کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بھی ازواج مطہرات جیسا سلوک کرتے تھے۔
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا بہت حسین و جمیل، نہایت خوش اخلاق اور بڑی دیندار خاتون تھیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ان کے خوبصورت بال اور حعد مشکیں بے حد پسند تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ماریہ کے بطن سے ایک نرینہ اولاد حضرت ابراہیم 8 ذو الحجہ میں پیدا ہوئے اور 18 ماہ رہ کر وصال فرمائے، حضرت ماریہ ، حضرت ابراہیم کے وصال پر اشکبار ہو گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اشکبار ہو گئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی زوجہ مطہرہ سے اولاد نہیں ہوئی۔
وصال مبارک: حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا 16 ھ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ امیر المومنین نے حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے اعزاز و اکرام کو باقی رکھا اور نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔

ام المومنین حضرت ریحانہ بنت شمعون رضی اللہ تعالی عنہا
نام ریحانہ ہے ، یہود کے خاندان بنو نضیر سے تھیں بعض نے بنو قریظہ کہا ہے۔
سلسلۂ نسب یہ ہے: ریحانہ بنت شمعون بن زید بن خنافہ
بعض روایتوں میں ا س طرح ہے: ریحانہ بنت زید بن عمر بن خنافہ بن شمعون بن زید۔ لیکن پہلا سلسلہ نسب اہل سیر کے نزدیک معتبر ہے۔’
حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے والد کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ حضرت ریحانہ کا نکاح پہلے بنو قریظہ کے ایک شخص “حکم” سے ہوا۔ غزوۂ بنو قریظہ کے بعد جن یہودیوں کو قتل کیا گیاحکم بھی ان میں شامل تھا۔ ریحانہ ان عورتوں میں تھیں جنہیں اس موقع پر مسلمانوں نے گرفتار کیا۔
ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرت ام المنذر بنت قیس رضی اللہ عنہا کے گھر ٹھہرایا۔ ان کے قبول اسلام کے بارے میں دو روایتیں ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم چاہو تو اسلام قبول کر لو اور چاہو تو اپنے مذہب پر قائم رہو۔ انہوں نے اپنے مذہب کو ترجیح دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر اسلام قبول کر لو تو اپنے پاس رکھوں گا، لیکن وہ یہودیت پر قائم رہیں۔ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رویہ سے بہت رنج ہوا۔ آپ نے ریحانہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا، ایک دفعہ آپ صحابہ کرام کی جماعت کے درمیان رونق افروز تھے۔ ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے قبول اسلام کی خوشخبری سنائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ دوسری روایت کے مطابق حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرتی ہوں، قبول اسلام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی ملک میں رکھا۔ بعض روایتوں کے مطابق انہیں آزاد کرنے کے بعد ان سے نکاح فرما کر ازواج مطہرات میں شامل کر لیا۔ بہر صورت وہ باپردہ رہتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہر فرمائش پوری کرتے تھے۔
حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا نے 5 سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفیقۂ حیات کی حیثیت سے گزارے۔ محرم 6 ھ میں بارہ اوقیہ اور ایک نش سونا مہر میں دیا کرتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اتنا ہی مہر ادا فرما کر حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا۔ اور جس طرح دوسری ازواج مطہرات کی باری مقرر تھی، اسی طرح حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کی بھی باری مقرر تھی، اس طرح ام المومنین کے زمرے میں شامل ہو گئیں۔
وصال مبارک: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے فارغ ہو کر واپس مدینہ تشریف لائے تو حضرت ریحانہ کا انتقال ہوا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے بعد یہ تیسری رفیقۂ حیات ہیں، جن کا انتقال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوا۔
٭٭٭

مشرقی ترکستان

Standard

مشرقی ترکستان

مشرقی ترکستان چین میں مسلم اقلیت پر مشتمل خطے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ چین کے مقبوضات میں سے ایک اسلامی مستقل شناخت رکھنے والے وسیع خطے کا نام ہے۔ سنکیان جو اپنی اسلامی شناخت کو بچانے کیلئے کوشاں ہے تو یہ چین کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ غاصب ملک کے قبضے سے آزادی پانے کی جدوجہد ہے۔ اقوام عالم میں یہ ایک مفتوحہ قوم کا تسلیم شدہ حق ہے اور اسلامی اصطلاح میں جہاد کہلاتا ہے۔
گویا مشرقی ترکستان قصہ پارینہ ہے۔ مسلم اُمہ کے اذہان میں جگہ نہ پا سکنے والے کاشغر کا خطہ۔ اُمت مسلمہ پر پے درپے ایسے مصائب آئے ہیں کہ اُن میں گھر کر کتنے ہی مسائل اپنی طرف توجہ ہی مبذول نہیں کرا سکے۔ انہیں فراموش کردہ مسائل میں مشرقی ترکستان کا بھی شمار ہوتا ہے جو چین کے جابرانہ تسلط میں اپنا اسلامی تشخص گم کرتا جا رہا ہے۔ چین گزشتہ کئی سالوں سے مشرقی ترکستان کے اسلامی شناخت پر مبنی تاریخی ورثے کو مٹاتا چلا جا رہا ہے۔ چین نے اس علاقے پر قبضہ جما کر اسے سنکیان کے نام سے اپنا ایک صوبہ (شينگ)قرار دے دیا ہے۔ چین کے قبضے سے لے کر آج تک اِس غاصبانہ قبضے کے خلاف عالم اسلام سے کوئی آواز نہیں اٹھی ہے۔

مشرقی ترکستان میں اسلامی تشخص کو مٹانے کیلئے چین ہر غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام کر رہا ہے، اپنے مذموم مقاصد کیلئے چین مخلوط تربیتی پروگرام ترتیب دیتا ہے تاکہ وہاں بداخلاقی اور زناکاری کو فروغ حاصل ہو اور اسلام مردوزن کو جس اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اس کا برسرعام تمسخر اڑا سکے۔ مقامی مسلمان قائدین نے جب ایسے تربیتی پروگرام کے خلاف آواز بلند کی تو چین نے ساڑھے تین لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قتل کردیا۔ ان قتل ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے قائدین میں چند نامور نام بھی تھے جنہوں نے ترکستان میں قربانی کی داستانیں رقم کی ہیں جن میں عبدالرحیم عیسٰی، عبدالرحیم سیری اور عبدالعزیز قاری جیسے نام شامل ہیں۔
دو کروڑ کی آبادی پر مشتمل مشرقی ترکستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے کیلئے اور بالخصوص عقیدہ اسلام کو مسخ کرنے کیلئے چین نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔
چین جیسے دیوہیکل ملک سے اپنے اسلامی تشخص کو بچانے کیلئے وہ تنہا ہی برسرپیکار رہتے ہیں۔ یہاں بسنے والے مسلمان یہ حق رکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں بسنے والے مسلمان ان کی تاریخ، ثقافت اور جہاد سے روشناس ہوں اور دُنیا میں ان پر جو ظلم اور غاصبانہ قبضہ کیا گیا ہے اس کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک ہنستا بستا مسلم آبادی والا خطہ خاموشی سے چین کے قبضے میں چلا گیا۔
آپ کو نقشے میں مشرقی ترکستان نامی کوئی ملک نہیں ملے گا۔ مشرقی ترکستان سیاسی لحاظ سے سنکیان ہے جو چین کے نقشے میں آپ کو ملے گا۔
متحدہ ترکستان کو ہتھیانے کیلئے روس اور چین کے مابین بارہا چپقلش رہی ہے بالآخر دونوں نے متحدہ ترکستان کو تقسیم کرلیا اور مغربی ترکستان پر روس کا قبضہ اور مشرقی ترکستان پر چین کا قبضہ بلاکسی بین الاقوامی مداخلت کے قبول کرلیا گیا۔
مشرقی ترکستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان سے بڑا ہے اس کی آبادی دو کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اور مسلمان واضح ترین اکثریت میں ہیں۔ مشرقی ترکستان کا دارالحکومت کاشغر ہے جسے قتیبہ بن مسلم باھلی نے فتح کیا تھا۔ اُس زمانے میں ترکستان کا اسلامی شناخت پر مشتمل نیلے رنگ کا پرچم تھا جس میں روپہلی چاند تارا چمکتا دمکتا نظر آتا تھا۔
1945ء سے ہی چین نے مشرقی ترکستان کو کئی خطوں میں تقسیم کردیا تھا اور شہروں اور قصبوں کے نام بھی تبدیل کر دیئے تھے۔ ابتدائی سالوں میں مساجد مقفل ہوا کرتی تھیں لیکن بعد میں حکومت کی کڑی نگرانی میں مساجد کھلنے کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔
ترکستانی مسلمان چین کے اس قبضے سے کبھی مطمئن نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ ترکستان میں چین سے آزادی کی تحریکیں اٹھتی رہتی ہیں۔ چین کا پہلا قبضہ ١٧٦٠ءمیں ہوا تھا ١٨٦٣ءمیں آزادی کی پرزور تحریک اٹھی اور اُس نے مشرقی ترکستان کو واگزار کرا لیا۔ یعقوب خان بادولت کی قیادت میں مشرقی ترکستان ایک مستقل ملک قرار پایا اور یعقوب خان نے عثمانی خلیفہ سلطان عبدالعزیز خان کی بیعت کا اقرار کیا۔روس اور چین وسطی ایشیا میں بھلا کسی آزاد مسلم اسلامی ملک کو کب گوارا کرتے تھے چنانچہ محض تیرہ برس بعد چین نے مشرقی ترکستان پر قبضہ کرلیا۔
ترکستان کی تاریخ کے مطابق امیر معاویہ کے دور میں ہی اہل کاشغر اسلام سے شناسائی حاصل کر چکے تھے، عبدالکریم صادق بوگرا خان حاکم ترکستان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی ٩٦٠ءمیں اسلام پورے ترکستان میں پھیل گیا تھا بلکہ وسطی چین کی طرف دعوت اِسلام پہنچانے کا فریضہ بھی ترکستان نے انجام دیا تھا۔ عربی زبان میں دینِ اِسلام کی تعلیم کا رواج بھی اِسی زمانے میں ہوا تھا۔
ترکستان کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا قطعاً خلاف ضابطہ نہیں ہے اور نہ ایسا سمجھنا چاہیے، مشرقی ترکستان ایک اختلافی مسئلہ ہے جس پر چین کا قبضہ چلا آرہا ہے مشرقی ترکستان چین کا صوبہ نہیں ہے بلکہ ایک اسلامی ملک پر چین نے قبضہ کیا ہے اور یہاں کی مسلم آبادی کو کسی صورت میں چین کی اقلیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مشرقی ترکستان کے مسلمان کبھی اس قبضے سے مطمئن نہیں ہوئے اور برسوں سے اپنے اسلامی تشخص کے احیاءکیلئے جہاد کر رہے ہیں اور قربانیوں کی داستان لکھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس طویل جہاد میں اب تک دس لاکھ نفوس قربانی دے چکے ہیں، جہاں مغربی ترکستان روس کے تسلط سے چھٹکارا پاکر آزاد ہو چکا ہے وہاں مشرقی ترکستان بھی پیچھے رہنے والا نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ہی خطہ ہے جسے روس اور چین نے اپنے درمیان تقسیم کر رکھا تھا مشرقی ترکستان کے مسلمان ابھی تھکے نہیں ہیں اور نہ ہی اُمت مسلمہ کی ہمدردیوں سے مایوس ہیں۔ اُن کا مبارک جہاد اسلامی مملکت کے قیام تک جاری وساری ہے۔
مشرقی ترکستان میں جہاد کی شمع بجھائی نہیں جا سکی، ١٩٣١ءمیں مشرقی ترکستان کا بیشتر حصہ واگزار کرا لیا گیا تھا۔ ١٩٣٣ءمیں مشرقی ترکستان نے اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا اور کاشغر کو دارالحکومت قرار دیا گیا مگر روس چین گٹھ جوڑ سے یہ آزادی برقرار نہ رہ سکی۔ ایک مرتبہ پھر ١٩٤٤ءمیں دو صوبے آزاد کرا لئے گئے اور ایلی کو صدر مقام قرار دیا گیا۔ مشرقی ترکستان کی اِس چھوٹی سی مملکت نے باقی علاقے بھی آزاد کرانے میں پیش رفت جاری رکھی لیکن روسی اور چینی تعاون پھر اِس کی کامیابی میں آڑے آیا، دوسری طرف اسلامی ممالک سے اس تحریک کے لئے کوئی آواز اور حمایت نہ مل سکی اور نہ ہی اِس مسئلہ کو اسلامی ممالک نے کسی بین الاقوامی فورم پر اٹھایا، یہی وجہ ہے کہ مشرقی ترکستان کی تاریخ اور جہادی سرگرمیوں سے مسلمانوں کی کثیر تعداد ناواقف ہے۔
اگرچہ مسئلہ فلسطین اور گیارہ ستمبر جیسے گھمبیر مسائل کے بارے میں مسلمانوں کے ذرائع ابلاغ بہت کچھ لکھتے رہے ہیں اور ابلاغ عامہ میں تقریباً ہر روز ان کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے مشرقی ترکستان مسلمانوں کے ابلاغ عامہ میں کوئی خاص جگہ نہیں پا سکا۔ اس مسئلے کو سیاسی اور ابلاغ عامہ کی سطح پر فراموش کر دینے کا نتیجہ اس طرح نکلا ہے کہ مسلمانوں کا ایک وسیع قطعہ اراضی چین نے ہتھیا کر وہاں کے مسلمانوں کو باقی اُمت سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ مسلمانوں کی سرزمین اور وہاں کے باشندے ہرگز اس لائق نہیں کہ اُن کی اسلامی شناخت آہستہ آہستہ چین کے الحاد میں تحلیل ہونے کیلئے چھوڑ دی جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ مشرقی ترکستان میں اسلامی شناخت کو ختم کرنے کیلئے چین ایک طرف تو وہاں چین کے غیر مسلم اقوام کو لا کر بسا رہا ہے تاکہ مسلم آبادی غالب ترین اکثریت نہ رہ سکے یا کم از کم بڑے شہروں کی حد تک ایک معتدبہ تعداد غیر مسلم باشندوں کی دکھلائی جا سکے اور دوسری طرف اسلامی عقیدے کو مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کے ذہن سے محو کرنے کیلئے مختلف حربے بھی استعمال کر رہا ہے اور تیسری طرف روس کی طرح چین بھی یہاں کی معدنی اور زرعی پیداوار کو نچوڑ کر دوسرے صوبوں میں لے جاتا ہے۔
مشرقی ترکستان کے معدنی وسائل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں ١٢١ اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں۔ کم وبیش ٥٦ کانیں سونے کی دھات حاصل کرنے کیلئے چین کی سرپرستی میں شبانہ روز کام کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں معدنی تیل، یورینیم، لوہا اور سیسہ بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ خوردنی نمک اس کثرت سے پیدا ہوتا ہے کہ کل عالم کو ایک ہزار سال تک مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حلال جانوروں کی٤٤ انواع پائی جاتی ہیں۔
مشرقی ترکستان کی آبادی ایک ہی نسل اور ایک ہی تاریخ رکھنے والی آبادی پر مشتمل ہے۔ بنا بریں پہلی صدی کے اختتام تک کاشغر سمیت پوری آبادی اسلام میں داخل ہو گئی تھی۔ یہ سنی العقیدہ ہیں اور وہاں حنفی مذہب رائج ہے۔
اگر ہمیں اپنی تاریخ پڑھنے کا موقع ملے تو ہمیں اپنے علمی اثاثہ سے معلوم ہوگا کہ وسطی ایشیا کی اقوام اتراک کہلاتی ہیں اور اسی وجہ سے اس علاقے کو ترکستان کہا گیا ہے۔ ترک اقوام نے اسلام کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں اُس سے ہم خوب واقف ہیں۔ ترک اقوام اسلامی اُمت کا ایک مستقل جزولاینفک ہیں۔ ترکوں کی ان خدمات میں ماضی قریب تک مشرقی ترکستان کا ایک فعال کردار رہا ہے اگرچہ یہ کردار ہمارے ہاں کوئی بڑی پذیرائی حاصل نہیں کر سکا جس کی وجہ ابلاغ عامہ کی خیانت ہے اور اب بھی وہاں اسلامی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئی ہیں بلکہ برابر زور پکڑ رہی ہیں۔
یہ درست ہے کہ اُمت مسلمہ گوناگوں مسائل میں گھری ہوئی ہے لیکن اگر یہ اُمت ایک جسم کی مانند ہے تو پھر ہر زخم اپنا زخم ہے اور ہر زخم مرہم کا متقاضی ہے۔

نو آدم خور اور ایک پاگل ہاتھی

Standard

نو آدم خور اور ایک پاگل ہاتھی
حصہ اول
کینّتھ اینڈرسن
تعارف
شیر کا آدم خوری کی طرف مائل ہونا غیر معمولی امر ہے۔ عام حالات میں ہندوستانی جنگلوں کا یہ بادشاہ نہایت شریف اور قابل احترام جانور ہے۔ شیر ہمیشہ شکار برائے خوراک کرتا ہے۔ حیوانی جبلت کی تسکین کے لئے شکار کرنا شیر کا خاصہ نہیں۔ اس کا شکار عموماً جنگلی چرندے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ سرکاری چراگاہوں کے مویشیوں پر بھی ہاتھ صاف کر لیتا ہے۔

بعض اوقات شیرنی اپنے نوعمر بچے کو شکار کے گر سکھاتے ہوئے ایک وقت میں تین سے چار جانور بھی مار سکتی ہے تاکہ بچے کو شکار کے گر اچھی طرح سمجھائے جا سکیں۔ شیر کے شکار کا طریقہ عموماً جانور کی گردن توڑ کر اسے ہلاک کرنا ہوتا ہے۔ شیرنی عام طور پر دو بچے ہی پیدا کرتی ہے لیکن چار تک بچے ہونا عام بات ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نر شیر اگر زچگی کے وقت قریب موجود ہو تو آدھے بچے بالخصوص نر بچے وہ خود کھا جاتا ہے۔

شیر کے شکار کا طریقہ، جیسا کہ میں نے اوپر بتایا، جانور کی گردن توڑ کر اسے مارنا ہوتا ہے۔ چیتے اور تیندوے عموماً جانور کا گلہ گھونٹ کر اسے مارتے ہیں۔ شیر شکار کے لئے جانور کے ساتھ بھاگتے ہوئے اس کی پشت پر پنجہ رکھ کر اسے دباتا ہے اور ساتھ ہی اس کی گردن پکڑ کر نیچے کی طرف مروڑ دیتا ہے۔ اس طرح بھاگتے جانور کا اپنا وزن ہی اسے ہلاک کر دینے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ اس طرح شیر کو زور لگا کر گردن توڑنے کی محنت سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ ویسے میں نے خود اپنی آنکھوں سے شیر کو گردن مروڑ کر بھی جانور کو ہلاک کرتے دیکھا ہے۔ شکار کے دوران شیر کا منہ اتنا کھل جاتا ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ جانور کو گردن کے اوپر سے پکڑتا ہے کہ نیچے سے۔ دانتوں کے نشانات بھی اس بات پر روشنی نہیں ڈالتے۔

اسی طرح چیتے اور تیندوے میں ایک دلچسپ فرق ہوتا ہے۔ تیندوے اور چیتے ایک ہی نسل کے جانور ہیں۔ تیندوا نسبتاً بڑی جسامت کا ہوتا ہے اور اکثر جانور کی گردن توڑ کر اسے مارتا ہے جبکہ چیتا گلا گھونٹ کر۔ اس کے علاوہ چیتا چھوٹی جسامت کے جانور بھی مارتا ہے جن میں گھریلو مرغیاں، آوارہ کتے اور چھوٹے موٹے جانور شامل ہیں۔ تیندوا اور چیتا شیر کی نسبت بہت کم طاقتور ہوتے ہیں لیکن مکاری میں لاثانی۔ تیندوے برصغیر، ایشیا اور یورپ میں پائے جاتے ہیں۔

آدم خور چاہے شیر ہو یا تیندوا یا پھر چیتا، ان کی آدم خوری کی سب سے بڑی وجہ انسان ہی ہوتا ہے۔ بندوق یا رائفل سے کئے گئے اوچھے وار کے بعد جب یہ اپنے قدرتی شکار کو مارنے میں ناکام رہنے پر وہ انسان پر حملہ کرتا ہے۔ انسان جب غیر مسلح ہو تو اپنے دفاع سے بالکل معذور ہوتا ہے۔ بعض اوقات آدم خوری کی وجہ سیہہ کے شکار کے دوران لگنے والے کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح آدم خور شیرنی اپنے بچوں کو بھی یہ عادت منتقل کر سکتی ہے۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی وبائی بیماری سے مرنے والے افراد کی لاشیں جلائے یا دفن کئے بغیر جنگل میں پھینک دی جاتی ہیں جنہیں کھا کر یہ جانور آدم خوری کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات آدم خوری کی وجہ بالکل بھی معلوم نہیں ہو پاتی۔

آدم خور بن جانے کے بعد چاہے وہ چیتا ہو یا تیندوا یا پھر شیر، یہ اپنے ارد گرد کے علاقے کے لئے ایک دہشت بن جاتے ہیں۔ عموماً غریب دیہاتی اپنے دفاع سے معذور ہوتے ہیں اور ان کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں، یا تو ایک ایک کر کے آدم خور کا شکار ہوتے جائیں اور یا پھر اس علاقے کو چھوڑ کر دور چلے جائیں۔ شیر عموماً ایک ہی علاقے میں محدود رہتا ہے۔ لیکن جوں جوں ہلاکتیں بڑھتی جاتی ہیں، توہم پرستی لوگوں کو اتنا کمزور کر دیتی ہے کہ وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ ایسی صورتحال میں آدم خور کے خلاف حکمت عملی تیار کرنا بالکل ناممکن ہو جاتا ہے۔ سڑکیں ویران ہو جاتی ہیں، دیہاتی آمد و رفت بالکل رک جاتی ہے، جنگلوں کی کٹائی رک جاتی ہے، مویشیوں کو چرانے کے لئے نہیں بھیجا جاتا، کھیت اجڑ جاتے ہیں اور بعض اوقات پورے کا پورا گاؤں دوسری جگہ منتقل ہو جاتا ہے۔ آدم خور کے شکار میں یہ بھی مشکل ہوتی ہے کہ توہم پرست لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس کے بارے کچھ بھی کہیں گے تو آدم خور کو علم ہو جائے گا کہ کس نے اس کے خلاف بات کی ہے اور پھر سب سے پہلے وہ انہی کا ٹینٹوا دبائے گا۔

اسی طرح ملاپ کے دنوں ہاتھی بھی پاگل ہو جاتے ہیں۔ یہ عرصہ نوے دن پر محیط ہوتا ہے اور اس دوران ہاتھی نہایت خطرناک ہو جاتے ہیں۔ ہاتھی کے کان کے پیچھے والے سوراخ سے بدبو دار اور چکنے مواد کا رسنا اس کی علامت ہوتی ہے۔ اس ملاپ کے زمانے کے بعد یہ ہاتھی عموماً اپنی اصل حالت پر لوٹ آتے ہیں اور خطرہ نہیں رہتے۔ بعض اوقات نوجوان ہاتھی ماداؤں کے شوق میں بڑے نروں سے ٹکرا جاتے ہیں۔ نتیجتاً ان کی بری طرح پٹائی ہوتی ہے اور پھر وہ گروہ سے نکال دیئے جاتے ہیں۔ اس طرح جب وہ گروہ سے الگ ہوتے ہیں تو پھر جو چیز سامنے پڑے اسے توڑ پھوڑ کر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔ انسان حسب معمول ایک آسان شکار ہوتا ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ ہندوستان کے جنگلات آدم خوروں اور پاگل ہاتھیوں سے بھرے نہیں ہوتے۔ یہاں پگڈنڈی پر جنگل کے وسط میں چلنا اتنا ہی محفوظ ہوتا ہے جتنا کہ کسی بڑے شہر کی سڑک پر چلنا۔

اس کے علاوہ یہاں کی خوبصورتی، حشرات، جانور، پرندے، ان جنگلوں کا جوبن، طلوع اور غروب آفتاب کا وقت اور چاندی جیسی چاندنی راتیں جب چاند بانس کے جھنڈ پر چمکتا ہے، انسان کی تنہائی، اس کا اپنے خالق سے قرب، یہ تمام ایسی چیزیں ہیں جو جنگل کے علاوہ شاید ہی کہیں مل سکیں۔

مجھے توقع ہے کہ یہ کتاب پڑھتے وقت جب آپ کو جغرافیائی اور قدرتی ماحول کی وضاحت پر ایک بڑا حصہ دکھائی دے گا یا جب میں جانوروں اور پرندوں کی آوازوں کی نقالی لکھنے کی کوشش کروں گا تو یہ محض ان سنہری یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش ہوگی جن سے ہو سکتا ہے کہ بہت سارے لوگ دور ہو چکے ہوں۔ وہ وقت قریب ہے جب میں خود ان سے بچھڑ جاؤں گا۔

آخر میں میں اپنے والد کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے مجھے 7 سال کی عمر میں بندوق چلانا سکھایا۔ وہ جنگل سے اتنا زیادہ شغف نہیں رکھتے تھے۔ بطخوں، تیتر اور چھوٹے جانور کا شکار ان کی خوشی کے لئے کافی تھے۔ اس کے علاوہ بیرا کا شکریہ ادا کرنا بھی لازمی ہے جو کہ ایک مقامی پجاری ہے اور دریائے چنار کے کنارے ایک کھوہ میں آج سے 25 سال قبل اس سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس نے مجھے جنگل کی الف بے سکھائی تھی۔ جنگل سے میری محبت کا ایک بڑا سبب بیرا ہی ہے۔ اس کے علاوہ میرے ساتھی مقامی شکاری رانگا کا بھی میں بہت مشکور ہوں جس نے بے شمار مہمات میں میرا ساتھ دیا۔ رانگا نے ہر خطرے میں ثابت قدمی دکھائی اور مجھے اس کی دوستی پر ہمیشہ فخر رہے گا۔ سووری جو کہ رانگا کا نائب اور رانگا جتنا ہی عمدہ شکاری تھا، میرے پرانے دوست اور شکار ڈک برڈ اور پیٹ واٹسن کا شکریہ ادا کرنا بھی بے موقع نہ ہوگا جنہوں میرے علم میں سب سے زیادہ شیر مارے ہیں، میرے شروع کے دن میں میرے رہنما تھے۔

کینتھ اینڈرسن

سیگور کا آدم خور
وادیِ سیگور شمال مشرقی پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہے۔ یہ پہاڑ نیلگری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان پہاڑی سلسلوں کی بلندی پر “اوٹکمنڈ” کا مشہور صحت افزا مقام واقع ہے۔ اس سلسلے کی اوسط اونچائی 7500 فٹ سے بلند ہے۔ پورے ہندوستان کے طول و عرض کے لوگوں کے لئے یہ پرکشش تفریحی مقام ہے اور اسے بلا شبہ پہاڑی صحت افزا مقامات کی ملکہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ “اوٹکمنڈ” کی اپنی بے پناہ خوبصورتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی آب و ہوا ہر قسم کے برطانوی پھولوں کی بے مثال افزائش گاہ ہے۔ یہاں پھیلی ہوئی سفیدے، فر اور پائن کے درختوں کی خوشبوئیں مست کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ نسبتاً خنک موسم میدانی علاقوں سے آنے والے سیاحوں کی اس طرح سواگت کرتا ہے کہ انہیں “اوٹکمنڈ”‌یعنی “اوٹی” زندگی بھر یاد رہتا ہے۔

“اوٹکمنڈ” سے نکلنے والی بارہ میل لمبی سڑک جو کہ “گھاٹ روڈ” کے نام سے جانی جاتی ہے، ہموار ڈھلوانوں سے گزرتی ہوئی اس علاقے کو جاتی ہے جو کبھی لومڑیوں کے شکار کے لئے مشہور تھا۔ بے تحاشہ شکار کے باعث لومڑیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور اس کی جگہ مقامی گیدڑوں نے لے لی ہے۔ اس مقام کے بعد اچانک استوائی جنگلات شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں سڑک اتنی ڈھلوان ہو جاتی ہے کہ صرف طاقتور انجن والی گاڑیاں ہی اسے عبور کر سکتی ہیں۔ سیگور پہنچ کر سڑک دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔۔ ایک حصہ شمال مغرب کی طرف گھنے جنگلوں سے ہوتا ہوا “ماہن وان ہالا” کی وادی سے گزرتا ہے اور “سینی گنڈی” سے ہوتا ہوا ٹرنک روڈ سے جا ملتا ہے۔ یہ ٹرنک روڈ بنگلور اور میسور کو “اوٹکمنڈ” سے ملاتی ہے اور یہاں ٹیپو کاؤو کے مقام پر ایک چوکی بھی قائم ہے۔ دوسرا حصہ مشرق کی طرف جاتا ہے اور گھنے جنگلوں، نیلے پہاڑوں کے دامن سے ہوتا ہوا “انیکٹی” کے فارسٹ بنگلے کی طرف جاتا ہے جو یہاں سے کل نو میل کی مسافت پر ہے۔ دو دریا اس علاقے کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے نام دریائے سیگور اور دریائے انیکتی ہیں۔ پندرہ میل آگے جا کر یہ مویار کے دریا سے جا ملتے ہیں۔ مویار دریا شمال کی جانب ریاست میسور کی سرحد بناتا ہے۔

متذکرہ بالا تمام جنگلات بہت گھنے اور سدا بہار جنگلات ہیں۔ ان میں میسور، مالاہار اور نیلگری کے گیم ریزرو موجود ہیں اور ہاتھی، جنگلی بھینسے، شیر، چیتے، سانبھر، چیتل اور دیگر دوسرے جانوروں کی قدرتی آماج گاہ ہیں۔

فارسٹ بنگلہ ایسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں دریائے انیکٹی پورے زور و شور سے گزرتا ہے۔ گرمیوں میں یہ مقام نہایت مضر صحت ہوتا ہے اور یہاں ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ یہاں بہت بار “بلیک واٹر” نامی وبا بھی پھیل چکی ہے۔ سردیوں میں یہ جگہ جنت کا نمونہ بن جاتی ہے۔ صبح کو چمکیلی دھوپ پھیلی ہوتی ہے اور گھومنے پھرنے کے لئے بہت عمدہ وقت ہوتا ہے۔ سہ پہر تک موسم کافی سرد ہو جاتا ہے اور رات کو پہاڑوں سے آنے والی یخ بستہ ہوائیں برداشت سے باہر ہو جاتی ہیں۔ رات اتنی سرد ہو جاتی ہے کہ آدمی سے بنگلے سے باہر نکلنا نہیں ہو پاتا۔ بنگلے کے ہر کمرے میں آتش دان موجود ہیں۔ رات کو ان کے گرد محفل جمتی ہے اور جن بھوتوں کی کہانیاں رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں۔ بنگلے کے صحن میں رات کو ہاتھی، چیتے اور شیر دھاڑتے پھرتے ہیں جن کو سن کر بنگلے میں کمبل میں دبکا ہوا بندہ اچھی طرح محسوس کرتا ہے کہ وہ اس وقت بھی جنگل کے درمیان میں ہے۔

انہی جنگلات میں میں کئی بار مہمات کے سلسلے میں وقت گزار چکا ہوں اور یہ میرے پسندیدہ ترین جنگلات ہیں۔ ان مہمات کی یاد آج بھی میرے جسم میں خون کی گردش تیز کر دیتی ہے۔

مثال کے طور پر جنگلی کتوں کو ہی لے لیجئے۔ یہ غول در غول پورے ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی تعداد تین سے تیس تک ہو سکتی ہے۔ یہ غول بیابانی ہر قسم کے جانور کے لئے خطرہ ہیں۔ ہرن اور سانبھر جیسے جانور کو زندہ ہی چیر پھاڑ کر کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ انہی جنگلوں میں کتنی بار مجھے یہ کتے سانبھر کا پیچھا کرتے دکھائی دیئے ہیں۔ ان کے شکار کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ غول کے اکثر کتے نیم دائرے کی شکل میں پھیل جاتے ہیں۔ چند کتے کسی جانور کو ہانک کر ادھر لاتے ہیں اور پھر یہ سب باری باری اس جانور کو بھگاتے چلے جاتے ہیں۔ جہاں جانور کی ہمت نے جواب دیا، سب مل کر پل پڑے اور کچھ دیر بعد اس جانور کا نام و نشان تک نہیں بچتا۔ میں نے ایک بار ایک سانبھر کو جان بچانے کے لئے تالاب میں کودتے دیکھا۔ کتوں کے تالاب کے دوسرے سرے تک پہنچنے سے قبل سانبھر تیر کر نکل گیا۔ سانبھر بہت سخت جان جانور ہے اور عموماً بیچارہ زندہ ہی برابر کر لیا جاتا ہے۔

ایک شام 5 بجے جب میں بنگلے سے کوئی میل بھر ہی دور ہوں گا تو میں نے جنگلی پھولوں کی ایک نادر قسم دیکھی۔ ابھی اس کے معائنے میں مصروف تھا ہی کہ اچانک کچھ عجیب طرح کی آوازیں سنائی دیں۔ میں انہیں شناخت نہ کر پایا۔ مجھے کافی الجھن ہوئی کیونکہ میری زندگی ہی جنگل میں گزری تھی اور میں پھر بھی ان آوازوں کو پہچاننے میں ناکام رہا تھا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ جنگلی کتے اپنے شکار کا پیچھا کرتے ہوئے کئی عجیب طرح کی آوازیں نکال سکتے ہیں۔ رائفل چھتیاتے ہوئے میں کسی پناہ کی تلاش میں بھاگا۔ ابھی فرلانگ بھر ہی بھاگ پایا ہوں گا کہ ایک موڑ سے شیرنی نمودار ہوتے دکھائی دی۔ اس کے پیچھے نصف درجن جنگلی کتے تھے۔ میں نے خود کو ایک بڑے درخت کے تنے کے پیچھے چھپایا ہوا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے کتوں نے شیرنی کو گھیرے میں لیا جو بار بار اب غصے سے دھاڑ رہی تھی۔ وقتاً فوقتاً ایک کتا پیچھے سے شیرنی کو نوچنے کی کوشش کرتا اور شیرنی جونہی اس کی طرف مڑتی تو پیچھے سے مزید کتے اس پر حملہ کر دیتے۔ مجھے اچھی طرح اندازہ ہو چلا تھا کہ شیرنی اب زیادہ دیر نہیں زندہ رہ پائے گی۔

اس دوران کتے بہت زیادہ شور مچا رہے تھے۔ اچانک عقب سے مزید کتوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ یہ کتے جو شیرنی کو گھیرے ہوئے ہیں محض ہراول دستہ ہی ہیں۔ اصل جھنڈ تو پیچھے ہے اور اپنے ہراول دستے کی ہمت بڑھانے کے لئے شور کرتا آ رہا ہے۔ شیرنی نے بھی یہ شور سنا اور ایک نئی ہمت کے ساتھ کتوں پر حملہ کیا۔ دو کتے اس کی زد میں آ گئے۔ ایک تو خیر جھکائی دے کر بچ گیا، دوسرے کی کمر پر شیرنی کا پنجہ پڑا اور وہ سوکھی ٹہنی کی طرح ٹوٹ گئی۔ یہ دیکھ کر کتے پیچھے ہٹ گئے۔ شیرنی نے فوراً چھلانگ لگائی اور دوڑ پڑی۔ بقیہ کتوں نے بھی اس کا پیچھا شروع کر دیا۔ بقیہ جھنڈ بھی پہنچ گیا۔ انہوں نے یا شیرنی نے میری موجودگی کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور میرے پاس سے ہی نکلتے چلے گئے۔ کتوں کی ہمت اور بہادری کی وجہ سے میری دلچسپی بہت بڑھ گئی تھی اور میں اتنا محو ہو گیا تھا کہ شیرنی پر یا کتوں پر گولی چلانے کا خیال تک نہ آیا۔

اگلی صبح میں نے اپنے کھوجیوں کو اس قصے کی بقیہ تفصیلات معلوم کرنے بھیجا۔ دوپہر تک وہ لوٹ آئے۔ ان کے پاس شیرنی کی کھال کے کچھ ٹکڑے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کتوں نے شیرنی کو مزید پانچ میل بھگایا تھا۔ اس کے بعد آخری لڑائی میں پانچ مزید کتے مارے گئے اور بقیہ کتوں نے شیرنی کی دھجیاں اڑا دی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کے مردہ ساتھیوں کی لاشوں کا بڑا حصہ بھی ان کے پیٹ کا ایندھن بنا۔

اس علاقے میں تین مختلف مقامی قبائل آباد ہیں۔ ان میں سے کارومبا قبائل بہترین شکاری اور اتنے ہی بہترین کھوجی ہوتے ہیں۔ عموماً ان کی پیدائش سے ان کی موت تک انہی جنگلات میں ہوتی ہے اور شاذ و نادر ہی ان میں سے کسی نے جنگل سے باہر کی دنیا دیکھی ہوتی ہے۔

اب چلتے ہیں اصل آدم خور کی طرف۔ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شیر ضلع مالابار اور ویناد کے جنگلوں سے آیا تھا۔ اس علاقے میں ہاتھی اور جنگلی بھینسے بکثرت موجود ہیں۔ یہاں کے ہاتھی بھی اکثر و بیشتر پاگل ہوتے رہتے ہیں۔ اصولاً اس طرح کے جنگلات میں شیر نہیں پائے جاتے۔ خاموش وادی میں کئی انسانی شکار ہوئے اور تب سے اسے مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔ کوئی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ شیر نے آدم خوری کیوں شروع کی۔

گرمیوں کے وسط کا زمانہ تھا اور شیر کافی فعال ہو چکا تھا۔ ہر ہفتے انیکٹی اور سیگور کے درمیان شکار کرتا تھا اور میں بھی انہی دنوں ادھر پہنچا۔ آدم خور کا آخری شکار ایک مقامی چرواہا تھا جو اپنی نیم پالتو نیم جنگلی بھینسوں کو چرا رہا تھا۔ آدم خور نے اس پر باقاعدہ گھات لگا کر حملہ کیا تھا جبکہ اس نے اپنے اردگرد موجود بھینسوں کو دیکھا تک نہیں۔ اس نے اپنے شکار کو ختم کیا اور اسے اٹھا ہی رہا تھا کہ بھینسوں کو اس کی موجودگی کا علم ہوا۔

یہ بھینسیں نیم وحشی ہیں اور کسی بھی اجنبی کے لئے خاصی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ خصوصاً اگر اجنبی نے یورپی طرز کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں۔ اس طرح کے افراد پر وہ نظر پڑتے ہی حملہ کر دیتی ہیں۔ شیر کو دیکھتے ہی انہوں نے جمع ہو کر شیر پر حملہ کر دیا جس کے بعد شیر اپنے شکار کو چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

اس رات نہ تو چرواہا اور نہ ہی بھینسیں واپس آئیں۔ اگلی صبح ایک بڑی جماعت ان کی تلاش میں بھیجی گئی۔ مردہ چرواہے کو تلاش کرنے میں انہیں کوئی مشکل نہ پیش آئی۔ اس کی بھینسیں اس کی حفاظت کی غرض سے ابھی تک اس کے گرد جمع تھیں۔شاید اسی وجہ سے شیر کو واپس آ کر چرواہے کو لے جانے کا موقع نہ مل سکا۔

ہفتے بھر قبل شکار ہونے والی ایک عورت تھی جو سیگور میں رہتی تھی۔ وہ بیچاری دریائے سیگور سے پانی بھرنے گئی تھی کہ شیر اسے پکڑ کر لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس وقوعے کا ثبوت ٹوٹا مٹکا، شیر کے پنجوں کے نشانات، خون کی بوندیں، پھٹی ہوئی ساڑھی اور کچھ انسانی بال ہی باقی تھے۔

میں نے اس جگہ کے ارد گرد کا چکر لگایا اور شیر کے پنجوں کے نشانات کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیا۔ ان کی پیمائش سے پتہ چلا کہ شیر نسبتاً چھوٹی جسامت کا حامل اور نابالغ ہے۔

اطلاعات یہ تھیں کہ شیر کو سیگور اور انیکٹی کے درمیان بکثرت دیکھا گیا ہے اور اس کے قدموں کے نشانات بھی سیگور اور انیکٹی کے گردو نواح اور راستے میں بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔ حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے راستے کے اطراف میں مختلف جگہوں پر بیٹھنے کا منصوبہ بنایا۔ تفصیلات میں جائے بغیر اتنا بتا دیتا ہوں کہ اس پورے ہفتے میں ایک بار بھی شیر نہ دکھائی دیا۔

میں نے اب 20 افراد پر مشتمل ایک کھوجی جماعت بنائی اور ان کے ساتھ جنگل کے اس حصے کی طرف چل پڑا جہاں شیر کی موجودگی کا امکان ہو سکتا تھا۔ یہاں پہنچ کر میں نے پانچ پانچ افراد کے چار گروہ بنائے تاکہ ان پر آدم خور حملہ نہ کر سکے۔ دوپہر تک ہم نے تلاش جاری رکھی۔ اس کے بعد ایک بندے نے ایک نالے میں انسانی لاش کی موجودگی کی اطلاع دی۔ میں فوراً اس مقام پر پہنچا اور دیکھا کہ اس بندے کی موت شیر کے گلا دبوچنے سے ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کا ڈبہ موجود تھا جس میں اس نے شہد جمع کی ہوئی تھی جو اب ہر طرف بکھر چکی تھی اور اس پر کالی چیونٹیوں کے جتھے حملہ آور تھے۔

مجھے فوراً خیال گذرا کہ شیر نے ہلاک کر کے اسے کھایا کیوں نہیں۔ لاش بالکل ان چھوئی حالت میں تھی۔ جگہ بھی اتنی چھپی ہوئی تھی کہ شیر با آسانی پیٹ بھرتا اور کسی کو علم تک نہ ہو سکتا۔ ہم نے پنجوں کی تلاش شروع کی تو پتہ چلا کہ وہ کسی مادہ ریچھنی کا شکار ہوا ہے جو کہ اپنے بچے کے ہمراہ تھی۔ ریچھنی کے پیروں کے نشانات بالکل انسانی قدموں سے مشابہ ہوتے ہیں۔

ریچھ کے بارے کچھ بھی یقین سے کہنا مشکل ہے۔ ان کی بصارت بہت کمزور ہوتی ہے۔ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ یہ بچیارہ قبائلی شہد کی تلاش میں ریچھنی تک پہنچا ہوگا اور یا تو اس وقت ریچھنی سو رہی ہوگی یا پھر نالہ عبور کر رہی ہوگی کہ ان کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ ریچھ کی نظر بہت کمزور ہوتی ہے اور یہ انسانی موجودگی سے تب آگاہ ہوتے ہیں جب وہ بہت قریب پہنچ جائیں۔ پھر حیرت زدہ ریچھنی نے اس پر حملہ کر دیا ہوگا تاک اپنے بچے کو بچا سکے۔ اس لئے اس نے اس بیچارے کو گلے سے پکڑا ہوگا اور شہ رگ کٹ جانے سے وہ وہیں ہلاک ہو گیا اور ریچھنی بچے کے ہمراہ فرار ہو گئی۔

میری اپنی خواہش یہ تھی کہ میں خوامخواہ اس ریچھنی کا پیچھا نہ کروں کیونکہ اس نے محض اپنے بچے کو بچانے کے لئے حملہ کیا تھا۔ میں نے انیکٹی اپنے بنگلے کی طرف رخ کیا ہی تھا کہ چار مزید آدمی آن پہنچے۔ انہوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس ریچھنی کو ہلاک کروں کیونکہ وہ بھی شہد جمع کرتے ہیں اور کل کو یہ واقعہ ان کو بھی پیش آ سکتا ہے۔ ان کو خوش کرنے کے خیال سے میں نے اپنے ہمراہیوں کو واپس جانے کی ہدایت کر دی اور خود ان نئے آنے والے افراد کے ساتھ چل پْڑا۔ ریچھنی کے قدموں کے نشانات نالے سے ہوتے ہوئے ایک ندی میں جا پہنچے جہاں ریچھنی اور اس کا بچہ کچھ دیر تک رہے اور پھر واپس جنگل کی طرف پلٹ پڑے۔ اس جگہ جنگل میں پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ یہاں بے شمار غار موجود تھے اور ان میں لگے ہوئے پہاڑی شہد کی مکھیوں کے لاتعداد چھتے۔ ان چھتوں کی لمبائی ایک گز سے زیادہ، اونچائی پانچ فٹ سے زیادہ اور موٹائی ایک فٹ تک ہو سکتی ہے۔ اب ہم جس زمین پر تھے وہ بالکل سخت اور پتھریلی تھی۔ میری نا تجربہ کار نگاہوں سے ریچھنی کے تمام تر نشانات اوجھل تھے۔ لیکن میرے ہمراہی اس کام کے ماہر تھے۔ دو گھنٹے تک وہ ادھر سے ادھر اور پہاڑی کے اوپر نیچے لئے پھرتے رہے۔ اپنی جگہ سے ہٹا ہوا پتھر، ہلا ہوا پتہ، رگڑ یا چھلینے کے معمولی سے نشانات یا ہلکی سی کھدائ، کوئی بھی نشانی میرے ہمراہیوں سے چھپی نہ تھی۔ بالآخر ہم ایک غار کے دہانے تک جا پہنچے جو کہ ایک بڑی چٹان کے پیچھے پوشیدہ تھی اور اس کے منہ پر لٹکے ہوئے 23 چھتے میں نے خود گنے۔ میرے ہمراہیوں کا کہنا تھا کہ یہ غار ہی اس ریچھنی کی رہائش گاہ ہے۔

غار کے دہانے سے دس گز کے فاصلے پر ایک طرف ہٹ کر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ غار میں پتھر پھینکیں۔ یہ سلسلہ کوئی 20 منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے گھاس جمع کر کے مشعل سی بنائی اور اسے آگ لگا کر غار میں پھینک دیا۔ لیکن کچھ بھی نہ تبدیل ہوا۔ آخر انہوں نے 5 مزید مشعلیں بنائیں، ایک کو جلا کر ایک شخص میرے آگے اور تین بقیہ چار اضافی مشعلیں اٹھائے میرے پیچھے تھے۔

غار متوقع طور پر خالی ملی۔ ہمارا اندازہ تھا کہ ریچھنی یا تو ہماری آمد سے قبل ہی یا پھر ہماری آمد کے شور کے باعث فرار ہو گئی۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا کہ میری ریچھنی سے کوئی دشمنی نہ تھی اور اسے مار کر مجھے افسوس ہوتا کہ اس کا بچہ لا وارث ہو جاتا۔

ہم نے تیسری مشعل جلائی اور واپس ہونے ہی والے تھے کہ ایک ساتھی کو اچانک ایک عجیب چیز دکھائی دے گئی جس کے بارے میں میں عرصہ سے سنتا چلا آ رہا تھا لیکن کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔

اس کو جو چیز ملی تھی تو کونے میں پڑی ایک روٹی نما چیز تھی۔ اسے مقامی لوگ ریچھ کی روٹی کہتے تھے۔ یہ دس انچ لمبی اور ایک انچ موٹی گول شکل میں تھی۔ مٹیالے سے رنگ کی اور لیس دار تھی۔ ریچھنیوں کے بارے مشہور ہے کہ وہ “جاک” کے درخت کا پھل اور شہد کے چھتے کو کھا کر اگل دیتی ہیں اور پھر اسے گول شکل دے کر اس کو سخت ہونے تک چھوڑ دیتی ہے۔ پھر اسے اس کے بچے کھاتے ہیں۔

ریچھ کے لمبے بالوں کی وجہ سے اس پر شہد کی مکھیوں کے ڈنک اثر نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر یہی ڈنک انسان کو لگیں تو وہ مہلک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ریچھنی کے غار میں ایک سے لے کر درجن بھر تک اس طرح کی روٹیاں ہو سکتی ہیں۔ ریچھ پھلوں کی تلاش میں بہت تیزی سے درخت پر چڑھ سکتا ہے۔ خیر ہمیں اس غار سے صرف ایک ہی روٹی ملی۔ میرے لئے یہ حیرت انگیز چیز تھی۔ میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے میرے ساتھیوں نے مجھے پیش کش کی کہ میں اس روٹی کو کھا لوں۔ میں نے نرمی سے انکار کر دیا۔ انہوں نے میرے سامنے اس روٹی کے چار حصے کئے اور فوراً ہی کھا گئے۔

ہم لوگ غار کے دہانے پر پہنچے ہی تھے کہ شاید مشعل کی روشنی، دھوئیں یا پھر ہماری باتوں سے گھبرا کر شہد کی مکھیوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ہم نے باہر کی طرف دوڑ لگائی۔ مکھیاں ہمارے پیچھے تھیں۔ میرے ہاتھ میں رائفل تھی اور میں تیز نہیں بھاگ سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے میرے جسم پر پورے کپڑے تھے۔ اسی دوران میری گردن اور ہاتھوں پر کوئی 20 عدد ڈنک لگ چکے تھے۔ میرے ساتھیوں کے جسموں پر کم از کم 40 40 ڈنک تھے۔ انہوں نے صرف لنگوٹیاں پہنی ہوئی تھیں۔

رات کو ساڑھے آٹھ بجے میں پھر باہر نکلا۔ میرے ہمراہ ایک مقامی بندہ بھی ساتھ تھا۔ وہ کار کی اگلی سیٹ پر بیٹھا میری طاقتور برقی ٹارچ کو ادھر ادھر جھاڑیوں میں گھما رہا تھا۔ شمال مغربی طرف سے سڑک پر ہم 6 میل تک گئے لیکن کچھ نہ دکھائی دیا۔ فارسٹ چوکی سے 4 میل آگے تک بھی کچھ نہ ملا۔ واپسی سے پہلے ہم نے گھنٹہ بھر یہاں قیام کیا۔ اس بار واپسی پر ہم نے جنگلی بھینسوں کا جھنڈ دیکھا۔

جونہی کار نزدیک پہنچے تو وہ ہٹ گئے۔ راستے میں کئی چیتل بھی دکھائی دیئے۔ پھر ایک جگہ سڑک کے بیچوں بیچ ایک ہاتھی کھڑا ملا۔ ایک بار میں نے ہلکا سا ہارن بجایا۔ ہاتھی فوراً ہٹ گیا۔ بلاخر ہم انیکٹی پہنچے تو آدم خود کا نشان تک نہ ملا۔

اگلی صبح خوب چمکیلی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ ناشتے کے بعد مقامی بندے کے ہمراہ میں دوبارہ مویار دریا کی طرف نکلا۔ یہاں 9 میل میں ہمیں آدم خور کا کوئی نشان نہ دکھائی دیا۔ آخر کار ایک جگہ ایک غیر معمولی بڑے جسامت کے تیندوے کے پنجوں کے نشانات ملے۔ اس کے نشانات سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ چھوٹی جسامت کی شیرنی کے برابر ہے۔ میرا بہت دل للچایا لیکن آدم خور کا پیچھا کرنا زیادہ ضروری تھا۔

رات کو ہم نے پھر ایک بار چکر لگایا لیکن صرف ایک سانبھر ہی دکھائی دیا۔

اگلی صبح ہم پھر نکلے اور اس بار ہمارا رخ جنوب مشرق کی طرف تھا۔ نیلگری کی طرف ہمیں چوتھے میل پر ایک جنگلے بھینسے کی لاش ملی۔ سرسری معائنے سے معلوم ہوا کہ وہ اس وبائی بیماری کا شکار ہوا تھا جو ان دنوں اس علاقے میں پھیلی ہوئی تھی۔

اسی شام ماہن ہالا سے اطلاع آئی کہ شیر ایک عورت کو اٹھا گیا ہے۔ یہ حادثہ اس جگہ کے قریب ہوا تھا جو ماہن ہالا ندی کے دریائے سیگور سے ملنے کی جگہ ہے۔ موٹر پر ہم سوار ہو کر جائے حادثہ تک پہنچے جہاں گذشتہ شام کو یہ وقوعہ ہوا تھا۔ یہ عورت چرواہوں کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ ان لوگوں کے پاس مختلف جانور تھے۔

بظاہر اس حادثے کا کوئی عینی شاہد نہ تھا کہ یہ عورت حادثے کے وقت باقی افراد سے الگ ایک دوسری جگہ تھی۔ اس عورت کی چیخیں سن کر اس کے ساتھیوں نے فوراً بستی کا رخ کیا۔ یہاں وہ مزید 6 ساتھی لے کر پلٹے جن میں اس عورت کا شوہر بھی شامل تھا۔ یہاں انہیں اس عورت کی ٹوکری اور اس کے ساتھ شیر کے پنجوں کے نشانات بھی دکھائی دیئے۔ یہ پارٹی فورا پلٹی اور اگلی صبح 4 نوجوانوں کی پارٹی میری طرف بھیجی گئی جو 10 میل کی مسافت طے کر کے میرے پاس پہنچے کیونکہ یہاں پورا علاقہ اب تک جان چکا تھا کہ میں یہاں کیوں آیا ہوا ہوں۔ ہم لوگ جائے حادثہ پر پہنچے اور میرے مقامی ساتھی نے فوراً ہی شیر اور اس کے شکار کے نشانات پا لئے۔ اب میں نے پیچھا کرنے سے قبل سب کو واپس بھیج دیا۔ جانے سے قبل متوفیہ کے شوہر نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اس کی بیوی کی کچھ نہ کچھ باقیات ضرور لاؤں گا تاکہ وہ اس کی رسومات پوری کر سکے۔

اب ایک لمحہ ضائع کئے بغیر میرے ساتھی نے ان نشانات کا پیچھا شروع کر دیا جو بظاہر مجھے دکھائی بھی نہ دے رہے تھے۔ یہاں سے شیر نے اس علاقے کی طرف کا رخ کیا جو نسبتاً بلندی پر تھا۔ اس علاقے میں میں نے کئی سال پہلے کسی اچھے جنگلی بھینسے کی تلاش میں چکر لگایا تھا۔ یہ پوری پہاڑی تیز اور نوکیلی گھاس سے ڈھکی ہوئی ہے۔ مجھے علم تھا کہ اس علاقے میں شیر کو یا اس کے شکار کو تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے برابر ہوگا۔

میرے ہمراہی نے بغیر رکے کامیابی سے نشانات کا پیچھا جاری رکھا اور میل بھر بعد ہمیں اس عورت کی ساڑھی ملی جو ایک جھاڑی میں اٹکی ہوئی تھی۔ یہاں شاید شیر نے اپنا ارادہ بدل دیا اور ادھر ادھر گھومنا شروع کر دیا۔ نشانات کا پیچھا کرتے کرتے ہم لوگ ایک نالے میں جا پہنچے۔ یہاں بانس کے درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ بانس کے درخت گھنے تر ہوتے چلے گئے۔ جھنڈ کے نزدیک پہنچنے پر ہمیں گدھ دکھائی دیئے۔ آگے چل کر ہم نے دیکھا کہ جھنڈ میں اس عورت کی لاش موجود تھی۔ پہلے اسے شیر نے اور پھر گدھوں نے پیٹ بھرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ اس کا سر ایک طرف پڑا تھا۔ گدھوں نے آنکھیں نوچ کر الگ کر دی تھیں اور چہرے کا زیادہ تر گوشت بھی کھا چکے تھے۔ اس کے ہاتھوں، پیروں، چوڑیوں، پازیب اور سر کو ہم نے احتیاط سے گھاس کے گٹھر میں باندھ لیا تاکہ متوفیہ کے شوہر سے کیا ہوا وعدہ پورا کر سکوں۔ یہاں بیٹھ کر شیر کا انتظار کرنا کار وارد تھا۔ شیر ان چند ٹکڑوں کے لئے واپس کبھی بھی نہ آتا۔

اگلی رات میں نے پھر چکر لگایا مگر ناکامی ہوئی۔ اگلی صبح ہم نے ایک بچھڑا خرید کر اس جگہ کے قریب باندھا جہاں عورت کی لاش ملی تھی۔ چونکہ یہاں شیر کی واپسی کا بہت کم امکان تھا اس لئے میں نے سوچا کہ اگر بچھڑا مارا گیا تو میں ادھر بیٹھوں گا۔

شومیِ قسمت، میرا یہ اندازہ غلط نکلا۔ اگلی صبح میرے ہرکاروں نے بچھڑے کے مارے جانے کی اطلاع دی۔ تین بجے تک مچان تیار تھی اور اس پر بیٹھا میں زمین سے پندرہ فٹ کی بلندی پر محفوظ تھا۔

سب سے پہلا جانور جو یہاں نمودار ہوا وہ ایک لال رنگ کا مارٹن تھا۔ اس نے ساڑھے پانچ بجے شکل دکھائی۔ اس نے پہلے تو گرد و پیش کا جائزہ لیا اور پھر بچھڑے کو کھانا شروع کر دیا۔ 6 بجے تک وہ اچھی طرح سیر ہو چکا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اس نے اتنا کھا لیا تھا کہ پوری رات بدہضمی کا شکار رہتا۔

اندھیرا چھاتے ہی تین گیدڑ آئے۔ بچھڑے کی لاش کو سونگھتے وقت وہ بار بار ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے وہ بری طرح بھڑک کر بھاگتے اور چند لمحے بعد پھر واپس آ جاتے۔ چوتھی بار واپسی پر انہوں نے وہیں ڈیرہ جما لیا اور آرام سے کھانا شروع کر دیا۔ مگر چند ہی لقمے کھاتے ہی اچانک وہ رفو چکر ہو گئے۔

یقیناً یہ شیر کی آمد تھی جس نے انہیں اس طرح بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ سرمئی رنگ کے ایک عجیب الخلقت جانور نے چھلانگ لگا کر بچھڑے کی لاش تک پہنچنے کی کوشش کی۔ شیر کبھی بھی اتنی بزدلی سے اپنے شکار پر نہیں لوٹتا۔ یہ لازماً لگڑ بگڑ تھا جو گیدڑ کی طرح بزدل ہوتا ہے۔

دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اس نے لاش کو کئی بار سونگھا پھر لاش کے آس پاس گھوم پھر کر دیکھا کہ کوئی خطرہ تو نہیں۔ اس کے بعد اس نے بچھڑے کو کھانا شروع کر دیا۔ دو تین بار اس نے کھانے کے دوران لاش کے گرد چکر بھی لگایا کہ کہیں شیر کی آمد کا وقت تو نہیں ہو چلا۔ نصف گھنٹے تک وہ بار بار یہی کچھ کرتا رہا پھر لگڑ بگڑ نے مطمئن ہو کر کھانا شروع کیا۔

ابھی دس ہی منٹ گذرے ہوں گے کہ شیر کی دھاڑ سنائی دی۔ شیر دو تین بار دھاڑا اور لگڑ بگڑ اس طرح بھاگا جیسے موت اس کا پیچھا کر رہی ہو۔

میں تیار ہو گیا کہ اب شیر کی آمد کا واضح اعلان ہو چکا تھا۔ لیکن کئی گھنٹے گزر گئے اور شیر نہ ظاہر ہوا۔ صبح ہونے تک شیر نہ پہنچا۔ گرمیوں کا موسم تھا لیکن خنکی اتنی بڑھ گئی تھی کہ میں اچھا خاصا ٹھٹھر رہا تھا۔ نا معلوم شیر کیوں نہیں آیا۔ روشنی اچھی طرح پھیلنے تک میں مچان پر ہی رکا رہا۔ جب نیچے اترا تو پورا جسم سخت اکڑا ہوا اور میں بہت تھکن محسوس کر رہا تھا۔ پوری دنیا کے لئے بالعموم اور شیر کی شان میں بالخصوص قصیدے پڑھ رہا تھا۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ شیر اتنا قریب پہنچ کر بھی بچھڑے کو کھانے کیوں نہ آیا۔

اگلے دن میں سارا دن آرام کیا۔ رات کو حسب معمول موٹر پر گشت شروع کر دی۔ لیکن شیر کا کوئی نشان تک نہ ملا۔ انیکٹی کے موڑ سے ذرا پہلے ایک چھوٹے تیندوے نے سڑک کو چھلانگ لگا کر عبور کیا اور سڑک کے کنارے ہی بیٹھ کر مجھے گزرتا ہوا دیکھنے لگا۔ سرچ لائٹ میں اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ میں نے اس خوبصورت جانور کو زندگی کے مزے لینے کے لئے چھوڑ دیا۔

اگلا ہفتہ پرسکون گزرا۔ ہمیں کسی طرف سے شیر کی کوئی خبر نہ ملی۔ میں نے سوچا کہ روانہ ہونے سے قبل میں تین دن مزید رک جاؤں۔ اگلا دن بھی گزر گیا۔ اس سے اگلے دن دوپہر کو علم ہو اکہ ایک مقامی امیر زمیندار کے لڑکے کو شیر لے گیا ہے۔ یہ لڑکا اپنے باپ کے لئے دوپہر کا کھانا لے کر جا رہا تھا۔

جلد ہی میں اپنے مقامی کھوجیوں کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچا۔ شیر لڑکے کو ختم کرنے کے بعد اسے اٹھا کر دریائے سیگور سے ہوتا ہوا شمال کی طرف جنگل میں گھسا۔ ہم نے فوراً ہی پنجوں کے نشانات کا پیچھا شروع کر دیا۔ جلد ہی ہمیں لڑکے کی ادھ کھائی لاش نالے میں ہی ایک جگہ چھپی ہوئی ملی۔ بدقسمتی سے لڑکے کا باپ بھی وہیں آ پہنچا اور اس نے فوراً ہی لاش کو ہٹانے پر اصرار کیا۔ گھنٹہ بھر اس سے مغز ماری ہوتی رہی کہ ابھی لاش کو نہ لے جائے تاکہ میں شیر پر گھات لگا سکوں۔

لاش کے موجودہ مقام کے نزدیک کوئی بھی درخت یا چٹان ایسی نہ تھی جہاں میں خود کو چھپا سکتا۔ آخر طے یہ پایا کہ لاش کو اس کے موجودہ مقام سے ہٹا کر پچاس فٹ دور بانس کے ایک جھنڈ تک لے جایا جائے۔ وہاں بانس کے کٹے ہوئے تنوں پر مچان باندھی اور میں اس پر بیٹھ گیا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بری مچان تھی۔ ذرا سے جھونکے سے بھی یہ ہلنے لگتی اور اگر میں حرکت کرتا تو بے اندازہ شور پیدا کرتی۔ دوسرا یہ بھی مسئلہ تھا کہ اس جگہ سے لاش تقریباً نظروں سے اوجھل تھی۔ یہاں سے لاش کا فاصلہ تیس گز کے لگ بھگ ہوگا۔ ارد گرد اگے ہوئے بانس کے درختوں نے آس پاس کا تمام تر حصہ چھپایا ہوا تھا۔

آج کی مہم کا آغاز بہت برا تھا۔ ما سوائے ایک مور کے کوئی ذی روح نہ دکھائی دیا۔ مور نے زمین پر چلتے ہوئے نالے کے کنارے سے نیچے اترنا شروع کیا۔ جونہی اس کی نگاہ لاش پر پڑی، بوکھلا کر وہ پر پھڑپھڑاتا ہوا میرے اوپر سے گذرا۔ اس کی دم میرے بالوں سے چھوتی ہوئی گزری۔

نو بجے شیر کی آمد کا اس طرح علم ہوا کہ جہاں اس نے لاش کو چھوڑا تھا، اس طرف سے ہلکی سی غراہٹ سنائی دی۔ پہلے تو میں نے خود کو کوسنا شروع کیا کہ لاش کو ہٹانے کا خیال ہی کیوں آیا۔ پھر یاد آیا کہ ادھر میرے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں تھی۔ کھلی زمین پر آدم خور کے انتظار سے بہتر بھی خود کشی کے کئی آسان طریقے ہیں۔

خیر شیر جہاں تھا وہاں سے وہ لاش کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ اس طرح اس کے لاش پر آنے کی توقع تھی۔ کم از کم اگر میں آدم خور شیر ہوتا تو یہی کرتا۔ لیکن ہماری طرف سے لاش کو ہٹانے سے شاید شیر کو شبہ ہو گیا تھا۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آدم خود درندہ چاہے وہ شیر ہو یا تیندوا یا چیتا، بہت ہوشیار اور در حقیقت بزدل بھی ہوتا ہے۔ کسی آدمی کو ہلاک کرنے سے قبل وہ پوری طرح گھات لگاتا ہے۔ اچھی طرح یہ اطمینان کر کے کہ اس کا شکار اکیلا ہے، وہ حملہ کرتا ہے۔ ایک سے زائد آدمی ہوں تو وہ بالعموم حملہ نہیں کرتا۔ میری علم میں شاید ہی کوئی ایسا واقعہ ہو کہ آدم خود نے کسی ایسے شخص پر حملہ کیا ہو جو اکیلا نہ ہو۔ اس کے علاوہ ایسی بھی بے شمار مثالیں ہیں کہ شیر کے حملہ کرتے ہوئے اگر دوسرا کوئی شخص مداخلت کرے تو شیر اپنے شکار کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ ان میں ایک اور اضافی صلاحیت یا چھٹی حس کہہ لیں، ہوتی ہے۔ وہ مسلح اور غیر مسلح آدمی میں تمیز کر سکتے ہیں۔ عموماً وہ مسلح شخص کی موجودگی بھانپ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ان کا حملہ عموماً اس وقت ہی ہوتا ہے جب آدمی یا تو غیر مسلح ہو یا پھر بے خبر

اس آدم خور کی چھٹی حس بہت طاقتور تھی اور اس نے فوراً ہی کسی قسم کی گڑ بڑ محسوس کر لی تھی۔ اپنے شکار تک پہنچنے کے لئے اس نے عام راستے سے ہٹ کر چکر لگانے شروع کر دیئے۔ بار بار دھیمی آواز میں غراتا رہا جیسے اسے شکار کا دوسری جگہ منتقل کیا جانا ناگوار گزرا ہو۔ گھنٹہ بھر وہ ادھر ادھر پھرتا رہا۔ آخر کار اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور جنوب کی طرف نکل گیا۔ اس کی جنوب کی طرف دھیمی ہوتی غراہٹوں سے اس کے جانے کا علم ہوا۔ شاید اس طرف اس کی کمین گاہ تھی۔

اس بار آدم خور کے رویئے نے مجھے مجبور کیا کہ میں واپسی کا ارادہ ترک کر دوں۔ مجھے یہ جانور بہت غیر معمولی لگا۔ اس کے علاوہ میں نے سوچا کہ اگر مجھے چھٹی بڑھانی بھی پڑی تو میں بڑھا لوں گا۔

میرے ہمراہیوں کا خیال تھا کہ شیر سے بڑی سڑک پر مڈھ بھیڑ کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس لئے ہمیں جنگل میں موجود کچے پکے راستوں اور پگڈنڈیوں پر مٹر گشت کرنی چاہیئے۔ یہ پگڈنڈیاں کار کے سفر کے قابل نہ تھیں۔ میں نے ایک بیل گاڑی کرائے پر لی تاکہ ان پگڈنڈیوں کو چھان سکوں۔ گاڑی بان ایک نڈر اور مضبوط جسامت کا حامل جوان تھا۔ میرے ہمراہی بھی قابل اعتماد اور نہایت عمدہ کھوجی تھے۔ ہمیں امید تھی کہ ہم اس طرح کچھ نہ کچھ کر سکیں گے۔

اگلی تین راتیں اسی طرح گذریں۔ ہم نے اس دوران صرف سانبھروں اور چیتلوں کو دیکھا۔ تیسری رات ایک ہاتھی بھی راستے کے درمیان میں دکھائی دیا۔ ایک بڑے درخت کے نیچے وہ بے حس و حرکت کھڑا تھا۔ بیل گاڑی میں کار کی بیٹری رکھ کر اس سے ہم نے سرچ لائٹ جوڑی ہوئی تھی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اچھی خاصی روشنی کر سکیں۔ عام استعمال کے لئے پانچ اور سات سیلوں والی ٹارچیں تھیں۔ ہمیں ہاتھی کی موجودگی کا علم تب ہوا جب وہ ہماری روشنیاں دیکھ کر ہماری طرف لپکا۔ ہم نے اس کی آواز سن کر فوراً سرچ لائٹ جلائی۔ ہاتھی ہم سے کوئی تیس گز دور تھا۔ سرچ لائٹ کی تیز روشنی جب اس کی آنکھوں پر پڑی تو وہ رک گیا۔ ہم نے چھوٹی ٹارچیں بھی جلائیں اور خوب شور مچایا تو ہاتھی ڈر کر بھاگ گیا۔

اسی طرح اگلی تین راتیں بھی گذریں۔ ساتویں دن صبح کو اطلاع ملی کہ شیر نے انیکٹی کے فارسٹ گارڈ کے بیٹے کو ہلاک کر دیا ہے۔ نو بجے جب اچھی طرح روشنی پھیل چکی تھی تو وہ ڈاک بنگلے سے نکل کر اس جگہ آیا جو میرے بنگلے اور اس کی گھر کے درمیان تھی۔ شاید وہ اپنے کتے کو واپس بلانے آیا تھا جو اکثر میرے پاس کھانے کی تلاش میں آ جاتا تھا۔ اس لڑکے کو پھر زندہ نہ دیکھا گیا۔

فارسٹ گارڈ یہ سمجھا کہ لڑکا میری طرف آیا ہوا ہے، اس نے سکھ کا سانس لیا۔ جب لڑکا دوپہر کے کھانے تک نہ پلٹا تو فارسٹ گارڈ نے سوچا کہ وہ خود جا کر اسے واپس لاتا ہے۔ دریا سے فرلانگ بھر ہی دور اسے لڑکے کی ٹوپی دکھائی دی۔ اسے گڑبڑ محسوس ہوئی۔ اس نے فوراً ہی لڑکے کو بلانے کے لئے آواز دینی شروع کر دی۔ جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو وہ فوراً میری طرف دوڑا تاکہ ہم مل کر اس کے بیٹے کو تلاش کر سکیں۔

پریشان حال باپ کے ساتھ میں نے رائفل اٹھائی اور فوراً ہی چل پڑا۔ لڑکے کی ٹوپی ابھی تک وہیں پڑی تھی۔ تلاش کرنے پر اس کا ایک سلیپر دس گز دور ایک جھاڑی سے ملا۔ ہمیں بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ لڑکا جان سے ہاتھ دھو چکا ہے۔ میں نے فارسٹ گارڈ سے کہا کہ وہ فوراً بستی جا کر میرے کھوجیوں کو بلا لائے۔

پندرہ منٹ میں وہ بھی پہنچ گئے۔ ہم نے مل کر تلاش شروع کر دی۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لڑکے نے سخت مزاحمت کی تھی۔ شاید چلایا بھی ہوگا۔ مگر اس وقت وہاں اور کون تھا جو اس کی مدد کے لئے آتا۔ شیر نے اسی بری طرح بھنبھوڑا تھا کیونکہ گھاس پر خون ہی خون بکھرا ہوا تھا۔ اس کے بعد شیر اسے لے کر آگے بڑھا۔ ہمیں خون کی لکیر دکھائی دی۔

یہاں دریا مغرب کی طرف مڑتا ہے۔ یہاں بھی ہمیں شیر کے پنچوں کے نشانات دکھائی دئیے۔ خون کی لکیر بھی ابھی تک چل رہی تھی۔

یہاں کی نرم مٹی پر ہمیں شیر کے پنجوں کے بہت گہرے نشانات ملے۔ یہاں سے شیر کم گہرے پانی سے ہوتا ہوا دوسرے کنارے پر چڑھ گیا۔ تھوڑا سا آگے چل کر ہم نے جھاڑیوں سے لڑکے کی لاش برآمد کر لی۔ لڑکے کو شیر آدھا کھا چکا تھا اور بقیہ لاش بہت ڈراؤنی لگ رہی تھی۔ ہمارا اندازہ تھا کہ یہاں پہنچنے تک لڑکا زندہ ہی تھا۔ تبھی پورا راستہ خون بہتا رہا۔ شاید یہاں پہنچ کر شیر نے لڑکے کے شور سے ناراض ہو کر اس کی کھوپڑی پر پنجہ رسید کیا۔ کھوپڑی ریزہ ریزہ ہو گئی۔ تیز پنجوں نے کھوپڑی کو چیر کر رکھ دیا تھا۔ کھوپڑی انڈے کی طرح پچکی ہوئی تھی۔ اس پنجے کے سبب ایک آنکھ بھی اپنے حلقے سے نکل کر باہر کی طرف لٹک گئی۔

بیچارہ باپ جو اس وقت لاش سے صرف فٹ بھر ہی دور تھا، نے بقیہ لاش کو چوما اور پھر سر پر خاک اڑانی شروع کردی۔ یقیناً اس کی آہ و زاری سے آسمان کا کلیجہ دہل گیا ہوگا۔

بیچارے غم زدہ باپ کو ہم نے جھنجھوڑ کر سمجھانا شروع کیا کہ وہ جتنا شور کرے گا اور جتنی تاخیر ہوتی جائے گی، شیر کی واپسی کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے چلے جائیں گے۔ آخر کار اس بیچارے کی آہ و بکا ہچکیوں اور سسکیوں میں بدل گئی۔

لاش آلو بخارے کی جھاڑی تلے تھی۔ اس جھاڑی پر ایک بڑے جامن کے درخت کا سایہ تھا۔ ہم نے اس درخت پر مچان باندھنے کا منصوبہ بنایا۔ میں نے لڑکے کے باپ اور کھوجیوں کو بنگلے جانے کی ہدایت کی تاکہ وہ میری مچان ادھر لا سکیں۔ ان کی واپسی پر ہم لوگ سب ادھر ہی رہ جاتے تاکہ مچان باندھنے یا پھر مچان پر جاتے وقت اگر اچانک شیر پہنچ جائے تو اسے ہلاک کرنے کا موقع ضائع نہ ہو۔

دونوں کھوجی گھنٹے سے بھی کم وقت میں واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے بڑی پھرتی سے میری مچان پندرہ فٹ کی بلندی پر باندھ دی۔ وہ میری ہدایت کے عین مطابق میری ٹارچ، کمبل اور پانی کی بوتل بھی لائے تھے۔ سہ پہر ہوتے ہوتے میں مچان پر بیٹھ گیا۔

سہ پہر شام اور شام رات میں ڈھل گئی۔ شیر کی آمد کا دور دور تک نشان نہ تھا۔ اچانک تیز اور طوفانی بارش شروع ہو گئی۔ بارش کے اختتام پر اولے بھی پڑے۔

بارش اتنی تیز تھی کہ منٹ بھی نہ گزرا ہوگا کہ میں پوری طرح بھیگ گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے ہی دریا کا پانی بڑھتے بڑھتے کناروں سے چھلکنے لگا۔

رات گئے تک بارش جاری رہی۔ پھر ہلکی ہوتے ہوتے بوندا باندی میں بدل گئی۔ کچھ دیر بعد بوندا باندی بھی تھم گئی۔ ہوا نے جلد ہی میرے کپڑے خشک کر دیئے۔ سردی بہت بڑھ گئی تھی اور اب ناقابل برداشت ہو چلی تھی۔

اس وقت بنگلے واپس جانے کے لئے میں درجن بھر آدم خوروں کا بھی مقابلہ کر سکتا تھا لیکن طغیانی پر آئے دریا کو عبور کرنا میرے بس سے باہر تھا۔ پانی کے ساتھ درخت، تنے، جھاڑیاں، پتھر، غرض اتنی چیزیں آ رہی تھیں کہ دریا عبور کرنے کی کوشش میں میرے چیتھڑے اڑ جاتے۔

میری مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے سردی اب ناقابل برداشت ہو چلی تھی۔ نیند کی کمی اس پر مستزاد۔ ساتھ ہی اچانک ملیریا کا حملہ ہو گیا۔ گھنٹہ بھر ہی میں میرے دانت بجنے لگے۔ بخار نے بھی شدت پکڑ لی تھی۔ اس حالت میں شیر کا خیال تو کجا مجھے اپنی زندگی خطرے میں دکھائی دینے لگی۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیسے مچان پر ہی رہا، نیچے کیوں نہ گرا۔

اگلی صبح آٹھ بجے حسب ہدایت میرے ہمراہی آئے تو میں بیہوش تھا۔ کسی نہ کسی طریقے سے انہوں نے مجھے نیچے اتارا اور پھر دریا کے پار لے گئے۔ اگلے دو دن ملیریا کا زور رہا۔ خوش قسمتی سے میرے پاس مطلوبہ ادویات تھیں۔ تیسرے دن تک میں کافی بہتر ہو چکا تھا۔

ان حالات میں مجھے نمونیہ کیوں نہ ہوا، اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

تین دن بعد میں جب کچھ بہتر ہوا تو مجھے میرے ساتھیوں نے بتایا کہ اس رات کو طوفان کے دوران یا بعد میں شیر واپس آیا تھا۔ مجھے اپنی خوش قسمی پر ناز سا ہونے لگا کہ اگر میں اس رات نیچے گر جاتا تو شیر کو مفت میں دوسرا تازہ شکار مل چکا ہوتا۔

میں اگلے دو دن تک آرام کرتا رہا اور انتظار رہا کہ کب شیر کی مزید کسی سرگرمی کی اطلاع ملتی ہے۔ تیسرے دن میں نے تین بچھڑے خریدے۔ ایک کو سیگور، دوسرے کو انیکٹی اور تیسرے کو ماہن ہالا میں باندھا۔ اگلی صبح تینوں ہی زندہ سلامت تھے۔ میں نے اب اپنی معمول کی سرگرمیاں بحال کر دی تھیں اور جنگل میں مٹر گشت بھی بحال ہو گئی تھی مبادا کہ شیر سے اتفاقاً ملاقات ہو جائے۔

دو دن بعد ہی اچانک قسمت کی دیوی مہربان ہو گئی۔ میں نے ویسے ہی سوچا تین ہفتے تو بیکار گزرے۔ کیوں نہ اپنے کھوجیوں کے ہمراہ دریائے سیگور کے ساتھ ساتھ چند میل چل کر دیکھ لوں۔ کیلے کے جھنڈ کے پاس میں نے کار چھوڑی اور ہم لوگ روانہ ہو گئے۔

اس جگہ سے بمشکل میل بھر نیچے کی طرف ہی ایک دلدلی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ کئی سال پہلے تک جنگلی بھینسوں کی بہت عمدہ پناہ گاہ تھی۔ آج بھی مقامی لوگ اسے جنگلی بھینسوں کی دلدل کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس سے نصف میل دور دریا کے دونوں اطراف بانس کے گھنے جھنڈ ہیں۔ یہ جھنڈ ہاتھیوں، سانبھروں اور کبھی کبھار شیروں کو بھی مرغوب ہوتے ہیں۔

ساڑھے آٹھ بجے ہم جھنڈ میں داخل ہوئے۔ اسی وقت دریا کے دوسری طرف سے سانبھر کی آواز آئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک بارہ سنگھا بھی بولا۔ ہم لوگ فوراً گھاس میں دبک گئے۔ دونوں جانور وقفے وقفے سے بولتے رہے۔ صاف ظاہر تھا کہ انہوں نے کوئی خطرہ محسوس کیا تھا۔

پہلے تو میں یہ سمجھا کہ ان جانوروں نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔ لیکن فوراً ہی اس خیال کی تردید ہو گئی کہ ہوا مخالف سمت میں چل رہی تھی اور ہم لوگ اتنی گھنی جھاڑیوں میں تھے کہ ہمارا دیکھا جانا ناممکن تھا۔ اس کے علاوہ ہم لوگ بہت محتاط اور آہستہ انداز سے چل رہے تھے۔ اس لئے صرف یہی امکان تھا کہ شیر یا تیندوے کو دیکھ کر ہی یہ جانور بول رہے تھے۔ ورنہ اس وقت اس خطرناک علاقے میں انسان کی موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ہم جھاڑیوں کے قریب تقریباً 10 منٹ تک دبکے رہے۔ پھر اچانک دریا سے ہمیں بہت سارے چھوٹے چھوٹے پتھروں کے لڑھکنے کی آواز آئی۔ ایک فاختہ اور اس کے پیچھے بارہ سنگھا دوڑتے ہوئے گزرے اور ہماری طرف سے جنگل میں گھس گئے۔

چند ہی لمحوں میں ہم نے خاموشی، نفاست اور نڈر پن کے ساتھ شیر دریا کے سامنے والے کنارے سے نکلا۔ اس نے پانی میں قدم رکھا اور چلتا رہا۔ جب پانی اس کے سینے تک پہنچا تو اس نے چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔

نہایت احتیاط سے نشانہ لیتے ہوئے میں نے اس کے بائیں شانے کے پیچھے فائر کیا۔ گولی کھاتے ہی شیر اچھل کر گرا اور کراہتے ہوئے واپس اسی طرف مڑ گیا جہاں سے وہ آ رہا تھا۔ اپنی پناہ گاہ سے نکلتے ہوئے میں نے چالیس گز کا فاصلہ تقریباً دوڑ کر عبور کیا جہاں سے شیر کا چہرہ مجھے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس کا بقیہ حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہاں میں نے مزید پندرہ منٹ تک انتظار کیا کہ جونہی شیر ہلے میں دوسری گولی چلاؤں۔ لیکن شیر مر چکا تھا۔

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ آدم خور کے پنجوں کے معائنہ کر چکا تھا، اس شیر کے نشانات اسے آدم خور ہی ثابت کرتے تھے۔ اس طرح مجھے یقین ہوا کہ اتنی کوششوں کے بعد بالآخر آدم خور مارا جا چکا ہے۔

شیر کے آدم خور بننے کی وجہ صاف ظاہر تھی کیونکہ اس شیر کی صرف ایک آنکھ تھی۔ دوسری آنکھ سکڑ کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ کھال اتارتے ہوئے میں نے چاقو سے اس سکڑی ہوئی آنکھ کو نکال کر کریدا تو اس میں سے بندوق کا ایک چھرہ نکلا۔

ظاہر ہے کہ شیر کو اسی معذوری نے آدم خوری کی طرف مائل کیا۔ کسی غیر قانونی شکاری نے اس پر اپنی مزل لوڈنگ بندوق سے فائر کیا ہوگا جس سے شیر کانا ہو گیا۔ درد کی شدت سے مجبور ہو کر اور معذوری کی وجہ سے اس نے انسان سے بدلہ لینے کے لئے آدم خوری شروع کی ہوگی۔

تگراٹھی کے شیر
اگر میسور کی ریاست میں شموگا کے ضلع کی مغربی سرحد کی طرف سفر کریں تو بنگلور اور اس کے گرد و نواح کی نسبت یہاں کے مناظر اچانک ہی بدل جاتے ہیں۔ یہاں آپ ہر طرف سے سدا بہار جنگلات میں گھر جاتے ہیں جو برساتی نالوں سے سیراب ہوتے ہیں۔ یاں بارش کی سالانہ اوسط 120 انچ سے زیادہ ہے۔ شموگا اور اس کے مغرب میں سالانہ بارش 250 انچ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگمبے اور اس کے مغرب میں چیل کے بلند و بالا درخت ہیں جن کی چوٹیاں آسمان کو چھوتی نظر آتی ہیں۔ درختوں پر کائی اور فرن وغیرہ عام ملتے ہیں۔ سبزے کی یہاں اس خطے میں بہتات ہے۔ یہاں کانٹے دار جنگلات نہیں پائے جاتے۔ ہر ممکن جگہ پر سبزہ اور گھاس اگی ہوتی ہے۔ جھینگر اور مینڈک کے سوا کسی جانور کی آواز سنائی دینا محال ہے۔ درختوں کی نچلی شاخوں سے لٹکی ہوئی جونکیں عام ہیں۔ کسی بھی جاندار کے قریب سے گزرنے پر یہ اس سے چمٹ جاتی ہیں۔ کپڑوں کے اندر بھی گھس جاتی ہیں اور خون چوسنا شروع کر دیتی ہیں۔ آپ کو ان کی موجودگی کا علم تک نہیں ہوگا کہ ان کے کاٹنے سے درد نہیں ہوتا۔ نظر پڑنے پر یا رستے ہوئے خون کے ان کی کارگزاری کا پتہ چل سکتا ہے۔ اگر جونک کو خون چوسنے کے دوران نوچنے کی کوشش کی جائے تو اس جگہ پر ایک بڑا سا زخم بن جاتا ہے۔ اگر جونک پر تھوڑا سا نمک یا پھر تمباکو کا عرق لگا دیا جائے تو یہ فوراً ہی الگ ہو جاتی ہیں۔ اس طرح بننے والا زخم معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اور جلد ہی بھر جاتا ہے۔

یہ علاقہ کنگ کوبرا کا بھی مسکن ہے۔ کنگ کوبرا کوبرا کے خاندان کا سب سے بڑا سانپ ہے۔ اس کی لمبائی پندرہ فٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ اس کا رنگ گہرا زیتونی اور جسم پر ہلکے پیلے سے دائرے بنے ہوتے ہیں۔ اس کے سر پر کوئی نشان نہیں ہوتا۔ بڑی جسامت کے برعکس اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ اس کی خوراک دوسرے سانپ ہوتے ہیں۔ یہ بہت بد مزاج ہوتا ہے۔ انسان کو دیکھتے ہی حملہ کر دیتا ہے۔ انڈوں پر بیٹھی سپنی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ میرا اس سانپ سے دو بار آمنا سامنا ہوا ہے۔ ایک بار جب میں اپنے اکیوریم کے لئے ایک نایاب قسم کی مچھلی تلاش کر رہا تھا اور دوسری بار پھولوں کے ایک کنج کو دیکھتے ہوئے۔ دونوں بار ہی مجھے دیکھ کر یہ سانپ فرار ہو گئے۔

اونچے درختوں کی چوٹیاں نہایت خوبصورت پھولوں کا مسکن ہیں۔ یہ پھول مختلف بیلوں کے بھی ہو سکتے ہیں اور ان درختوں کے اپنے بھی۔ گرمیوں میں گلابی، پیلے، سفید غرض لاتعداد قسم کے رنگوں کے پھول عجب بہار دکھاتے ہیں۔

یہاں اس ضلع میں دریائے شیراوتی بھی موجود ہے۔ یہاں اس کی چار شاخیں ہیں۔ جوگ کے مقام پر یہ دریا ایک ساڑھے نو سو فٹ بلند آبشار کی مانند گرتا ہے۔ یہاں چاندنی رات میں چاند کی روشنی سے بننے والی کہکشاں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

تگراٹھی کا گاؤں ساگر قصبے سے گیارہ میل دور اور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ سدا بہار جنگلات کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔ یہاں کاشتکاری زوروں پر ہے۔ یہاں کی مٹی انتہائی زرخیز اور بارش بکثرت ہوتی ہے۔ اس لئے یہ جگہ زراعت کے لئے انتہائی پرکشش اور منافع بخش ہے۔ قدرتی گھاس بھی کثرت سے اگتی ہے اور زرعی زمینوں کو چھوڑ کر ہر ممکن جگہ پر اگتی ہے۔ دن کے وقت گاؤں سے مویشی یہاں چرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔

جنگلی بھینسے سے بڑے جانور یہاں کم ہی ملتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ گھنے جنگلات، پسو اور جونکیں ہیں۔ ابتدا میں چرندوں کی کمی کی وجہ سے یہاں شاید ہی کوئی درندہ پایا جاتا ہو۔ لیکن کاشتکاری اور چراگاہوں میں اضافے اور نئے مویشیوں کی تعداد جوں جوں بڑھ رہی ہے، درندوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

تگراٹھی بھی ایک ایسا ہی علاقہ تھا۔ میں اس علاقے میں اکثر آتا جاتا رہتا تھا اور مجھے کبھی بھی چار سے زائد شیروں کی اطلاع نہیں ملی۔ فروری 1939 میں مجھے معلوم ہوا کہ ایک ہی دن میں 8 مویشی مارے گئے ہیں۔ یہ تمام ہلاکتیں تگراٹھی کے آس پاس ہی ہوئی تھیں۔ لازما یہ 8 مختلف درندوں کا کام تھا۔

8 شیروں کی موجودگی کے باعث یہاں تیندوے اور چیتے نہ ہونے کے برابر تھے۔ جو تھے ان کا گزارہ آوارہ کتوں، بکریوں اور کبھی کبھار مرغیوں پر تھا۔ اگر شیروں کو کہیں چیتا دکھائی دے جائے تو وہ اسے مار کر کھا بھی جاتے ہیں۔

چیتل کے علاوہ اس جگہ شاید ہی کوئی اور جنگلی جانور ملتا ہو۔ یہاں کے تقریباً تمام ہی شیر لاگو یعنی مویشی خور ہیں۔ ان کی اکثریت بہت طاقتور اور موٹی ہوتی ہے جو کہ اس شیر سے مختلف ہوتے ہیں جس کا گزارا حقیقتاً جنگلی چرندوں پر ہوتا ہے۔

میں اب آپ کو شام راؤ باپت کی کہانی سناتا ہوں کہ اس نے انہی شیروں میں سے ایک شیر کو کیسے اپنے گھر کے باغیچے میں ہی ہلاک کیا۔ شام راؤ بائیس برس کا ایک نوجوان ہے اور اپنے والدین کی اکلوتی اولاد۔ اس نے گھر اور اس کے ساتھ موجود زرعی زمین کا نظام بخوبی سنبھالا ہوا ہے۔ اسے اپنے کام سے حقیقی معنوں میں محبت ہے۔ اس کے کھیتوں میں چاول، راگی کی فصلیں اور ناریل اور پام کے درخت ہیں۔ ان درختوں پر انگوروں کی بیلیں چڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بہت سارے مویشیوں کا مالک بھی ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک خوشحال زمیندار تھا۔

ایک دن ایک موٹے شیر نے شام راؤ کے خوشحال گھر سے خراج وصول کرنے کا سوچا۔ یکے بعد دیگرے شام راؤ کے مویشی اس کا شکار ہونے لگے۔ شام راؤ کے پاس ایک پرانی بندوق بھی تھی۔ اس نے بندوق میں گولی والا کارتوس بھرا اور شیر کا انتظار کرنے کے لئے ایک جانور کی لاش کے ساتھ درخت پر بیٹھ گیا تاکہ شیر پلٹے اور وہ اسے گولی مار سکے۔ شیر بھی ایک کائیاں نکلا اور اس نے شکل نہ دکھائی۔ شاید وہ پہلے کسی شکاری کی گولی کھائے ہوئے تھا۔

اب شیر کی ہمت بڑھ چکی تھی۔ ایک رات کو وہ شام راؤ کے گھریلو باغیچے کی باڑ پھلانگ کر اندر داخل ہوا اور باڑے کے گیٹ پر لگے بانس کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگا۔ اندر بند مویشیوں نے اچھا خاصا ہنگامہ برپا کر دیا۔ شام راؤ کی آنکھ اس ہنگامے سے کھل گئی۔ اس کے باہر نکلنے سے قبل ہی شیر فرار ہو گیا۔

اگلی رات کو شام راؤ نے باڑے کی چھت پر ایک محفوظ پناہ گاہ بنا کر شیر کا انتظار کرنے کی ٹھانی۔ رات کو 10 بجے شیر آیا اور دروازے کو کھرچنے لگا۔ شام راؤ نے کوئی فٹ بھر کے فاصلے سے اس پر بندوق کی دونوں نالیں خالی کر دیں۔ شیر بغیر کوئی آواز نکالے وہیں ڈھیر ہو گیا۔ یہ نہایت فربہ اور مویشی خور شیر کی بہترین مثال تھا۔

منظر بدلتا ہے۔ اب ساڑھے گیارہ کا وقت ہے اور خوب دھوپ نکلی ہوئی ہے۔ میں اپنی بیوی کے ہمراہ فارسٹ بنگلے میں ہوں۔ یہ بنگلہ تگراٹھی سے اڑھائی میں دور ہے۔ دوپہر کا کھانا قبل از وقت تیار ہے اور میری بیوی چند سینڈوچ تیار کر رہی ہے۔ اچانک بنگلے سے متصل جنگل سے کاکڑ (ایک قسم کا ہرن جس کی آواز بھونکنے سے مشابہ ہوتی ہے) کی آواز آئی۔ یہ آواز مسلسل آتی رہی۔ میں نے فوراً بوٹ پہنے اور رائفل اٹھائے باہر نکلا۔ فائر لائن کو عبور کر کے میں جنگل میں گھسا۔ کاکڑ ابھی تک بولے جا رہا تھا۔ میں ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ اس تک کم سے کم وقت میں اور بغیر شور کئے پہنچ جاؤں۔ جلد ہی میں اس جگہ آ پہنچا جہاں کاکڑ موجود تھا۔ اس کا رخ سامنے کی طرف تھا اور مسلسل بولے جا رہا تھا۔ میں دوبارہ جنگل میں گھسا تاکہ دوسری طرف سے چکر کاٹ کر اس طرف جا سکوں جس طرف کاکڑ دیکھ کر شور کر رہا تھا۔ یہاں ایک جگہ ٹیک کے درختوں کا گھنا جھنڈ تھا۔ ٹیک کے پتے زمین پر موجود تھے۔ اگر ان پر پیر پڑتا تو بہت زیادہ شور پیدا ہوتا۔ اس لئے میں رک گیا اور ایک بہت بڑے ٹیک کے ہی درخت کے تنے کے پیچھے چھپ گیا اور سامنے دیکھنے لگا۔ اچانک کچھ فاصلے پر حرکت ہوئی۔ میں نے پوری توجہ ادھر مرکوز کی۔ ایک شیر، بالکل بے خبر پشت کے بل سو رہا تھا۔ اس کی دم بار بار ہل رہی تھی۔ دم کے ہلنے سے مجھے اس کی موجودگی کا علم ہوا۔

سوئے ہوئے شیر کو ہلاک کرنا شکار کی روح کے خلاف ہوتا۔ دوسرا مجھے اس شیر سے کوئی دشمنی بھی نہیں تھی۔ میں نے رائفل جھکا کر درخت سے ٹیک لگائی اور شیر کو دیکھنے لگا۔ شیر کوئی بیس منٹ تک مزید سوتا رہا۔ اس کے بعد اچانک بنگلے کی جانب سے میری بیوی کی آواز آئی جو مجھے کھانے کے لئے بلا رہی تھی۔ شیر فوراً اپنی نیند سے بیدار ہوا اور نیم وا آنکھوں سے بنگلے کی طرف دیکھنے لگا۔

خاموشی سے میں اس کے سامنے نکل آیا۔ میری رائفل گولی چلانے کے لئے تیار حالت میں تھی۔ میری آمد کی آہٹ سن کر شیر نے فوراً رخ بدلا اور نہایت حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا کہ یہ انسان اتنی خاموشی سے اس کے اتنے قریب پہنچ گیا۔

پھر اس نے ہلکی سی میاؤں کی اور پھر مڑ کر جنگل کی طرف چل پڑا۔ میں نے اسے جانے دیا۔ جلد ہی وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

ایک دوسرے موقع پر میں اور میری بیوی رات کے وقت جنگل کی سیر کرنا چاہ رہے تھے۔ ہم نے ایک بیل گاڑی کرائے پر حاصل کی۔ رات کے وقت ہم جنگل میں روانہ ہوئے۔ ہمارا پروگرام ٹارچ کی روشنی میں جنگل کا مشاہدہ کرنے کا تھا۔ ہم ابھی بنگلے سے میل بھر ہی گئے ہوں گے کہ اچانک میری بیوی کی ٹارچ کی روشنی میں دو روشن آنکھیں دکھائی دیں۔ یہ آنکھیں جنگل میں کافی دور تھیں۔ ہم نے بیل گاڑی رکوائی اور نیچے اتر کر اس طرف چل پڑے۔ میری بیوی کی ٹارچ کا رخ مسلسل اسی طرف تھا جہاں آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ میری بیوی ٹارچ جلائے آگے آگے اور میں رائفل چھتیائے پیچھے پیچھے تھا۔ اب تک وہ آنکھیں گم ہو چکی تھیں۔ ہم نے وہاں ایک پگڈنڈی دیکھی اور اس پر چل پڑے۔ تھوڑی دیر بعد وہ آنکھیں پھر چمکیں۔ خوش قسمتی سے یہاں گھاس وغیرہ بالکل نہ تھی اور آسانی سے اس طرف جا سکتے تھے۔ ابھی ہم چند ہی قدم بڑھے ہوں گے کہ جھاڑی سے شیرنی نکل آئی۔ اس نے پہلے تو ہمیں دیکھا پھر مڑ کر جھاڑی کی طرف، جہاں سے وہ نکلی تھی۔ مجھے بہت عجیب لگا۔ اس کے پیچھے اس کے دو بچے بھی نکل آئے اور ماں سے لپٹ گئے۔

شیرنی ہمیں چند لمحوں تک دیکھتی رہی اور پھر جنگل کی طرف چل پڑی۔ ساتھ ہی اس نے ہلکی سی میاؤں کی آواز بھی نکالی جو شاید بچوں کو بلانے کا اشارہ تھا۔ بچے بھی فوراً اس کے پیچھے چل پڑے اور جلد ہی وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

میری بیوی نے ٹارچ اسی طرف جلائے رکھی کہ شیرنی پلٹ نہ آئے۔ اچانک ہمیں دوسری طرف سے ہلکی سی غراہٹ سنائی دی۔ ہم لرز گئے۔ ہمارے سامنے اب ایک بڑا نر شیر موجود تھا۔ شاید یہ پورا خاندان پیاس بجھانے ندی پر آیا ہوا تھا۔ اتنے چھوٹے بچوں کے ساتھ شیرنی عموماً نر شیر سے الگ ہی رہتی ہے کیونکہ نر عموماً چھوٹے بچوں کو مار دیتا ہے۔

اب صورتحال کافی گھمبیر ہو چکی تھی۔ نر یا مادہ، کسی بھی طرف سے حملے کا امکان بڑھ چکا تھا۔ میری بیوی نے کافی ہمت کا مظاہرہ کیا اور ثابت قدم رہی۔ نر نے ہلکی سی غراہٹ کے ساتھ حرکت کی اور اس طرف چل پڑا جہاں اس کا بقیہ خاندان گیا تھا۔

اس طرح یہ صورتحال، جس کا انجام کافی بھیانک بھی ہو سکتا تھا، بخوبی سنبھل گئی۔ بیچارہ گاڑی بان گاڑی میں اکیلا تھا اور اس نے شیروں کی آوازیں سن لی تھیں۔ پھر شاید اس کے بیلوں نے شیروں کی بو محسوس کر لی یا پھر ان کی غراہٹ سن لی اور گاڑی کے ساتھ ہی سر پٹ دوڑے۔ آگے چل کر راستہ ایک ندی سے گزرتا ہے۔ یہاں آ کر پانی اور کیچڑ میں بیل گاڑی پھنس گئی۔ اب گاڑی بان نے خوف سے چلانا شروع کر دیا اور ساتھ ہی بیل بھی شیروں کی وجہ سے ڈکرانے لگے۔ ہم یہ سمجھے کہ شیروں نے بیل گاڑی پر حملہ کر دیا ہے۔ ہم فوراً اس طرف بھاگے۔ وہاں جا کر ہمیں اندازہ ہوا کہ سب خیریت ہے۔ صرف گاڑی بان حد سے زیادہ خوفزدہ تھا۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ شیروں نے گاڑی بان یا پھر بیلوں سے الجھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

میسور میڈیکل سروس کا میرا ایک دوست ڈاکٹر سٹینلے کو اس کے محکمہ کی طرف سے تگراٹھی بھیجا گیا تھا کہ یہاں ملیریا اب وبائی صورت اختیار کر چکا تھا۔ اکثر مقامی باشندے اس کی لپیٹ میں تھے۔ یہ ڈاکٹر بہت منچلا تھا اور اسے شیروں کے شکار کا کافی شوق تھا۔ اس نے اس دوران کئی شیر بھی مارے تھے۔ ایک رات اسے ایک زچگی کے لئے بلاوا آیا۔ اسے بیلندور نامی وادی جانا تھا۔ اپنے پیشے سے عشق کرنے والا ڈاکٹر فوراً دواؤں اور اوزاروں والا بیگ، اپنی بندوق، پانچ سیل والی ٹارچ اور پٹیاں وغیرہ لے کر بیل گاڑی میں سوار ہوگیا۔

ابھی وہ راستے میں ہی تھا کہ ایک شیر نے چھلانگ لگا کر سڑک عبور کی اور کنارے ہی بیٹھ کر گاڑی کو گزرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ سٹینلے نے بندوق سے گولی والا کارتوس چلایا۔ گولی کھاتے ہی شیر اچھلا اور دھاڑتا ہوا جنگل میں گم ہو گیا۔

ڈاکٹر نے زیادہ توجہ نہ دی اور آگے بڑھ گیا۔ اس نے زچہ کی مشکل دور کی اور رات زچہ بچہ کے ساتھ گزاری۔ اگلی صبح وہ ایک مقامی چھوٹے سے لڑکے کو ساتھ لے کر پلٹا۔ اس نے گاڑی بان کو اس جگہ چلنے کو کہا جہاں اس نے رات کو شیر پر گولی چلائی تھی۔

اس جگہ پہنچ کر اس نے دیکھا کہ وہاں شیر کا خون کافی مقدار میں بکھرا ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے پیچھا کرنے کی ٹھانی۔ گاڑی بان نے عذر کیا کہ بیل اکیلے نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ڈاکٹر لڑکے کے ساتھ ہی اس طرف چل پڑا۔ تھوڑا آگے چل کر انہیں شیر زمین پر پڑا ہوا دکھائی دیا۔ ڈاکٹر سمجھا کہ شیر مر چکا ہے۔ اس نے یقین کرنے کے لئے Lg کا کارتوس شیر کی پچھلی ران پر چلایا۔ کارتوس لگتے ہی شیر اچھلا اور ڈاکٹر پر حملہ کر دیا۔ ڈاکٹر نے فوراً ہی شیر کے منہ میں دوسری نالی سے گولی چلائی۔ اگلے ہی لمحے شیر ڈاکٹر پر تھا اور اس نے ڈاکٹر کی کھوپڑی پر سے کافی ساری کھال نوچ لی تھی۔ اب لڑکا بیچارہ چیختا ہوا بھاگا۔ اب شیر نے ڈاکٹر کو چھوڑا اور لڑکے پر حملہ کر دیا۔ اس نے لڑکے کو پہلو سے جا پکڑا۔ ڈاکٹر نے اپنے زخم کی پروا کئے بغیر بندوق کو دوبارہ بھرا ہی تھا کہ شیر لڑکے کو چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

لڑکا بیچارہ بری طرح زخمی تھا۔ اس کے پہلو، کمر اور سینے پر زخم تھے۔ تین پسلیاں بھی ٹوٹ چکی تھیں۔ ڈاکٹر نے اپنی پھٹی ہوئی قمیض سے لڑکے کے لئے پٹیاں بنا کر اس کے زخم باندھے اور پھر اسے کمر پر لاد کر بیل گاڑی تک پہنچا۔ وہاں سے وہ سترہ میل دور ساگر کی طرف چلے۔ ساگر سے انہوں نے شموگا کا رخ کیا جو پینتیس میل مزید دور تھا۔ شموگا میں ضلعی بڑا ہسپتال تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ لڑکا اور ڈاکٹر، دونوں بچ گئے۔ ڈاکٹر کو اس کے افسران بالا سے اچھی طرح ڈانٹ پھٹکار پڑی کہ وہ بطور ڈاکٹر ہی اپنا کام جاری رکھے اور شیروں کا شکاری بننے کی کوشش نہ کرے۔

ان دونوں کے بچ جانے کی وجہ دراصل شیر کا شدید زخمی ہونا تھا۔ ڈاکٹر کے دوسرے فائر سے شیر کا نچلا جبڑہ بیکار ہو گیا تھا۔ لڑکے اور ڈاکٹر، دونوں کے زخموں پر شیر کے صرف اوپر والے دانتوں کے نشانات تھے۔ اگر شیر کا نچلا جبڑا بھی سلامت ہوتا تو دونوں کا زندہ بچنا ناممکن ہو جاتا۔

اس دن کے بعد گاؤں کے لوگوں نے ہفتے بھر تک جنگل سے شیر کے بار بار دھاڑنے کی آوازیں سنیں۔ ایک دن اچانک خاموشی چھا گئی۔ لوگ سمجھے کہ شیر جنگل میں کہیں دور جا کر مر گیا ہوگا۔ اس کی لاش کسی کو نہ مل سکی۔

سٹینلے نے مجھے دو مزید واقعات سنائے۔ پہلے میں جب وہ شیر کے انتظار میں مچان پر بیٹھا تھا کہ ایک کنگ کوبرا نے اس درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ ڈاکٹر نے اسے اس وقت تو بھگا دیا لیکن اندھیرا چھاتے ہی اسے سانپ کی واپسی کا وہم ستانے لگا۔ یہ وہم اتنا بڑھا کہ اسے اندھیرے میں ہی گاؤں پلٹنا پڑا۔

دوسری بار جب وہ مچان پر بالکل ہی سامنے بیٹھا تھا کہ اسے شیر نے دیکھ لیا۔ ساری رات شیر اس درخت کے آس پاس چکر لگاتا رہا اور دھاڑتا بھی رہا۔ اس دوران بوندا باندی بھی شروع ہو گئی۔ شیر کے جانے کے بعد بھی ڈاکٹر کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ نیچے اترتا کیونکہ کافی اندھیرا باقی تھا۔

تگراٹھی کے قابل رسائی حصوں میں گھومتے ہوئے ایک بار میں نے ایک نوعمر شیرنی کی لاش دیکھی۔ اس کے منہ اور سینے میں سیہہ کے کل تئیس کانٹے پیوست تھے۔ ایک کانٹے نے تو اس کی دائیں آنکھ ہی نکال دی تھی۔ اس سے کچھ دور ایک تیندوے کی ادھ کھائی لاش بھی موجود تھی۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ شیرنی نے سیہہ کو مارنا چاہا تھا کہ اس نے اتنے سارے کانٹے کھائے۔ آنکھ بھی گنوائی۔ بھوک سے شاید نڈھال ہو کر خوراک کی تلاش میں اس کی مڈبھیڑ تیندوے سے ہوئی۔ دونوں کی لڑائی ہوئی اور آخر کار شیرنی نے تیندوے کو مار ڈالا۔ وہ اسے کھا ہی ہی تھی کہ موت نے اسے بھی آ لیا۔ شاید سیہہ والے زخم اور تیندوے سے لگنے والے زخموں نے کچھ دیر بعد اثر دکھایا ہوگا۔ لاشیں ادھ سڑی ہوئی تھیں اور یقین سے کچھ کہنا مشکل ہی تھا۔

بیلندور کی وادی میں ایک عجیب اور پراسرار شخصیت “بدھیا” بھی تھی۔ مقامی لوگ اسے کالے جادوگر کے طور پر جانتے تھے۔ اس کے بارے مشہور تھا کہ وہ جادو ٹونے سے کئی افراد کو مار بھی چکا ہے۔ یہ شخص میرا اچھا دوست تھا۔ اس بار رات گئے باتوں کے دوران اس نے مجھے ایک لکڑی سے بنا ہوا گول سا تختہ دیا۔ یہ تختہ نما چیز کوئی چھ انچ قطر کی ہوگی۔ بقول اس کے، یہ تختہ بہت ہی دور دراز کے جنگلوں کی لکڑی سے بنایا گیا تھا۔ اس نے درخواست کی کہ میں اس تختے کو شکار کی مہمات کے دوران اپنے پاس رکھوں۔ اگر کبھی کوئی جانور نہ مل رہا ہو تو سورج کے غروب ہونے کے بعد میں اس تختے کو اپنی رائفل یا بندوق کی نالی سے تین بار اوپر سے نیچے مس کروں۔ اس نے یقین دلایا کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں وہ جانور اسی رائفل یا بندوق سے مارا جائے گا۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے شرمندگی ہو رہی ہے کہ میں نے اس ٹونے کو ایک بار نہیں، کئی بار آزمایا اور ہر بار یہ کامیاب ہوا ہے۔ آپ اسے قسمت کہیں یا اتفاق، یہ آپ کی مرضی۔

آہ، ایک دن میرا یہ دوست “بدھیا” ملیریا کی لپیٹ میں آ کر مر گیا۔ اس کا کالا جادو بھی اس کو ملیریا سے نہ بچا سکا۔

اب کچھ ذکر گوجا کے آدم خور کا بھی ہو جائے۔ گوجا تگراٹھی سے چھ میل دور ایک اور وادی ہے۔ تگراٹھی سے املی گولا کی فارسٹ چوکی کے درمیان ہی گوجا واقع ہے۔ یہ چوکی کراڈی پٹہ کے گیم ریزرو کی سرحد پر ہے جسے ہز ہائی نس مہاراجہ میسور نے اپنے ذاتی شکار کے لئے مختص کیا ہوا ہے۔ چونکہ اس جنگل میں مویشی لے جانے کی ممانعت ہے، شیروں کو مویشی کھانے کو نہیں ملتے۔ اس جنگل کے فوراً ساتھ ہی مویشیوں کی موجودگی شیروں کے لئے کافی کشش کا باعث ہے۔ دوسرا شیر اتنے عقلمند بھی نہیں ہوتے کہ وہ کسی فرضی سرحد سے باہر نہ نکلیں۔ اس لئے شیروں کو جنگل میں رہنے سے زیادہ جنگل سے باہر نکلنے میں دلچسپی رہتی ہے۔

1938 میں ایک شیر نے عجیب نیا کام شروع کیا۔ وہ ریزرو جنگل سے نکلتا، مویشی مارتا، اسے کھاتا اور پھر فوراً ہی ریزور جنگل میں چلا جاتا۔ اس جنگل میں کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ شیر جلد ہی بہت موٹا ہو گیا۔ مقامی لوگ اسے مویشی چور کے نام سے جاننے لگے۔

جیسے انسان وقت کے ساتھ ساتھ بہادر ہوتا جاتا ہے، اسی طرح یہ شیر بھی نڈر اور چالاک ہوتا چلا گیا۔

یہ شیر ابھی اتنا بھی چالاک اور نڈر نہ ہوا تھا کہ انسانوں پر ہی ہاتھ صاف کرنے لگ جاتا لیکن روز بروز اس کی گشت طویل سے طویل تر ہوتی گئی۔ اس طرح وہ ایک دن گواجا میں آن پہنچا۔ یہاں اس نے بستی سے ڈیڑھ میل دور ایک نالے میں رہائش رکھی۔ یہاں سے وہ مویشیوں کے ریوڑوں پر حملہ کرتا۔ ہر ہفتے دو سے تین خوب فربہ اور بہترین نسل کے جانور اس کا شکار بنتے۔

مجھے اس شیر کے لاگو یعنی مویشی خور ہونے کے بارے کئی خطوط ملے۔ میں نے اس لئے توجہ نہ دی کہ یہ ایک عام سی بات تھی۔ دوسرا اتنے ڈھیروں مویشیوں میں سے اگر چند ایک شیر کا نوالہ بن بھی جائیں تو کسی کو کیا نقصان پہنچتا۔ کم از کم انسان تو اس کی دست برد سے بچے ہوئے تھے۔

اس شیر کی ہمت اتنی بڑھ گئی کہ دو مواقع پر جب چرواہوں نے اسے بھگانے کے لئے شور مچایا تو یہ الٹا ان کی طرف غراتا ہوا لپکا۔ اگرچہ اس نے ابھی تک کسی انسان پر حملہ نہیں کیا تھا لیکن مجھے اندازہ ہو چلا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب وہ انسانوں پر حملہ کرنا شروع کر دے گا۔

ایک صبح ساڑھے نو بجے میں بنگلور سے اڈیری کی جانب میل ٹرین پر سوار ہو کر جا رہا تھا۔ وہاں سے ساڑھے تین میل کے پیدل سفر کے بعد میں تگراٹھی پہنچا۔ مجھے پرانے دوستوں نے بہت گرم جوشی سے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ میری تواضع کافی سے کئی گئی کیونکہ کھانا تیار ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔ میں نے کھانے کی تیاری کے وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیر کے بارے معلومات لینا شروع کر دیں۔ مجھے علم ہوا کہ یہ شیر عام شیروں کی طرح ہے اور اب تک اپنی مویشی خوری کی عادت کے باعث کافی بدنام ہو چکا ہے۔ کھانے کے بعد بیل گاڑی میں سوار کر میں گواجا کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ کافی خستہ تھا اس لئے ہم شام چھ بجے پہنچے۔ میں نے جتنی دیر وہاں کے باشندوں سے باتیں کیں، میرے بندوں نے میرا خیمہ وہاں سے تین فرلانگ دور ایک نالے کے کنارے لگا دیا۔ یہاں سے شیر کوئی میل بھر دور کہیں رہتا تھا۔

مجھے لوگوں نے بتایا کہ شیر نے پچھلا شکار کوئی دو دن قبل کیا تھا۔ اب اس کا اگلا شکار ایک دو دن میں متوقع تھا۔

اگلے دن ایک بجے اطلاع آئی کہ شیر نے ایک اور پالتو جانور مار ڈالا ہے۔ فوراً ہی میں جائے حادثہ پر پہنچا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ شیر نے کھلے میدان میں گائے کو مارا ہے۔ چاروں طرف کم از کم تین سو گز تک کوئی بھی چھپنے کی جگہ نہ تھی۔ شیر گائے کو ہلاک کر کے نالے میں لے گیا۔ یہ وہی نالہ تھا جس کے کنارے میرا خیمہ نصب تھا۔ نالے کے کنارے نرم مٹی پر شیر کے گھات لگانے اور پھر گائے پر حملہ آور ہونے کے نشانات واضح تھے۔ یہاں اس نے جب حملہ کیا تو گائے نے کچھ دوڑنے کی کوشش تو کی لیکن شیر نے اسے فوراً ہی جا لیا اور مار ڈالا۔ اس کے بعد شیر نے گائے کو اٹھایا اور نالے میں لے گیا۔ یہاں کسی قسم کے گھسیٹنے کے نشانات نہ تھے۔ شیر کے پنجوں کے نشانات کافی گہرے ثبت تھے کیونکہ شیر کا اپنا وزن اور پھر گائے کا اضافی وزن اس نرم مٹی پر کافی گہرے نشانات چھوڑ گیا۔

میں نے ان نشانات کا کافی احتیاط سے جائزہ لیا اور پھر شیر کا پیچھا شروع کر دیا۔ امید تھی کہ میں جلد ہی شیر یا اس کے شکار تک پہنچ جاؤں گا۔ مجھے اندازہ تھا کہ میری آمد کو محسوس کر کے شیر سامنے ضرور آئے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ میرا خیال ہے کہ شیر کی چھٹی حس نے اسے خبردار کر دیا تھا کہ اسے میرے سامنے ہرگز نہ آنا چاہیئے۔ شیر مجھ سے کچھ ہی دور گھاس میں چھپا غراتا رہا۔ بالآخر اس نے غراہٹ کے ساتھ فرار اختیار کی۔

یہاں ایک نہایت ہی مناسب درخت موجود تھا۔ میں نے اس پر اپنی چارپائی والی مچان بندھوائی اور شام چار بجتے بجتے اس پر بیٹھ گیا۔ شیر رات کو آٹھ بجے آیا اور سیدھا آ کر درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ مجھے اس کی آمد کا اندازہ اس کی سانس لینے کی آواز سے ہوا۔ اس نے اتنی احتیاط سے قدم رکھے کہ ایک بھی سوکھا پتہ نہ چرمرایا۔ اس نے پھر خود کو چاٹنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے درخت کی چھال پر اپنے پنجے تیز کرنا شروع کر دیئے۔ اس وقت وہ پچھلے پنجوں پر کھڑا تھا۔ اس کی نظر مچان پر پڑ گئی اور ہلکی سی آواز کے ساتھ اس نے چھلانگ لگائی اور گم ہو گیا۔ بقیہ رات وہ نہ پلٹا۔

اگلے دن میں نے نالے کے کنارے ایک بچھڑا بندھوا دیا جہاں شیر کی رہائش کافی نزدیک تھی۔ میں نے خود ایک نزدیکی درخت پر مچان باندھی اور اس پر بیٹھ گیا۔ یہ درخت نالے پر کوئی 60 ڈگری پر جھکا ہوا تھا۔

3 بجے میں بیٹھا۔ ساڑھے پانچ بجے مجھے شیر کے ہانپنے کی آواز آئی۔ وہ نالے کے دوسرے کنارے سے ایک مردہ گائے کو گھسیٹ کر لا رہا تھا۔ وہ کوئی 80 گز دور ہوگا کہ میں نے اس کی گردن کا نشانہ لیتے ہوئے فائر کیا۔ فائر کرتے ہی شیر اچانک اپنی جگہ سے آگے بڑھا۔ اس طرح گولی اسے گردن کی بجائے کچھ پیچھے جا کر لگی جو مہلک نہ ثابت ہوئی۔ اس نے غراہٹ کے ساتھ چھلانگ لگائی اور نالے سے ہوتا ہوا غائب ہو گیا۔ میں درخت سے نیچے اترا اور بچھڑے کو لے کر گواجا واپس آیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ اگلی صبح آرام سے خون کے نشانات کی مدد سے شیر کو تلاش کر کے ہلاک کر دوں گا۔ تاہم میرا یہ اندازہ غلط نکلا۔

اگلی صبح میں نے خون کے نشانات کا پیچھا شروع کیا۔ میرے ساتھ ہر طرح سے قابل اعتبار دو مقامی افراد بھی تھے۔ یہ نشانات نالے سے ہوتے ہوئے کافی دور جا کر باہر نکلے۔ ہم نے بہت دور تک پیچھا جاری رکھا لیکن شیر کہیں بھی نہیں رکا تھا۔ دو میل دور جا کر شیر نے ایک جگہ تھوڑا سا دم لیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ یہاں سے املی گولا اور پھر اس کے بعد موجود گیم ریزرو کی طرف جا رہا ہے۔ اگر وہ ایک بار ادھر پہنچ جاتا تو وہ ہماری پہنچ سے باہر ہو جاتا۔ گیم ریزرو میں آتشیں اسلحہ حتیٰ کہ زخمی شیر کا تعاقب کرتے ہوئے بھی لے جانا ممنوع تھا۔

آگے بڑھتے ہوئے شیر مزید دو جگہوں پر رکا تھا۔ پہلی جگہ خون کافی مقدار میں بکھرا ہوا تھا۔ دوسری جگہ خون کی مقدار کافی کم تھی۔ اس کے بعد سے خون کے نشانات کم سے کم تر ہوتے چلے گئے۔ شاید اس کی کھال کے نیچے موجود چربی کی موٹی تہہ نے زخم کو ڈھانپ لیا تھا۔

ہم جلد ہی املی گولا کے نزدیک پہنچ گئے۔ یہاں سے گیم ریزرو کوئی میل بھر ہی دور تھا۔ یہاں ہماری قسمت نے ہمارا ساتھ دیا۔ یہاں ایک ندی راستے میں پڑتی تھی جو کہ اس وقت لبالب بھری ہوئی تھی۔ یہاں سے شیر کے نشانات اوپر کی طرف مڑ گئے۔ شاید اس نے اپنا ارادہ بدل دیا تھا۔ شاید وہ پینے کے پانی کی تلاش میں تھا۔ یہاں ہم پہلے تالاب تک پہنچے۔ یہاں شیر نے پانی پیا تھا اور نشانات سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس نے کچھ دیر آرام بھی کیا تھا۔ یہ نشانات کم از کم گھنٹہ بھر قبل کے ہوں گے۔ اس سے ہمیں مہمیز ملی۔ یہاں سے فرلانگ بھر دور ایک اور تالاب تھا۔ یہاں بھی شیر رکا تھا۔ یہاں شیر کے قدموں کے نشانات سے تازہ تازہ پانی ابھر رہا تھا۔ شاید شیر ہماری ہی آہٹوں سے گھبرا کر آگے بڑھ گیا ہوگا۔ یعنی وہ زیادہ دور نہیں تھا۔

یہاں سے میں نے ارادہ بدلا کہ تعاقب کرنے سے بہتر ہے کہ گھات لگائی جائے۔ پیچھے کرنے سے شاید شیر گھبرا کر گیم ریزور کی طرف جانے کا سوچتا جو کہ میل بھر ہی دور تھی۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ وہ درخت پر چڑھ جائیں اور میں خاموشی سے نالے کے کنارے چڑھ کر چل پڑا۔ یہاں سے میں نے نالے کے ساتھ ساتھ متوازی تیزی سے چلنا شروع کیا۔ نصف میل دور جا کر نالا پھر بل کھا کر سامنے آ گیا۔ یہاں میں نیچے اترا اور واپسی کا رخ اختیار کیا تاکہ شیر کو اس کی لاعلمی میں جا لوں۔ بدقسمتی سے شیر نے میری آہٹ سنی یا پھر اس کی چھٹی حس نے خبردار کر دیا اور وہ واپس مڑا اور گیم ریزرو کی طرف چل پڑا۔

یہاں سے میں نے خون کے اکا دکا نشانات کا پیچھا کیا جہاں وہ جھاڑی میں گھسا تھا۔ میں نے ایک سرے پر رک کر درخت کی اوٹ سے جھانکا تو شیر نہ دکھائی دیا۔ اگر میں اپنے ساتھیوں کو بلانے کی کوشش کرتا تو شیر خبردار ہو کر نکل جاتا۔ اتفاقاً میری نظر ہلتی ہوئی گھاس پر پڑی جو شیر کی حرکت کی چغلی کھا رہی تھی۔ میں نے اپنی جگہ سے حرکت کی اور گھاس میں چل پڑا۔ آگے چل کر گھاس کافی چھدری ہو گئی تھی۔ اچانک ہی میری اس پر پڑی اور اسی لمحے شیر نے مجھے دیکھا۔ میں نے اس کے دائیں پہلو پر فائر کیا۔ گولی کھاتے ہی اس نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ مگر پانچ ہی قدم چل کر اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ نیچے گرا۔ میں نے اس پر دوسری گولی چلائی۔ دوسری گولی کھاتے ہی وہ اچھلا اور جھاڑیوں میں گھس گیا۔

میں نے سیٹی بجا کر ساتھیوں کو بلایا جو فائروں کی آواز سن کر پہلے ہی میری طرف روانہ ہو چکے تھے۔ جب وہ پہنچے تو میں نے انہیں تفصیل بتائی اور انہیں درخت پر چڑھ جانے کی ہدایت کی کہ وہ شیر کی موجودگی سے مجھے آگاہ کرتے رہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے پچاس پچاس گز دور تھے۔ ہدایت یہ تھی کہ شیر کو دیکھتے ہی سیٹی بجا کر آگاہ کریں۔ میں خود نالے کی طرف چل پڑا کہ اگر شیر واپس پلٹے تو میں ادھر اسے روک سکوں۔

نالے میں چلنا انتہائی دشوار تھا۔ ہر لحظہ یہ خطرہ تھا کہ شیر کنارے سے، دائیں یا بائیں یا پھر عقب سے حملہ نہ کر دے۔ آدم خور شیر کے شکار میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کبھی بھی زخمی شیر کا پیچھا کرتے ہوئے نالے میں نہ اترا جائے۔ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ شیر نالے کے کنارے سے جست لگا کر شکاری کو بے خبری کے عالم میں دبوچ سکتا ہے۔ میں کافی نا امید ہو چلا تھا کیونکہ اب اس بات کا قوی امکان تھا کہ شیر کہیں کاواڈی بنڈا نہ جا کر مرے۔

پھولی ہوئی سانسوں اور بھری رائفل کے ساتھ اور ٹریگر پر انگلی رکھے میں نالے میں اترا تھا کہ شیر اگر جھاڑی میں چھپا ہوا ہو تو اسے ہلاک کر سکوں۔ اب اسے جھاڑی سے کیسا نکالا جاتا، یہ ایک الگ مسئلہ تھا۔

واپس لوٹ کر میں نے دونوں ساتھیوں کو بلایا اور مشورہ کیا۔ شیر کی اندازاً کسی خاص جگہ موجودگی کو جانے بغیر اس جھاڑیوں بھرے قطعے میں گھسنا خودکشی ہوتا۔ اچانک ایک خیال کوندے کی طرح لپکا۔ میں نے نالے میں اتر کر اپنی قمیض اتاری۔ اس کے بازو اور گلے کو بند کر کے اس میں زیادہ سے زیادہ پتھر باندھ لئے۔ ایک ساتھی اس بیگ نما قمیض کو لے کر اوپر آیا اور ہم نے جھاڑیوں میں سنگ باری شروع کر دی۔ بالآخر شیر نے ہم سے 30 گز دور، دائیں جانب سے غراہٹ کی آواز نکالی۔

شیر یقیناً کافی زخمی تھا اور حرکت سے معذور بھی۔ اس کے باوجود ہر اس پتھر پر غراتا جو اس کے نزدیک گرتا۔

اپنے ساتھیوں کو سنگ باری جاری رکھنے کا کہہ کر میں چکر کاٹ کر اس خطے کے عقبی طرف سے آنے کی کوشش کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد پیچھے پہنچا تو شیر کے غرانے کی آواز میرے سامنے سے آ رہی تھی۔ پتھر گرنے کی آواز بھی آ رہی تھی۔ جب تک مجھے شیر کی آواز سنائی دیتی رہی، میں آگے بڑھتا رہا۔ جونہی میں قریب پہنچا تو شیر نے شاید میری آمد کی آہٹ سنی اور خاموش ہو گیا۔ میرے ساتھیوں کو بھی اندازہ ہو گیا کہ شیر میری عقب سے آمد کو بھانپ چکا ہے۔ انہوں نے شیر کی توجہ ہٹانے کے لئے چند اور پتھر مزید تیزی اور دور پھینکے۔ شیر خاموش رہا۔

مجھے اندازہ تھا کہ اب میں بے حد محتاط ہو جاؤں۔ شیر کسی بھی لمحے حملہ کر سکتا ہے۔ میں رک گیا اور اپنے حواس مجتمع کئے۔ میں ہر ممکن آہٹ سننے کے لئے تیار تھا۔ وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔ پتھر گرنے کی آواز آتی رہی۔ میرے اندر بڑھتے ہوئے خطرے کا احساس بڑھتا رہا۔ ہر وقت یہی محسوس ہو رہا تھا کہ شیر میرے نزدیک سے نزدیک تر ہو رہا ہے۔ اس خاموشی کو توڑنے کے لئے یا تو میں خود چیختا یا پھر ہٹ جاتا۔ ورنہ یہ خاموشی میرے اعصاب کو جکڑ رہی تھی۔

اچانک ہی میں پیچھے مڑا۔ اسی وقت دو جھاڑیوں کے درمیان شیر میرے عقب میں مجھ پر چھلانگ لگانے کے لئے بالکل تیار حالت میں تھا۔ ہماری آنکھیں ملتے ہی اس نے دھاڑ لگا کر حملہ کر دیا۔ اس دوران میری ونچسٹر رائفل دو بار بولی۔ دونوں گولیاں شیر کے منہ پر لگیں۔ میں ذرا سا ہٹا اور شیر میرے سامنے آ کر گرا۔ اس نے آخری بار ٹانگیں چلائیں اور چند ہی فٹ کے فاصلے سے میں نے ایک اور گولی اس کے دل میں اتار دی۔

گواجا کے اس بوڑھے شیر کی گیم ریزرو واپس جانے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں۔

پانا پتی کا پاگل ہاتھی
یہ ہاتھی، جس کے بارے میں یہ داستان لکھ رہا ہوں، دیگر ہاتھیوں کی مانند ایک چھوٹی جسامت کا نر ہاتھی تھا۔ اس کی کل اونچائی ساڑھے سات فٹ تھی۔ عموماً ہندوستانی ہاتھی کے اگلے پیر کے نشان کی گولائی کا مربع اس کی اونچائی کے برابر ہوتا ہے۔ اتنی سی جسامت کے برعکس اس میں مکاری، کینہ پروری اور انسانوں سے دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

اس کا بیرونی صرف ایک دانت تھا۔ یہ کوئی ڈیڑھ فٹ لمبا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا دوسرا دانت دریائے کاویری کے کنارے ایک لڑائی میں ٹوٹا تھا۔ یہ لڑائی غول کے بڑے نر سے ہوئی تھی۔ جب اس نوجوان نے غول کی ماداؤں پر بری نظر ڈالی تو غول کے بڑے نر اور سردار نے اسے غول سے نکال باہر کیا۔ اس نوجوان ہاتھی نے بدلے میں لڑائی کی ٹھانی۔

یہ اپنی نوعیت کی ایک عجیب لڑائی تھی۔ تجربہ، عمر اور طاقت میں اس سے کہیں بڑے ہاتھی نے اسے بری طرح مارا۔ اسے بہت بری طرح اور نہایت بے دردی سے کچلا اور نوچا گیا تھا۔ اس کے پہلو پر سردار کے دانتوں کے نشانات تھے۔ اس لڑائی کے باعث اسے غول چھوڑنا پڑا۔ چھوٹے موٹے زخموں کے علاوہ اسے دانت بھی گنوانا پڑا جو ظاہر ہے کہ بہت دن تک درد کی اذیت بھی جھیلنی پڑی ہوگی۔

اس حالت میں بھی وہ غول سے کچھ ہی فاصلے پر ان کے ساتھ ساتھ حرکت میں رہا۔ لیکن اسے گروہ میں شامل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ اس طرح آوارہ گردی کے دوران میں اسے ایک دن پگڈنڈی پر ایک بیل گاڑی آتی دکھائی دی جس پر کٹے ہوئے بانس لدے ہوئے تھے۔ اس ہاتھی پر اچانک ہی دورہ پڑا اور اس نے اپنی لڑائی کا غصہ بیل گاڑی پر نکالنے کی ٹھانی۔ اس نے فوراً ہی ہلہ بول دیا۔ گاڑی بان نے ہاتھی کو دیکھتے ہی چھلانگ لگا کر دوڑ لگائی اور اس طرح بچ گیا۔ بیچارے بیل گاڑی میں جتے ہوئے تھے اور ان پر کافی وزنی لکڑی لدی ہوئی تھی۔ بیچارے اپنی موت کو سامنے دیکھ کر وہ بھاگ بھی نہ سکے۔ یہ ہاتھی جو اب انتقام کی آگ میں پاگل اور اندھا ہو رہا تھا، نے گاڑی کو ماچس کی تیلیوں کی طرح توڑ موڑ کر رکھ دیا۔ پھر وہ بیلوں کی طرف مڑا۔ ایک بیل کو اس نے سینگ سے سونڈ میں پکڑ کر ہوا میں اچھالا۔ اگلے دن جب بیل کی لاش ملی تو اس کا سینگ جڑ سے غائب تھا اور ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ کر اور کھال کو پھاڑتی ہوئی زمین میں گھسی ہوئی تھی۔ اب ہاتھی نے دوسرے بیل کا رخ کیا۔ خوش قسمتی سے دوسرا بیل گاڑی کے ٹوٹنے اور دوسرے بیل کے مارے جانے پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

اس دن سے اس ہاتھی کی ہوا بگڑتی چلی گئی۔ دور دراز کے کئی مسافر اس کے پیروں تلے کچل کر، دانت کی زد میں آ کر، سونڈ میں جکڑ کر زمین پر پٹخے جانے یا پھر درخت سے ٹکرائے جانے سے ہلاک ہوئے۔

اس ہاتھی سے میری پہلی مڈبھیڑ اتفاقاً ہوئی تھی۔ میں “ہگینی کال” نامی جگہ گیا ہوا تھا۔ یہ پانی پتی سے 4 میل دور اور دریائے کاویری کے کنارے واقع ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ اختتام ہفتہ پر مہاشیر مچھلی کا شکار کھیلوں گا۔ اگر قسمت نے یاوری کی تو ایک آدھ مگرمچھ بھی ہاتھ لگ جائے گا۔ ان دنوں یہ مشہور ہو چلا تھا کہ یہ ہاتھی دریا عبور کر کے کسی دوسرے غول میں شامل ہو کر ادھر سے چلا گیا ہے۔

قیام کے دوسرے دن میں مچھلی کا شکار کھیل کر بنگلے کی طرف پلٹا۔ مجھے چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ اچانک ساتھ ہی جنگل سے مور کی آواز آئی۔ میں چائے کو بھلا کر رات کے کھانے کے لئے مور کے سہانے خیال میں کھو گیا۔

میں نے دو عدد 1 نمبر کے کارتوس جیب میں ڈالے اور بندوق اٹھا کر اس طرف چل پڑا جہاں سے مور کی آواز سنائی دی تھی۔ یہاں آ کر میں ذرا رکا کہ مور کو تلاش کروں۔ میرا اندازہ تھا کہ مور اس وقت دریائے چنار کے خشک حصے میں ہوگا۔ دریائے چنار آگے چل کر دریائے کاویری سے جا ملتا ہے۔

ندی کی نرم ریت پر میرے ربر سول کے جوتے بالکل آواز پیدا نہ کر رہے تھے۔ یہاں مجھے مور کے پر پھڑپھڑانے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ مور دریا کے دوسرے کنارے پر تھا۔ ابھی میں دریا کا خشک پاٹ عبور کر ہی رہا تھا کہ میں نے ایک فلک شگاف چنگھاڑ سنی۔ مجھ سے محض 50گز دور ہاتھی نمودار ہوا۔ اس کا رخ میری طرف تھا۔

ہاتھی کے دوڑنے کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ ناممکن تھا کہ میں اس سے زیادہ تیز دوڑ پاتا۔ دوسرا ندی کے پاٹ کی ریت اتنی نرم اور بھربھری تھی کہ میں بھاگ بھی نہ سکتا۔ میں نے فوراً ہی ٹوٹے ہوئے ایک درخت کے تنے کی اوٹ لی اور باری باری بندوق کی دونوں نالیاں چلا دیں۔ اس وقت ہاتھی مجھ سے کوئی 30 گز دور ہوگا۔

کارتوسوں کے چلنے کا دھماکہ، بارود کا دھواں اور ننھے منے چھروں کی بوچھاڑ کا اتنا اثر ہوا کہ ہاتھی ذرا بھر رکا۔ میرے لئے اتنی مہلت کافی تھی۔ میں سر پر پیر رکھ کر دوڑا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میں اتنا تیز کیسے دوڑا۔ خالی بندوق میرے ہاتھ میں تھی۔ بنگلے پر پہنچ کر میں نے رائفل اٹھائی اور واپس اسی طرف دوڑ پڑا۔ اب دریائے چنار کے دونوں کنارے خالی پڑے تھے۔ ہاتھی دریا کی دوسری طرف جا کر جنگل میں گم ہو گیا تھا۔ اب چونکہ اندھیرا چھانے والا تھا تو میں نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی۔

اگلے دن مجھے واپس بنگلور لوٹنا تھا جس کی وجہ سے میں یہاں مزید قیام نہیں کر سکتا تھا۔ اس طرح اس ہاتھی پر پہلی گولی چلانے کا سنہری موقع میں نے گنوا دیا۔

اس ہاتھی کو سرکاری طور پر پاگل قرار دے کر عام اعلان کرا دیا گیا تھا کہ اس ہاتھی کو مارنے پر 500 روپے یعنی 34 پاؤنڈ کا انعام دیا جائے گا۔ یہ اعلان بذریعہ ڈھنڈورچی اور بذریعہ اشتہار، ہر طرح سے کیا گیا تھا۔

اس علاقے کے ایک مشہور مقامی بندے نے اس ہاتھی کو مارنے اور انعام پانے کی ٹھانی۔ اس کی المناک کہانی کچھ یوں رہی۔

اعشاریہ 500 بور کی دو نالی ایکسپریس رائفل اس کے پاس تھی جو کالے بارود سے چلتی تھی۔ یہ رائفل اس کے اچھے دنوں کی یادگار تھی۔ وہ رائفل کے ہمراہ پانا پتی پہنچا۔ یہاں اسے معلوم ہوا کہ ہاتھی ساتھ والے جنگل میں موجود ہے۔ دریائے چنار کے کنارے جہاں میں کچھ ہی دن قبل ہاتھی کا شکار ہوتے ہوتے بچا، یہاں سے نزدیک ہی تھا۔ اس دریا کے ایک کنارے پر “ووڈا پٹی” کا گیم ریزرو اور دوسرے پر پناگرام بلاک ہے۔

یہ آدمی بیچارہ دو دن تک ہاتھی کی تلاش میں سرگرداں مارا مارا پھرتا رہا۔ تیسری رات اس نے اپنا خیمہ دریا سے دو میل اندر جنگل میں لگایا تاکہ رات بسر کی جا سکے۔ ہاتھی کے متعلق اس کا اور اس کے ہمراہیوں کا اندازہ تھا کہ وہ دریا کی دوسری طرف ہے۔ پھر بھی انہوں نے احتیاطاً خیموں کے گرد آگ جلا لی۔ اس نے اپنے ہمراہیوں کو ہدایت کی کہ وہ ڈھیر ساری لکڑیاں اکٹھی کر لیں تاکہ رات بھر آگ جلتی رہے۔

اس وقت جنگل بالکل پر سکون تھا۔ باری باری تمام افراد نیند اور تھکن سے بے حال ہو کر سوتے چلے گئے۔

علی الصبح ہاتھی اتفاقاً ادھر سے گذرا۔ اس وقت تک آگ دھیمی پڑ چکی تھی۔ جا بجا انگارے ہی دہک رہے تھے۔ عموماً ہاتھی اور دیگر جانور آگ کے نزدیک نہیں جاتے۔ شاید اس ہاتھی نے جب خیمے دیکھے تو اس پر وحشت غالب آ گئی۔ اس نے وہ جگہ تلاش کی جہاں آگ اور انگارے بالکل نہ تھے۔ ایک طویل چنگھاڑ کے ساتھ وہ ایک خیمے پر ٹوٹ پڑا۔

دوسرے خیمے کے افراد کی آنکھ چنگھاڑ سن کر کھل گئی اور وہ لوگ بھاگ نکلے۔ دوسرے خیمے کے مالک کو جاگنے یا اپنی رائفل استعمال کرنے کا موقع تک نہ ملا۔ ہاتھی نے اس خیمے کو اکھاڑ کر اس پر اپنی سونڈ پھیرنی شروع کر دی۔ جونہی سونڈ سے بیچارہ شکاری مس ہوا، ہاتھی نے اسے پکڑ کر سر سے اونچا اٹھایا اور پھر زمین پر پٹخ دیا اور اس پر اپنا پیر رکھ کر اسے کچل دیا۔ چند منٹ بعد شکاری کی جگہ خون اور قیمے کی ٹکیا سی پڑی تھی۔ ہاتھی ایک بار پھر جنگل میں گھس کر غائب ہو گیا۔

اس واقعے کے بعد حکومت نے اس ہاتھی کے مارنے پر انعام دگنا کر کے 1000 روپے کر دیا۔ اس انعام سے مجھے بھی لالچ ہوا کہ میں اس ہاتھی کو شکار کروں۔

پانا پتی پہنچ کر میں نے اس حالیہ حادثے کے مقام کا معائنہ کیا۔ مجھے اس ہاتھی کی درندگی پر حیرت ہوئی کہ وہ کیسے آگ کے دائرے میں گھسا ہوگا۔ وہ جگہ بالکل پاس ہی تھی جہاں ہاتھی نے شکاری کو ہلاک کیا تھا۔ اس وقت تک بیچارے شکاری کی باقیات تک کو کوے ہڑپ کر گئے تھے۔

پانا پتی لوٹ کر میں نے اپنی مدد کے لئے ایک مقامی چرواہے کو تیار کیا۔ یہ چرواہا جنگل سے بخوبی واقف اور اچھا کھوجی تھا۔ یہاں پر جگہ جگہ ہاتھی کے پیروں کے نشانات تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ تازہ نشانات کیسے تلاش کریں جس کا پیچھا کیا جا سکے۔ یہ کام بظاہر ناممکن سا لگتا تھا کیونکہ ہاتھی اب دریا کے دوسرے کنارے جنگل میں یا پھر اس طرف کی پہاڑیوں کی طرف نکل گیا ہوگا جو بمشکل 4 میل دور تھیں۔

“وڈا پٹی” والا کنارا دو میل چوڑی پھولدار گھاس سے ڈھکا ہوا تھا۔ یہ گھاس تقریباً دس فٹ بلند تھی اور نہایت خوبصورت پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ یہ پھول صبح سویرے گرنے والی شبنم سے چمک رہے تھے۔ یہ گھاس اتنی گھنی تھی کہ یہاں گز بھر دور کی چیز بھی نہ دکھائی دیتی۔ ہاتھی کے گزرنے کے نشانات موجود تھے اور ہاتھی کے بوجھ تلے کچلے جانے والے پھولوں کے تنے اب آہستہ آہستہ دوبارہ اٹھ رہے تھے۔

اس گھاس کی پٹی کی چوڑائی 100 سے 200 گز تک تھی۔ یہاں پہاڑیاں بالکل متصل تھیں۔ ان میں گھسنا اور پھولدار گھاس میں گھسنا یکساں خطرناک تھا۔ اس جگہ ہر طرف بانس کے درخت گرے ہوئے تھے جن کے باعث قدم بڑھانا نا ممکن تھا۔

ہم نے اس علاقے میں چار روز تک ہاتھی کی تلاش جاری رکھی۔ ہماری یہ تلاش دریائے کاویری سے لے کر 35 میل دور ایک بند تک جاری رہی۔ ہمیں کہیں بھی ہاتھی کے نشانات نہ ملے۔

پانچویں دن دوپہر کو میں اور میرا ساتھی کھوجی دوبارہ دریائے کاویری کے کنارے تھے۔ اس بار میں نے فیصلہ کیا کہ اس بار ہم دریا سے اوپر کی طرف تلاش کرتے ہیں۔ تین میل کا فاصلہ ہم نے گرے ہوئے درختوں، گھنی گھاس اور پتوں سے بڑی مشکل سے طے کیا۔ یہاں ہمیں ہاتھی کے پیروں کے بالکل تازہ نشانات ملے۔ یہ نشانات آج صبح کے تھے اور ہاتھی دوسرے کنارے سے اس طرف پہنچا تھا۔ یہ نشانات پاگل ہاتھی کے نشانات سے مماثل تھے۔

اب پیچھا کرنا آسان ہو گیا۔ نشانات نہ صرف تازہ اور واضح تھے بلکہ ہاتھی کے گزرنے کے باعث راستہ سا بھی بنا ہوا تھا۔

یہاں ہم لوگ نشانات کا پیچھا کرتے کرتے پہاڑی تک آن پہنچے۔ یہاں ہمیں ہاتھی کی لید کا ڈھیر دکھائی دیا۔ یہ لید تازہ تھی لیکن اس میں حرارت باقی نہیں تھی۔ ہم مزید آگے بڑھے۔ وادی میں پہنچ کر ہم نے لید کا ایک اور ڈھیر دیکھا۔ یہ بھی سرد ہو چکا تھا۔ یعنی ہاتھی اب بھی ہم سے کافی آگے تھا۔

تھوڑا سا آگے چل کر ہم نے دیکھا کہ ہاتھی نے اچانک اپنا رخ بدلا ہے اور وہ اب دریائے کاویری کی طرف جا رہا ہے۔

ہمیں خطرہ ہوا کہ کہیں ہاتھی دریائے کاویری عبور کر کے ہم سے بچ نکلنے میں کامیاب نہ ہو جائے۔ ہر ممکن تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے آگے ہم نے ایک جگہ ہاتھی کی بالکل تازہ اور گرم لید دیکھی۔ پیشاب ابھی بھی زمین میں پوری طرح جذب نہ ہوا تھا۔ آخر کار ہم ہاتھی کے بہت نزدیک پہنچ گئے تھے۔

اب ہم نے باقاعدہ دوڑ شروع کر دی کہ ہم ہاتھی سے قبل یا پھر اس کے ساتھ ہی دریائے کاویری تک پہنچیں۔ یہاں ٹوٹے ہوئے درختوں کی شاخوں سے پانی رس رہا تھا جو ظاہر کرتا تھا کہ ہاتھی ابھی ابھی یہاں سے گزرا ہے۔

آخر کار ایک ڈھلوان عبور کرتے ہی پانی بہنے کی آواز آئی۔ موڑ مڑتے ہی دریائے کاویری ہمارے سامنے تھا۔ خاموشی اور احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے ہم نرم ریت تک پہنچے۔ یہاں ہمارے اندازے کے برعکس ہاتھی نے دریا عبور کرنے کی بجائے دریا کے ساتھ ساتھ ہی چلتے رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

150 گز مزید دور جا کر ہمیں ایک چھوٹا سا گڑھا دکھائی دیا جس میں پانی جمع تھا اور ہاتھی کے کلیلیں کرنے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔ ہاتھی نہا رہا تھا۔

خوش قسمتی سے ہوا ہاتھی سے ہماری طرف چل رہی تھی۔ ہم احتیاط سے اور جھک کر بڑھے تو ہاتھی دکھائی دیا۔ اس کا منہ دوسری طرف تھا۔

یہاں اس زاویے سے یہ کہنا بالکل نا ممکن تھا کہ یہ ہاتھی وہی پاگل ہاتھی ہی ہے۔ ہم نے انتظار کی ٹھانی کہ کب ہاتھی اپنا رخ بدلتا ہے۔

5 منٹ مزید نہانے کے بعد اچانک ہاتھی اٹھا اور گڑھے سے باہر نکلا۔ اس وقت تک بھی اس کا رخ مخالف سمت تھا اور ہم اس کے دانت نہ دیکھ سکے تھے۔

اب ہم نے بعجلت فیصلہ کرنا تھا کہ کیا کریں۔ اگر ہاتھی ایک بار دریا کے کنارے پہنچ جاتا تو پھر گم ہو جاتا۔ میں اچانک دو بار چٹکی بجائی۔ یہ آواز ہاتھی کے حساس کانوں تک فوراً پہنچی اور وہ رک گیا۔ پھر وہ مڑا۔ یہ وہی پاگل ہاتھی تھا جس کا صرف ایک بیرونی دانت تھا۔ اس کا یہ دانت دائیاں تھا، بائیں جانب والا دانت غائب تھا۔ اس کی سونڈ وحشیانہ انداز میں اٹھی ہوئی تھی۔ اس نے سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ہمیں تلاش کر لیا۔ سونڈ لہراتے ہوئے وہ ہماری جانب بڑھا۔

اسی لمحے میری اعشاریہ 405 بور کی رائفل بول پڑی۔ یہ گولی اس کی سونڈ سے ہوتی ہوئی اس کے حلق سے گذری اور اس کی شہ رگ میں سوراخ کر گئی۔ ہاتھی وہیں رک گیا۔ اس کے حلق سے خون فوارے کی مانند نکل رہا تھا۔ اس نے مڑنے کی کوشش کی۔ اتنے میں میں نے مزید دو گولیاں اس کے ماتھے اور کان کے پیچھے اتار دیں۔ یہ دونوں گولیاں مہلک ثابت ہوئیں اور ہاتھی گر گیا۔

اس کے سارے بدن پر کپکپی طاری تھی اور گڑھے کا پانی سرخ ہو چلا تھا۔ چند منٹ ہی میں اس کی روح نکل گئی۔

گملا پور کا آدم خور تیندوا
عام استوائی جنگلات میں تیندوے کا وجود عام ہے جبکہ شیر صرف ہندوستان کے جنگلات تک محدود ہے۔ شیر کی ہندوستان آمد زیادہ پرانی نہیں۔ تاہم تاریخی اعتبار سے تیندوے اور چیتے کی موجودگی ہندوستان میں بہت پرانی ہے۔

اپنی چھوٹی جسامت، کم طاقت اور انسان سے فطری خوف کے باعث تیندوے کو شیر سے کم تر درجے کا درندہ سمجھا جاتا ہے۔ شیر کے شکاری بھی اکثر انہی وجوہات کی بنا پر تیندوے کا ذکر قدرے حقارت سے کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر تیندوے کو مجبور کیا جائے تو یہ محض کاٹنے، بھنبھوڑنے اور پنجے مارنے تک ہی محدود رہتا ہے۔ جبکہ شیر کے حملے کی داستان سنانے کے لئے چند ہی لوگ زندہ بچے ہیں۔

تاہم یہ عمومی رائے اس وقت تک توجہ کے قابل رہتی ہے جب تیندوا آدم خور نہ ہو۔ آدم خور بننے کے بعد تیندوا ایک بالکل ہی مختلف جانور بن جاتا ہے اگرچہ تیندوے کی آدم خوری اتنی عام بات نہیں ہے۔ آدم خور بننے کے بعد تیندوا ایک ایسی ہلاکت خیز مشین بن جاتا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف نسل انسانی کی تباہی و بربادی رہ جاتا ہے۔ اس کی پھیلائی ہوئی تباہ کاری کسی بھی طرح آدم خور شیر سے کم نہیں ہوتی۔ اپنی چھوٹی جسامت کے باعث یہ شیر سے کہیں چھوٹی جگہ میں چھپ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مکار اور نڈر بھی ہوتا ہے اور اپنی حفاظت کے لئے انتہائی محتاط ہوتا ہے۔ اس کی کھال کا رنگ اسے ماحول میں اتنا چھپا دیتا ہے کہ اسے دیکھنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔

گملا پور کا آدم خور ایک ایسا ہی جانور تھا۔ اس نے کل بیالیس افراد مارے۔ اس کی ذہانت ایک عام انسان کی ذہانت سے بڑھ کر تھی۔ اس کے بارے بہت سی پراسرار کہانیاں مشہور تھیں۔ خیر کچھ بھی ہو، اڑھائی سو مربع میل کے علاقے میں اس کی دہشت طاری تھی۔

اس سارے علاقے کی تمام بستیوں میں سورج غروب ہونے سے قبل ہی دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔ اکثر جگہوں پر تو مزید حفاظت کے خیال سے دروازے کے ساتھ ڈبے، اضافی لکڑیاں وغیرہ بھی لگا دی جاتی تھیں۔ اکثر گھروں میں لیٹرین نہیں ہوتی۔ وہ لوگ گھر کے پاس موجود کوڑے کرکٹ کے انبار کو ہی لیٹرین کا متبادل سمجھ لیتے ہیں۔

جوں جوں انسانی شکار مشکل ہوتا گیا، اس تیندوے کی مکاری اور چالاکی بڑھتی گئی۔ دو مختلف واقعات میں اس نے دیوار توڑ کر اپنے شکار کو اٹھا لیا جن کی چیخیں پورے گاؤں نے سنیں لیکن کسی کی مجال نہ تھی کہ مدد کو آتا۔ ایک بار جب وہ جھونپڑے کی دیوار کو نہ توڑ سکا تو وہ گھاس پھونس سے بنی چھت توڑ کر اندر گھس گیا۔ جب وہ اپنا شکار لے کر واپس چھت سے باہر نہ نکل سکا تو اس نے کمرے میں موجود بقیہ چار افراد کو بھی ہلاک کر دیا اور خود چھت کے سوراخ سے نکل کر فرار ہو گیا۔ یہ افراد میاں بیوی اور دو بچے تھے۔

دن کو ہی دیہاتی لوگ کچھ متحرک ہوتے تھے۔ لیکن دن میں بھی وہ جماعتوں اور مسلح صورت میں گھومتے تھے۔ تاہم ابھی تک تیندوے نے دن کے وقت کوئی بھی واردات نہیں کی تھی۔ صبح منہ اندھیرے اسے کئی مختلف مواقع پر دیکھا گیا تھا۔

اس صورتحال میں میں گملا پور پہنچا۔ مجھے اس تیندوے کے بارے میرے دوست جیپسن نے بتایا تھا جو ضلعی مجسٹریٹ تھا۔ ابتدائی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ دیہاتی تیندوے سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ کچھ بھی نہیں بتائیں گے۔ یہ لوگ قدیم مشرقی توہم پرستی کا شکار تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ تیندوا ایک مجسم شیطان ہے اور وہ اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ اگر وہ اپنے گھروں میں رک کر موت کا انتظار نہیں کر سکتے تو اس کا واحد حل علاقہ چھوڑ دینا ہے۔

جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ ان لوگوں سے مدد کی توقع رکھنا فضول ہے۔ کئی لوگوں نے تو صاف کہہ دیا کہ اگر انہوں نے ایک لفظ بھی بتایا تو یہ شیطان سب سے پہلے انہی کو آن دبوچے گا۔ تاہم یہ افراد سرگوشیوں میں بات کرنے پر آمادہ تھے۔

اس رات میں نے گاؤں کے درمیان میں کرسی ڈالی اور اس پر بیٹھ گیا۔ میرے عقب میں ایک بارہ فٹ بلند مکان تھا۔ احتیاطاً میں نے اس مکان کی چھت اور منڈیر پر کانٹوں اور گوکھروؤں کی ایک موٹی تہہ بچھوا دی تاکہ تیندوا چھت پر سے مجھ پر حملہ نہ کر سکے۔ راتیں تاریک تھیں اور چاند کا کوئی امکان نہ تھا۔ تاہم مجھے یقین تھا کہ ستاروں کی روشنی اتنی تو ضرور ہوتی کہ وہ مجھے تیندوے کی موجودگی سے آگاہ کر دیتی۔

چھ بجے شام سے ہی تمام لوگوں نے گھروں میں گھس کر دروازے بند کر لئے اور میں کرسی پر اکیلا بیٹھا تھا۔ چائے کا تھرماس، کمبل اور کچھ بسکٹ میرے پاس تھے۔ بھری رائفل میری گود میں اور ٹارچ اور پائپ میرے ہاتھوں میں تھے۔ اضافی تمباکو اور ماچس بھی ہمراہ تھیں۔ دن نکلنے تک مجھے انہی کے ساتھ گزارا کرنا تھا۔

سورج غروب ہوتے ہی میں کافی پریشان ہوا کیونکہ ابھی ستاروں کو نکلنے میں کافی دیر تھی۔ اس کے علاوہ گاؤں کے مغربی جانب موجود پہاڑیاں قبل از وقت اندھیرے کا سبب تھیں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو ابھی سے اتنا اندھیرا نہ چھاتا۔

میں رائفل ہاتھ میں تیار لئے اور مسلسل تاریکی میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ شاید تیندوا دکھائی دے جائے۔ مجھے اندازہ تھا کہ جنگلی جانور اور مویشی مجھے تیندوے کی موجودگی سے آگاہ کر دیں گے۔ پورے گاؤں پر موت کی سی خاموشی طاری تھی۔ صاف لگ رہا تھا کہ یہ سب لوگ میری آخری چیخیں سننے کے لئے بے تاب ہیں۔

وقت گذرتا رہا اور یکے بعد دیگرے ستارے نمودار ہوتے رہے۔ ساڑھے سات بجے تک اتنی روشنی ہو چلی تھی کہ میں گلی کے دونوں سروں تک صاف دیکھ سکتا تھا۔ میری ہمت بڑھ گئی۔ آدم خور کو متوجہ کرنے کے لئے میں نے وقفے وقفے سے کھانسنے کی کوشش کی۔ پھر کچھ دیر بعد اپنے آپ سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ مجھے امید تھی کہ اگر آدم خور نزدیک ہوا تو میری آواز سن کر لازماً ادھر کا رخ کرے گا۔

مجھے علم نہیں کہ آپ میں سے کسی نے خود کلامی اور بھی با آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہو؟ چاہے وہ کسی آدم خور کو متوجہ کرنے کے لئے ہو یا پھر کسی اور وجہ سے۔ مجھے اندازہ تھا کہ میری خود کلامی سے دیہاتی لوگ کیا کچھ نہیں سوچ رہے ہوں گے۔ لیکن یقین جانیں کہ خود کلامی بلند آواز سے کرنا بہت مشکل کام ہے۔ خصوصاً جب آپ آدم خور کا بھی انتظار کر رہے ہوں۔

نو بجے رات تک میں نے سوچا کہ کیوں نہ گاؤں کا ایک چکر لگا لیا جائے۔ کسی قدر ہچکچاہٹ کے ساتھ میں نے خود کلامی جاری رکھتے ہوئے اپنی جگہ چھوڑی اور گلی کے دونوں سروں تک باری باری چکر لگایا۔ وقتاً فوقتاً اپنے عقب میں بھی دیکھ لیتا۔ جلد ہی مجھے اپنی حماقت کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ آدم خور کسی بھی مکان کی چھت، کوڑے کے ڈھیر یا پھر کسی بھی موڑ پر چھپا میرا انتظار کر رہا ہوگا۔ فوراً ہی میں نے اپنی چہل قدمی روک دی اور واپسی کا رخ کیا۔ جب اپنی کرسی پر بیٹھنے لگا تو اپنی بحفاظت واپسی پر خدا کا شکر ادا کیا۔

وقت بہت آہستگی سے گذرتا رہا۔ گھنٹے صدیوں کی طرح بیتتے رہے۔ اس وقت تک موسم کافی سرد ہو چلا تھا اور پہاڑیوں کی طرف سے کافی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ میں نے کمبل اوڑھا اور چند بسکٹ کھا کر ڈھیر سارا تمباکو بھی استعمال پی ڈالا۔ دو بجے تک مجھے نیند آنے لگی۔ میں پھر چائے اور بسکٹ سے فارغ ہو کر یخ بستہ پانی سے اپنے منہ پر ہلکے ہلکے چھینٹے مارے اور تھوڑی دیر تک اٹھک بیٹھک کی۔ اب میں پھر سے ہوشیار ہو گیا۔ ساڑھے تین بجے اچانک بادل گھر آئے اور اتنی تاریکی چھا گئی کہ گز بھر دور کی چیز بھی دکھائی نہ دیتی۔ اب میں بالکل تیندوے کے رحم و کرم پر تھا۔ میں نے ہر نصف منٹ کے بعد ٹارچ جلا کر ادھر ادھر ڈالنا شروع کر دی۔ مجھے اندازہ تھا کہ اس طرح میں تیندوے خبردار ہو سکتا ہے۔ مجھے اپنی جان بچانا زیادہ اہم لگا۔ یہ بھی امکان تھا کہ روشنی دیکھ کر تیندوا بھاگنے کی بجائے اسی طرف ہی آتا اور اس طرح مجھے اس پر فائر کرنے کا موقع مل جاتا۔ صبح تک یہی سلسلہ جاری رہا۔

چند گھنٹے میں نے اب سو کر گذارے اور پھر دوپہر کو دیہاتیوں سے سوال جواب شروع کئے۔ اس بار انہوں نے نسبتاً دوستانہ انداز میں جوابات دیئے۔ شاید اس کی وجہ میرا کل رات زندہ بچ جانا رہی ہو یا پھر میری خود کلامی کو وہ روحوں اور جن بھوتوں سے گفتگو سمجھ رہے ہوں۔ اب انہوں نے آدم خور کے بارے مزید معلومات مہیا کیں۔ آدم خور ایک بڑے علاقے میں سرگرم تھا اور وہ کسی جگہ شکار کر کے گم ہو جاتا اور پھر کہیں دور جا کر دوسرا شکار کرتا۔ اس نے کبھی بھی دو شکار ایک ہی جگہ مسلسل نہیں کیئے تھے۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ گملا پور کو ہی مستقل ٹھکانہ بنائے رکھنا بہتر ہے کہ یہاں تین ہفتوں سے کوئی واردات نہیں ہوئی تھی۔ اس طرح مجھے ادھر ادھر بھاگنا بھی نہ پڑتا۔ دوسرا یہ بھی اہم تھا کہ چیتا دن میں کبھی بھی نہیں دکھائی دیتا اس لئے جگہ جگہ مارے پھرنے سے ایک ہی جگہ ٹک کر اس کا انتظار کرتا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ آدم خور کے اگلے دائیں پنجے میں کوئی نقص ہے جس کے باعث وہ زمین پر پاؤں پوری طرح نہیں رکھ سکتا۔ اس اطلاع کے باعث میں نے آگے چل کر آدم خور کے پنجوں کے نشانات بھی کامیابی سے پہچانے۔

دوپہر کا کھانا کھا کر میں نے رات کے لئے نیا منصوبہ بنایا۔ اس سے یقیناً مجھے کافی آرام ملتا اور کم خطرناک بھی ہوتی۔ اس کے مطابق ہم انسانی پتلا بنا کر اسے ایک کمرے میں رکھ دیتے اور کمرے کا دروازہ آدھا کھلا چھوڑ دیا جاتا۔ اسی کمرے میں دوسرے سرے پر لکڑی کے ڈبوں کے پیچھے میں چھپ جاتا۔ اگر آدم خور اندر آتا تو میں اسے آسانی سے نشانہ بنا سکتا تھا۔

میں نے یہ منصوبہ مقامی لوگوں کو بتایا تو یہ دیکھ کر میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی کہ وہ نہ صرف اس سے متفق ہوئے بلکہ کافی پر جوش بھی ہو گئے۔ جس مکان میں آدم خور نے چار افراد کو ہلاک کیا تھا، وہ میرے لئے مختص کر دیا گیا۔ انسانی پتلا بھی بنا دیا گیا جو تنکوں، ساڑھی، تکیئے اور صدری کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ اسے دروازے کے سامنے نیم دراز حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کے پیچھے میں لکڑیوں کے کریٹوں کے پیچھے چھپ گیا۔ کمرہ دس فٹ لمبا اور بارہ فٹ چوڑا تھا۔ اتنے چھوٹے سے کمرے میں میری ناکامی کے امکانات بہت کم تھے۔ اسی طرح اگر آدم خور چھت سے داخل ہونے کی کوشش کرتا یا دیوار سے راستہ بناتا تو بھی میرے پاس اس سے نمٹنے کے لئے کافی وقت ہوتا۔ اس ڈرامے کو مزید حقیقت کا رنگ دینے کے لئے میں نے دونوں اطراف کے جھونپڑیوں کے مکینوں سے کہا کہ وہ رات بھر جتنی دیر ممکن ہو سکے مدھم آواز سے باتیں کرتے رہیں۔

اس تجویز پر یہ اعتراض ہوا کہ اس طرح آدم خور بازو والے کسی جھونپڑے میں داخل ہو تو کیا ہوگا۔ میں نے اس طرح کی صورتحال میں فوراً ان کی مدد کو پہنچنے کا وعدہ کیا۔ اس صورت میں میں نے انہیں عام انداز میں شور مچانے کو کہا تاکہ آدم خور خبردار نہ ہو۔ عام شور آدم خور نے بہت بار سنا ہوا تھا اور وہ اسے بالکل بھی اہمیت نہ دیتا تھا۔ اس طرح دونوں اطراف کے مکین بھی جاگتے رہتے۔

چھ بجے تک ہر چیز اپنی جگہ پر تیار تھی۔ سارے گاؤں کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں دروازے مقفل کر کے پناہ لے چکے تھے۔ میرے والے جھونپڑے کا دروازہ ادھ کھلا تھا۔ سورج غروب ہوتے ہی تاریکی چھائی اور پھر کچھ دیر بعد تاروں کی روشنی میں وہ منظر صاف دکھائی دینے لگا جو دروازے کے کھلے حصے کے سامنے تھا۔ میرے بالکل سامنے ہی پتلا موجود تھا۔ وقتاً فوقتاً مجھے ساتھ والے گھروں سے لوگوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

گھنٹوں پر گھنٹے گزرتے رہے۔ اچانک چھت سے کھڑکھڑاہٹ کی آواز سنائی دی۔ میں فوراً ہی چوکنا ہو گیا۔ لیکن یہ آواز کسی چوہے کی تھی۔ چوہا اچانک چھت سے فرش پر گرا اور پھر بھاگ کر میری طرف آیا اور میرے اوپر سے ہوتا ہوا دوبارہ چھت میں غائب ہو گیا۔ اب ہمسایوں کی آواز بند ہو چکی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ لوگ اس بات سے قطع نظر کہ آدم خور ان کے قریب بھی موجود ہو سکتا ہے، سو چکے ہیں۔

ساری رات میں جاگتا رہا۔ کبھی کبھار پائپ کا اکا دکا کش لگا لیتا یا پھر چائے کی چسکی سے گزارا کرتا۔ ساری رات چوہوں کی بھاگ دوڑ جاری رہی۔ صبح کی روشنی ہوتے ہی مٰں بے سدھ سو گیا۔

اگلی صبح بہتر نتائج کے لئے اور یہ سوچ کر کہ شاید آدم خور اس بار ادھر آئے، میں نے کل والی حرکت پھر دہرائی۔ اس بار رات کافی چونکا دینے والی نکلی۔ مجھے آج تک اس کی یاد نہیں بھولی۔

چھ بجے تک میں پھر اپنی جگہ پر تھا۔ آدھی رات تک سابقہ رات والی روٹین چلتی رہی۔ وہی ہمسایوں کی آوازیں، وہی چوہوں کی بھاگ دوڑ وغیرہ۔ دس بجے کے فوراً بعد تیز ہوا چل پڑی اور رفتہ رفتہ طوفان میں بدل گئی۔ آسمان پر طوفانی بادل چھا گئے اور کمرے کے دروازے سے اب مجھے کچھ بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔ پھر جلد ہی بارش شروع ہو گئی۔ مجھے اندازہ تھا کہ تیندوے عموماً پانی کو پسند نہیں کرتے۔ اس لئے یہ تیندوا بھی کہیں دبکا ہوا بارش تھمنے کا انتظار کر رہا ہوگا۔ میں نے جھپکی لینے کی ٹھانی۔

بارش کے باعث مجھے ہمسایہ گھروں کی آوازیں سنائی دینا بند ہو گئیں۔ انسانی پتلے کو گھورتے گھورتے مجھے نیند آ گئی۔

میں کتنی دیر سویا رہا، کہنا مشکل ہے۔ لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ تو وقت گذرا ہی ہوگا۔ اچانک ہی میری آنکھ کھل گئی اور فوراً ہی اندازہ ہو گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ ایک عام بندہ جب نیند سے بیدار ہو تو اسے سنبھلنے میں کچھ نہ کچھ وقت لگتا ہے۔ میری جنگل کی تربیت کچھ اس طرح کی ہوئی تھی کہ بیدار ہوتے ہی مجھے صورتحال کا فوراً ادراک ہو جاتا ہے۔ بارش تھم چکی تھی اور کسی حد تک بادل بھی چھٹ چکے تھے۔ دروازے سے آنے والی روشنی اب کچھ دکھائی دینے لگی تھی۔ پتلا ویسے ہی نیم دراز حالت میں تھا۔ اچانک مجھے ایسا لگا کہ کچھ عجیب سی بات ہوئی ہے۔ پتلے نے حرکت کی اور اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ فوراً ہی چیتے کی غراہٹ سنائی دی۔ مجھے اب جا کر اندازہ ہوا کہ تیندوا نہ صرف کمرے میں داخل ہو چکا ہے بلکہ اسے پتلے کے جعلی ہونے کا بھی علم ہو چکا ہے۔ کمرہ اتنا تاریک تھا کہ تیندوے کا سایہ سا بھی تک نہ دکھائی دے رہا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ زمین پر اتنا جھکا ہوا ہو کہ دکھائی نے دیا ہو۔

ٹارچ روشن کرتے ہی میں نے جست لگائی اور اپنی کمین گاہ سے نکلا۔ کمرہ خالی تھا۔ میں نے فوراً باہر نکل کر دونوں اطراف میں روشنی ڈالی لیکن موڑ تک گلی کے دونوں سرے خالی تھے۔ میں نے سوچا کہ تیندوا ابھی کہیں نزدیک ہی چھپا ہوا ہوگا اس لئے میں نے گلی کے ایک سرے تک چلنا شروع کر دیا۔ ہر موڑ، گھر یا کوڑے کے ڈھیر کے پاس سے بڑی احتیاط سے گذرتا۔ اگرچہ ٹارچ کی روشنی میں میں نے ہر ممکن جگہ چھان ماری لیکن وہ گم ہو چکا تھا۔ اب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ درندہ کتنا مکار ہے۔ جونہی میری چھٹی حس نے مجھے نیند سے بیدار کیا، ویسے ہی تیندوے کی چھٹی حس نے اسے میری موجودگی کے بارے بھی نہ صرف خبردار کر دیا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ مقابلہ کسی عام انسان سے نہیں بلکہ ایسے شخص سے ہے جو اس کے خاتمے پر کمر بستہ ہے۔ شاید وہ میری ٹارچ کی روشنی نے اسے فرار ہونے پر مجبور کیا تھا اور وہ خاموشی اور آہستگی سے فرار ہو گیا۔ اس رات میں نے گملا پور کی تمام گلیاں چھان ماریں لیکن آدم خور جیسے آیا تھا ویسے ہی غائب ہو گیا۔

میں دل ہی دل میں اپنی غفلت پر سخت شرمندہ تھا کہ کیوں سو گیا اور ساتھ ہی ساتھ میں اس درندے کے خلاف اپنے آپ کو مزید تیار کر رہا تھا۔

اگلی صبح میں نے تیندوے کے پنجوں کے نشانات دیکھے جہاں سے وہ گاؤں میں داخل ہوا تھا۔ نرم کیچڑ میں یہ نشانات بالکل واضح تھے۔ پہلی بار ان کا معائنہ کرتے ہوئے میں نے اس کے اگلے دائیں پنجے کے نشانات کو بغور دیکھا۔ تیندوا اسے اس طرح رکھتا تھا کہ وہ محض ہلکا سا ہی زمین سے لگتا تھا اور اس نشان کو بطور پنجہ نہیں پہچانا جا سکتا تھا۔ یہ بات صاف ہو گئی کہ ماضی میں کسی حادثے کے باعث تیندوے کو آدم خوری پر مائل ہونا پڑا۔ آگے چل کر جب میں نے آدم خور کے پنجے کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ جانور ان دنوں پھیلی ہوئی ایک وبائی بیماری سے ہلاک شدگان کی لاشوں کو کھانے کا عادی تھا۔ پنجہ زخمی ہونے کے بعد اسے موقع مل گیا اور وہ آدم خوری کرنے لگا۔

مجھے اب تک یہ بھی اندازہ ہو چکا تھا کہ اس درندے میں کم و بیش ایک عام انسان جتنی سوجھ بوجھ کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور وہ شاید ہی سابقہ رات کے تجربے کے بعد گملا پور کا رخ کرے۔

مجھے اب اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس بار میں نے اچھی طرح سوچ سمجھ کر دیوار بٹہ نامی گاؤں کا رخ کیا۔ یہ یہاں سے اٹھارہ میل دور اور پہاڑیوں کی دوسری طرف تھا۔ راستے میں پانی کی ایک نالی تھی جس کے کنارے ایک بڑے نر شیر کے پنجوں کے نشانات ظاہر تھے۔ یہ نشانات اتنے تازہ تھے کہ ان میں سے پانی ابھی بھرنا شروع ہوا تھا۔ خیر ابھی تو مجھے تیندوے کا پیچھا کرنا تھا۔ میں دیوار بٹہ شام پانچ بجے پہنچا۔

یہاں کے باشندے اپنے گھروں کے دروازے مقفل کرنے ہی والے تھے کہ میں پہنچا۔ بمشکل ہی ان سے میں مختصر بات کر سکا۔ ان کا خیال تھا کہ آدم خور کا اس طرف چکر اب کسی بھی وقت متوقع تھا کہ وہ یہاں کافی دنوں سے نہیں آیا تھا۔ اس کا پچھلا چکر مہینے بھر پہلے لگا تھا۔ آدم خور آج تک کسی جگہ ایک ماہ تک گم نہیں رہا تھا۔

میں نے فوراً ہی گاؤں کے سب سے بلند مکان کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی اور اس سے قبل چھت پر کافی سارے کانٹے بچھا دیئے تاکہ عقب اور اوپر سے حملے سے بچ سکوں۔ یہ کانٹے دیہاتیوں نے قریب ہی کے کھیت سے اٹھائے تھے اور میں رائفل تانے ان کی نگرانی کرتا رہا۔

گملا پاور کی نسبت یہ بہت چھوٹا سا گاؤں تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ جنگلی پرندوں اور جانوروں نے مجھے تیندوے کی آمد سے قبل بخوبی آگاہ کر دینا ہے۔ میرا کام صرف ان آوازوں کو پوری توجہ سے سننا ہے۔

وقت بہت تیزی سے گزرتا رہا اور جلد ہی ہلال افق پر دکھائی دینے لگا۔ جنگلی مرغ کی آواز کبھی کبھار سنائی دے جاتی۔ مور بھی بولتے رہے۔ گاؤں کی یہ گلی غلاظت اور گندگی سے بھری ہوئی تھی۔ تاروں کی مدھم روشنی میں بمشکل ہی گلی دکھائی دے رہی تھی۔ ساڑھے آٹھ بجے ایک سانبھر بولا اور پھر بولتا ہی چلا گیا۔ لازماً اس نے کسی درندے کو دیکھا ہوگا۔ اب وہ درندہ تیندوا ہے یا پھر شیر، اس کے بارے تو وقت ہی بتاتا۔

اب سانبھر چپ ہو گیا۔ پندرہ منٹ بعد مجھے شیر کی ہلکی سی غراہٹ سنائی دی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ یہ شکار کی تلاش میں نکلے ہوئے شیر کی عام بولی تھی۔ اس میں جنگل کے جانوروں کے تنبیہ پوشیدہ تھی کہ جنگل کا بادشاہ شکار پر نکلا ہوا ہے۔

وقت گزرتا رہا۔ اچانک میں نے گلی کے سرے پر حرکت محسوس کی۔ بھری ہوئی رائفل کو اٹھا کر میں نے نشانہ لیا اور قریب آنے کا انتظار کرتا رہا۔ کیا یہ تیندوا ہی ہے؟ کیا آدم خور تیندوا اس طرح کھلے عام گلی میں بیچوں بیچ عام رفتار سے چلتا ہوا میرے پاس آتا؟ یہ جانور کافی چھوٹا اور کمزور دکھائی دیتا تھا۔ بیس گز کے فاصلے سے میں نے ٹارچ روشن کی جو رائفل کی نال پر فٹ تھی۔

طاقتور ٹارچ کی روشنی نے پوری گلی کو روشن کر دیا۔ یہ جانور ایک عام کتا نکلا جو سردی اور بھوک سے سکڑا ہوا اور ٹھٹھرتا ہوا میری طرف آ رہا تھا۔ روشنی ہوتے ہی اس نے رک کر اس کی طرف دیکھا اور اپنی دم ہلانے لگا۔

اس تنہائی میں کتے کی آمد کو میں نے تہہ دل سے خوش آمدید کہا۔ اسے بلانے کے لئے میں نے دو بار چٹکی بجائی۔ دم ہلاتا ہوا وہ میرے پاس پہنچا۔ میں نے اسے چند بسکٹ دیئے جو اس نے فوراً کھا لئے اور ممنونیت سے میری طرف دیکھنے لگا۔ شاید وہ کئی دن کا بھوکا تھا۔ پھر وہ میرے قدموں میں دبک کر سو گیا۔

وقت گذرتا رہا اور نصف شب آ پہنچی۔ ایک بڑے الو کی آواز جنگل کے سرے سے آئی اور ماحول خاصا پراسرار ہو گیا۔

ایک بجا، دو بجے اور پھر تین۔ میں بار بار ادھر ادھر گھورتا رہا۔ خوش قسمتی سے آسمان بالکل صاف تھا اور تاروں کی مدھم روشنی بھی کافی دور تک منظر دکھا رہی تھی۔

اچانک ایک نامعلوم پرندے کی آواز آئی۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس نے تیندوے کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ کتا بھی میرے قدموں میں بیدار ہو کر اچانک ہوشیار ہو گیا۔ منٹ پر منٹ گذرتے رہے اور اچانک کتا اب پوری طرح کھڑا ہو گیا۔ اس کے کان کھڑے تھے اور پورے بدن پر کپکپی طاری تھی۔ اس کے حلق سے ہلکی سے غراہٹ کی آواز نکلی۔ میں نے اس کی نظروں کا پیچھا کیا۔ وہ گاؤں کے درمیان سے آنے والی طرف گلی کے موڑ کو دیکھ رہا تھا۔

میں نے اب اپنی پوری توجہ ادھر مرکوز کر دی۔ اچانک میں نے گلی کے سرے پر ایک سائے کو حرکت کرتے دیکھا جو اپنی جگہ سے ہٹ کر میری جانب والے کنارے پر آ گیا تھا۔ چند لمحے بعد پھر حرکت ہوئی، اس بار نزدیک تر۔

میں نے ٹارچ کے بٹن پر انگوٹھا رکھ دیا۔ چند منٹ مزید گزرے اور میں نے اسے کو ایک مکان کی چھت کی طرف جست لگاتے دیکھا۔ اس بار فاصلہ کوئی بیس گز رہا ہوگا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ تیندوے نے براہ راست سامنے سے آنے کی بجائے میرے اوپر چھت سے حملہ کرنے کی ٹھانی ہے۔ گلی کے تمام مکانات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

میں فوراً کھڑا ہو کر دیوار کے ساتھ لگ گیا۔ یہاں منڈیر تقریباً ڈیڑھ فٹ آگے نکلی ہوئی تھی۔ میری انگلی رائفل کے ٹریگر پر تھی اور انگوٹھا ٹارچ پر۔

چند سیکنڈ بعد مجھے اندازہ ہوا کہ تیندوا چھت پر موجود کانٹوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ناکام ہو کر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔ مجھے اب اس کے نئے مقام کا اندازہ نہ تھا۔

مزید پندرہ منٹ شدید پریشانی میں گزرے اور میں بار بار ہر طرف دیکھتا رہا کہ شاید تیندوا کسی اور جانب سے حملہ نہ کر دے۔ کتا ایک بار پھر میرے قدموں سے نکل کر گلی کے درمیان کی طرف بھاگا اور پھر منہ اٹھا کر میرے پیچھے والے مکان کے کنارے کی طرف بھونکنے لگا۔

اس کی اس حرکت نے میری جان بچا لی۔ پانچ سیکنڈ بعد ہی چیتا اس کنارے سے نکل کر میری طرف جھپٹا۔ ٹارچ روشن کرتے ہوئے میں نے رائفل بمشکل کولہے تک اٹھائی اور فائر کر دیا۔ اعشاریہ 405 بور کی گولی تیندوے کو لگی لیکن چونکہ وہ جست لگا چکا تھا، میں نے فوراً ہی ایک جانب چھلانگ لگائی۔ تیندوا مکان سے ٹکرا کر گر گیا۔ اس دوران میں نے مزید دو گولیاں اس کے جسم میں اتار دیں۔

تیندوا اپنی جگہ پر ہی پڑا رہا اور اس کے جسم پر لرزہ طاری تھا۔ اس کے جبڑے کھلتے بند ہوتے رہے۔ میرے نئے دوست یعنی اس کتے نے فوراً بھاگ کر تیندوے کے گلے پر اپنے دانت جما دیئے۔

اس طرح وہ مکار تیندوا اپنے انجام کو پہنچا جس کی مکاری کو شاید ہی کوئی دوسرا درندہ پہنچ سکے۔

اگلی صبح کھال اتارتے ہوئے اس کے اگلے دائیں پنجے سے گولی کی بجائے سیہہ کے دو کانٹے نکلے۔ دو انچ بھر اندر دھنسے ہوئے تھے اور پھر ٹوٹ گئے تھے۔ یہ کافی پرانے لگتے تھے کہ ان کے گرد ہڈی پھر سے اپنی جگہ پیدا ہو گئی تھی۔ اس سے آدم خور اپنے پنجے کو زمین پر نہ لگا سکتا تھا اور چلتے وقت لنگڑاتا تھا۔

اس کتے کو میں گھر لایا اور نہلا دھلا کر کھانا دیا اور اس کا نام “نیپر” رکھا۔ کئی سال سے یہ میرا قابل اعتماد رفیق ہے۔ اس نے چند بسکٹوں کے بدلے میری جان بچائی تھی۔

جولا گری کی آدم خور
وہ افراد جو استوائی اور جنگلی مقامات سے اچھی طرح واقف ہیں، بخوبی جانتے ہیں کہ پہاڑی پر چمکنے والی چاندنی، وادی میں پھیلا ہوا چاند کا نور، درختوں اور گھاس سے ملنے والا سکون، گھنے درختوں کے سائے میں چھپے درندوں، چرندوں اور خزندوں کی موجودگی، سب کے سب ایک دوسرے سے لاتعلق مگر خوراک کی تلاش میں سر گرداں ہوتے ہیں۔

جولاگری کے جنگلات میں ہر چیز پرسکون ہوتی ہے لیکن خطرہ اور موت ہر قدم پر انتظار کرتی ہے۔ انہی جنگلوں میں چھپے غیر قانونی شکاریوں نے سوچا کہ اپنی مزل لوڈنگ بندوقوں سے کچھ گوشت فراہم کریں۔ انہوں نے پانی کے گڑھے کے کنارے بہت ہی خفیہ ٹھکانہ بنایا ہوا تھا۔ وہ سورج غروب ہوتے ہی آ کر چھپ گئے کہ جلد یا بدیر کوئی نہ کوئی ہرن اپنی پیاس بجھانے آئے گا۔

گھنٹوں پر گھنٹے گزرتے گئے۔ چودھویں کا چاند پورے جوبن پر تھا اور پورا جنگل دن کی طرح روشن تھا۔ اچانک بائیں جانب کی جھاڑیوں سے پتے مسلنے اور دبی دبی سی غراہٹوں کی آوازیں آئیں۔ تینوں نے سوچا کہ یہ کیا ہو سکتا ہے۔ جنگلی سور؟ بلاشبہ۔ لذیذ گوشت اور وہ بھی اتنی مقدار میں کہ نہ صرف خود پیٹ بھر کر کھاتے بلکہ بیچ بھی سکتے تھے۔ شکاری منتظر رہے لیکن ان کے مطلوبہ جانور ظاہر نہ ہوئے۔ بے صبر ہوتے ایک شکاری “منیاپا” نے سوچا کہ اندازے سے ہی سہی، فائر کر دیا جائے۔ اس نے اپنی جگہ سے اٹھ کر جائزہ لیا اور جونہی اسے ایک سایہ سا دکھائی دیا، اس نے گولی چلا دی۔ گولی چلتے ہی دھاڑ سنائی دی اور اس کے بعد جھاڑیوں کی سرسراہٹ، کھانسی کی آوازیں اور اچانک خاموشی۔

سور تو نہیں، یہ تو شیر تھا۔ دبکے ہوئے تینوں شکاریوں نے سر پر پیر رکھے اور گاؤں پہنچ کر ہی دم لیا اور رات بھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہے۔

صبح ہوتے ہی پتہ چلا کہ ایک جوان شیر اس جگہ مرا پڑا تھا۔ بندوق کا فائر سیدھا اس کے دل کے پار ہوا تھا۔ اس دن “منیاپا” اور دیگر دو شکاری پورے گاؤں کے ہیرو بن گئے۔

اگلی رات البتہ کچھ عجیب انداز میں ہوئی۔ سورج ڈوبتے ہی شیرنی کی اپنے ساتھی کی تلاش میں اور اسے بلانے کی آوازیں آئیں۔ یہ غصیلی آوازیں اس کے اس ساتھی کے لئے تھیں جو گذشتہ رات مارا گیا تھا۔ اب شیرنی اس کی غیر موجودگی پر ناراض تھی اور صاف لگ رہا تھا کہ شیرنی اپنے ساتھی کی گمشدگی کا سرا انسانی مداخلت سے ملا رہی ہے۔

پورا ایک ہفتہ وہ دن بھر جنگل سے اور رات ہوتے ہی گاؤں کے سرے پر آ کر پوری قوت سے اپنے ساتھی کو بلانے کے لئے دھاڑتی رہی۔

٭٭

جیک لیونارڈ جو کہ ایک ابھرتا ہوا نوجوان شکاری تھا، کو مارنے کے لئے فوراً اس گاؤں بلایا گیا۔ وہ نر شیر کے مارے جانے کے آٹھویں دن گاؤں پہنچا۔ اس نے سب سے پہلے تو پورے واقعے کی تفصیلات جانیں۔ اس نے اندازہ لگایا کہ شیرنی کسی ایک جگہ نہیں رکتی۔ اس نے دیکھا کہ شیرنی ہر روز فارسٹ بنگلے کی طرف جانے والی سڑک سے گذرتی ہے۔ ٹھیک پانچ بجے وہ چیونٹیوں کی بمیٹھی کے پیچھے چھپ کر بے حس و حرکت کھڑا ہو گیا۔

وقت گذرتا رہا اور سوا چھ بجے اندھیرا چھانے لگا۔ لیونارڈ نے اچانک ایک طرف سے پتھروں کے لڑھکنے اور پتوں کے کچلے جانے کی آواز سنی مگر کچھ دکھائی نہ دیا۔ وقت گزرتا رہا اور اچانک ہی اس نے دائیں طرف شیرنی کی جھلک دیکھی۔ اس نے تیزی سی اپنی جگہ بدلی اور اپنی پناہ گاہ سے باہر نکلا تاکہ شیرنی کو اچھی طرح دیکھ سکے۔ اس نے شیرنی کے سینے کا نشانہ لیا تاکہ وار مہلک ثابت ہو۔

لیونارڈ کی گولی شیرنی کے دائیں شانے میں کافی گہرائی تک گئی۔ اس پر شیرنی نے دھاڑ لگائی اور جنگل کی طرف جست لگا کر یہ جا وہ جا۔ مایوس لیونارڈ نے صبح کا انتظار کیا تاکہ شیرنی کے پیچھے جا سکے۔ ہر طرف خون ہی خون تھا اور وہ حصہ اتنا دشوار اور پتھریلا تھا کہ وہ شیرنی کا سراغ کھو بیٹھا۔

کئی ماہ گذر گئے اور اب ہم جنگل کے کافی اندر ایک چھوٹے سے گاؤں کی طرف جاتے ہیں جہاں ایک قدیم مندر تھا۔ اس مندر کی زیارت کے لئے لوگ دور دراز سے آتے تھے۔ یہاں سے فارغ ہو کر تین افراد جو کہ میاں بیوی اور ایک سولہ سالہ بیٹا تھے، واپس جانے لگے۔ پون میل دور جا کر لڑکے نے اچانک کچھ جنگلی پھل توڑنے چاہے۔ والدین نے ایک غراہٹ اور پھر لڑکے کی چیخ سنی۔ مڑ کر دیکھا تو شیرنی ان کے بیٹے کو اٹھائے نالے میں کود رہی تھی۔ والدین نے انتہائی بہادری سے بھاگ کر شیرنی پر چیخنا چلانا شروع کیا لیکن جواب میں انہیں بیٹے کی مزید دو چیخیں سنائی دیں اور پھر خاموشی چھا گئی۔

اس کے بعد اموات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ سلسلہ جولاگری سے گنڈالم تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ سارا علاقہ کوئی پینتالیس میل لمبا اور پچاس میل چوڑا ہے۔ جب مجھے اطلاع ملی تب تک شیرنی پندرہ افراد ہلاک کر چکی تھی۔ ان میں تین لڑکیاں بھی تھیں۔ ایک لڑکی تو بالکل نوبیاہتا تھی۔ مجھے یہ اطلاع اپنے دوست میسور کے کلکٹر سے ملی۔

میرے دوست کے بقول جولاگری وہ جگہ تھی جہاں سے یہ آفت شروع ہوئی۔ یہاں پہنچ کر میں نے مزید شواہد اکٹھے کرنا شروع کئے۔ یہاں مجھے اندازہ ہوا کہ آدم خور شیر نہیں بلکہ شیرنی ہے۔ اور یہ کہ یہ وہی شیرنی ہے جس کے نر کو غیر قانونی شکاریوں نے سور کے دھوکے میں ہلاک کیا تھا اور بعد ازاں لیونارڈ کی گولی سے اس کا شانہ بیکار ہو گیا تھا۔ یہاں سے میں جولاگری سے سلیکنٹا کی طرف نکلا کہ کوئی تازہ نشان مل سکیں۔ بدقسمتی سے اس جگہ کوئی تازہ شکار نہیں ہوا تھا اور پرانے نشانات مویشیوں وغیرہ کی آمد و رفت کے باعث مٹ چکے تھے۔ گنڈالم جاتے ہوئے میں نے کیمپ لگایا کیونکہ آدم خور نے یہاں گذشتہ چار ماہ میں سات چرواہے مارے تھے۔

تین فربہ نوعمر بھینسے میرے دوست نے میرے لئے مہیا کئے تھے اور میں نے انہیں مناسب جگہوں پر بندھوا دیا۔ پہلا بھینسا میں نے دریائے گنڈالم کے کنارے بندھوایا جہاں سے یہ دریا سیگی ہلا نامی جگہ سے گذرتا ہے۔ دوسرا بھینسا انچٹی کے مقام پر اور تیسرے کو پانی کے ایک تالاب کے کنارے بندھدوا دیا جہاں چرواہے اور مویشی روز پانی پیتے تھے۔

اگلے دو دن میں نے جنگل کی گشت میں گذارے تاکہ کوئی تازہ پگ (شیر وغیرہ کے پنجوں کے نشانات کو پگ کہتے ہیں۔ انگریزی میں Pug marks) تلاش کر سکوں۔ میری اعشاریہ 405 بور کی ونچسٹر رائفل میرے پاس تھی۔ امید تھی کہ شاید آدم خور سے مڈبھیڑ بھی ہو جائے۔

دوسری صبح میں نے دریائے گنڈالم کے کنارے شیرنی کے اترنے کے نشانات دیکھے جو کہ گذشتہ رات کے تھے۔ یہاں اس نے تالاب کے کنارے رک کر میرے بھینسے کا جائزہ لیا لیکن اسے کچھ کہے بغیر انچٹی کی طرف نکل گئی۔ یہاں زمین اتنی سخت تھی کہ پگ گم ہو گئے۔

تیسری صبح جب میں مٹر گشت سے واپس کیمپ لوٹا تاکہ گرم پانی سے غسل کر کے اور قبل از وقت دوپہر کا کھانا کھا سکوں تو دیکھا کہ ایک جماعت آئی ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انچٹی سے میل بھر دور آج صبح ایک آدمی کو شیرنی نے مار ڈالا تھا۔ بظاہر صبح کاذب کے وقت مویشیوں کی بے چین آوازیں سن کر باہر جانے والا آدمی واپس نہ لوٹا۔ کچھ دیر بعد اس کے بیٹے اور بھائی اس کو دیکھنے کے لئے نکلے تو انہوں نے متوفی کا کمبل اور دیگر اشیا دیکھیں۔ زمین سخت ہونے کے باوجود بھی حملہ کرتے وقت کے شیرنی کے پچھلے پنجوں کے نشانات واضح تھے۔ وہ بھاگ کر انچٹی پہنچے اور وہاں سے مزید آدمی اپنے ساتھ لے کر میرے پاس آئے۔

غسل کو بھلا کر میں نے جلدی جلدی چند لقمے نگلے اور ان کے ہمراہ نکل پڑا۔ یہاں سے جائے حادثہ پر جا کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ متوفی نے شاید ہی کوئی آواز نکالی ہو۔ یہاں سخت زمین کے باعث شیرنی کے پگ بہت مدھم اور غیر واضح تھے۔ یہاں کانٹے دار جھاڑیاں بکثرت تھیں اور متوفی کے کپڑوں کی دھجیاں ان کانٹوں میں اٹکی ہوئی تھیں۔ موجودہ صورتحال سے قطع نظر یہ کافی اہم تھا کہ شیرنی ان کانٹوں سے کیسے بچ کر گذری ہوگی؟

تین سو گز دور جا کر شیرنی نے شاید کھانے کی نیت سے متوفی کی لاش کو زمین پر رکھا لیکن پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر اسے پھر اٹھا کر چل دی۔ اس بار اس کا رخ ایک گہرے نالے کی طرف تھا۔

یہاں سے تعاقب کرنا آسان ہو گیا کیونکہ شیرنی نے یہاں لاش کو گلے سے پکڑنے کی بجائے کمر سے پکڑا ہوا تھا اور یہاں سے خون کے نشانات دکھائی دینے لگے تھے۔ خون کے نشانات اب بکثرت تھے اور ہمیں تعاقب جاری رکھنے میں کوئی مشکل نہ پیش آئی۔ مزید سو گز دور جا کر متوفی کی دھوتی مل گئی جو ایک کانٹے دار جھاڑی سے الجھی ہوئی تھی۔ یہاں سے اب ہم نالے میں آ پہنچے اور یہاں نشانات اتنے واضح تھے کہ شیرنی کے پگ کے ساتھ ساتھ آدمی کا پاؤں بھی رگڑ کھاتا جا رہا تھا۔

اب مجھے کھوجی کی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی میں اتنے افراد کے ہمراہ غیر ضروری خطرہ مول لینا چاہتا تھا۔ میں نے یہاں سے تعاقب کو اکیلے ہی جاری رکھا اور باقی آدمیوں سے کہا کہ وہ وہیں رک کر میرا انتظار کریں۔ یہاں سے میری پیش قدمی بہت سست ہو گئی تھی کہ نالے کے دونوں کناروں پر اگے گھنے جنگلوں کو بھی دیکھنا پڑ رہا تھا مبادا کہ شیرنی نہ چھپی ہو۔ یہاں ایک جگہ میں نے ایک موڑ پر جھکی ہوئی چٹان دیکھی جو کافی جگہ گھیرے ہوئے تھی۔ دوسرے کنارے سے ممکنہ حد تک دور رہتے ہوئے میں نے پوری احتیاط سے جائزہ لیا۔ مجھے چٹان کے پیچھے ایک سایہ سا دکھائی دیا جو بعد ازاں متوفی کی لاش نکلی۔

شیرنی نے اچھا خاصا کھایا تھا۔ ایک ران، ایک بازو مکمل طور پر کھا گئی تھی اور مجھے اندازہ تھا کہ شیرنی اب ادھر موجود نہیں۔ میں اپنے آدمیوں کی طرف پلٹا تاکہ انہیں لاش کے مقام پر لا کر ان کی مدد سے کوئی پناہ گاہ تلاش کروں۔ قوی امکان تھا کہ شیرنی مغرب سے قبل آئے گی۔

اس جگہ سے زیادہ مشکل اور ناقابل بیان جگہ کوئی اور ہو۔ یہاں کوئی درخت نہیں تھا کہ جس پر مچان باندھی جا سکے۔ جلد ہی ہمیں اندازہ ہوا کہ صرف دو ہی امکانات ہیں۔ اول یہ کہ میں نالے کے دوسرے کنارے پر بیٹھوں جہاں سے لاش صاف دکھائی دے رہی تھی۔ دوم اس جگہ موجود چٹان کے اوپر بیٹھوں جو نیچے سے کوئی دس فٹ بلند تھی اور کنارے سے چار ایک فٹ۔ پہلی صورت بہت خطرناک تھی کہ مقابلہ آدم خور سے تھا۔ زمین پر بیٹھنا مہلک بھی ہو سکتا تھا۔ دوسری صورت قابل قبول تھی۔ یہاں چٹان کے اوپر سے میں نہ صرف لاش بلکہ نالے کے دونوں اطراف بیس بیس گز تک بخوبی دیکھ سکتا تھا جہاں وہ مڑتا تھا۔

خاموشی سے میرے آدمیوں نے نالے کے کنارے دور جا کر کچھ اس قسم کی جھاڑیاں کاٹیں جو اس مذکورہ چٹان کے آس پاس بھی موجود تھیں۔ اس طرح انہوں نے چٹان کے چاروں طرف اس طرح جھاڑیاں بچھائیں کہ میں اب ہر طرف سے چھپ گیا۔ خوش قسمتی سے میرے پاس کمبل موجود تھا اور پانی کی بوتل اور ٹارچ بھی۔ ویسے چاندنی رات تھی اور ٹارچ کی شاید ہی ضرورت پڑتی۔ تین بجے میں اپنے اس ٹھکانے پر بیٹھ گیا اور باقی آدمی روانہ ہو گئے۔ انہیں یہ بھی ہدایت کر دی کہ اگلی صبح آتے وقت گرم چائے کا تھرماس اور چند سینڈوچ لیتے آئیں۔

سہہ پہر بہت آہستگی سے ڈھلی اور دھوپ کے باعث میں پسینے میں شرابور ہوتا رہا۔ نالے کے دونوں اطراف کا جائزہ لیتا رہا اور دھوپ ہر ممکن طرف سے مجھے جلاتی رہی۔ چونکہ لاش ایسی جگہ پڑی تھی جو کہ کھلی فضاء سے دکھائی نہ دیتی تھی، اس لئے ابھی تک گدھوں سے محفوظ تھی۔ پانچ بجے ایک کوے نے لاش کو دیکھ لیا اور کائیں کائیں کر کے دوسرے ساتھی کو بھی بلا لیا۔ وہ دونوں کائیں کائیں کرتے رہے لیکن انسانی بو کی وجہ سے ان کی ہمت نہ ہوئی کہ لاش کو کھانا شروع کرتے۔ وقت گذرتا چلا گیا اور بالآخر سورج پہاڑوں کے پیچھے جا کر غروب ہو گیا۔ کوے بھی ایک ایک کر کے اڑ گئے۔ شاید وہ جب بھوک سے مجبور ہوئے تو لوٹ آئیں گے۔ سورج کے چھپتے ہی جنگلی مرغی کی آواز گونجی اور پھر مور کی “می آؤں می آؤں” کی آواز آئی۔ مجھے بہت حوصلہ ملا کیونکہ مور سے زیادہ چوکنا اور کوئی مخبر جنگل میں ملنا ممکن نہیں۔ اب مجھے اندازہ ہوا کہ شیرنی آنے والی ہے۔ لیکن روشنی ختم ہونے سے قبل ہی مور اس جگہ کو چھوڑ گیا۔ دن والے پرندے بھی اپنے گھونسلوں کو پلٹ گئے اور اب رات کے پرندے اڑنا شروع ہو گئے۔ الووں کی آواز سے جنگل گونج رہا تھا۔

چاند نکل آیا اور اب میری بصارت کافی بحال ہو گئی۔ رات کے شکاری پرندے اپنے شکار کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ پھر کچھ وقت گذرا اور اچانک ہی سکوت چھا گیا۔ حتیٰ کہ جھینگر بھی چپ ہو گئے۔ اس طرح الو بھی شاید کہیں اور چلے گئے تھے۔ لاش کا ایک بازو اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا اور شکر ہے کہ چہرہ دوسری طرف تھا۔ ورنہ اس وقت اس نیم اندھیرے میں وہ بہت بھیانک لگتا۔

اچانک سانبھر کی آواز یکے بعد دیگرے کئی بار آئی۔ میرا اندازہ تھا کہ نصف میل دور سے آئی ہیں۔ اس کے بعد نالے کے دوسرے کنارے سے چیتل کی اونچی آواز آئی۔ میں نے لمبا سانس لیا اور اپنے اعصاب اور پٹھوں کو آخری معرکے کے لئے تیار کیا۔ میرے ان دوست جانوروں نے مجھے آدم خور کی آمد سے بخوبی آگاہ کر دیا تھا۔

آہستہ آہستہ آوازیں گم ہوتی چلی گئیں۔ اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ شیرنی ان جانوروں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ میں نے نالے کے دائیں موڑ کی جانب نگاہیں جما دیں۔ اس طرف سے مجھے شیرنی کی آمد کی توقع تھی۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ نصف گھنٹہ گذرا، پھر پون گھنٹہ۔ مجھے حیرت ہونے لگی کہ شیر تو اس سے کہیں کم وقت میں یہ فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔

اچانک میرے پورے بدن میں دہشت کی ایک لہر دوڑتی چلی گئی۔ یہ وہ چھٹی حس تھی جو سب کے پاس ہوتی تو ہے لیکن کسی کسی کو اس سے کام لینا آتا ہے۔ اس حس نے میری مدد ہندوستان، برما اور افریقہ کے جنگلات میں کی ہے اور بروقت کی ہے۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ شیرنی میری تمام تر احتیاط کے باوجود مجھے دیکھ چکی ہے اور اب وہ کسی بھی وقت مجھ پر چھلانگ لگانے والی ہے۔

جو افراد جنگل سے واقف ہوں وہ خطرے میں جلد فیصلہ کر سکتے ہیں۔ میں خود کو انتہائی خطرے میں محسوس کر رہا تھا اور ٹھنڈے پسینے کے قطرے میرے چہرے پر رینگ رہے تھے۔ مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ شیرنی نالے میں نہیں ہو سکتی ورنہ میں اب تک اسے دیکھ چکا ہوتا۔ اس کی موجودگی کی دوسری ممکنہ جگہ نالے کا دوسرا کنارہ ہوتی۔ لیکن اس صورت میں میں اتنا شدید خطرہ نہ محسوس کر رہا ہوتا۔ اب واحد امکان یہی تھا کہ شیرنی میرے عقب میں اوپر کی جانب موجود ہوتی۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ میرے پیچھے چار فٹ بلند چٹان موجود ہے۔ اگر میں اس کے پیچھے دیکھنا بھی چاہوں تو مجھے اٹھنا پڑے گا اور اس حالت میں فائر کرنا بالکل ہی ناممکن ہوتا اور اس حالت میں دوسرے کنارے سے میرا دیکھ لیا جانا بھی عین ممکن تھا۔ میں نے خود کو دل ہی دل میں ملامت کی کہ اس خطرے کو پہلے کیوں نہ سمجھ لیا تھا۔ جونہی میں مزید ایک سیکنڈ رکا، ایک چھوٹی سی کنکری میرے اوپر سے آ کر عین رائفل کی نال پر گری۔ مجھے بخوبی علم تھا کہ اب وہ قاتل شیرنی میرے عین اوپر عقب میں موجود ہے۔

مزید وقت ضائع کئے بنا میں گھٹنوں کے بل اٹھا اور اپنی رائفل کو شانے سے لگا کر فائر کے لئے تیار کیا اور مڑا۔

ایک انتہائی خوفناک منظر میرے سامنے تھا۔ کوئی آٹھ فٹ کے فاصلے پر شیرنی جست لگانے کے لئے بالکل تیار حالت میں تھی۔ ہماری نظریں ایک ساتھ ملیں اور حیرت کے باوجود ہم دونوں نے اپنا اپنا رد عمل بیک وقت ظاہر کیا۔ شیرنی نے فلک شگاف دھاڑ لگا کر جست لگائی اور میں نے واپس بیٹھے ہوئے گولی چلائی۔

رائفل کے بھاری دھماکے نے جو کہ میرے کان سے محض چند انچ دور ہوا تھا، نے شیرنی کی دھاڑ کے ساتھ مل کر نہایت عجیب تاثر پیدا کیا۔ یہ آج بھی میرے ذہن میں گونجتا ہے اور میرے اعصاب کو مفلوج سا کر دیتا ہے۔

شیرنی ابھی اس چٹان کے پیچھے ہی تھی کہ فائر اس کے بالکل سر کے پاس ہوا۔ اس بھاری رائفل کے دھماکے اور بارود کے دھوئیں نے مل کر اس پر اتنا اثر ڈالا کہ وہ رکنے کی بجائے فرار ہو گئی۔ وہ میرے سر کے اوپر سے ہوتی ہوئی گذری اور اس کے عقبی پنجے میری رائفل کی نال پر پڑے۔ رائفل میرے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے لاش کے پاس نالے میں جا گری۔ رائفل کے نیچے گرنے سے قبل ہی شیرنی نالے کے دوسرے کنارے تک پہنچ چکی تھی اور دو ہی چھلانگوں میں یہ جا وہ جا۔

اپنی موجودہ سنگین صورتحال سے میں اب آگاہ ہوا۔ میں غیر مسلح تھا اور اگر شیرنی لوٹتی تو میں اس کے رحم و کرم پر ہوتا۔ اسی طرح اگر شیرنی زخمی تھی تو میرے نیچے اترنے کی حالت میں مجھ پر حملہ آور ہو جاتی۔ میں نے پھر بھی یہی مناسب جانا کہ نیچے اتر کر رائفل اٹھا لوں۔ نیچے اترنے سے واپس اپنی جگہ لوٹنے تک میں ہر لحظہ یہی منتظر رہا کہ اب شیرنی کی دھاڑ کی آواز آئے گی۔ لیکن چند ہی سیکنڈ میں رائفل کے ساتھ میں اپنی جگہ بحفاظت لوٹ آیا۔

بظاہر رائفل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا اور نیچے گرنے کا جھٹکا اس کے کندے نے بخوبی برداشت کر لیا تھا۔ فائر شدہ کارتوس نکال کر میں نے دوسرا لگایا اور سوچنے لگا کہ کیا میرا فائر شیرنی کو لگا یا کہ خالی گیا۔ مجھ سے دو فٹ کے فاصلے پر کوئی کالی اور سفید چیز دکھائی دی۔ اٹھانے پر دیکھا کہ وہ شیرنی کے کان کا بڑا حصہ تھا۔ شاید اتنے نزدیک سے ہونے والے فائر نے اس کے کان کو کاٹ دیا تھا۔ یہ حصہ ابھی تک نرم و گرم تھا اور ابھی اس سے خون رسنا شروع ہوا ہی تھا۔

اب یہ کہنا کہ میں کتنا مایوس اور نا امید ہوا، فضول ہے۔ اتنے نزدیک سے بھی میں شیرنی کو مارنا تو درکنار اسے معمولی سا زخمی بھی نہ کر سکا۔ کان کے کٹ جانے سے شاید اسے چند دن تک معمولی سا درد ہوتا اور بس۔ لیکن دوسری طرف وہ اب شکار کی لاش پر دوبارہ لوٹنے سے گریز بھی کر سکتی تھی۔ اس کی مکاری اور بھی بڑھ جاتی اور وہ بھوکی ہونے پر شکار کرتی اور کبھی اس پر لوٹ کر نہ آتی۔ ہو سکتا تھا کہ اس کی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع ہو جاتا یا یہ بھی عین ممکن تھا کہ وہ اس جگہ سے بہت دور کسی اور جگہ چلی جاتی جہاں اس کی موجودگی کا کسی کو شبہ تک نہ ہوتا۔ میں نے خود کو پھر ملامت کی اور ساری رات منتظر رہا کہ شیرنی کب آتی ہے۔ اگلی صبح میرے آدمی واپس آئے اور مجھے مایوس اور ٹھٹھرتا ہوا پایا۔ گرم چائے کے ساتھ سینڈوچ اور پھر پائپ پی کر میں نے پوری صورتحال کا اچھی طرح سے دوبارہ جائزہ لیا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اگر میری چھٹی حس کام نہ کرتی تو اس وقت نالے میں نیچے ایک کی بجائے دو لاشیں موجود ہوتیں۔ کم از کم مجھے اس پر تو شکر گذار ہونا چاہئے۔

جہاں سے شیرنی نے چھلانگ لگائی تھی، جا کر دیکھا کہ شاید خون کا کوئی نشان ہو۔ لیکن جیسا کہ میرا اندازہ تھا، خون کا کوئی بھی نشان نہ ملا۔ البتہ کہیں کہیں کسی کسی پتے پر خون کی بوند دکھائی دے جاتی۔ جلد ہی یہ بھی دکھائی دینا بند ہو گیا۔ انتہائی مایوسی کے عالم میں ہم لوگ واپس لوٹے۔

میں نے گنڈالم میں مزید دس روز قیام کیا اور روز بھینسے باندھتا رہا۔ رات بھر بھینسوں کے پاس اور تالابوں کے کنارے بیٹھتا رہا اور دن کو جنگل میں تلاش جاری رکھتا۔ میرے آدمی گروہوں کی شکل میں ادھر ادھر جاتے کہ شاید کہیں شیرنی نے تازہ شکار کیا ہوا ہو۔ کچھ بھی تو نہ ہوا اور میں نے یقین کر لیا کہ شیرنی کسی زیادہ بہتر اور محفوظ جگہ کی طرف چلی گئی ہے۔

گیارہویں دن میں نے گنڈالم چھوڑا اور انچٹی اور پھر ڈینکانی کوٹہ کا رخ کیا۔ یہاں میں ہوسور کے مقام پر رکا اور اپنے دوست کلکٹر کو ساری رپورٹ دے کر اس سے وعدہ لیا کہ وہ کسی بھی نئی اطلاع سے فوراً آگاہ کرے گا۔ اب میں بنگلور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

پانچ ماہ گذر گئے۔ اس دوران میرے دوست کلکٹر نے مجھے تین خطوط بھیجے کہ اسے دور دراز کے علاقوں سے شیر کے سبب ہلاکتوں کی افواہیں سنی گئی ہیں۔ ان میں سے دو دریائے کاویری کے دوسری جانب سے بھی تھیں۔ ایک میسور سے اور ایک اس سے بھی اور آگے سے۔

اچانک ہی وہ بری خبر آئی جس کا میں منتظر تھا۔ شیرنی نے ایک بار پھر گنڈالم میں شکار کیا تھا۔

یہاں یہ اس کا آٹھواں شکار تھا۔ گذشتہ دن صبح کے وقت اس نے مقامی مندر کے دروازے سے پجاری کو اٹھا لیا جو وہاں چالیس سال سے کام کر رہا تھا۔ اس خط میں مجھے جلد از جلد آنے کی تلقین کی گئی تھی۔

یہ تلقین بے جا تھی کیونکہ میں مہینوں سے اس خبر کا منتظر تھا۔ دو ہی گھنٹے بعد میں وہاں سے روانہ ہو چکا تھا۔

وہاں پہنچتے ہی خوش قسمتی سے سے مجھے چند ایک آدمی ایسے مل گئے جو پجاری کی ہلاکت کے وقت ادھر موجود تھے اور انہوں نے تقریباً یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یہ لوگ مندر پہنچے ہی تھے کہ انہیں شیر کی دھاڑ سنائی دی اور فوراً ہی شیر تیس گز دور پیپل کے پرانے درخت کے پیچھے سے نکل کر جنگل کی طرف چلا گیا۔ یہ سب پناہ کی تلاش میں مندر کے اندر کی طرف بھاگے تو مندر کو خالی پایا۔ تلاش کرنے پر انہوں نے پجاری کی لاش کو اسی پیپل کے درخت کے نیچے پایا جہاں سے شیر برآمد ہوا تھا۔ بغور جائزہ لینے پر انہیں اندازہ ہوا کہ پجاری کو یا تو مندر کے اندر سے یا پھر بالکل قریب سے شیر نے پکڑا اور مار ڈالنے کے بعد اسے پیپل کے درخت کے نیچے لایا۔ ابھی شیر نے پجاری کے سوکھے سینے کا کچھ حصہ ہی کھایا تھا کہ یہ لوگ پہنچ گئے۔

میں نے بار بار ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا شیر کے دونوں کان سلامت تھے؟ مگر وہ لوگ حادثے کے وقت اتنے گھبرا گئے تھے کہ انہیں کچھ یاد ہی نہ رہا۔

اندھیرا پھیلنے کے وقت میں ادھر پہنچا۔ مجھے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس سفر کے آخری دو میل بہت ہی تھکا دینے والے تھے۔ یہ حصہ دو بہت ہی ڈھلوان پہاڑوں سے نیچے اترتا ہے۔ یہاں ہر طرف بانس کے گھنے جھنڈ موجود ہیں۔ ہم نے نہ تو کچھ دیکھا اور نہ ہی کچھ سنا۔ ہم کل چار آدمی تھے۔ راستے میں صرف اس ہاتھی کو دیکھا جس نے کچھ عرصے سے اس علاقے میں قیام کیا ہوا تھا اور اکا دکا آدمی دیکھ کر ان کے پیچھے لگ جاتا تھا۔

ہمارے پاس باقاعدہ خیمے لگانے کا وقت نہ تھا۔ اس لئے ہم نے مندر کے اندر ہی سونے کا فیصلہ کیا۔ میں بھری رائفل لے کر نگرانی کرتا رہا اور میرے تین آدمیوں نے ادھر ادھر سے آگ جلانے کے لئے خشک لکڑیاں اور چھوٹے موٹے درختوں کے سوکھے تنے اکٹھے کر لئے۔ یہاں اس طرح کی خشک لکڑیاں بے شمار تھیں۔ اس جگہ جہاں کچھ دن قبل آدم خور ایک بندہ مار چکا ہو، رہنا کافی عجیب سا لگتا تھا لیکن ہمارے پاس دوسرا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔ ہم نے اندھیرا مکمل چھانے سے قبل ہی آگ جلا لی جس نے ہماری حفاظت کے ساتھ ساتھ ہمیں حرارت بھی پہنچائی۔ ان حالات میں بیٹھ کر یہ انتظار کرنا کہ شاید آدم خور ادھر سے گذرے، نہ صرف احمقانہ بلکہ مہلک بھی ہو سکتا تھا۔ جلد ہی آگ نے پوری طرح زور پکڑ لیا اور ہم اس کے اندر کی طرف بیٹھ گئے۔ یہاں تاریکی اتنی گہری تھی کہ آگ کے بغیر دو فٹ دور بھی کچھ نہ دکھائی دیتا تھا۔ سانبھر کی آواز ہم نے توجہ سے سنی پھر بارہ سنگھے کی آواز آئی لیکن پھر اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ آدھی رات کے بعد ہم نے جوڑوں کی شکل میں نگرانی کا سوچا تاکہ دوسرے افراد تین گھنٹے کی نیند لے سکیں۔ میں نے پہلی باری لینا پسند کی۔ جلد ہی دوسرے دو افراد سو گئے۔ پاگل ہاتھی بھی ادھر آن پہنچا اور اتنا قریب آن پہنچا آگ کی روشنی میں وہ بخوبی دکھائی دے رہا تھا۔ ایک بار اس نے ہلکی سی آواز نکالی اور پھر بھاگ گیا۔ دو بجے ایک کاکڑ یعنی بھونکنے والا ہرن چلایا اور پھر دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ شاید اس نے کسی تیندوے کو دیکھا ہوگا۔ دو بجے میں نے دیگر دو افراد کو جگایا اور خود سو گیا۔ سورج طلوع ہوتے وقت میری آنکھ کھل گئی۔

نزدیکی کنویں سے پانی لے کر ہم نے چائے بنائی اور پھر کچھ کھانا زہر مار کر کے ہم باہر نکلے اور پجاری کی باقیات کا جائزہ لیا۔ دن کو گدھوں اور رات کو لگڑبگھوں نے خوب پیٹ بھرا تھا۔ یہاں چند ہڈیاں ہی باقی بچی تھیں۔ بیچارہ پجاری۔ چالیس سال سے اس مندر میں رہا اور آخر یہی اس کا دم نکلا۔ اس بیچارے نے چالیس سال تک یہی جنگل دیکھا ہوگا جو ابھی ہم دیکھ رہے تھے۔ یہی آوازیں اور یہی سب کچھ۔ اب صرف چند ہڈیاں باقی تھیں۔

پھر اگلا گھنٹہ ہم نے ادھر ادھر جائزہ لے کر گذارا تاکہ شیر کے پگ (پنجوں کے نشانات) مل سکیں۔ چند پرانے اور مدھم نشانات دکھائی دیئے لیکن میں ان کو مطلوبہ شیرنی کے پگوں سے نہ ملا سکا۔

سات بجے ہم گنڈالم کی طرف روانہ ہوئے جو تئیس میل دور تھا۔ پانچ بجے شام کو ہم پہنچے۔ یہاں میری ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی۔ اس نے واضح طور پر شیرنی کو دیکھا تھا کیونکہ اس کے ساتھی کو شیرنی اس کے پاس سے لے گئی تھی۔ اس کا ساتھی راستے میں پیشاب کرنے بیٹھا ہی تھا کہ جھاڑی سے شیرنی کا سر نمودار ہوا۔ اس کا ایک کان غائب تھا۔ اس کے بعد شیرنی کا پورا جسم باہر نکلا۔ جونہی شیرنی نے اسے گلے سے پکڑا، ایک چیخ کی آواز آئی اور اگل ہی لمحے شیرنی اور اس کا شکار، دونوں جنگل میں گم ہو گئے۔

یہ وہ اطلاع تھی جس کا مجھے انتظار تھا۔ آخر کار یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ وہی آدم خور شیرنی تھی جو اب واپس اس علاقے میں لوٹ آئی تھی۔

مجھے کسی بھی طرف سے جنگلی یا پالتو جانور کے مارے جانے کی اطلاع نہ ملی۔ میں نے اس بار بھینسا باندھنے سے گریز ہی کیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ آمنے سامنے ہی شیرنی کو مارا جا سکتا ہے۔

اگلے دو دن تک میں جنگل میں پھرتا رہا۔ ہر لمحہ یہی لگتا تھا کہ شیرنی نے اب حملہ کیا کہ اب حملہ کیا۔ راستے میں بے شمار جگہوں پر شیرنی کے پگ ملے اور خصوصاً دریائے گنڈالم میں تو نرم زمین پر یہ بہت واضح تھے اور میں نے فوراً ہی پہچان لئے کہ یہ وہی شیرنی ہے۔ میں خود کو اب گذشتہ پانچ ماہ میں ہونے والی اموات کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔

تیسرے دن ایک جماعت میرے پاس تیس میل دور جولاگری سے آئی کہ وہاں کے فارسٹ بنگلے کے چوکیدار کو شیرنی نے مار ڈالا ہے اور بنگلے سے سو گز کے اند رہی بیٹھ کر آدھا ہڑپ کر گئی ہے۔ یہ گذشتہ روز کا واقعہ تھا۔

شیرنی کے بارے یہ معلوم تھا کہ وہ ایک شکار کر کے اسی جگہ دوسرا دن نہیں گذارتی۔ میں نے سوچا کہ شاید شیرنی کے واپسی کے سفر میں اس سے ملاقات ہو جائے۔ میرے ساتھ میرے تینوں ساتھی اور نو وارد افراد بھی شامل ہو گئے کہ وہ اکیلے جانے سے میری ہمراہی میں جانا بہتر سمجھ رہے تھے۔ یہ افراد دوڑ کر تیس میل کا سفر طے کر کے آئے تھے۔

ہم دوبارہ سولے کنتا پہنچے۔ سورج کی روشنی بالکل مدھم ہو چلی تھی اور آج کل راتیں کافی تاریک تھیں۔ ہم نے دوبارہ کیمپ فائر کو ہی ترجیح دی اور اب چونکہ ہماری تعداد بارہ ہو چکی تھی، ہم کافی محفوظ محسوس کر رہے تھے۔

ساری رات بے چین گذری کہ سانبھر اور کاکڑ مسلسل بولتے رہے۔ نصف میل دور سے شیرنی کی آواز بھی میں نے سنی۔ گھنٹہ بھر بعد یہ آواز کافی نزدیک پہنچ گئی۔ ہم نے واضح طور پر محسوس کیا کہ یہ شیرنی کی اپنے ساتھی کی تلاش میں نکلی ہوئی حالت کی آواز ہے۔ شیرنی نے کیمپ فائر کو بھی دیکھ لیا اور ہماری موجودگی سے آگاہ ہو گئی تھی۔ نئے شکار کی تلاش اور ساتھی کی امید میں وہ دو تین بار مندر کے گرد بھی گھومی۔ پھر اس کی آوازیں نسبتاً زیادہ دور ہو گئیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ زور زور سے بولتے رہیں اور آگ کو زیادہ روشن نہ کریں۔ مجھے اندازہ تھا کہ شیرنی ساتھی کی تلاش اور بھوک کی وجہ سے زیادہ دور نہ جائے گی۔ اس دوران میں نے دو بار نر شیر کی آواز بھی نکالی۔

صبح کاذب کے وقت وہ پھر بولی۔ میں نے خود کو شاباش دی کہ شیرنی کو دور نہ جانے دیا تھا۔ روشنی ابھی پھیلنا شروع ہی ہوئی تھی کہ میں نے یہاں سے چوتھائی میل دور ایک بڑے درخت کا رخ کیا۔ اس درخت کے پاس ہی پچھلے سال ایک لڑکا مارا گیا تھا۔ یہ جگہ شکار کے لئے ہر لحاظ سے بہت مناسب تھی اور یہاں مچان کی بھی ضرورت نہ تھی۔

درخت تک میں آرام سے پہنچ گیا اور پھر بارہ فٹ کی بلندی پر میں ایک دو شاخے پر جم گیا۔ یہاں سے میں میں دونوں اطراف میں بخوبی دور تک دیکھ سکتا تھا۔ اب میں نے اپنی پوری قوت سے زور لگا کر نر شیر کی آواز نکالی۔ خاموشی نے میرا استقبال کیا۔ میں تذبذب میں پڑ گیا کہ شیرنی کہیں دور تو نہیں نکل گئی۔ اب ایک اور نئی فکر لاحق ہو گئی کہ شیرنی شاید مندر کے آس پاس تازہ شکار کے لئے منڈلا رہی ہو۔

نکلنے سے قبل میں نے اپنے ساتھیوں کو سختی سے سمجھا دیا تھا کہ میری واپسی تک باہر نہ نکلیں۔ لیکن شاید کوئی میری ہدایت سے روگردانی کرے۔ حوائج ضروریہ پوری کرنے یا پھر کنویں سے پانی لینے ہی باہر نکلے۔ کنواں دروازے سے چند قدم ہی تو دور تھا۔

میں نے دوبارہ نر شیر کی آواز نکالی۔ خاموشی۔ چند لمحے رک کر میں نے پھر پوری قوت کے ساتھ آواز نکالی۔ اس بار فوراً ہی مندر کی طرف سے جواب ملا۔ میرا اندازہ درست تھا کہ شیرنی شکار کی تلاش میں ادھر ہی تھی۔

میں نے دو بار مزید آواز نکالی۔ دوسری آواز کا جواب اندازاً سو گز دور سے ملا۔ میں نے فوراً رائفل تانی اور پچیس گز دور موڑ کی طرف نشانہ لے لیا۔ میرا اندازہ تھا کہ وہ نصف منٹ سے قبل ہی ادھر پہنچ جائے گی۔ ابھی میں نے ستائیس تک ہی گنا تھا کہ شیرنی نمودار ہوئی۔ وہ چاروں طرف دیکھ رہی تھی کہ نر کہاں ہے۔ اس بلندی سے شیرنی کا ایک کان بخوبی دکھائی دے رہا تھا۔ بالآخر اتنی مشقتوں کے بعد شیرنی ایک بار پھر میرے سامنے تھی۔ اس بار میں کوئی غلطی نہ کی۔ اسے روکنے کے لئے میں نے بہت مدھم سی آواز نکالی۔ وہ اچانک ہی رکی اور استعجاب کی حالت میں اوپر درخت کو دیکھنے ہی لگی تھی کہ میری اعشاریہ 405 بور کی رائفل گرجی اور گولی سیدھی شیرنی کی آنکھوں کے بیچ جا کر لگی۔ شیرنی اپنی جگہ پر ڈھے سی گئی اور اس پر لرزہ طاری ہو گیا۔ میں نے فوراً ہی دوسری گولی بھی اس کی کھوپڑی میں اتار دی۔ یہ گولی فضول ثابت ہوئی کیونکہ شیرنی کی کھوپڑی بری طرح خراب ہو گئی اور اسے محفوظ کرنے میں بہت دشواری پیش آئی۔

بالآخر جولاگری کی قاتل، آدم خور شیرنی اپنے انجام کو پہنچی۔ اگرچہ وہ قاتل، بے رحم اور سنگدل تھی، میں نے اس طرح دھوکہ دے کر اس کے شکار پر کچھ ندامت سی محسوس کی۔

مزید کچھ کہنا بیکار ہے۔ میرے ساتھیوں نے فوراً ہی بانس کے درخت کاٹے اور گھاس سے رسیاں بنا کر شیرنی کو اس پر لادا۔ ہم سات میل دور جولاگری کی طرف روانہ ہو گئے۔ آدم خور کی دہشت کے باعث گاؤں میں داخل ہوتے وقت تک کوئی شخص نہ دکھائی دیا۔ لیکن ہمارے پہنچتے ہی گاؤں میں غل مچ گیا اور لوگوں نے ہمیں گھیر لیا۔ ان کی آنکھوں اور رویئے سے شیرنی کے لئے بے پناہ نفرت ظاہر ہو رہی تھی۔ یہاں کھانا کھا کر اور چائے اور تمباکو پی کر لوگوں کی مدد سے شیرنی کو اپنی سٹوڈ بیکر کی عقبی سیٹ پر باندھ دیا۔ اب میرا واپسی کا سفر شروع ہوا اور بے پناہ خوش تھا کہ میں نے اتنے آدمیوں کی قاتل سے آخر کار بدلہ لے ہی لیا۔

ہوس درگا کا آدم خور
ہولالکور چیتل درگ ضلع کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ میسور کی ریاست میں واقع ہے۔ یہ شہر ریاست کی انتہائی شمال کی جانب واقع ہے۔ اس کی سرحدیں شمال مشرق میں واقع بیلاری ڈویژن سے جا ملتی ہیں۔ اس علاقے میں آدم خوروں کی موجودگی کے بارے اکثر اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان شیروں کو وراثت میں آدم خوری ملتی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

آج سے دس سال قبل اس علاقے میں متواتر آدم خوری کی اطلاعات ملتی رہی تھیں۔ اس کے بارے میسور گزٹ میں عام اعلان تھا کہ کوئی بھی شخص بغیر شکار کے اجازت نامے کے ان شیروں کو مارنے کا مجاز تھا۔

ان دنوں بنگلور میں ایک بہت ہی ہنس مکھ اور کھلنڈرا جوڑا رہتا تھا۔ ان کے نام مسز اور مسٹر میکٹوش تھے۔ یہ دونوں شیروں بالخصوص آدم خوروں کے شکار کے بہت شائق تھے۔ انہوں نے مجھے تجویز دی کہ کیوں نہ ہم تینوں مل کر ان شیروں کا پیچھا کریں؟

اس طرح میں میکٹوش کی کار میں اس کے ساتھ بنگلور سے چیتل درگ روانہ ہوا۔ یہاں ہم محکمہ جنگلات کے ضلعی افسر سے ملے تاکہ ان شیروں کی بابت تازہ اطلاعات لے سکیں۔

یہ افسر بہت ہی دوستانہ قسم کا نکلا اور اس نے ہمیں تفصیل سے بتایا کہ موجودہ آدم خور کی سرگرمیاں چیتل درگ سے لے کر ہولالکور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ کل دس میل لمبی اور نو میل چوڑی پٹی تھی۔ آخری دو شکار ہوس درگا کی بستی سے ہوئے تھے جو کہ آدم خور کی آخری سرحد پر واقع تھی۔

اس درندے کی خون آشام سرگرمیاں مشرق میں واقع ایک بہت بڑے پانی کے ذخیرے سے شروع ہوتی تھیں جو یہاں سے کوئی پانچ میل دور تھا۔ اس ذخیرے میں بڑی بڑی مچھلیاں اور مگرمچھ بکثرت تھے۔ اس جھیل کے کناروں کے ساتھ ساتھ سے لے کر چیتل درگ تک آدم خور کی سرگرمیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ یہ آدم خور چیتل درگ سے جنوب کی طرف قریب ہی واقع ایک پرانے قلعے کے کھنڈرات میں بھی کئی بار دیکھا گیا تھا۔ اس قلعے کو مقامی طور پر “یوگی مت” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

میں یہ جانتا تھا کہ ان کھنڈرات میں اکثر ریچھ اور تیندوے بھی ملتے ہیں۔ شیر البتہ شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم ہولالکور سے ہوس درگا منتقل ہو جاتے ہیں کیونکہ اس طرف آدم خور کی حالیہ سرگرمیوں کا ثبوت مل چکا ہے۔ بعد میں اگر ضرورت پڑتی تو ہم اپنی جگہ بدل بھی سکتے تھے۔

اگلی صبح ہم لوگ جلدی ہی روانہ ہو گئے۔ ہولالکور پہنچنے تک ہمیں گھنٹہ لگا۔ یہاں کے ماحول سے صاف لگتا تھا کہ لوگ آدم خور کی قربت سے کتنے ڈرے ہوئے ہیں۔ ہمیں طرح طرح کی کہانیاں سننے کو ملیں۔ ان میں سے چند ایک کہانیاں تو ایک دوسرے سے بالکل متصادم تھیں۔ ان تمام تر باتوں سے ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ آدم خور بہت طاقتور اور آوارہ گرد ہے۔ اس کے علاوہ بالکل ہی غیر متوقع طور پر کہیں بھی نمودار ہو سکتا ہے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ وہ کھجور کے باغات میں بہت بار دیکھا گیا ہے۔ یہ باغات سڑک کے کنارے تھے اور یہاں مختلف قسم کی بیلیں بہت تھیں۔ یہ باغات ہولالکور سے ذرا فاصلے پر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اس علاقے میں شیر کے روزانہ گذرنے کے نشانات بھی ملتے ہیں۔ یہ نشانات عام سڑک سے ہو کر گذرتے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہوس درگا اور ہولالکور کے درمیان نو میل کا فاصلہ ہے اس پر ہم گاڑی کی مدد سے چکر لگاتے رہیں۔ ہمیں اندازہ تھا کہ کھجور کے باغات سے گذرتے ہوئے جلد یا بدیر ہماری مڈبھیڑ آدم خور سے ہو سکتی ہے۔

رات کے سات بجے ہم لوگ نکلے۔ ہولالکور سے میل بھر دور پہنچ کر ہمیں کھجور کے درخت دکھائی دینا شروع ہو گئے۔ البتہ ان کے تنے ابھی بھی نظروں سے اوجھل تھے۔ یہاں سے ہم کینچوے کی رفتار سے چلنا شروع ہوئے اور ہر طرف ٹارچوں اور فلیش لائٹوں سے روشنی پھینکتے گئے۔ سڑک کا منظر تو گاڑی کی ہیڈ لائٹس سے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس طرح نصف میل مزید آگے جا کر ہم نے دیکھا کہ ایک کالا بھجنگ آدمی کھجور کے درخت پر کوئی پندرہ فٹ بلند چڑھا ہوا ادھ پکی کھجوریں کھا رہا ہے۔

مزید نزدیک پہنچ کر ہم نے کار روک دی۔ وہ شخص تیزی سے نیچے اترنے لگا۔ نصف راستے پر اس نے مڑ کر دیکھا تو میرے ساتھی یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یہ ریچھ تھا۔ مجھے اندازہ تھا لیکن میں یہ چاہتا تھا کہ میرے دوست خود سے یہ محسوس کریں تو بہتر رہے گا۔ مسز میکٹوش نے اپنی تھرٹی بور سپرنگ فیلڈ رائفل اٹھائی اور کار میں بیٹھے بیٹھے ہی گولی چلا دی۔ گولی لگتے ہی ریچھ چھپکلی کی طرح پٹ سے نیچے گرا۔

اس کے بعد ہم ہوس درگا کی طرف چل پڑے۔ اسی طرح ہم نے دو مزید چکر لگائے۔ آخری چکر پر ریچھ کی لاش کے پاس ہمیں ایک لگڑبگڑ دکھائی دیا۔ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر ریچھ کی لاش اسی طرح رہنے دی جاتی تو کچھ دیر بعد ہی لگڑبگڑ اور دیگر جانور اسے کھا جاتے۔ ہم تیندوں نے مل کر اس بھاری لاش کو بمشکل تمام کار کے بونٹ پر رکھا۔ بمشکل اس لئے کہ ریچھ کے جسم پر بہت گھنے اور چکنے بال ہوتے ہیں کہ ہاتھ جمانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

اگلی صبح چائے کے ساتھ دلیا، گوشت کے تلے ہوئے پارچے اور انڈوں کا ناشتہ مسز میکٹوش نے تیار کیا۔ اس سے فارغ ہو کر ہم نے ریچھ کی کھال اتاری۔ اب ہم نے ہوس درگا جا کر ہونے والی ان سابقہ دو وارداتوں کے بارے پوچھ گچھ کرنے کی ٹھانی۔

کھجور کے باغات سے گذرتے ہوئے ہم نے دن کی روشنی میں دیکھا کہ ایک مخصوص بیل جو کہ امبل یعنی Lanta کہلاتی ہے، نے پورے باغ کو اس طرح لپیٹا ہوا ہے کہ کچھ بھی نہیں دکھائی دیتا۔ ہم یہ دیکھ کر بہت مایوس ہوئے کہ شیر اگر وہاں ہوتا بھی تو ہمیں دکھائی نہ دیتا۔

ہوس درگا جا کر ہم نے سابقہ دو واقعات کی تفصیل سنی۔ پہلی واردات دو ہفتے قبل ہوئی تھی۔ گیارہ سال کی ایک کم عمر لڑکی جو تعلق کے عملدار کی دور پار کی رشتہ دار تھی، کو شیر اس کے گھر کے دروازے سے اٹھا کر لے گیا۔ یہ گھر بستی کے کنارے واقع تھا۔ رات کو آٹھ بجے وہ شاید رفع حاجت کے لئے باہر نکلی اور پھر واپس نہ آئی۔ کوئی شور یا چیخ وغیرہ بھی نہ سنائی دی۔ کچھ دیر تک جب وہ واپس نہ لوٹی تو اس کے والدین کو پریشانی ہوئی اور انہوں نے لالٹینیں جلا کر اس کی تلاش کی کوشش کی۔ وہاں زمین اتنی سخت تھی کہ کوئی نشان نہ مل سکا۔ انہوں نے فوراً ہی پورے گاؤں کو خبردار کر دیا۔ گھنٹے بعد ہی کوئی پچاس کے قریب افراد کی جماعت تلواروں، بھالوں اور دو مزل لوڈنگ بندوقوں سے مسلح ہو کر تلاش میں نکلے۔ رات بہت تاریک تھی۔ انہیں لڑکی نہ مل سکی۔ اگلی صبح جب وہ مزید دور تک تلاش کرتے نکلے تو نصف میل دور جھاڑیوں میں لڑکی کے زیر جامے کے ٹکڑے لٹکے ہوئے ملے۔ اس معصوم بچی کی باقیات کبھی نہ مل سکیں۔

دوسری واردات بارہ دن قبل ہوئی تھی۔ یہاں سے پانی کا بڑا ذخیرہ پانچ میل دور تھا۔ اس کے کنارے سے نصف میل پر ایک جگہ تالاب سا بنا ہوا تھا۔ اس تالاب کو گاؤں کے دو دھوبی بھائی استعمال کرتے تھے۔ ان کے پاس تین گدھے تھے جن پر وہ کپڑے لاد کر لاتے لے جاتے تھے۔ اس شام پانچ بجے کپڑوں کو دھو کر یہ بھائی گدھوں پر لاد کر گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ چونکہ یہ گدھے ہی ان کی کمائی کا واحد ذریعہ تھے، اس لئے وہ ان کی بطور خاص حفاظت کرتے تھے۔ عموماً ایک بھائی آگے اور دوسرا پچھے چلتا تھا اور تینوں گدھے درمیان میں قطار بنا کر چلتے تھے۔ ابھی وہ ہوس درگا سے میل بھر ہی دور ہوں گے کہ اچانک جھاڑیوں سے شیر نکلا اور اگلے بھائی کو دبوچ کر اتنی سرعت سے غائب ہوا کہ وہ بیچارہ چیخ تک نہ مار سکا۔ دوسرا بھائی جو پیچھے تھا، یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ وہ فوراً الٹے قدموں بھاگا اور تالاب پر ہی جا کر دم لیا۔

آٹھ بجے تک نہ تو گدھے اور نہ ہی دونوں بھائی پلٹے تو ان کی بیویوں کو تشویش ہوئی۔ انہوں نے فوراً ہی پورا گاؤں اکٹھا کر لیا۔ دس بجے تک ساٹھ افراد کی جماعت جو کہ حسب معمول تلواروں، بھالوں اور دو مزل لوڈنگ بندوقوں سے مسلح تھی، لالٹینوں کی روشنی میں تلاش کرنے نکلی۔

جلد ہی انہوں نے ایک گدھے کو راستے کے عین درمیان آرام سے بیٹھے ہوئے پایا۔ دھلے ہوئے کپڑوں کی ایک گٹھڑی ابھی تک اس پر لدی ہوئی تھی۔ تالاب سے کچھ فاصلے پر انہیں دوسرا بھائی بھی ملا۔ وہ غشی کی حالت میں تھا۔ شاید بھائی کے ساتھ ہونے والے حادثے اور پھر جنگل میں تاریکی اور اکیلے ہونے کا احساس ہی اسے بے ہوش کرنے کے لئے کافی تھا۔ اس کے منہ سے کف بہہ رہا تھا اور آنکھیں الٹی پھری ہوئی تھیں۔ گھنٹے بعد اسے ہوش آیا تو اس نے اس جانکاہ حادثے کے بارے لوگوں کو بتایا۔ اس کے ساتھ یہ ساری جماعت جائے حادثہ پر پہنچی۔ نیم دلی سے انہوں نے تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے کہ اس میں انہیں کوئی کامیابی نہ ملی۔ انہوں نے اگلے دن تک کے لئے تلاش ملتوی کر دی۔

اگلے روز وہ دن کی روشنی میں دوبارہ تلاش کے لئے نکلے ۔ اس بار انہوں نے فوراً ہی خون کے نشانات اور کپڑوں کی دھجیاں پا لیں۔ ان کا پیچھا کرتے کرتے وہ متوفی کی لاش تک پہنچ گئے۔ اسے تین چوتھائی کھایا جا چکا تھا۔ اس کے دو بازو، کھوپڑی، ایک ٹانگ اور ایک پاؤں ہی باقی بچے تھے۔ ان اعضاء کو رسومات کے لئے ہوس درگا واپس لایا گیا۔ دونوں گدھے بھی راستے سے فرلانگ بھر دور چرتے ہوئے مل گئے۔

اس کے علاوہ ایک اور واقعے کی بھی اطلاع ملی۔ چار دن قبل ہوس درگا سے ہولالکور جانے والی بیل گاڑی ہوس درگا سے تین میل دور شیر کے حملے کا شکار ہوئی۔ حملے کا وقت دن کے تین بجے تھا۔ اس بیل گاڑی میں تین بیل جتے ہوئے تھے۔ جونہی شیر نے حملہ کیا، گاڑی بان گاڑی چھوڑ کر بھاگ گیا اور لمبا چکر کاٹ کر ہوس درگا پہنچا۔

اگلی صبح ایک کھوجی جماعت بیل گاڑی کی تلاش میں نکلی۔ بیل گاڑی اسی جگہ موجود تھی اور ایک بیل ابھی تک گاڑی میں جتا ہوا تھا۔ اس سے پچاس گز دور دوسرے بیل کی ادھ کھائی لاش موجود تھی۔ شیر نے بیل کو اس کے ساتھی کی نظروں کے سامنے ہی کھایا تھا۔ شیر نے حملہ کر کے پہلے بیل کو مارا، پھر گاڑی توڑ کر بیل کو اس سے نکالا اور پھر اسے اٹھا کر پچاس گز دور لے گیا۔

ہمیں یہ بھی اطلاع ملی کہ دو اور شکاری بھی اس شیر کی تلاش میں مسافر بنگلے میں پانچ روز سے مقیم ہیں۔

اس اطلاع نے ہمارے سارے جوش پر ٹھنڈا پانی انڈیل دیا۔ یہ شکار کے اصولوں کے خلاف تھا کہ ہم بھی بیک وقت اسی شیر کی تلاش شروع کر دیتے جس کے پیچھے یہ لوگ تھے۔ زیادہ شکاری مل کر یا تو شکار کو بھگا دیتے ہیں یا پھر خود ہی ایک دوسرے کے لئے خطرہ ثابت ہوتے ہیں۔ دو ملاؤں میں مرغی حرام ہونے کا تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔

دس بج رہے تھے اور ہم یہ سب معلومات اکٹھی کرنے کے بعد یہ بحث کر رہے تھے کہ واپسی کب کی رکھی جائے۔ اتنی دیر میں وہ دونوں شکاری بھی آن پہنچے۔ یہ دونوں نوجوان اور بالکل ہی نا تجربہ کار تھے لیکن نہایت ہی پر جوش۔ متعارف ہوتے ہوتے انہوں نے وہ ساری باتیں دہرائیں جو ہم اب تک گاؤں والوں سے معلوم کر چکے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک نو عمر بھینسے کو انہوں نے بطور چارہ دھوبی کی لاش والی جگہ پر باندھا تھا۔ پہلی رات تو کچھ نہ ہوا تھا۔ ابھی دوسری صبح قلی وغیرہ یہ معلوم کرنے گئے ہوئے تھے کہ کیا شیر نے اسے مارا ہے یا نہیں۔

ہم نے ان نوجوانوں کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور یہ بھی بتایا کہ ہم جلد ہی واپس لوٹ رہے ہیں کیونکہ ہم ان کے لئے کوئی مشکلات نہیں پیدا کرنا چاہتے۔ انہوں نے سختی سے اس تجویز کی مخالفت کی اور بتایا کہ وہ لوگ اگلی صبح واپس جا رہے ہیں۔

ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ قلیوں نے آ کر بتایا کہ شیر نے اس بھینسے کو مار ڈالا ہے اور اسے آدھا کھا بھی چکا ہے۔ ان نوجوانوں نے ہمیں دعوت دی کہ ہم لوگ بھی ان کے ساتھ مچان پر بیٹھ کر شیر کی آمد کا انتظار کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم نے معذرت کر لی۔

ہم نے کھانا اکھٹے کھایا اور پھر اس طرف چل دئے جہاں بھینسا مارا گیا تھا تاکہ اگر ان نوجوانوں کو کسی مدد یا ماہرانہ رائے کی ضرورت ہو تو ہم انہیں مدد دے سکیں۔

ہم نے دیکھا کہ انہوں نے حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھینسے کو اس جگہ باندھا جو ہر طرف سے بڑے بڑے پتھروں سے گھری ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھینسے کو مضبوطی سے بھی نہ باندھا تھا جس کی وجہ سے شیر اسے مار کر ایک بڑے پتھر کے پیچھے لے گیا۔ یہاں سے وہ درخت مکمل طور پر اوجھل تھا جہاں یہ دونوں مچان باندھنے کا سوچ رہے تھے۔

اس جگہ آدم خور کے آنے کے دو ہی ممکنہ راستے تھے۔ پہلا اس طرف سے جہاں دھوبی کو شیر نے مارا تھا اور دوسرا پہاڑی کی طرف سے جو چوتھائی میل دور تھی۔ اس جگہ دو کافی بڑے پتھر موجود تھے جہاں سے لاش بخوبی دکھائی دیتی تھی۔

انہوں نے ان پتھروں کے پیچھے چھپنے کا سوچا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ ان کا مقابلہ آدم خور سے ہے۔ یہ ان کی زندگی کی آخری رات بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر وہ بیٹھنے پر ہی مصر ہیں تو انہیں پتھروں کے اوپر بیٹھنا چاہئے۔ انہوں نے میری بات نہ مانی اور کہا کہ وہ ان پتھروں کو ٹیک لگا کر زمین پر ہی بیٹھیں گے۔

انہیں چند جھاڑیوں سے چھپا کر ہم چار بجے بنگلے کافی متفکر ہو کر لوٹے۔ پہلے میں نے سوچا کہ میں ان کے نزدیک ہی کہیں چھپ کر ان کی مدد کے لئے تیار رہوں۔ پھر میں نے سوچا کہ شاید شیر میری موجودگی سے ڈر کر نہ آئے اور بعد میں یہ لڑکے میری نیت پر شک کریں۔ ہمیں اندازہ نہ تھا کہ یہ ہماری آخری گفتگو تھی۔

وہ شام ہم نے بنگلے میں چائے پینے، تمباکو نوشی اور گپ شپ میں گذاری۔ اس کے علاوہ ہم نے مزید مقامی لوگوں سے معلومات لینے کی کوشش بھی کی۔ شام ہی سے تیز ہوا چلنے لگی جس کا رخ جنوب سے مغرب کی طرف تھا۔ اس سے یہ نقصان ہوا کہ ہم لڑکوں کے فائر کی آواز نہ سن پاتے جو یہاں کوئی میل بھر دور تھے۔ ہم نے رات کا کھانا جلدی کھا لیا اور پھر میک اور اس کی بیوی سونے چلے گئے۔ میں نے برآمدے میں بیٹھ کر سن گن لینے کا سوچا۔

گیارہ بجنے والے تھے کہ گاؤں کب کا خاموش ہو چکا تھا۔ اکتا کر میں نے بھی سونے کا سوچا۔ اسی وقت میں نے عجیب سی آواز سنی۔ ایسا لگا کہ جیسے کوئی بھاگ رہا ہو اور ٹھوکریں کھا رہا ہو۔ مجھے اپنے بدترین خدشات درست ہوتے معلوم ہوئے۔ میں نے فوراً ہی رائفل اٹھائی اور اس جانب لپکا۔

جلد ہی میں اس تک جا پہنچا۔ وہ انس تھا۔ دونوں میں سے بڑا۔ اس کے کپڑے لیر لیر تھے اور بدن پسینے سے بھیگا ہوا۔ اس کی چال شرابیوں سے مشابہ تھی۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا اور اکثر ٹھوکر کھا کر گرتا پھر اٹھ کر بھاگتا۔ اسے کندھے سے پکڑ کر میں نے اس کے ساتھی کے بارے پوچھا۔ اس کا سانس اتنا پھولا ہوا تھا کہ بول نہ سکا۔ مجھے اپنے خدشات درست ہونے کا اب یقین ہو چلا۔ آخر کار کچھ دیر بعد جب اس کا سانس بحال ہوا تو اس نے بتایا کہ شیر اس کے ساتھی کو لے گیا ہے اور میرے شانے سے لگ کر بچوں کی طرح بلکنے لگا۔

میں اسے سہارا دیتا ہوا بنگلے تک لایا اور پھر میک اور اس کی بیوی کو جگا دیا۔ پھر ہم نے انس کو تھوڑی سی برانڈی پلائی اور پھر اسے لٹا کر دوہرا کمبل اوڑھا دیا۔ مسز میک نے اس کی ہتھیلیوں کی مالش کی اور ہم سب بے صبری سے اس کی کہانی سننے کا انتظار کرنے لگے۔

س نے بتایا کہ وہ راستے کے نزدیک والے پتھر کے پاس بیٹھا اور اس کا ساتھی ٹاڈ دوسرے پتھر کے پیچھے۔ اندھیرا چھانے سے ذرا قبل اس نے اپنے ساتھی ٹاڈ کے پیچھے جھاڑیوں میں کسی لال رنگ کے جانور کو ہلتے دیکھا۔ اس طرف زمین بہت ڈھلوان تھی۔ ظاہر ہے کہ انس ٹاڈ کو کچھ نہ کہہ سکتا تھا کہ خود یہ سارا منظر ٹاڈ کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اس نے خود اس طرف نگاہیں جمائے رکھیں لیکن پھر کچھ نہ دکھائی دیا۔

اندھیرا چھانے کے بعد وقت آہستہ آہستہ گذرتا رہا۔ دس بجے تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا۔ اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ تاروں کی روشنی میں بمشکل وہ چند فٹ دور تک دیکھ سکتا تھا۔ اچانک اس نے مدھم سی آواز سنی اور پھر اسے گھسٹنے کی آواز آئی۔ پھر ہڈیوں کے چبانے کی آواز آئی۔ اس نے اندازہ لگایا کہ شیر اپنے شکار پر واپس آ چکا ہے اور اب اسے کھا رہا ہے۔ اس نے کچھ دیر تک انتظار کیا کہ شاید ٹاڈ پہل کرے۔ یہاں سے ٹاڈ اور اس کا فاصلہ لاش سے یکساں ہی تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ٹاڈ بھی یہ آواز بخوبی سن رہا ہوگا۔

کافی وقت گذر گیا لیکن معلوم نہیں کیوں، ٹاڈ دم سادھے رہا۔

اچانک انس کو خیال آیا کہ شاید ٹاڈ سو چکا ہے۔ اس لئے اس نے خود ہی فائر کرنے کی ٹھانی۔ اس نے رائفل کی نال کو سیدھا کر کے ٹارچ روشن کی۔ طاقتور روشنی میں ایک بہت بڑا شیر اسے بھینسے کی لاش پر دکھائی دیا۔

اسی وقت ایک چیخ سنائی دی اور ساتھ ہی ایک دھاڑ۔ پھر ایک اور چیخ اور پھر ایک اور بار دھاڑ۔ انس نے فوراً ہی ٹارچ کو شیر سے ہٹا کر ٹاڈ کی طرف ڈالا۔ اس دوران شیر بھینسے کی لاش سے جست لگا کر جھاڑیوں میں گم ہو چکا تھا۔

اسے ٹاڈ کی جگہ خالی دکھائی دی۔ وہ اسے پکارتے ہوئے اس کی جگہ کی طرف بھاگا۔ ٹاڈ کی رائفل، اس کی پانی کی بوتل اور ادھ کھایا سینڈوچ وہیں پڑے تھے اور وہ خود غائب تھا۔ اب انس پاگلوں کی طرح دوست کی تلاش میں جنگل میں گھس گیا۔ اندھا دھند بھاگنے کی وجہ سے وہ راستہ بھول گیا۔ قسمت سے کچھ دیر بعد اس کا رخ بنگلے کی طرف ہو گیا۔

انس کی کہانی سے یہ واضح تھا کہ ہمارا سامنا اب دو مختلف شیروں سے تھا۔ پہلا شیر جو مویشی خور یعنی لاگو تھا اور دوسرا جو آدم خور۔ شاید وہ نر مادہ کا جوڑا تھے۔ میں نے زندگی بھر اتنا عجیب جوڑا نہ دیکھا تھا۔ یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ ایک ہی شیرنی کے بچے ہوں جن میں سے ایک نے مویشی خوری اور دوسرے نے آدم خوری کو چنا ہو۔ انس نے دوسرے مویشی خور شیر کو بہت بڑا شیر کہا تھا۔ یہ کسی بھی طرح نوعمر نہیں ہو سکتا تھا۔ آدم خور کو آج تک کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا۔

پندرہ منٹ میں ہم نے پورے گاؤں کو جگا دیا۔ بیس افراد کو ساتھ لے کر ہم روانہ ہوئے۔ ان لوگوں کے پاس دو مزل لوڈنگ بندوقیں، تلواریں اور بھالے تھے۔ انس اور مسز میک نے بھی ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ جلد ہی ہم لوگ اس پتھر تک پہنچ گئے جہاں سے ٹاڈ کو آدم خور لے گیا تھا۔

تلاش کرتے کرتے ہم نے ایک عجیب سے ربڑ کا جوتا دیکھا جو شاید ٹاڈ کے بائیں پاؤں سے گرا تھا۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ شیر کا رخ چھوٹی پہاڑی کی طرف ہے۔ اس طرف ہر ممکن تیز رفتاری سے بھاگتے ہوئے ہم اس جگہ پہنچے جہاں آدم خور نے ٹاڈ کو پہلی بار زمین پر ڈالا تھا۔ یہاں سے وہ پھر شاید انس کے شور و غل سے گھبرا کر پھر ٹاڈ کے ہمراہ آگے چل پڑا۔ یہاں سے اب خون کی لکیر ہماری رہنمائی کر رہی تھی۔ اس لکیر کی مدد سے ہم پہاڑی کے دامن تک پہنچ گئے۔

میری اور میک کی نگرانی میں کھوجی پارٹی اب پوری طرح محتاط ہو کر ٹاڈ کی لاش تلاش کر رہی تھی۔ ساڑھے تین پر ہم نے لاش کو پا لیا۔ اسے آدم خور نے آدھا کھا لیا تھا۔ اس کو دیکھ کر انس کا عجیب حال ہوا۔ پہلے تو وہ خوب رویا پھر بیہوش ہو گیا۔ صبح کے چھ بجے ہم لوگ ٹاڈ کی باقیات لے کر گاؤں پلٹے۔ انس اب بالکل ہی بیکار ہو چکا تھا۔

ہم نے ٹاڈ کی باقیات کو میک کی کار میں رکھا۔ میں نے انس کو کار میں بٹھایا اور ہم لوگ چیتل درگ کی طرف چل پڑے۔ یہاں انس کو ہم نے مقامی ہسپتال میں داخل کرا دیا۔ باقی کا پورا دن رسمی اور بیکار دفتری کاروائیوں میں گذرا جو اس طرح کے حادثوں کے بعد ہوتی ہیں۔ سورج ڈوبتے ڈوبتے ہم ہوس درگا واپس پہنچے۔ ہم بہت افسردہ اور انتقامی جذبے سے بھرے ہوئے تھے۔ رات ہم نے سو کر گذاری۔ مسز میک نے ان تمام واقعات کا نہایت پامردی سے مقابلہ کیا تھا۔ ان کی موجودگی سے ہمیں ناقابل بیان مدد ملتی رہی۔

اگلی صبح ہم لوگ پھر سے جائے حادثہ پر موجود تھے۔ یہاں اگلے تین چار گھنٹوں میں ہم نے مختلف شواہد اکھٹے کئے۔ زمیں سخت اور خشک تھی۔ یہاں آدم خور کے نشانات کا ملنا ناممکن سی بات تھی۔ انس کی زبانی مویشی خور شیر کا نر ہونا معلوم ہو چکا تھا۔ ہمارا اندازہ تھا کہ آدم خور مادہ شیرنی ہی ہو سکتی ہے۔

جب اس جگہ کچھ نہ ملا تو ہم نے آدم خور کے راستے کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ آدم خور کے آنے اور جانے کے راستے بھی چھان مارے۔ سخت زمین ہونے کے باعث ایک بھی پگ نہ مل سکا۔ آدم خور کی جسامت اور جنس کے بارے ابھی تک ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔

ہوس درگا سے ہم چیتل درگ گئے تو دیکھا کہ گدھوں بھینسے کی لاش کو مکمل طور پر صاف کر دیا ہے۔ اب ہمیں یہ کام بھی نئے سرے سے شروع کرنا تھا۔

صلاح مشورے کے بعد ہم نے ایک اور بھینسا خریدا اور اس راستے کے نزدیک باندھا جو دھوبی کی جائے ہلاکت سے نزدیک تھا۔ میک اس پر بیٹھ کر انتظار کرتا اور میں وہاں موجود ایک بڑے پتھر پر بیٹھتا جو ٹاڈ والے مقام کے نزدیک تھا۔ ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ چونکہ دونوں شیر، مویشی خور اور آدم خور ایک ساتھ ہی شکار کو نکلتے ہیں تو مویشی خور کی طرف سے بھینسے کو مار لینے کے بعد ممکن تھا کہ آدم خور بھی اسے کھانے لگ جاتا۔ اس طرح میک کو گولی چلانے کا موقع ملتا۔ اگر وہ بچھڑے کو نہ بھی کھاتا اور پاس ہی رک کر انتظار کرتا تو میں اس کے استقبال کو موجود تھا۔ میرا پتھر اس جگہ تھا جو پہاڑی کی بالکل سیدھ میں تھی۔ اس کے علاوہ یہاں سے راستے کے دونوں اطراف دیکھنا بھی ممکن تھا۔ شیر کی موجودگی یا آمد کی اطلاع اس کے سانس لینے کی بھاری آواز سے پتہ چل سکتی تھی۔

چونکہ میک کے بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی اور نہ ہی کوئی درخت پاس موجود تھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ زمین میں ایک گڑھا کھود کر اس میں میک کو بٹھا دیا جائے۔ حفاظت کے خیال سے ہم نے یہ بھی طے کیا کہ ایک بڑی کڑاہی کو الٹا کر کے میک کے سر پر رکھ دی جائے۔ یہ کڑاہی گڑ بنانے کے لئے عام استعمال ہوتی تھی اور کافی بڑی تھی۔ اس کی موٹائی کوئی چوتھائی انچ کے برابر تھی اور ہم نے ایسی کئی کڑاہیاں ہوس درگا میں دیکھی تھیں۔

جلد ہی ہم گاؤں سے پلٹے۔ ہمارے ساتھ چھ بندوں نے یہ کڑاہی اٹھائی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ میک کی کار پر ڈنڈے بھی لدے ہوئے تھے جو اس کڑاہی کو چھپانے کے لئے استعمال ہونے تھے۔ شب بیداری کے دیگر لوازمات بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے اس کڑاہی کو الٹ کر رکھ دیا اور اس کے نیچے چار چھوٹے چھوٹے پتھر رکھ دئے۔ اب کڑاہی زمین سے چھ انچ جتنی بلند تھی۔ اس خلا سے نہ صرف ہوا کی آمد و رفت ممکن تھی بلکہ اس سے میک شیر کو دیکھ کر اس پر گولی بھی چلا سکتا تھا۔ کڑاہی رکھنے کے بعد ہم نے اس پر ڈنڈوں کی مدد سے جھاڑیاں لگا دیں۔ اس پر ہم نے گڑھے سے نکلی ہوئی مٹی بھی ڈال دی۔ کچھ فاصلے سے یہ کڑاہی اب محض ابھری ہوئی زمین محسوس ہو رہی تھی۔

جب میک بیٹھنے لگا تو ایک مسئلہ پیدا ہوا۔ میک کی بیوی نے بھی اس کے ساتھ بیٹھنے کی ضد کی۔ ہم نے اسے باز رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہایت ضدی ثابت ہوئی۔ بالآخر ہم نے گڑھے پر سے کڑاہی ہٹائی اور میک اور اس کی بیوی اندر گھس گئے۔ اس کے بعد پھر ہم نے سارا کچھ نئے سرے سے ترتیب دے کر رکھا۔ میرے خیال سے وہ دونوں بالکل محفوظ تھے۔ ان کے سروں پر موٹی آہنی کڑاہی موجود تھی۔

شام پانچ بجے میں چٹان پر چڑھا اور لیٹ کر شیر کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ سارا دن دھوپ میں ہونے سے یہ پتھر ابھی تک سخت گرم تھا۔

گھنٹے گذرتے گئے لیکن پورا جنگل چپ تھا۔ حتیٰ کہ الو تک نہ تھے۔ مکمل گہرا سکوت طاری تھا۔ ستارے جھلملا رہے تھے۔ میں نے فریڈ ٹاڈ کے انجام کے بارے کافی دیر تک سوچا۔

آدھی رات گذر گئی کہ میں نے اچانک دو بار سیٹی کی آواز سنی۔ یہ ہمارا طے شدہ سگنل تھا۔ میں فوراً پتھر سے نیچے اترا اور ٹارچ جلا کر نہایت احتیاط سے ان تک پہنچا۔ وہ دونوں بھینسے کے پاس ہی موجود تھے۔ بھینسا ابھی تک زندہ سلامت تھا۔ کڑاہی ایک طرف الٹی پڑی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ نصف شب تک انہوں نے نہ کچھ دیکھا نہ سنا۔ میک بھینسے کی طرف منہ کئے بیٹھا تھا اور اس کی بیوی اس کی پشت کی جانب نگران تھی۔ اچانک اس نے اپنی ایک طرف ہلکی سی آواز سنی۔ اس نے جھک کر زمین اور کڑاہی کے درمیانی خلا سے جھانکا تو پہلے پہل کچھ نہ دکھائی دیا۔ پھر اسے ایک لمبا سا پتھر دکھائی دیا جو ان سے چھ فٹ دور تھی۔ اس کا حجم باتھ ٹب جتنا تھا۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ شام تک یہاں ایسی کوئی چیز نہیں تھی۔ اس نے مزید آگے جھک کر دیکھا تو وہ شیر نکلا۔ وہ خوف سے کانپ گئی۔ اس نے اپنے شوہر کو ٹہوکا دیا۔ شیر اسی کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔ اس نے بار بار شوہر کو ٹہوکے دئے۔ جس جگہ میک دیکھ رہا تھا، شیر اس سے دوسری طرف تھا۔ یہ گڑھا چونکہ ایک آدمی کے لئے تھا، دو آدمیوں کی موجودگی سے اس میں رخ بدلنا آسان نہیں تھا۔

میک نے بار بار کے ٹہوکوں سے محسوس کیا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اس نے آہستگی سے مڑنے کی کوشش کی۔ اس کی رائفل کی نال جو کہ باہر کی طرف نکلی ہوئی تھی، کڑاہی سے ٹکرائی اور ہلکی سی آواز پیدا ہوئی۔ شیر نے “ووف” کی آواز نکالی اور جست لگا کر غائب ہو گیا۔ انہیں اندازہ تھا کہ شیر ان کی موجودگی سے آگاہ ہو گیا ہے اور اب واپس نہ آئے گا۔

اب چونکہ مزید رکنا بیکار تھا، ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اب ہوس درگا بنگلے کو واپس لوٹ جائیں۔ بھینسے کو ادھر ہی چھوڑ دیا کہ ہمارے آدمی اگلے دن آ کر لے جائیں گے۔

اگلی صبح ہم نے بندے بھیجے تاکہ وہ بھینسے کو لے آئیں۔ فوراً ہی انہوں نے آ کر اطلاع دی کہ شیر بھینسے کو مار کر مکمل ہڑپ کر چکا ہے۔ بعجلت ہم اس جگہ تک پہنچے اور اصل صورتحال کا جائزہ لیا۔ بھینسے کے سر اور کھروں کے سوا سب کچھ چٹ ہو چکا تھا۔ یہاں ہم نے دیکھا کہ دو مختلف شیروں نے پیٹ بھرا تھا۔ ساتھ ہی پڑی کڑاہی اور جھاڑیاں وغیرہ بھی انہیں نہ ڈرا سکیں۔

ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آدم خور شیر موقع ملنے پر مویشی کھانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ بھی ممکن تھا کہ یہ ایک دوسرا مویشی خور ہوتا۔ یعنی ایک آدم خور اور دو مویشی خور۔

اگلی رات ہم نے وہی ترکیب دوہرائی۔ اس بار ہم نے بھینسا چوتھائی میل دور باندھا۔ اس بار ہم نے اتنا بڑا گڑھا بنایا کہ وہ دو آدمیوں کے لئے کافی ہو۔ اس بار میک اور میں اس میں بیٹھے۔ خوش قسمتی سے مسز میک نے دوبارہ بیٹھنے سے سختی سے انکار کیا۔ میک کا رخ بھینسے کی طرف اور میں اس کی مخالف سمت نگران تھا۔ ہماری کمریں ملی ہوئی تھیں۔ اس بار ہم نے نسبتاً بڑے پتھروں سے کڑاہی کو بلند کیا تاکہ باہر کا بہتر جائزہ لے سکیں۔

تین راتیں ہم نے اسی طرح گذاریں، کچھ بھی نہ ہوا۔ چوتھے دن صبح دس بجے جب ہم سو رہے تھے تو ہمیں جگا کر اطلاع دی گئی کہ کھجوروں کے باغ میں ایک اور آدمی مارا گیا ہے۔ یہ واقعہ تقریباً اسی مقام پر ہوا تھا جہاں ہم نے کچھ دن قبل ریچھ مارا تھا۔

کار پر سوار ہو کر ہم لوگ بعجلت ادھر پہنچے تو ہمیں کچھ نہ ملا۔ متوفی کے رشتہ دار اس کی لاش کو لے گئے تھے۔ بظاہر ہمارے پاس اب یہاں کچھ اور کرنے کو نہیں تھا۔

اب ہم نے ہولالکور سے ایک اور بھینسا خریدا اور اس جگہ باندھا جہاں یہ واردات ہوئی تھی۔ اس جگہ بالکل ساتھ ہی ایک درخت موجود تھا جہاں میں نے مچان بندھوائی۔ میک گذشتہ چار راتوں کی بیداری سے تھکا ہوا تھا۔ اس نے معذرت کر لی۔

اگلی صبح میں بہت تھکا ہوا اور مایوس پلٹا۔ میں نے اپنے آدمیوں کو بھیجا کہ وہ جا کر بھینسا کھول لائیں۔ نصف گھنٹے بعد وہ بھاگتے ہوئے آئے کہ جونہی انہوں نے بھینسا کھولا ہی تھا کہ شیر نے نزدیکی جھاڑی سے نکل کر بھبکی دی۔ وہ سر پر پیر رکھ کر بھاگے اور میرے پاس ہی آ کر دم لیا۔

فوراً ہی کار میں بیٹھتے ہوئے ہم اس جگہ پہنچے۔ وہاں جا کر دیکھا کہ بھینسا زندہ سلامت ہے۔ ہمارا دل چاہا کہ اپنی بوٹیاں نوچ لیں۔ ہمارے اندازے کے مطابق تو بھینسے کا کام تمام ہو چکا ہوتا۔ میں نے مچان پر بیٹھتے ہوئے میک کو واپس بھیج دیا۔ میرا اندازہ تھا کہ شیر شاید دوبارہ ادھر آئے۔

ایک بجے تک کچھ نہ ہوا۔ بھوک اور نیند کی شدت سے تنگ آ کر مجھے واپسی کا رخ کرنا پڑا۔ میں نے واپسی پر بھینسا کھول کر ساتھ لے لیا۔

اس رات ہم نے اسی جگہ دوبارہ بھینسا باندھا اور میں اس پر بیٹھا۔ میک اور اس کی بیوی پھر دوسری طرف جا کر کڑاہی کے نیچے بیٹھے۔ ان کے پاس ہی دوسرا بچھڑا بندھا ہوا تھا۔ ہم نے مسلسل تین راتیں اسی طرح گذاریں۔

اگلی صبح ساڑھے چھ تک کچھ نہ ہوا۔ وہ کار پر سوار ہو کر ہوس درگا سے آئے اور مجھے ساتھ لے گئے۔ وہاں ہم نے دوپہر کا کھانا کھا کر اپنی نیند پوری کی۔

چار بجے ہماری نیند شور و غل سے اکھڑی۔ باہر نکل کر دیکھا کہ کافی سارے لوگ جمع ہیں۔ ان سے استفسار پر معلوم ہوا کہ یہ درجن بھر آدمی مل کر ہولالکور سے چیتل درگ کی طرف مویشی منڈی لے جانے کی نیت سے لا رہے تھے تاکہ مغرب سے قبل ہی وہ منزل پر پہنچ جائیں۔ ہولالکور سے تین میل دور ان کے مویشیوں میں سے ایک رک گیا۔ اگلے مویشی کوئی پچیس گز دور پہنچ چکے تھے۔ ان میں ایک آدمی اس جانور کو واپس لانے کے لئے گیا ہی تھا کہ اس پر شیر نے حملہ کر دیا۔ اندازہ یہ تھا کہ شیر کافی دور سے ان کا پیچھا کر رہا تھا اور سڑک کے بالکل ہی کنارے چھپا ہوا تھا۔ جس آدمی پر شیر حملہ آور ہوا، وہ فوراً ہی دوڑا اور ساتھ موجود چٹان پر چڑھا۔ یہ سارا واقعہ باقی پوری جماعت دیکھتی رہی لیکن خوف کے مارے کچھ نہ کر سکے۔

شیر نے چھلانگ لگا کر اس بندے پر اپنا اگلا پنجہ جمایا تاکہ اسے نیچے گھسیٹ سکے۔ وہ بیچارہ مدد کے لئے چلاتا رہا اور دونوں ہاتھوں سے اس نے درخت کی ٹہنیاں پکڑ لیں جو اس چٹان پر جھکا ہوا تھا۔

پہلی کوشش میں ناکام ہو کر شیر نے دوسرا حملہ کیا۔ پہلی کوشش میں وہ اس بندے کی ران ادھیڑ چکا تھا۔ اس کی ران سے گوشت اور کھال لٹک رہے تھے۔

دوسرے حملے میں اس نے اگلے دونوں پنجے اس شخص پر جمائے اور اسے گھسیٹ لیا۔ وہ بیچارہ شیر کا وزن نہ سہار سکا اور نیچے گرا۔ اب شیر نے اسے گردن سے دبوچا اور یہ جا وہ جا۔

کار پر سوار ہو کر ہم اس جگہ چند ہی منٹ میں پہنچے۔ وہاں جا کر اس واقعے کی تفصیلات واضح ہوئیں۔ اس شخص کے ہتھیلیوں کی کھال اور ناخن درخت کی اس شاخ پر موجود تھے۔ ہر طرف خون ہی خون تھا۔

ہم نے ان نشانات کا پیچھا کیا جو اب گھنے جنگل کی طرف جا رہے تھے۔ اس وقت پانچ بج رہے تھے اور ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ ہی باقی تھا۔ اس کے بعد سورج غروب ہو جاتا۔ جلد ہی ہمیں پھٹے کپڑے، خون کا بڑا سا نشان بھی دکھائی دیا۔ شاید یہاں شیر نے متوفی کو پہلی بار نیچے ڈالا تھا۔

اس طرح فرلانگ بھر بعد ہمیں ایک جھاڑیوں سے ڈھکی چٹان دکھائی دی۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ اس جگہ بھی شیر اسے کھانے کو نہ رکا تھا۔ ابھی میں نے یہ سوچا ہی تھا کہ چٹان کے دوسرے سرے سے ہلکی سی غراہٹ آئی۔ اس کے فوراً بعد پتھر لڑھکنے کی آواز آئی۔ موڑ مڑتے ہوئے ہم نے لاش کو دیکھا جو اپنے ہی خون میں نہائی اور تہائی کھائی جا چکی تھی۔

وقت تیزی سے گذر رہا تھا اور یہاں کوئی مناسب درخت بھی نہ تھا۔ واحد جگہ ان چٹانوں میں سے کسی ایک پر چڑھ کر بیٹھنا ہی ہو سکتی تھی۔ یہ ایک چٹان بارہ فٹ بلند تھی۔ اس کی تین اطراف انتہائی ڈھلوان تھیں جہاں سے آدم خور کے حملے کا کوئی امکان نہ تھا۔ چوتھی طرف سے چڑھنا کافی آسان تھا۔ بدقسمتی یہ کہ وہ چوتھی طرف شکار کے سامنے نہ تھی بلکہ نوے درجے کے زاویے پر تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں چٹان پر لیٹ جاتا تو مجھے نہ صرف لاش کی طرف بلکہ چوتھی طرف بھی نگاہ رکھنی پڑتی ورنہ شیر مجھے با آسانی لے جاتا۔ میرے پیچھے کی طرف ایسی تھی کہ اس طرف سے شیر کے آنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس طرف سے شیر کو مجھ تک پہنچنے کے لئے بارہ فٹ بلند چھلانگ لگانی ہوتی۔ اگر وہ ناکام رہتا تو میرے پاس اتنا موقع ہوتا کہ دوسری چھلانگ سے قبل گولی چلا سکوں۔ میرے اندازے میں کوئی بھی شیر اتنی غیر یقینی حالت میں چھلانگ نہ لگائے گا۔

چوتھی طرف کو پتھروں اور جھاڑیوں سے چھپا کر میں اس پتھر پر لیٹ گیا۔ میں نے میک سے یہ بھی کہہ دیا کہ رات کا کچھ حصہ وہ ہوس درگا اور ہولالکور کے درمیان چکر لگاتا رہے۔ اس طرح یہ بھی ممکن تھا کہ اس کی مڈبھیڑ شیر سے ہوتی۔

میرے دوست اور دیہاتیوں کی روانگی کے بعد میں اکیلا رہ گیا۔ میرے سامنے ہی زمین پر متوفی کی لاش موجود تھی جو مکمل نہ تھی۔ وقت گذرتا رہا اور میں دائیں جانب سے بھی نگران رہا۔ اس سے ذرا دور موجود جنگل اتنا دھندلا ہو گیا تھا کہ وہاں شاید ہاتھی بھی نہ دکھائی دیتا۔

دس بجے میل بھر دور سے سانبھر کی آواز آئی۔ اس کے کچھ دیر بعد شیر کی آواز آئی جس کا جواب فوراً ہی سڑک کی جانب سے دوسرے شیر نے دیا۔

اب پوری صورتحال واضح ہوئی۔ اب ہمارا مقابلہ دو یا یوں کہہ لیں کہ تین ممکنہ شیروں سے تھا۔ ان میں سے ایک آدم خور، کمینہ خصلت اور مکار تھا۔ دوسرا مویشی خور اور اتنا ہی نڈر اور کمینہ تھا۔ لیکن یہ بھی ناممکن نہیں تھا کہ دونوں مفت کے چارے یا مویشی پر ہاتھ نہ صاف کرتے۔ اس طرح ایک تیسرے شیر کی موجودگی کا امکان بھی پیدا ہو چلا تھا۔ یہ تیسرا شیر ممکن تھا کہ مویشی خور ہوتا یا آدم خور یا دونوں ہی عادتیں اس میں پائی جاتیں۔ اب تک خشک اور سخت زمین کے باعث ہمیں کہیں بھی شیروں کے پگ نہیں مل سکے۔ اس طرح ہمیں کچھ بھی اندازہ نہ تھا کہ یہ جانور کتنے اور کس جنس سے تعلق رکھتے ہیں۔

شیروں کی آواز بند ہو چکی تھی۔ جھینگروں کی جھائیں جھائیں کے سوا اور کچھ نہ سنائی دیتا تھا۔ کبھی کبھار اُلو کی آواز آ جاتی تھی۔ تیز ہوا سے جب درختوں کی چوٹیاں جھکتیں تو ایسے لگتا جیسے سمندر کی بے قرار موجیں ٹکرا رہی ہیں۔

اچانک ہی بغیر کسی آواز یا اندازے کے بغیر میرے عقب سے پتھروں کے لڑھکنے کی آواز آئی۔ پھر اچانک ایک دھاڑ اور پھر شیر کے پتھر سے ناخن کھرچنے اور پھر کسی بھاری جسم کے نیچے گرنے کی آواز آئی۔ جب تک میں مڑ کر چٹان کے سرے تک پہنچتا آدم خور جا چکا تھا۔ آدم خور نے وہ کام کیا تھا جو میرے وہم و گمان سے باہر تھا۔ کسی طرح وہ میری موجودگی سے باخبر ہو گیا تھا۔ اس نے عقب سے گھات لگائی اور اس جگہ پہنچنے کے لئے بارہ فٹ اونچی چھلانگ لگائی جہاں میں لیٹا ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے شیر کی یہ چھلانگ چند ہی انچ نیچے رہی۔

رات کا بقیہ حصہ میں نے بہت محتاط ہو کر اور اس پتھر پر بیٹھ کر گذارا۔ اگلے دن سورج اچھی طرح جب چڑھ گیا تو میں نیچے اترا۔ میرا اندازہ تھا کہ آدم خور پھر گھات لگانے کی کوشش کرے گا۔ لیکن خوش قسمتی سے میں سڑک تک بخیریت پہنچ گیا۔ چند منٹ بعد ہی میک کار پر مجھے لینے آ گیا۔ اسے بھی ساری رات ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

بنگلے پر پہنچنے کے بعد ہم نے ایک جماعت کو اس لئے بھیجا کہ وہ اس لاش کو اچھی طرح جھاڑیوں سے ڈھانپ دیں تاکہ گدھ وغیرہ اس کو نہ کھا سکیں۔ میں اس پر اگلی رات بھی بیٹھنے کا سوچ رہا تھا۔ ابھی وہ آدمی روانہ ہی ہونے والے تھے کہ متوفی کے رشتہ دار بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے مجھ سے باقیات کو رسومات کے لئے لے جانے کی اجازت مانگی۔ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تاکہ میں اگلی رات پھر بیٹھ سکوں۔ لیکن وہ نہ مانے۔ اس رات آدم خور کو ٹھکانے لگانے کے سنہری موقع ہاتھ سے نکل گیا جس کا سارا ذمہ متوفی کے رشتہ داروں پر تھا۔

دو گھنٹے بعد ہمیں اطلاع ملی کہ پچھلے ہفتے ہم نے ہوس درگا کے نزدیک جو بھینسا بندھوایا تھا وہ مارا جا چکا ہے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں ہم نے کڑاہی نے نیچے چھپ کر شیر کا انتظار کیا تھا۔

اس رات میک اور میں اس کڑاہی کے نیچے پھر بیٹھے۔ آدھی رات کو ہمیں شیر کی موجودگی کا علم ہوا جو ہمارے اردگرد کی جھاڑیوں میں پھر رہا تھا۔ بار بار وہ آوازیں نکالتا۔ ہم نے بے چینی سے اس کا انتظار جاری رکھا۔ پینتالیس منٹ تک وہ ایسے ہی پھرتا رہا۔ ظاہر ہے کہ اسے بھینسے کی لاش کے پاس ہماری موجودگی کا علم ہو چکا تھا۔ اس وقت میک کو ایک بہت ہی نڈر لیکن احمقانہ خیال سوجھا۔ اس نے سرگوشی کی کہ وہ گڑھے سے نکل کر واپس جاتا ہے۔ اس طرح شیر بے فکر ہو کر لاش پر آئے گا اور میں اسے آسانی سے مار سکوں گا۔

اس سکیم پر عمل کرتے تو کامیابی یقینی تھی کیونکہ پچھلی بار ہمارے جانے کے بعد شیر آیا تھا اور اس نے لاش کر ہڑپ کیا تھا۔ لیکن ایسا کرتے وقت میک کے لئے خطرات بڑھ جاتے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ شیر وہی آدم خور ہوتا یا اس کے ساتھ آدم خور بھی موجود ہوتا۔ مجھے کوئی نصف گھنٹہ لگا پھر جا کہیں میں میک کے دماغ سے یہ خیال نکال سکا۔ واقعی اتنی تاریکی میں باہر نکلنا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے برابر ہوتا۔

شیر مسلسل گھومتا رہا اور علی الصبح چلا گیا۔ دن نکلنے پر ہم مایوس اور تھکے ہارے واپس لوٹے۔

اگلے دو دن بغیر کسی خاص واقعے کے گذرے۔ رات بھر ہم لوگ چیتل درگ، ہوس درگا اور ہولالکور کے چکر کاٹتے رہے کہ شاید کہیں شیر کی آنکھیں دکھائی دے جائیں۔ ہم طاقتور برقی ٹارچیں استعمال کر رہے تھے۔

تیسری صبح لمبانی لکڑہاروں کی ایک جماعت آئی۔ یہ لوگ جنگل میں چار ایک میل اندر کیمپ لگائے ہوئے تھے۔ رات کو انہوں نے کیمپ کے گرد آگ جلائی ہوئی تھی۔ رات کے پچھلے پہر جب ہر کوئی سو رہا تھا تو شاید آگ ایک جگہ سے کچھ مدھم پڑ گئی۔ شیر نے کسی نہ کسی طرح اسے عبور کیا اور ایک بیل کی گردن پکڑ لی۔ باقی کے بیلوں نے اچھل کود مچائی تو یہ سب جاگ گئے۔ انہوں نے شیر پر جلتی لکڑیاں پھینکیں اور شور مچایا تو وہ بھاگ گیا۔ بیل کے گلے پر شیر کے دانتوں کے گہرے نشانات تھے۔ اگلی صبح یہ سب لوگ چار بیل گاڑیوں پر واپس گاؤں آئے کہ پانچویں گاڑی کا بیل بہت زخمی تھا۔

ان لمبانیوں میں سے ایک ایسا بھی تھا جو اس علاقے میں پلا بڑھا تھا۔ یہ پورا علاقہ اسے زبانی یاد تھا۔ اس نے بتایا کہ جنگل میں چھ میل دور ایک چھوٹی سی ندی ایک تالاب سے جا ملتی ہے۔ اس تالاب کا پانی نہایت سرد اور شفاف ہے۔ تالاب کے کنارے گھنے درخت اگے ہوئے ہیں اور چاروں طرف ایسے پھسلوان پتھر ہیں کہ ان پر قدم جمانا ممکن نہیں۔ اس کا خیال تھا کہ وہ جگہ شیروں کی رہائش گاہ ہے۔ چونکہ یہ گرمیوں کے دن تھے اور دن بہت گرم۔ ہمارا اندازہ تھا کہ یا تو دن کو شکار سے پیٹ بھر کر جلد یا بدیر شیر اس طرف لازماً پیاس بجھانے آئے ہوں گے۔

یہ شخص بخوبی جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے تسلیم کیا کہ وہ غیر قانونی شکاری کے طور پر اکثر شکار کھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ببول سے شراب بھی کشید کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ کے بارے شاید ہی کوئی جانتا ہوگا۔

تین بجے ہم اس جگہ پہنچے۔ اس سے بہتر شیر کی رہائش میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ یہ تالاب چاروں طرف سے پتھروں سے گھرا ہوا تھا اور ایک جانب جہاں سے ندی آتی تھی، قابل گذر تھی۔ یہاں نرم مٹی پر شیر کے بے شمار پگ دکھائی دئے۔ ان سے پتہ چلا کہ ایک نر اور ایک مادہ شیرنی ادھر آتے ہیں۔ سابقہ اطلاعات کی روشنی میں بڑا شیر جو کہ نر تھا، لاگو شیر تھا اور دوسری آدم خور شیرنی۔

ایک بڑا اور گھنا آم کا درخت بالکل اسی جگہ کے نزدیک تھا جہاں سے ندی تالاب میں داخل ہوتی تھی۔ اس کی نچلی شاخیں پندرہ فٹ کی بلندی پر تھیں۔ ہم نے اس پر مچان باندھی جو لمبانی لکڑہارا ساتھ لایا تھا۔ ساڑھے چار بجے ہم اس پر بیٹھ گئے کیونکہ اس وقت لمبانی کو اکیلا بھیجنا نادانی ہوتی۔

گھنے درختوں کے سائے کے باعث تالاب پر سات بجے تک بالکل گھپ اندھیرا چھا گیا۔ اس وقت تک کسی بھی جانور نے ادھر کا چکر نہ لگایا تھا۔ ظاہر ہے کہ جنگل کے بادشاہ کی قربت کا خوف رہا ہوگا۔ گھنٹوں پر گھنٹے خاموشی سے گذرتے رہے۔ اکا دکا سانبھر اور کاکڑ کے بولنے کی آوازیں آتی رہیں۔

چار بجے ہم نے شیر کے سانس لینے اور بانس کے خشک پتوں پر چلنے کی آواز سنی۔ یہ آواز ہماری مخالف سمت سے آئی تھی۔ کئی منٹ گذرے لیکن ہمیں کچھ دکھائی نہ دیا۔ پھر دائیں طرف سے ہمیں شیر کے پانی پینے کی آواز سنائی دی۔

آخر وہ وقت آ ہی گیا۔ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق میں نے میک کو ٹہوکا دیا۔ اس نے آواز کی سمت رائفل سیدھی کی اور ٹارچ جلائی۔ تیز روشنی میں شیر پانی پر جھکا ہوا دکھائی دیا۔

اس نے فوراً ہی سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ میک نے گولی چلائی۔ شیر گولی لگتے ہی دھاڑ کر اچھلا، قلابازی کھائی اور پھر نیچے گرا۔ اس کی دم تیزی سے ہل رہی تھی۔ غراہٹوں کے ساتھ بلبلے نکل رہے تھے۔ میک نے دو مزید گولیاں چلائیں اور شیر پانی میں الٹا ہو گیا۔

صبح ہوتے ہی ہم نیچے اترے۔ میک نے نر لاگو شیر ہلاک کیا تھا۔ یہ بہت خوبصورت نر شیر تھا۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ آدم خور پھر بچ گئی ہے۔ میک کی پہلی گولی شیر کی ناک پر لگی اور اوپر والا جبڑا اور حلق توڑتے ہوئے گلے سے گذری۔ اسی سوراخ سے بلبلے نکل رہے تھے۔ دوسری گول دائیں شانے سے گذر کر جسم میں اندر تک دھنس گئی۔ تیسری گولی خالی گئی۔

چار دن گذر گئے۔ مقامی لوگوں نے ہمیں مبارکبادیں دینا شروع کر دیا کہ ہم نے آدم خور کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ آدم خور اور لاگو دونوں ایک ہی شیر تھے۔ ہمیں بخوبی علم تھا کہ اگر آدم خور شیرنی اپنے ساتھی کی موت کے بعد یہ علاقہ نہ چھوڑ گئی تو جلد ہی ہمیں اس کی سرگرمی کی پھر سے اطلاع ملے گی۔ یہ چار دن ہم نے راتوں کو سڑکوں پر گشت میں گذاریں۔

پانچویں دن دوپہر کو وہ خبر ملی جس کا ہمیں خدشہ تھا۔ چیتل درگ کے عملدار کے بھیجے ہوئے ہرکاروں نے آ کر بتایا کہ گذشتہ شام کو آدم خور یوگی مت کی پہاڑی کے دامن میں واقع گاؤں سے ایک چودہ سالہ لڑکے کو لے گئی ہے۔

ہم کار پر سوار ہو کر فوراً ادھر پہنچے۔ جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ یہ بستی پہاڑی کے دامن میں تھی اور اس لڑکے کا گھر گاؤں کے آخری سرے پر تھا۔ آدم خور نے اسے دروازے سے ہی دبوچا تھا۔ ہمارا اندازہ تھا کہ آدم خور کی کمین گاہ یوگی مت کی پہاڑی ہی ہے۔

لڑکے کی تلاش کی کوئی منظم کوشش نہ ہوئی تھی۔ ہم نے چھ بندے اکٹھے کئے اور اب ہمارے پاس صرف چار گھنٹے باقی تھے۔ اس کے بعد تاریکی چھا جاتی۔ ہم نے مل کر پہاڑی پر چڑھنا شروع کیا۔

جلد ہی ہمیں اندازہ ہوا کہ شیر اپنے شکار کو عام راستے سے لے کر نہیں گیا کیونکہ آدھے راستے تک ہمیں کوئی نشان وغیرہ نہ دکھائی دیا۔ آگے بڑھتے ہوئے میں نے آدمیوں کو ہدایت کی کہ وہ ہر طرف اچھی طرح دیکھ بھال کر گذریں۔ ہم نے کل تین چوتھائی فاصلہ طے کیا ہوگا کہ ایک آدمی نے دائیں طرف چوتھائی میل کے فاصلے پر ایک درخت پر گدھ بیٹھے دیکھے۔ جھاڑیوں میں پھنستے اور پتھروں سے ٹھوکریں کھاتے ہم اس جگہ پہنچے جہاں لڑکے کی لاش موجود تھی۔ شیر کے بعد گدھوں نے بھی اپنا پیٹ بھرا تھا۔ اب صرف بڑی ہڈیاں ہی باقی بچی تھیں۔

ان ہڈیوں پر بیٹھنا بے وقوفی ہوتی۔ مزید برآں آدم خور کی واپسی کے امکانات کم ہی تھی۔ پھر بھی میک نے مچان باندھ کر دو آدمیوں سمیت ادھر بیٹھنے کا سوچا اور نے سوچا کہ میں جلد ہی قلعے کا چکر لگا کر واپس آ جاؤں گا۔

تیز چلتے ہوئے میں قلعے میں پانچ بجے پہنچا۔ قلعے کی دیواریں بوسیدہ ہو چکی تھیں اور یہ سارا علاقہ کانٹے دار جھاڑیوں اور لاجونتی کی بیلوں کے سمندر میں چھپا ہوا تھا۔ میرے چاروں ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ادھر ہی ایک درخت پر چڑھ کر میری واپسی کا انتظار کریں گے۔ یہ درخت قلعے کی دیوار کی جڑ میں اگا ہوا تھا۔

میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ میں قلعے کی دیوار پر چلتا ہوا گذروں کیونکہ جھاڑیوں سے گذرنا ناممکن اور نہایت خطرناک تھا۔ وہاں گز بھر دور آدم خور بھی مجھے دکھائی نہ دیتا۔

جلد ہی میں قلعے کی دوسری طرف پہنچ گیا۔ میرا سانس اب بری طرح پھولا ہوا اور میں پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ یہاں میں نے مغربی افق پر سورج کو دیکھا جو ایک سنہری گیند کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔

میں اس قلعے میں پہلے بھی کئی بار آ چکا تھا۔ اس جگہ سے قلعے کی دیوار بالکل ٹوٹ چکی تھی۔ میں نے سوچا کہ اب جھاڑیوں میں گھس کر مزید سو گز دور موجود دیوار تک جاؤں۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ میں واپس جاؤں۔ تاخیر سے بچنے کے لئے میں نے جھاڑیوں سے ہو کر گذرنے کا سوچا۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کتنا مشکل سفر ہے۔ ہر قدم پر کانٹے اور جھاڑیاں کپڑوں میں پھنس جاتیں ۔ آگے بڑھتے ہوئے کافی شور بھی پیدا ہوتا۔

مجھے اچھی طرح اندازہ تھا کہ آدم خور یہیں کہیں نزدیک ہی چھپا ہوا ہو سکتا ہے کیونکہ یہ سارا علاقہ انسانوں کے لئے ناقابل رسائی تھا۔ آگے بڑھتے ہوئے میرے اعصاب پر خطرے کا احساس بری طرح سوار ہوتا چلا گیا۔ میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کیا کہ شیر کہیں نزدیک ہی ہے اور میرا پیچھا کر رہا ہے۔ اسے شاید حملے کے لئے مناسب موقع کا انتظار ہے۔ اگر میں جلد ہی ان جھاڑیوں سے نہ نکلا تو شیر کا حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ میری چھٹی حس ہمیشہ میری مدد بروقت کرتی ہے۔ میں چاروں طرف دیکھتا اور خوف سے کانپتا ہوا تیزی سے آگے بڑھا۔

تیس گز دور، بیس گز، پندرہ گز دور۔ اچانک جھاڑیوں سے شیرنی کا سر نکلا۔ اس کے کان پیچھے جھکے ہوئے تھے جو حملے کی علامت ہے۔ منہ کھلا ہوا اور دانت چمک رہے تھے۔

میری گولی اس کے کھلے منہ کے بالکل درمیان میں لگی۔ آگے بھاگنے کی کوشش میں جونہی میں نے نظریں ہٹائیں، شیرنی غائب ہو گئی۔ کانٹے میری کھال اور کپڑوں کو چیر رہے تھے اور آدم خور میرے پیچھے تھی۔

پندرہ گز طے کر کے جونہی میں کھلی زمین پر پہنچا اور مڑا تو دیکھا کہ شیرنی باوجود اس کے کہ میری گولی سے اس کی کھوپڑی کی ہڈی پشت سے اڑ چکی ہے، مجھ سے صرف دو گز دور تھی۔ اس کی کھوپڑی کا پچھلا حصہ بالکل غائب تھا۔ دہشت سے مرنے کے قریب میں نے دوسری، تیسری اور چوتھی گولی اس کے جسم میں اتار دی۔ شیرنی پہلو کے بل گری۔ میں کانپتا ہوا پتھر پر بیٹھ گیا۔ مجھ پر غشی سی طاری ہو رہی تھی۔

دس منٹ بعد میں اٹھا اور شیرنی سے بچتے ہوئے اس درخت کو پلٹا جہاں میرے بقیہ چار ساتھی موجود تھے۔ چار گولیوں اور شیرنی کی غراہٹیں سن کر وہ یہ فرض کر چکے تھے کہ میں مارا گیا ہوں۔ اب وہ یہ بحث کر رہے تھے کہ آیا ابھی اتر کر جانا بہتر ہے یا پھر اگلی صبح دن کی روشنی میں؟ ظاہر ہے کہ وہ مجھے زندہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔

انہیں ساتھ لے کر ابھی میں بمشکل نصف فرلانگ ہی پلٹا ہوں گا کہ میک بقیہ دو آدمیوں کے ساتھ اس طرف بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔ اس نے گولیوں کی آوازیں سنی تھیں اور وہ ادھر یہ سوچ کر لپکا کہ شاید مجھے اس کی مدد کی ضرورت ہو۔ مجھے کانٹوں سے لہولہان دیکھ کر اس کا چہرہ دہشت سے سفید پڑ گیا کہ شاید مجھے شیرنی گھائل کر چکی ہے۔

اس جگہ بیٹھتے ہوئے اور پائپ پیتے ہوئے میں نے اسے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مجھے اعتراف ہے کہ جو سرور مجھے اس پائپ سے ملا وہ عمر بھر یاد رہے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح آدم خور کا کھلا منہ مجھ سے دو گز دور تھا، نہ بھول پائے گا۔

اس رات ہم شیر کو لاد کر کار تک اور پھر چیتل دروگ پہنچے۔ جیسا کہ ہمارا اندازہ تھا یہ آدم خور شیرنی ہی تھی۔ مجھ پر حملہ بھی اس بات کی علامت تھا۔ اگلی صبح کھال اتارتے وقت عملدار نے ادھر کا چکر لگایا جو اپنی رشتہ دار کے قاتل کو دیکھنا چاہتا تھا۔ فارسٹ افسر اور دیگر افسران بھی آئے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں مقامی افراد نے بھی اسے دیکھا تھا۔ شام ڈھلے ہم لوگ دونوں شیروں کی کھالیں لے کر واپس بنگلور پلٹے۔

شیرنی کی کھال اتارتے وقت ہمیں کسی زخم یا معذوری کا نشان نہ ملا۔ ہمارا اندازہ یہی تھا کہ وہ اس علاقے کی کسی دوسری آدم خور شیرنی کی اولاد ہوگی جسے بچپن سے آدم خوری کی لت لگ گئی ہوگی۔

خوش قسمتی سے نر شیر کو ابھی تک انسانی گوشت کی لت نہ لگی تھی ورنہ یہ جوڑی بے حد خطرناک ہو جاتی۔ کسی بھی تیسرے شیر کی موجودگی کے شک کی وجہ سے ہم نے کئی ماہ تک خبروں کا جائزہ لیا اور پھر مطمئن ہو گئے۔

نو آدم خور اور ایک پاگل ہاتھی
حصہ دوم
کینّتھ اینڈرسن
ترجمہ منصور قیصرانی

وادیِ چملا کا آدم خور
وادئ چملا ضلع چتوڑ گڑھ کے جنوب مشرقی سرے پر واقع ہے جہاں یہ کڈپہ کے ضلع سے ملی ہوئی ہے۔ یہ وادی نسبتاً چھوٹی ہے اور پانچ میل چوڑی اور سات میل لمبی ہے۔ اس کے دو بازو انگریزی کے حرف Y کی طرح شمال مغرب اور شمال مشرق کی طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی لمبائی چار میل ہے۔ کڈپہ پہنچ کر یہ ختم ہو جاتے ہیں۔

ایک خوبصورت دریا جو کہ کالا یانی کہلاتا ہے، وادی سے شمال مشرق سے گذرتا ہے۔ یہ دریا امبل میرو اور گنڈال پنٹا سے نکلتا ہے۔ ان جگہوں کا پانی سخت گرمیوں میں بھی یخ بستہ رہتا ہے۔ یہاں کالا پانی دریا جنوب کی طرف بہتے ہوئے ناگا پتلا سے گذرتا ہے۔ یہاں ایک پرانی جھیل ہے جہاں چندرگری اور ٹیپو سلطان نے بند باندھنے کی کوشش کی تھی تاکہ گرمیوں میں اس کا پانی آبپاشی کے لئے کام میں لایا جا سکے۔ یہاں ایک اکلوتا فارسٹ بنگلہ بھی موجود ہے۔

وادئ چملا پوری طرح جنگلات سے بھری ہوئی ہے۔ مغرب کی طرف بخراپٹ کی جنگلی پٹی ہے اور مشرق کی طرف تیرو پاٹی کا جنگل، جس میں موجود ایک قدیم مندر پورے ہندوستان میں مشہور ہے۔ جنوب کی طرف چندرگری کے قصبے میں ایک قدیم قلعہ موجود ہے جو اپنے سابقہ مالک بادشاہ کی آخری نشانی ہے۔

چندری گری کے نزدیک ایک میٹر گیج والی ٹرین کی پٹڑی گذرتی ہے اور آگے جا کر یہ مدراس بمبئی والی براڈ گیج لائن سے مل جاتی ہے۔ چندری گری ریلوے سٹیشن سے ایک پگڈنڈی نکلتی ہے جو ساڑھے تین میل بعد چملا کی وادی سے ہوتی ہوئی پلی بونو جا کر اچانک ختم ہوتی ہے۔ پل بونو کا مقامی زبان میں مطلب “شیر کی کھوہ” ہے۔ یہاں محکمہ جنگلات کی طرف سے کیمپ لگانے کے لئے دو مستطیل قطعے اور پانی کا کنواں موجود ہے۔

اٹھارہ سال قبل یہ خوبصورت وادی اور اس کی شاخیں شکار کے لئے جنت کی طرح تھیں۔ چیتل کے بڑے بڑے جھنڈ وادی میں گھومتے پھرتے تھے۔ یہاں بعض بارہ سنگھوں کے سینگ اتنے بڑے تھے کہ پورے جنوبی ہندوستان میں اور کہیں نہیں ملتے۔ کالا ریچھ بھی یہاں بکثرت ملتا ہے۔ سانبھر بھی عام پائے جاتے ہیں۔ کاکڑ یعنی بھونکنے والا ہرن بھی بکثرت ہے۔ وادی کے بڑے حصے میں شیر کے لئے عام خوراک موجود ہے۔ چیتے بھی ادھر بے اندازہ ہیں۔ مور بھی بے تحاشہ پائے جاتے ہیں۔ جنوبی ہندوستان کے دیگر جنگلوں کے برعکس میں نے یہاں دن کے بارہ بجے، دو بجے اور ساڑھے چار بجے بھی دم پھیلاتے دیکھا ہے۔ سورج نکلتے اور ڈوبتے وقت تو یہ عام منظر ہوتا ہے۔

1937 کے اوائل میں ایک دن یہاں وہ دہشت ناک درندہ آن پہنچا جس کا میں تذکرہ اب کروں گا۔ یہ ایک عام جسامت کا شیر تھا جس کے پگ سے کسی نقص کا علم نہیں ہوتا تھا۔ وہ اچانک نمودار ہوا۔ ان دنوں آس پاس تو کیا دور دراز تک کے جنگلوں میں بھی کسی آدم خور کی موجودگی کی خبر نہ تھی۔ جلد ہی جب اس نے ایک لکڑہارے کو مار کر کھایا تو لوگوں کو علم ہو گیا کہ ان پر آدم خور کی شکل میں قہر آن ٹوٹا ہے۔ تین دن بعد وہ ناگا پتلا اور پلی بونو کی پگڈنڈی پر جانے والے مسافر کو کھا گیا۔

اس کے بعد آدم خور کی سرگرمیوں کا دائرہ پھیل گیا۔ اب وہ تینوں وادیوں میں مصروف ہو گیا۔ چھ ماہ میں اس نے سات بندے مارے اور انہیں مکمل یا جزوی طور پر کھا گیا۔

ایک دن فارسٹ رینج آفیسر چملا وادی میں موجود بنگلے کی طرف نکلا تاکہ معمول کے مطابق اپنا دورہ کر سکے۔ وہ بیل گاڑی پر سوار تھا اور اس کے پاس اس کی ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں۔

پانچ بجے جب بیل گاڑی اپنی منزل سے بمشکل دو میل دور ہوگی کہ اچانک شیر سڑک پر نمودار ہوا۔ یہ سڑک پوری کی پوری ریزرو فارسٹ سے گذرتی ہے اور اس کے آخری دو میل چملا وادی سے گذرتے ہیں۔

شیر کو دیکھتے ہی گاڑی بان نے گاڑی روکی اور فارسٹ گارڈ اور رینج آفیسر کو بتایا۔ چونکہ گاڑی مکمل طور پر ڈھکی ہوئی تھی اور وہ دونوں اندر بیٹھے تھے، شیر کو نہ دیکھ سکے۔

خیر تینوں نے مل کر شور مچانا شروع کر دیا۔ شیر آرام سے چلتا ہوا بیل گاڑی کے پاس سے گذرا۔ عین اسی وقت، نا معلوم کیوں، فارسٹ گارڈ نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور ہاتھ لہرا لہرا کر شور مچانا شروع کر دیا تاکہ شیر کو بھگا سکے۔ اس طرح اس نے اپنی قسمت پر مہر ثبت کر دی۔ شیر نے دھاڑتے ہوئے اس پر حملہ کیا اور اٹھا کر جنگل میں گھس گیا۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ باقی کے دونوں افراد کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع تک نہ ملا۔ ویسے بھی وہ دونوں غیر مسلح تھے۔

انہوں نے عجلت میں گاڑی بھگائی اور ناگا پتلا پہنچے۔ اگلے دن وہ کئی دوسرے مقامی افراد کے ساتھ مل کر اور مزل لوڈنگ بندوقوں کے ساتھ مسلح ہو کر لوٹے تاکہ اس بدقسمت فارسٹ گارڈ یا اس کی لاش کو تلاش کیا جا سکے۔

باقیات سڑک سے فرلانگ بھر دور مل گئیں۔ خاکی یونیفارم اور سبز پگڑی بھی مل گئے۔ پگڑی سڑک پر تب گری تھی جب شیر نے حملہ کیا تھا۔

اس واقعے کو سرکاری طور پر غیر معمولی اہمیت ملی۔ پورے ملک کے اخبارات میں یہ خبر چھپی۔ حکومت کی طرف سے آدم خور کو ہلاک کرنے پر انعام رکھا گیا۔ چند لالچی شکاری ادھر آن پہنچے۔ لیکن آخری شکار کے بعد شاید آدم خور کو علم ہو گیا تھا کہ اس نے بہت زیادہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے، وہ غائب ہو گیا۔ افواہیں پھیلیں کہ یا تو وہ کڈپہ کی طرف نکل گیا یا پھر تیرو پاٹی کی طرف۔ اگلے دو ماہ تک لوگ بے حد ہوشیار رہے لیکن آدم خور کی کوئی خبر نہ ملی۔

ایک دن ریلوے کا گینگر غائب ہو گیا جو مدراس بمبئی والی پٹڑی پر ماموندر سٹیشن کے پاس متعین تھا۔ دو تین دن تک تو کسی نے توجہ نہ دی کہ ہندوستان میں گوں نا گوں وجوہات کی بناء پر اکثر یہ لوگ ایک یا دو دن کے لئے غائب ہو جاتے ہیں۔ تیسرا دن گذرنے پر بھی جب وہ نہ پہنچا تو اس کی تلاش شروع ہوئی۔

پٹڑی کے ساتھ چلتے ہوئے ایک جگہ کھوجی جماعت کو اس کا بھاری ہتھوڑا ملا۔ گینگروں کو یہ ہتھوڑے اس لئے دئے جاتے ہیں کہ ہلے ہوئے لکڑی کے تختوں کو وہ ٹھونک کر واپس اس کی جگہ پر لے آئیں۔ سخت زمین پر کوئی نشان نہ ملا۔ کچھ ہی دور خون کی چند بوندیں دکھائی دیں۔ ان کا پیچھا کرتے ہوئے ایک جگہ اس کی چپلی ملی اور ساتھ ہی خون کے نشانات بھی دکھائی دئے۔ کچھ ہی دور نرم زمین پر انہیں شیر کے پنجوں کے نشانات بھی مل گئے۔

اندازہ یہی لگایا گیا کہ گینگر کو آدم خور نے ہلاک کیا ہے۔ گذشتہ دنوں آدم خور کی موجودگی کی خبر چونکہ پورے ملک میں پھیل گئی تھی، انہوں نے یہ کاروائی اسی آدم خور سے منسوب کی۔

اگلے دو مہینوں میں دو مزید وارداتیں ہوئی۔ پہلی واردات ماموندر سے گیارہ میل دور اور دوسری امبل میرو میں ہوئی۔

ان دنوں میں کاروباری دورے پر مدراس گیا ہوا تھا۔ وہاں میں چیف کنزرویٹیو آفیسر سے ملا تاکہ میں اس سے اپنی ناجائز شکاریوں کے سلسلے میں داخل کرائی گئی درخواست کی بابت پوچھ سکوں۔ باتوں باتوں میں اس نے شیر کے آدم خور ہونے کا تذکرہ کیا اور مجھے اس کے شکار کی دعوت بھی دی۔

خوش قسمتی سے میں نے گذشتہ سال سے اپنی چھٹیوں کو استعمال نہیں کیا تھا اور میں آرام سے ایک ماہ کی رخصت لے سکتا تھا۔ بنگلور لوٹ کر میں نے چند روز ضروری ساز و سامان اکٹھا کرنے میں گذارے۔ دس دن بعد میں ناگا پتلا کے فارسٹ بنگلے میں موجود تھا۔ میں نے اس بنگلے کو اپنی سرگرمیوں کا صدر مقام بنانے کا ارادہ کیا تھا۔

میں نے آسانی سے چار فربہ اور نو عمر بھینسے خریدے۔ انہیں میں گنڈالاپنٹا، امبل میرو، نرسہما چیرو کے تالاب اور دریائے کالایانی سے نکلنے والی نہر کے کنارے اور سڑک سے دو میل دور باندھے۔

دوسرے دن نرسہما چیرو والے تالاب کے کنارے والے بھینسے کی موت کی خبر ملی۔ پگ دیکھنے سے پتہ چلا کہ یہ ایک بڑے تیندوے کا کام ہے۔ چونکہ یہ بھینسے کافی مہنگے ہوتے ہیں اس لئے میں تیندوے کو انہیں مارنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ ابھی کچھ وقت باقی ہے، چل کر تیندوے کو ٹھکانے لگا دوں۔ پونے سات بجے تیندوا اپنے انجام کو پہنچا۔

پھر میں نے ایک اور بھینسا خرید کر اس جگہ دوبارہ باندھ دیا۔

اگلا ہفتہ یونہی گذرا۔ سارا دن جنگل میں مٹرگشت کرتا تاکہ شیر سے مڈبھیڑ ہو سکے۔ نویں دن جب میں پلی بونو کی طرف جا رہا تھا تو چھٹے میل پر میں نے شیر نے پگ دیکھے جو پلی بونو تک چلے گئے تھے۔ چونکہ آدم خور کے پگ دیگر شیروں سے مختل نہیں تھے، مجھے یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ یہ پگ عام شیر کے ہیں یا پھر آدم خور کے۔ ایک جگہ یہ نشانات بالکل واضح تھے۔ ان کے جائزے سے بس یہی معلوم ہوا کہ یہ ایک نر شیر کے پگ ہیں اور بس۔

کار کو پلی بونو چھوڑ کر میں نے جنگل کا رخ کیا۔ ایک جگہ یہ راستہ کالایانی دریا سے ہو کر گذرتا ہے۔ یہاں مجھے اندازہ ہوا کہ شیر یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر گذرا ہے۔ اس دن میں نے گنڈالاپنٹا اور امبل میرو کا بھی چکر لگا کر اپنے بھینسوں کو دیکھا۔ مجھے امید تھی کہ کوئی نہ کوئی مارا جا چکا ہوگا۔ لیکن وہ زندہ سلامت اپنے سامنے رکھی ہوئی گھاس کر چر رہے تھے۔

دوپہر کا کھانا کھا کر میں واپس لوٹا تاکہ شیر کے نشانات کا پیچھا کر سکوں۔ اس میں مجھے جزوی کامیابی ملی۔ جہاں دریا کے کنارے سے بانس کے جھنڈ شروع ہوتے ہیں، میں پیچھا جاری نہ رکھ سکا۔ کافی شام ڈھل چکی تھی کہ میں پلی بونو کی طرف پلٹا۔ واپسی پر نصف میل ہی دور ایک بھورے ریچھ کو دیکھا۔ عموماً یہ جانور سورج ڈوبنے کے بعد نکلتا ہے۔ وہ چیونٹیوں کی بمیٹھی کے پاس منہ اندر ڈالے کھڑا لمبے لمبے سانس لے کر چیونٹیاں نگلے جا رہا تھا۔ دور سے دیکھنے پر وہ ایک کالا بھجنگ آدمی لگتا تھا۔

میں ریچھ سے کافی نزدیک پہنچ گیا مگر اسے میری خبر نہ ہوئی۔ میں مزید قریب بھی جا سکتا تھا لیکن اس صورت میں وہ حملہ بھی کر دیتا۔ اگر میں گولی چلاتا تو آدم خور فرار ہو جاتا۔ چالیس گز دور رک کر میں کھانسا۔ ریچھ نے آواز سنی اور فوراً ہی منہ نکال کر میری طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر غصہ، خوف، اشتعال اور تعجب، سب واضح تھا۔ چند لمحے تک وہ مجھے دیکھتا رہا جس سے مجھے اندیشہ پیدا ہوا کہ یہ حملہ کرے گا۔ پھر وہ زمین پر جھکا اور چاروں ہاتھوں پیروں کے بل دوڑتا ہوا فرار ہو گیا۔ دوڑتے ہوئے وہ بار بار “اوف اوف” کی آوازیں بھی نکال رہا تھا۔ ایسا لگا کہ جیسے کالے بالوں کی ایک گیند سی لڑھک رہی ہو۔

اگلی صبح میں پھر پلی بونو پلٹا۔ راستے میں شیر کی واپسی کے کوئی نشانات نہ تھے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ شیر ابھی بھی اسی جنگل میں ہے۔

کار کو چھوڑ کر میں گنڈالا پنٹا لوٹا۔ میرا بندھا ہوا بھینسا دنیا و مافیہا سے بے خبر گھاس کھائے جا رہا تھا۔ امبل میرو جا کر جب دوسرے بھینسے کو دیکھا تو وہ غائب تھا۔ جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ شیر نے اسے مارا ہے۔ مارنے کے بعد پہلے شیر نے رسی کتری اور پھر اسے اٹھا کر لے گیا۔

سو گز تک میں نے ان نشانات کا پیچھا کیا۔ پھر میں نے ایک درخت کی نچلی شاخ پر بیٹھے ایک کوے کو دیکھا جو بار بار نیچے جھک کر دیکھ رہا تھا۔

اس کا ایک ہی مطلب تھا کہ شیر ابھی تک بھینسے کی لاش کے پاس موجود ہے۔ اگر شیر نزدیک نہ ہوتا تو کوا کب سے اتر کر کھانا شروع کر چکا ہوتا۔

کوا جہاں تھا، اس کے نیچے ڈھلوان سی تھی۔ اس ڈھلوان پر کافی گھاس پھونس اگی ہوئی تھی۔ ایک جگہ کچھ نشیب سا تھا اور میرا اندازہ تھا کہ اسی نشیب میں شیر بھینسے کی لاش کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔

براہ راست اس نشیب کی طرف جانا دانش مندی نہ ہوتا۔ میرے پہنچنے سے قبل ہی شیر میری آمد سے آگاہ ہو کر فرار ہو جاتا۔ اگر یہ آدم خور ہوتا تو حملہ بھی کر سکتا تھا۔ اس جگہ شیر کے حملے سے بچنے کا کم ہی امکان ہوتا۔

اس لئے میں پچاس گز پیچھے ہٹا۔ یہاں سے زاویہ بدل کر میں دوسری طرف سے اس جگہ تک پہنچ سکتا تھا اور وہاں موجود نالے کے دوسرے کنارے سے شیر کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

یہاں موجود نالہ خوش قسمتی سے شمال مغرب سے شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا۔ پنجوں کے بل چلتے ہوئے میں جلد ہی اس نشیب کے سامنے پہنچ گیا۔ پچیس گز مزید چل کر میں نالے کے دائیں کنارے پر چڑھ گیا۔ یہاں اب میں اس نشیب سے کچھ فاصلے پر تھا۔ ایک کم عمر درخت میرے سامنے تھا۔ اس پر چڑھ کر میں نے نشیب کی طرف دیکھا۔

مجھے وہاں کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔ اس جگہ سے کوا تک اوجھل تھا۔ مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ شیر کی موجودگی کا علم کوے کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا اور کوے والی شاخ گھاس کے ابھار کے نیچے چھپ گئی تھی۔ میں نصف گھنٹے تک ادھر ہی رہا۔ میرا اندازہ تھا کہ یہاں چونکہ گرمی بہت ہے اور سورج سوا نیزے پر۔ شیر جلد ہی پانی پینے امبل میرو کے تالاب پر جائے گا۔ اس کی حرکت کا علم مجھے جنگل کے جانوروں کی آواز سے ہو جائے گا۔

اچانک مجھے لنگور کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز لنگور خطرے کی صورت میں نکالتا ہے۔ وہ میرے بائیں جانب سو گز پر تھا۔ وہ مسلسل بولتا رہا اور پھر ایک مادہ لنگور بھی اس کے ساتھ بولنا شروع ہو گئی۔

شیر بالآخر اس نشیب سے نکلا ہی تھا کہ اسے لنگور نے دیکھ لیا۔

جو لوگ ہندوستانی جنگلات سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، ان کے لئے بتاتا چلوں کہ لنگور کتنے چالاک ہوتے ہیں۔ یہ لنگور سیاہ چہرے اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کی دُم بہت لمبی ہوتی ہے۔ یہ ہمیشہ غول کی شکل میں رہتے ہیں۔ ان کی خوراک جنگلی پھل، پتے، کیڑے اور ان کے لاروے ہوتے ہیں۔ شیر اور تیندوے کے لئے لنگور کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔ ان سے بچاؤ کے لئے لنگور ہمیشہ چوکیدار مقرر کرتے ہیں۔ ہم انسانوں کے لئے یہ نہایت سبق آموز بات ہے کہ چوکیداری پر مامور لنگور ہمیشہ سب سے اونچے درخت کی سب سے اونچی ٹہنی پر بیٹھتا ہے اور اس کی نظروں سے کوئی حرکت بھی پوشیدہ نہیں ہوتی۔ اسے اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ پورے غول بشمول ماداؤں اور بچوں، سب کی جان کی ذمہ داری اس پر ہے۔ اگر اس نے غفلت کی تو ان اراکین کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دوسرے چوکیدار کے آنے تک یہ اپنا پیٹ بھرنے کے بارے سوچتا تک نہیں۔

لنگوروں کی عام آواز “ووھمپ ووھمپ” ہوتی ہے۔ خطرے کی صورت میں چوکیدار “ہاہ ہاہ ہر ہر” کی آواز نکالتا ہے۔ اس آواز کو سنتے ہی پورے کا پورا غول پیٹ پوجا چھوڑ کر اونچی ٹہنیوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔

لنگوروں کی اس چال کے باعث تیندوؤں اور شیروں کو کافی مشکل ہوتی ہے۔ اس کا حال انہوں نے یہ نکالا ہے کہ جب چوکیدار انہیں دیکھ کر خطرے کی آواز نکالتا ہے اور سارے لنگور اونچی اونچی شاخوں پر چڑھ جاتے ہیں تو یہ بطور دھمکی ایک بہت بلند دھاڑ لگا کر کسی درخت کی طرف لپکتے ہیں اور نچلی شاخ پر چڑھنے کی اداکاری کرتے ہیں۔ اس طرح درندے کو لپکتا دیکھ کر اس درخت پر موجود لنگور مزید بلندی کی طرف یا پھر دوسرے درخت کی طرف چھلانگ لگاتے ہیں۔ عجلت میں لگائی ہوئی یہ چھلانگ ہی ان کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ اکثر اس طرح کی چھلانگ کے دوران کوئی نہ کوئی لنگور نیچے گر جاتا ہے اور شیر یا تیندوے کے لئے لقمہ تر ثابت ہوتا ہے۔

خیر اب کہانی کی طرف لوٹتے ہیں۔ لنگور کے خطرے کی آواز سن کر میں درخت سے نیچے اترا اور رائفل کو اس طرف تانے رکھا جہاں اس شیر کی موجودگی متوقع تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ شیر کا پیٹ اچھی طرح بھرا ہوا ہے اور وہ لنگوروں کی طرف توجہ نہیں کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پانی پینے تالاب کی طرف چل دے۔ راستے میں اگی گھنی گھاس اور کانٹے دار جھاڑیوں کے سبب اس کی پیش قدمی بہت سست ہوگی۔

نصف فرلانگ تک میں نے بہت احتیاط سے پیش قدمی جاری رکھی۔ اب مجھے چوکیدار لنگور کو دیکھنے کا موقع ملا۔ عین اسی لمحے اس نے بھی مجھے دیکھ لیا۔ لنگور جان گیا کہ اب اسے دو دشمنوں پر نگاہ رکھنی ہے۔ مجھے اندازہ تھا کہ لنگور کی حرکات سے مجھے شیر کی ممکنہ جگہ کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ میں اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے بالکل ساکت ہو گیا۔

چوکیدار لنگور نے میری طرف دیکھا اور چند لمحے مجھے دیکھنے کے بعد اس نے بائیں جانب دیکھا اور پھر میری طرف اور پھر بائیں جانب۔ خطرے کی آواز بدستور جاری تھی۔

میں جان گیا کہ وہ مجھے اور شیر دونوں کو دیکھ رہا ہے اور یہ بھی کہ شیر مجھ سے کچھ آگے ہے۔ اندازاً یہ فاصلہ سو گز ہوگا۔ میں فوراً اٹھا اور جھکی ہوئی حالت میں شیر کی موجودہ جگہ تک دوڑا۔ چوکیدار لنگور کو اب مخمضہ ہو گیا کہ اس کے جھنڈ کو کس سے زیادہ خطرہ ہے، مجھ سے یا شیر سے یا پھر دونوں سے۔ اس کی آواز کی شدت اور رفتار بڑھ گئی۔ مجھے اب یہ فکر لاحق ہو گئی تھی کہ شیر بھی اس لنگور کو سن رہا ہوگا۔ اسے میری موجودگی یا پھر کسی خطرے کا احساس ہو جائے گا۔ یہ خطرہ نہ صرف لنگوروں کے لئے بلکہ شیر کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔

میرا اندازہ درست نکلا۔ میں نے سو گز تیزی سے طے کئے۔ میرا اندازہ تھا کہ اب کسی بھی لمحے شیر سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔ میں نے مڑ کر لنگور کو دیکھا جو ابھی بھی اسی طرف دیکھ رہا تھا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ شیر بھی کہیں نزدیک ہی چھپا ہوا ہے۔

دوبارہ رک کر میں نے ہر طرف احتیاط سے دیکھا اور آواز سننے کی کوشش کی۔ یہاں ہر طرف کانٹے دار جھاڑیاں تھیں اور چار فٹ سے بلند گھاس بھی۔ جونہی میں مڑا، ہلکی سی حرکت محسوس ہوئی۔ یہ جگہ مجھ سے تیس گز دور تھی۔ میں اسے دیکھنے کے لئے ذرا سا ابھرا ہی تھا کہ شیر نے مجھے دیکھ لیا۔ اس نے ہلکی سی غراہٹ سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور دو ہی چھلانگوں میں یہ جا وہ جا۔

مجھے معلوم تھا کہ شیر میری موجودگی سے آگاہ ہو چکا ہے۔ اب اس کا پیچھا کرنا بہت دشوار اور خطرناک ہوتا۔ میں اپنی پشت سے خبردار ہو کر واپس چلا۔ بھینسے کی لاش ابھی تک وہیں ہی تھی جہاں میں نے اندازہ لگایا تھا۔ بھینسا آدھا کھایا لیا گیا تھا۔ وہ بائیں پہلو پر پڑا تھا اور اس پر گھاس پھونس وغیرہ جمع تھی جو شیر نے شاید اسے گدھوں وغیرہ سے بچانے کے لئے ڈالی تھی۔ اس کے ساتھ ہی آم کا ایک درخت موجود تھا۔

میرے پاس فیصلے کرنے کے لئے بہت کم وقت تھا۔ میرے پاس دو ہی ممکنات تھے۔ یا تو میں یہیں رک کر شیر کی واپسی کا انتظار کرتا جس کے قوی امکانات تھے یا پھر واپس چلا جاتا اور شیر اگر شیر لوٹتا تو مجھے ظاہر ہے کہ کافی مایوسی ہوتی۔ دوسری طرف میرے پاس کمبل، مچان یا ٹارچ تک نہ تھی۔ آج کل راتیں کافی تاریک تھیں اور چاند غائب تھا۔ رات کو اگر شیر آ بھی جاتا تو مجھے بہت ہی مشکل سے دکھائی دیتا۔ اگر میں بیٹھتا تو اگلی صبح سے قبل میں نیچے نہ اتر سکتا تھا۔ اسی طرح واپسی کا رخ کرتا تو پولی بونو تک اندھیرے میں ہی پہنچتا جو آدم خور کے منہ سے گذر کر پہنچنے کے برابر ہوتا۔ اگر رک بھی جاتا تو رات کو یخ بستہ ہوائیں اچھی خبر گیری کرتیں۔ اگر میں کار تک جا کر اپنی ضروریات کی چیزیں لاتا تو یہ کل آٹھ میل کا سفر ہو جاتا۔ میری عدم موجودگی میں شاید شیر بھینسے کی لاش ہی کہیں اور لے جاتا۔

آخرکار میں نے اپنا ذاتی آرام پس پشت ڈال دیا۔ درخت پر چڑھ کر میں ایک آرام دہ دو شاخے پر بیٹھ گیا۔ میری پشت شاخ پر ٹکی ہوئی تھی۔ یہاں سے بھینسا بائیں جانب صاف دکھائی دے رہا تھا۔ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ یہاں بھینسے سے آگے ایک شاخ حائل تھی پھر صاف نظارہ پھر ایک شاخ۔ میں نے جوتے اتارے ہوئے تھے اور بھری ہوئی رائفل میرے سامنے تھی۔ میرے عقب کا منظر بالکل ہی اوجھل تھا۔ میں زمین سے پندرہ فٹ کی بلندی پر تھا اور شیر کی جست سے بالکل محفوظ۔ مجھ پر حملہ کرنے سے قبل شیر کو درخت پر چڑھنا پڑتا جس کے لئے میں تیار تھا۔

ساڑھے بارہ بجے میں اپنی جگہ پر تھا۔ آنے والی رات میری ساری زندگی کی سرد ترین اور سخت بے آرام راتوں میں سے ایک تھی۔

بعد کی تفصیلات میں جائے بغیر، ساڑھے چھ بجے بجے پرندوں نے اپنے گھونسلوں کو لوٹنا شروع کیا۔ لنگور بھی کبھی کے اس علاقے سے جا چکے تھے۔ میں بالکل اکیلا تھا۔ کبھی کبھار کوئی اُلو بول پڑتا۔ پونے سات بجے تک تاریکی چھا گئی۔ اب مجھے وہ حیرت ناک منظر دیکھنے کو ملا جس کے بارے میں بہت عرصے سے سنتا آیا تھا لیکن کبھی ثبوت نہ ملا تھا۔

مجھے جنگل کے لوگوں نے بتایا تھا کہ بعض علاقوں میں شیر سانبھر اور بارہ سنگھے کی آواز کی نقالی کرتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہی ہو کہ دوسرے جانوروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوں تاکہ شکار میں آسانی رہے۔ میں نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی تھی۔ اس شام کو پونے سات بجے مجھے سانبھر کی آواز جھاڑیوں میں سنائی دی۔ ابھی تک کچھ روشنی باقی تھی۔ اچانک ہی انہی جھاڑیوں سے شیر برآمد ہوا۔

اب اس جھاڑی میں جہاں سے شیر نکلا تھا، سانبھر کی موجودگی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اگر وہ موجود بھی ہوتا تو شیر کی آمد کو محسوس کر کے فرار ہو جاتا۔ اس کے کھروں کی آواز صاف سنائی دیتی۔ یقیناً شیر نے ہی یہ آواز نکالی تھی۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا شکار ادھر ہی پڑا تھا۔ اسے مزید شکار کی کوئی ضرورت بھی نہ تھی۔ سانبھر کی دوبارہ کوئی آواز نہ آئی۔ نتیجہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ میرے لئے تو ان کہاوتوں پر یقین کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا۔

شیر چلتا ہوا بھینسے کی طرف آیا۔ یہاں وہ میری نظروں سے ایک بار اوجھل ہوا تھا۔ اس دوران میں نے رائفل کندھے سے لگا لی۔ دوبارہ وہ میرے سامنے بائیں جانب نکلا۔ اس نے بچھڑے کو جبڑے میں دبوچا اور اٹھا لیا۔ میری گولی اس کے بائیں شانے پر لگی۔ وہ اچھل کر گرا ہی تھا کہ میری دوسری گولی اس کی گردن میں پیوست ہو گئی۔ وہ چند لمحے ہی تڑپا ہوگا کہ ساکت ہو گیا۔

شیر مر چکا تھا۔ اب میری واپسی محفوظ ہوتی بشرطیکہ میں اس تاریکی میں راستہ تلاش کر پاتا۔ تمام تر تاریکی کے باوجود میں نے واپسی کو ترجیح دی۔ بصورت دیگر مجھے اس تاریک اور سرد رات بھوکا ہی ادھر درخت پر ٹنگا رہنا پڑتا۔ میں فوراً ہی درخت سے نیچے اترا اور دریائے کالایانی کی طرف لپکا۔ ایک بار میں اس دریا تک پہنچ جاتا تو پھر پلی بونو تک پہنچنا مشکل نہ ہوتا چاہے تاریکی جتنی ہی گہری کیوں نہ ہوتی۔ پلی بونو میری کار موجود تھی۔ دریا کے بلوں کی وجہ سے کل فاصلہ چھ میل بنتا تھا۔ دوسری طرف اگر میں پگڈنڈی تلاش کرتا تو وہ اس تاریکی میں بے سود ہی ثابت ہوتی۔ رات بھر بھٹکتے ہوئے گذر جاتی۔

تاریکی مکمل چھانے سے قبل میں دریا تک پہنچ گیا۔ دریا کی خشک تہہ میں سفر کرنا میرے اندازوں سے بھی زیادہ دشوار نکلا۔ کئی بار میں پتھروں سے ٹھوکر کھا کر گرا اور تاریکی میں چھپے درختوں کے تنوں اور ٹہنیوں اور جھاڑیوں سے رگڑ کھا کھا کر میری پنڈلیاں چھل گئیں۔ ایک سے زائد بار موچ آتے آتے بچی۔ اسی طرح دو ایک بار تو ٹانگ ہی ٹوٹتے ٹوٹتے بچی۔ پوری توجہ راستے پر مرکوز کرنی پڑی۔ چار گھنٹے بعد میں پلی بونو پہنچا۔ کار میں جب سوار ہوا تو اس وقت گیارہ بج کر دس منٹ ہو رہے تھے۔

شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ ناگا پتلی جاتے ہوئے میں خود کو مبارکبادیں دے رہا ہوں گا کہ میں نے آدم خور کو ٹھکانے لگا دیا ہے تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔ سارے دن کے واقعات میری نظروں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ مجھے یقین ہو چلا تھا کہ میں نے غلط شیر مارا ہے۔ اول شیر نے بھینسا مارا۔ دوم اس نے مجھے دیکھ کر فرار پر ترجیح دی۔ سوم میری موجودگی جاننے کے باوجود وہ اتنا بے فکر تھا کہ واپس شکار پر پلٹا۔ اس نے سانبھر کی آواز کی نقالی کی۔ ان تمام تر وجوہات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ میں نے آدم خور نہیں بلکہ ایک عام شیر کو مارا ہے۔ جتنا سوچتا اتنا ہی یقین ہوتا جاتا۔ شکر ہے کہ کالایانی دریا سے گذرتے ہوئے مجھے یہ سب نہیں یاد آیا ورنہ تاریک جنگل میں آدم خور کی موجودگی کا خیال ہی روح فنا کر دیتا۔

اگلی صبح ایک جماعت کے ساتھ پلٹا اور شیر کو لاد کر ناگا پتلی کی طرف لے گئے۔ تفصیلی جائزے پر وہ ایک عام اور بالکل تندرست شیر نکلا۔ اس سے میرا یقین اور بھی بڑھا۔

وہ شام میں نے کلکٹر کے ساتھ گذاری اور اسے اپنے شبہات سے آگاہ کیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ آدم خور کی مزید کوئی بھی اطلاع ملتے ہی وہ مجھے بذریعہ تار آگاہ کرے گا۔

گیارہویں دن مجھے اس کی تار ملی کہ ایک عورت گھاس کاٹتے ہوئے وادئ چملا کی حدود میں ماری گئی ہے۔ آدم خور کو مارنے میں میں ناکام رہا تھا اور آدم خور کی بجائے ایک عام شیر مارا گیا تھا۔

اگلی صبح میں ناگا پتلی کی طرف روانہ تھا۔ فارسٹ بنگلے میں میں سہہ پہر کو پہنچا۔

اس سے اگلی صبح مجھے واردات کی جگہ دکھائی گئی۔ عورت گھاس کاٹنے کے بعد اسے گٹھڑ کی شکل میں باندھ ہی رہی تھی کہ شیر نے حملہ کر دیا۔ اس سے سو گز دور دوسری عورت جو گھاس کاٹ رہی تھی، نے یہ منظر دیکھا۔ وہ فوراً ناگا پتلی کی طرف بھاگی اور سب کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے خبر آگے پہنچائی اور پھر تحصیلدار سے ہوتی ہوئی کلکٹر تک پہنچی اور اس نے مجھے تار بھیجا۔

کسی نے شیر کا پیچھا نہ کیا تھا اور نہ ہی عورت کو بچانے کی کوئی کوشش کی گئی تھی۔ اب اس بات کو تین دن گذر چکے تھے اور زمین پر کسی بھی قسم کا نشان ملنا ناممکن تھا۔ دائرے کی صورت میں تلاش کرتے ہوئے ہم نے چوتھائی میل دور عورت کی ساڑھی برآمد کر لی۔ ابھی تک خون کا ایک بھی قطرہ نہیں دکھائی دیا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ شیر نے اپنی پہلی گرفت تبدیل نہیں کی۔ چونکہ شیر نے گلا دبوچا ہوا تھا، اس لئے وہ چیخ بھی نہ سکی۔

اس عورت کی باقیات ہمیں نہ مل سکیں۔

گاؤں لوٹ کر میں نے وہ تین بھینسے واپس لئے جو میرے سابقہ دورے سے بچ گئے تھے۔ ایک کو میں نے چوتھے سنگ میل کے ساتھ باندھا، دوسرے کو پلی بونو اور تیسرے کو ناگا پتلی سے دو میل دور دریائے کالایانی کی تہہ میں باندھا۔

اگلی صبح تینوں بھینسے زندہ سلامت تھے۔ شیر کے پگ مجھے پلی بونو کی سڑک پر ملے۔ یہاں شیر تیسرے سنگ میل سے ذرا پہلے سڑک پر آیا تھا۔ چوتھے میل پر وہ میرے بھینسے کے پاس سے اسے چھوئے بنا گذرا۔ چھٹے میل پر پلی بونو سے ذرا قبل وہ مڑا اور سڑک سے نیچے اتر گیا۔ اب اس کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ یہاں آگے چل کر ایک پتھریلی پہاڑی آتی ہے جسے منکی ہل یعنی بندر کی چٹان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

یہاں پگ بالکل واضح تھے لیکن ان سے آدم خور کی کسی بھی معذوری کا پتہ نہیں چل سکا۔ وہ بھینسے سے چند فٹ کے فاصلے سے گذرا۔ یہ آدم خور کی عام عادت ہوتی ہے۔ مجھے اب اطمینان ہو چلا کہ یہ شیر وہی آدم خور ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، شیر کا رخ بندر کی چٹان کی طرف تھا جہاں وہ شاید ڈھلوان پر موجود جنگل میں یا پھر اس کے آس پاس کہیں رہتا تھا۔ موہوم سی امید یہ بھی تھی کہ شیر شاید اسی راستے سے پلٹتا۔ چاند تقریباً پورا ہی تھا، اس لئے گولی چلانے کا آسان موقع ملتا۔

چوتھے میل سے ڈیڑھ سو گز دور ایک بڑا ٹیک کا درخت تھا۔ اپنی نسل کے دیگر درختوں کی مانند یہ درخت بھی بالکل سیدھا تھا۔ اس پر چڑھنا کافی محنت طلب کام تھا۔ میں نے زمین پر بیٹھ کر اس کے تنے سے ٹیک لگا سکتا تھا۔ یہاں سے میرا بھینسا ڈیڑھ سو گز دور تھا۔ میں سڑک کے دونوں اطراف اور ہر طرف کم از کم سو گز تک با آسانی دیکھ سکتا تھا۔ یہاں گذشتہ سال لگنے والی آگ کے سبب یہ علاقہ ہر قسم کی نباتات سے پاک تھا۔

پانج بجے میں اپنی جگہ پر تھا۔ جونہی سورج غروب ہوا، چاند نمودار ہو چلا تھا۔ اس کی مدھم اور سفید روشنی میں پورا جنگل منور ہو رہا تھا۔ دن مٰں اس جگہ کو میں نے بہت محفوظ سمجھا تھا لیکن اب اندھیرے میں مجھے یہ وہم ستانے لگا کہ آیا شیر عقب سے گھات نہ لگا رہا ہو۔ پھر میری عقل مدد کو آئی کہ جب تک شیر مجھے دیکھ نہ لے یا میری موجودگی سے آگاہ نہ ہو، گھات نہیں لگائے گا۔ شیروں میں سونگھنے کی حس بالکل نہیں ہوتی۔ میں شام سے اب تک بالکل ساکت بیٹھا تھا۔ میری کمر درخت کے تنے سے لگی ہوئی تھی۔ میں نہ تو تمباکو پی سکتا تھا اور نہ ہی کچھ کھا پی سکتا تھا۔ تاہم میں نے احتیاطاً گرم کپڑے پہن رکھے تھے جو اس سرد رات میں مجھے سردی سے بچاتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس رات جنگل بالکل خاموش تھا۔ اس کا ایک ہی مطلب ہو سکتا تھا کہ شیر نزدیک یا دور موجود نہیں۔ علی الصبح میری توقع کے عین مطابق درجہ حرارت اچانک گرا اور ساتھ ہی اچھی خاصی شبنم پڑی۔ میرے کپڑے اچھی طرح بھیگ گئے اور رائفل کی نال یخ ہو رہی تھی۔

میں بار بار بھینسے کو بھی دیکھتا رہا۔ پہلے پہل تو وہ بے پرواہی سے گھاس چرتا رہا۔ پھر رات گئے وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ شاید زمین سے اسے کچھ حرارت مل رہی ہوگی ورنہ باقی ماحول تو بہت سرد ہو چلا تھا۔

روشنی نمودار ہوتے ہی میں نے انتہائی مایوسی اور تھکن کے ساتھ واپسی اختیار کی۔ یہاں گرم پانی سے نہا کر فارغ ہوا تو بھاپ اڑاتی گرم چائے، گوشت کے تلے ہوئے پارچے اور انڈے میرے منتظر تھے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر دو گھنٹے کی نیند پوری کر کے جب بیدار ہوا تو بالکل تازہ دم ہو چکا تھا۔

اب گاڑی کے دونوں مڈ گارڈوں پر میں نے دو دو کھوجی بٹھائے جو اپنے کام میں خاصے ماہر تھے۔ اب ہم لوگ کینچوے کی رفتار سے چلتے ہوئے سڑک پر نکلے لیکن شیر رات کو ادھر سے نہ گذرا تھا۔ پلی بونو پہنچ کر ہم نے کالایانی دریا کے دونوں اطراف کو بھی چھانا۔ اس کے علاوہ وہاں کی پگڈنڈیوں کو بھی میل بھر دونوں اطراف میں دیکھا۔ شیر کے گذرنے کی کوئی علامت نہ دکھائی دی۔

دوپہر کو ہم پلی بونو پلٹے اور میں جنگل کے کنارے بیٹھ کر پائپ پیتے ہوئے اپنی حکمت عملی پر غور کرنے لگا۔

جہاں میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے کوئی دو فرلانگ دور دریائے کالایانی کے دوسرے کنارے املی کا ایک بڑا درخت تھا جو جنگل سے گذرنے والی پگڈنڈی کے دونوں سروں کا اچھا نظارہ پیش کرتا تھا۔ میں نے سنا تھا کہ اس درخت پر بیٹھ کر شکاریوں نے کئی شیر مارے ہیں۔ ڈیڑھ سال قبل میں نے خود بھی اسی درخت سے ایک چھوٹا تیندوا مارا تھا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اگلی چند راتیں اسی درخت پر مچان باندھ کر گذاروں؟ اگرچہ راتیں چاندنی تھیں لیکن پھر بھی زمین پر بیٹھ کر آدم خور کا انتظار کرنا، کچھ زیادہ عقلمندی کا کام نہ لگا۔

یہ فیصلہ کرتے ہی میں نے اپنے دو آدمیوں سے کہا کہ وہ انہی شاخوں پر میری مچان باندھیں جہاں میں ڈیڑھ سال قبل بیٹھا تھا۔ یہ ہدایات دے کر میں درخت کی جڑ میں ہی سو گیا۔ یہ آدمی بخوبی جانتے تھے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ انہوں نے مجھے نصف گھنٹے بعد جگا دیا۔ پھر ہم نے مل کر اس میں کچھ معمولی سی تبدیلیاں بھی کیں۔

میرے پاس چارپائی کا ڈھانچہ ہمیشہ گاڑی میں موجود رہتا ہے۔ تجربے سے معلوم ہے کہ یہ سب سے بہترین مچان بن سکتی ہے۔ ہلکی لیکن مضبوط ہے۔ اس پر بیٹھ کر اگر حرکت کی جائے تو شور نہیں ہوتا۔ اس پر بیٹھنا بہت آرام دہ ہے۔ اس کو اتارنا اور چڑھانا بھی بہت آسان کام ہے۔ چھپانے میں وقت نہیں لگتا۔ سستی اور آسانی سے منتقل بھی کی جا سکتی ہے۔

اس چارپائی کو دو شاخوں پر سوتی رسی سے باندھا گیا تھا۔ یہ رسی بھی میرے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ اس کو چاروں اطراف سے چھپا دیا گیا تھا۔ اس میں کئی سوراخ بھی تھے جو بظاہر نادیدہ تھے۔ ان سوراخوں سے میں نیچے سے گذرنے والی پگڈنڈی کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

سب کچھ میری توقع کے عین مطابق ہوا تھا۔ میں نے اپنے آدمیوں کو ناگا پتلا پہنچایا۔ پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور پھر ہلکا سا قیلولہ بھی کیا۔ چار بجے میں کمبل، ٹارچ، پانی کی بوتل، سینڈوچ اور چائے کی تھرمس لے کر اکیلا ہی پلی بونو کی طرف پلٹا۔ یہاں میں نے اپنی کار کو چھپا دیا اور خود پیدل ہی اس درخت کی طرف چل پڑا جہاں میری مچان تھی۔ چھ بجے میں مچان پر بیٹھ گیا۔

گھنٹوں پر گھنٹے گذرتے رہے۔ گیارہ بجے ایک تیندوے نے بولنا شروع کیا۔ یہ آواز بالکل ایسی ہی تھی جیسے کوئی لکڑہارا آری سے لکڑی کاٹ رہا ہو۔ یہ آواز امبل میرو والے راستے سے آئی تھی۔

کچھ دیر بعد یہ تیندوا موڑ سے نمودار ہوا۔ بہت خوبصورت اور شاندار جانور تھا۔ چاندنی میں اس کی کھال چمک رہی تھی۔ وہ میرے درخت کے نیچے سے ہوتا ہوا دوسرے سرے پر غائب ہو گیا۔ اگر میں آدم خور کے انتظار میں نہ ہوتا تو اسے کسی بھی قیمت پر نہ جانے دیتا۔

اس طرح یہ رات بھی گذر گئی۔ اگلی رات مزید اکتا دینے والی تھی۔ نہ کچھ دیکھا اور نہ ہی کچھ سنا۔

اگلی صبح پلی بونو لوٹتے ہی میں سو گیا۔ دس بجے میں اٹھایا گیا کہ نصف گھنٹہ قبل آدم خور نے ایک چرواہے کو ہلاک کر دیا ہے۔

عجلت میں رائفل اٹھاتے ہوئے میں اس کے غم زدہ بھائی اور دیگر چند افراد کے ساتھ پون میل دور اس جگہ کی طرف چل پڑا جہاں دریائے کالایانی گذرتا ہے۔ یہاں وہ آدمی اپنے مویشی چرا رہا تھا کہ شیر نے اس پر حملہ کیا۔ شاید شیر دریا کے کنارے کی جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا۔ اس کی چیخ سن کر اس کا بھائی جو کہ اس کے ساتھ ہی تھا، اس کی طرف لپکا۔ بھائی نے یہ پورا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس آدمی کو شیر نے شانے سے پکڑا تھا۔ بیچارہ متوفی مسلسل چیخ و پکار کرتا رہا۔ شیر اسے لے کر دریا کے کنارے والی جھاڑیوں میں گھس گیا۔ اس کا بھائی فوراً گاؤں کی طرف بھاگا اور سب کو یہ خبر سنائی۔ وہاں سے یہ سب افراد مل کر میرے بنگلے کی طرف آئے جہاں میں سو رہا تھا۔

جائے حادثہ پر جا کر ہم نے شیر کے پگوں کا پیچھا شروع کیا۔ یہاں جھاڑیاں ابھی تک شیر اور اس کے شکار کے گذرنے کے باعث جھکی ہوئی تھیں۔ اس کی پگڑی انہیں جھاڑیوں میں الجھی ہوئی تھی۔ دریا کہ تہہ میں پہنچ کر شاید متوفی کی چیخوں سے ناراض ہو کر آدم خور نے اسے زمین پر ڈالا اور اب اسے گلے سے پکڑ لیا۔ یہاں سے تازہ خون کی لکیر دکھائی دے رہی تھی اور ساتھ ہی شیر کے پنجوں کے نشانات بھی۔ اس کے علاوہ متوفی کے پیر بھی ایک طرف گھسٹنے کے نشانات تھے۔ یہ سب نشانات دریا کی تہہ کی ریت پر بالکل واضح تھے۔

بڑی احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے ہم دریا میں اگی جھاڑیوں سے ہوتے ہوئے گذرے۔ جلد ہی گھاس کا قطعہ آ گیا۔ یہاں سے گذرتے ہوئے شیر کے وزن کے سبب جو گھاس کچلی گئی تھی، ابھی تک سر نہ اٹھا پائی تھی۔ یہاں سے تھوڑا سا آگے چل کر یہ زمین ڈھلوان ہوتی ہوئی بالآخر دریا سے جا ملتی تھی۔ میرا اندازہ تھا کہ شیر اس ندی میں ہی چھپ کر اپنا شکار کھانا شروع کرے گا۔ میرا اندازہ تھا کہ اس وقت شیر اپنا پیٹ بھر رہا ہوگا۔

اس جگہ سے نشانات کا براہ راست پیچھا کرنا نا ممکن تھا کہ میری تمام تر احتیاط کے باوجود شیر میری آواز سن لیتا کیونکہ یہاں کانٹے دار جھاڑیاں بکثرت تھیں۔ اس طرح آدم خور کو اپنے تعاقب کا اندازہ ہو جاتا۔ اس صورت میں آدم خور مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ براہ راست حملہ کر دیتا یا پھر شکار کو لے کر دور نکل جاتا یا پھر فرار ہو جاتا۔ اس کے علاوہ یہاں گھنی گھاس بہت زیادہ تھی۔ شیر کسی بھی جگہ چھپ کر سامنے سے، عقب سے یا اطراف سے حملہ کر سکتا تھا۔ صورتحال کا تیزی سے جائزہ لیتے ہوئے میں نے فوراً راستہ بدلا اور دائیں طرف سے ہوتا ہوا بڑھا جہاں چوتھائی میل دور جا کر میں دوبارہ اسی ندی میں پہنچ کر اوپر کی طرف شیر کو تلاش کرتا۔ اس طرح اگر میں محتاط ہو کر چلتا تو شیر کو اس کی بے خبری میں جا لیتا۔

اس طرح میں واپس پلٹا اور جھک کر چلتے ہوئے فرلانگ بھر گیا۔ یہاں رک کر میں نے اپنا سانس بحال کیا۔ اب میں نے نالے میں اتر کر نرم ریت پر چلنا شروع کیا۔ میری ہر ممکن کوشش تھی کہ میں نالے کے بالکل وسط میں رہوں تاکہ شیر کے اطراف سے حملے کی صورت میں کچھ بچاؤ ہو سکے۔

مجھے یہ وقت کسی بھیانک خواب کی طرح ہمیشہ یاد رہے گا۔ یہاں نالا بعض جگہ دس گز جتنا ہی چوڑا تھا۔ کسی بھی مقام پر اس کی چوڑائی تیس گز سے زیادہ نہ تھی۔ میں پنجوں کے بل چلتا ہوا ہر طرح سے تیار تھا۔ دونوں اطراف کی جھاڑیوں کو بھی اچھی طرح دیکھ بھال کر آگے بڑھنا پڑ رہا تھا۔ اسی طرح ہر کچھ فاصلے کے بعد رک کر سن گن لینے کی کوشش کرتا تاکہ اگر شیر شکار کو کھا رہا ہو تو مجھے اس کی آواز سنائی دے سکے۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ پورا علاقہ ہی مردہ ہو چکا ہے۔ میری خواہش تھی کہ کسی پرندے یا جھینگر کی آواز ہی اس خاموشی کو توڑتی لیکن وائے قسمت، ہر طرف مکمل خاموشی کا راج تھا۔ صرف میرے اپنے قدموں کی بہت مدھم آوازیں ہی سنائی دے رہی تھیں۔

میں بمشکل نصف فرلانگ ہی چلا ہوں گا کہ یہاں سے نالا اب ایک ہلکا سا موڑ مڑتا تھا۔ اس جگہ سے تھوڑا سا پہلے میں رکا اور سن گن لینے کی کوشش کی۔ شکر ہے کہ میں رک گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے خاموشی اور بالکل ہی غیر متوقع طور پر شیر اپنے شکار کو کمر سے پکڑے ہوئے موڑ سے نمودار ہوا۔

ہماری حیرت یقیناً مشترکہ ہی تھی۔ شیر کو یقیناً تعاقب کا شبہ ہو گیا تھا۔ تبھی وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے کہیں نہ رکا۔ شاید اس نے سوچا کہ مزید دور جا کر کھانا شروع کرے۔ دوسری طرف اگرچہ میں بہت زیادہ محتاط اور بالکل تیار ہو کر چل رہا تھا لیکن شیر سے اتنی جلدی مڈبھیڑ کا کوئی اندازہ نہ تھا۔

یہ حیرت صرف لمحہ بھر ہی رہی۔ شیر نے اگلے ہی لمحے متوفی کی لاش کو زمین پر ڈالا اور اگلی ٹانگوں پر جھکتے ہوئے اس نے دم سیدھی کی۔ یہ یقینی طور پر حملے کی علامت تھی۔ اسی لمحے میری رائفل بول پڑی۔ گولی آدم خور کی آنکھوں سے انچ بھر ہی نیچے لگی۔ اگرچہ یہ انچ بہت معمولی سا فاصلہ ہے لیکن پھر بھی یہ گولی دماغ تک نہ پہنچ پائی اور مہلک نہ ثابت ہوئی۔ نتیجتاً شیر نے فوراً ہی چھلانگ لگائی اور متوفی کی لاش سے ٹھوکر کھا کر گرا اور مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک طرف گرتے ہوئے میں نے متواتر فائر پر فائر جاری رکھے۔ جونہی رائفل خالی ہوئی، شیر میرے قدموں میں پڑا تڑپ رہا تھا۔ اس کی کھوپڑی سے خون فوارے کی طرح نکل رہا تھا۔

دوسرے ہی لمحے میں تقریباً غش کھا کر گرتے گرتے بچا۔ مجھے لگا کہ مرنے والا ہوں۔ شکر ہے کہ فوراً ہی سنبھل گیا۔ اب میں اپنے ہمراہیوں کی طرف پلٹا جو میری پے در پے پانچ گولیوں کی آوازیں سن چکے تھے۔ اس سے وہ اندازہ لگا چکے تھے کہ آدم خور اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔

آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ کھال اتارنے سے قبل اور کھال اتار کر ہونے والے معائینے سے کسی بھی قسم کی معذوری نہ دکھائی دی کہ جس کے سبب اس شیر کو آدم خوری کا انتخاب کرنا پڑتا۔ بالکل تندرست و توانا شیر تھا جو اپنے قدرتی اور فطری شکار کی اہلیت رکھتا تھا۔ معلوم نہیں کہ اس نے کس وجہ سے آدم خوری کا انتخاب کیا۔ یہ کہاں سے آیا، کوئی نہ جانتا تھا۔ لیکن اب سب جان گئے تھے کہ اب جہاں اسے بھیجا گیا ہے، وہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں۔

10 بیرا پجاری
جب بیرا پجاری سے میری پہلی ملاقات ہوئی، اس نے صرف ایک لنگوٹی نما چیز پہن رکھی تھی۔ لنگوٹی بھی کیسی کہ محض تین انچ چوڑی کپڑے کی دھجی تھی جو ٹانگوں کے درمیان سے ہو کر کمر پر ایک غلیظ دھاگے سے بندھی ہوئی تھی۔ لیکن وہ ایک نہایت عمدہ شخص اور میرا دوست ہے۔

میری بیرا سے پہلی ملاقات کو اب پچیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ یہ ملاقات کچھ ایسے ہوئی تھی۔

صبح کاذب کا وقت تھا۔ مشرقی افق سے آنے والی روشنی سے متھور کا بنگلہ اور اس کے گرد موجود پہاڑیاں روشن ہو رہی تھیں۔ ان کی وجہ سے یہاں سے گذرنے والی ندی کو دریائے چنار کا نام دیا گیا تھا۔ یہاں دریا گھنے جنگل سے نکل کر تنگ سا موڑ کاٹ کر سات میل دور دریائے کاویری سے جا ملتا ہے۔ گرمیوں کا موسم تھا اور دریائے چنار بالکل خشک پڑا تھا۔

میں حسب معمول جلدی اٹھا تھا اور جنگل کی سیر پر نکل کھڑا ہوا۔ دریائے چنار کی سنہری ریت پر چلتے ہوئے میں ریچھ سے مڈبھیڑ کا منتظر تھا۔ اس موسم میں ریچھ اس وقت دریا کے کنارے مختلف پھلوں کی تلاش میں آتے تھے۔ میرا اندازہ تھا کہ اگر ریچھ نہ سہی، تیندوے سے تو لازماً ہی ملاقات ہو جائے گی۔ مجھے یہ بھی علم تھا کہ اس وقت تیندوے کنارے کے جنگل کی گھنی گھاس میں دُبکے شکار کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ان دنوں سانبھر، ہرن، جنگلی بھیڑ اور چیتل وافر مقدار میں ملتے تھے۔ اگرچہ میرا ارادہ شکار کا بالکل بھی نہیں تھا۔

ابھی میں بنگلے سے میل بھر ہی دور گیا ہوں گا۔ صبح کاذب کی روشنی تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔ اچانک میں نے پہلے جنگلی مرغ پھر مور کی آواز سنی۔ پھر سامنے والی مہندی کی جھاڑیوں میں عجیب سی سرسراہٹ ہوئی۔ میرے پاس اتفاق سے ٹارچ موجود تھی۔ اس لئے میں بہت احتیاط کے ساتھ اس جھاڑی سے دس فٹ کے فاصلے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں میری نظر ایک گڑھے پر پڑی جو کہ تین فٹ چوڑا اور تین ہی فٹ گہرا تھا۔ اس میں فٹ بھر پانی بھرا تھا جو دریا کی تہہ سے نکل آیا تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ کسی غیر قانونی شکاری کا کام ہے۔ یہ شکاری یہاں کسی ہرن وغیرہ کے انتظار میں بیٹھا ہوگا۔ اس کے پاس توڑے دار بندوق ہوگی جو اس ہرن بیچارے کا کام تمام کر دے گی۔ جو آواز پیدا ہوئی تھی وہ شاید یا تو مجھے دیکھ کر شکاری کے چھپنے کی کوشش میں پیدا ہوئی ہوگی یا پھر اس نے رات بھر جاگنے کے بعد اب نیند کی حالت میں کروٹ بدلتے ہوئے نکالی ہوگی۔

میں نے تامل زبان میں زور سے اس شکاری کو کہا کہ وہ باہر نکلے و رنہ میں اسے گولی مار دوں گا۔ پہلے پہل تو خاموشی رہی۔ میں چند قدم اور آگے بڑھا تو ایک تاریک سا سایہ ان جھاڑیوں سے نکلا۔ میرے سامنے رُک کر اس نے اپنا ماتھا زمین پر تین بار رگڑا۔

میں نے اسے اٹھنے کا حکم دیا اور پوچھا”تم کون ہو؟” اس نے جواب دیا “بیرا، ایک پجاری!”۔ میں نے پوچھا “بندوق کہاں ہے؟” اس نے حیرت سے پوچھا “کون سی بندوق؟ کیسی بندوق؟ میرے جیسے سیدھے سادھے بندے کے پاس بندوق کہاں سے آئی مالک؟ میں تو ایک مسافر ہوں۔ رات کو ادھر سے گذرتے ہوئے راستہ بھول گیا تو تھک کر ادھر سو گیا۔ میں نے تو آج تک بندوق دیکھی تک نہیں۔” میں نے پھر کہا “بندوق اٹھا کر باہر لاؤ۔” وہ چند لمحے تذبذب کا شکار رہا پھر جھاڑی میں گھس کر ایک پرانی توڑے دار بندوق لا کر میرے قدموں میں ڈال دی۔ یہ عجیب بندوق گز بھر لمبی اور پتلے سے بمشکل تین ان چوڑے کندے پر مشتمل تھی۔

بیرا سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ بیرا جو کہ ایک پجاری اور چوتھائی صدی سے میرا دوست ہے۔ اس نے ہی مجھے جنگل اور اس کی نباتات اور حیوانات کے بارے سب کچھ بتایا ہے۔

“تم نے کیا شکار کیا ہے؟” اس نے میرے قدموں پر جُھک کر کہا “ساری رات بیکار ہی گذری مالک۔” میں نے پھر سختی سے پوچھا “کیا شکار کیا ہے؟” اس بار اس نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا کہا۔ دریا کے کنارے ریتلی زمین پر ایک مادہ سانبھر مردہ پڑی تھی۔ اس کی گردن میں ایک بڑا سا سوراخ تھا جس سے خون نکل نکل کر آس پاس کی زمین کو سرخ کر گیا تھا۔

میں نے اسے غصے، نفرت اور ناراضگی کے ملے جُلے تاثر سے دیکھا تو وہ بولا “مالک، ہم بھوکے ہیں۔ اگر شکار نہ کریں تو کھائیں کیسے اور اگر نہ کھائیں تو زندہ کیسے رہیں؟”

اس سے چند گز دور بیٹھ کر میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اپنا تمباکو نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے پہلے تو کافی مشکوک ہو کر تمباکو کو ہتھیلی پر رکھ کر سونگھا، پھر خوش ہو کر اسے چبانے لگا۔ کئی منٹ اسی طرح گذرے اور مجھے بھی مجبوراً خاموش رہنا پڑا۔

“مالک فارسٹ گارڈ کو میری بندوق کے بارے تو نہیں بتائیں گے؟ یہ میرا واحد روزگار کا ذریعہ ہے۔ فارسٹ گارڈ کو علم ہوا تو وہ اسے چھین لے گا اور مجھے جیل ہو جائے گی۔ میری بیوی اور چار بچے بھوک سے مر جائیں گے۔” بیرا نے انتہائی متفکر انداز میں پوچھا۔

اب یہ کافی عجیب صورتحال تھی۔ جنگل میں شکار کا میرا لائسنس اس بات کا متقاضی تھا میں اس جنگل کے تمام غیر قانونی شکاریوں کو پولیس کے حوالے کروں۔ اس کے علاوہ مجھے اس بدمعاش سے کوئی ہمدردی نہیں ہونی چاہیئے جو کہ مادہ جانوروں کو بھی اتنی بے دردی سے مار رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے شکار کا طریقہ بھی نہایت ظالمانہ تھا۔ پانی کے لالچ میں آنے والے پیاسے جانوروں کو مارتا تھا۔ دوسری طرف مجھے اس چھوٹے سے بندے پر بہت ترس بھی آ رہا تھا۔ اس کی گفتگو سے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ وہ مجھ سے امید لگائے ہوئے ہے۔ شاید یہ میرے تمباکو کا اثر ہو۔

براہ راست جواب سے بچتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں رہتا ہے۔ اس نے جواب دیا “ہمارا کوئی گھر نہیں نہ ہی کوئی جھونپڑا اور نہ ہی کوئی کھیت۔ ہم سارا دن شہد تلاش کرتے ہیں۔ اگر کوئی چھتہ خوش قسمتی سے مل جائے تو ہم اسے پناگرام کے بازار میں بیچ دیتے ہیں۔ شہر کے چھوٹے برتن کے عوض ایک روپیہ ملتا ہے۔ اس سے ہم چار دن کے کھانے کے برابر راگی خرید لیتے ہیں۔ اگر شہد نہ ملے تو ہم “اودمبو” یعنی گوہ پکڑ لیتے ہیں۔ اس کا گوشت کھانے کے کام آتا ہے اور اس کی کھال بیچ دیتے ہیں۔ اس کی دم پناگرام کا ایک ڈاکٹر ہم سے مہنگے داموں خرید لیتا ہے۔ یہ ڈاکٹر بھی بہت شاندار آدمی ہے۔ وہ اسکی دم کو پکا کر مختلف دوائیوں میں ملاتا ہے۔ پھر اسے خشک کر کے پیستا ہے اور پھر اسے پیکٹوں کی صورت میں بیچتا ہے۔ آٹھ آنے فی پیکٹ یہ دوائیں مردانہ کمزوری کے لئے تیر بہدف نسخہ ہیں اور ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر اس سفوف کی ایک چٹکی کسی لڑکی کے بائیں شانے پر ڈال دیں تو وہ فوراً ہی رام ہو جاتی ہے۔ “

اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا “اگر مالک کو کوئی لڑکی پسند ہو اور وہ اسے رام نہ کر سکیں تو میں ان کے لئے یہ سفوف لا سکتا ہوں۔ یہ بالکل مفت ہوگا۔ ڈاکٹر میرا گہرا دوست ہے اور اسے گوہ کی دم میری ہی مدد سے ملتی ہے۔ آپ کو صرف میم صاحب کے بائیں شانے پر اس سفوف کی چٹکی ڈالنی ہوگی اور بس میم صاحب ہمیشہ کے لئے آپ کی ہو جائیں گی۔”

میں نے اسے سختی سے کہا کہ وہ میری محبت کی فکر چھوڑے بلکہ اپنی کہانی جاری رکھے۔

“بعض اوقات جب ہم بہت بھوکے ہوں تو ہم جنگل میں مختلف جڑیں کھودتے ہیں۔ اس کے تنے پر تین پتے ہوتے ہیں۔ ان جڑوں کو آگ میں بھون کر یا پھر نمکین پانی میں کڑی مصالحے کے ساتھ اُبالنے سے یہ بہت لذیذ ہو جاتی ہیں۔ رات کو میں، میری بیوی اور میرے بچے “انائی بدھا” دریا کے کنارے کھودے ہوئے گڑھے میں سوتے ہیں۔ گرم موسم میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں چھپ کر شکار کرنے جاتا ہوں تو میری بیوی اور بچے باری باری رات بھر جاگتے ہیں مبادا کہ ہاتھی آ جائیں۔ اگر ہاتھی آ جائیں تو جاگنے والا فرد باقیوں کو جگا دیتا ہے اور وہ سب بھاگ کر گڑھے کے کنارے اگے بڑے درخت پر چڑھ جاتے ہیں۔ یہ ہاتھی بہت بدمزاج ہیں اور فوراً ہی حملہ کر دیتے ہیں۔ سال قبل ہاتھیوں نے ایک پُجاری عورت کو اسی طرح کے ایک گڑھے سے نکال لیا تھا۔ وہ بے خبر سو رہی تھی۔ اسے سُونڈ میں جکڑ کر اور درخت کے تنے سے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ جب بڑا جانور ہاتھ لگ جائے تو ہم نہ صرف خود اس کا گوشت کھاتے ہیں بلکہ اسے دھوئیں میں سُکھا کر پناگرام کے بازار میں پندرہ روپے کے عوض بیچ دیتے ہیں۔ پندرہ روپے میں مہینے بھر کا راشن آ جاتا ہے۔ امید ہے کہ مالک یہ سب جان کر فارسٹ گارڈ کو میری بندوق کے بارے نہیں بتائیں گے۔ اتفاق سے یہ میرے والد کو ان کے والد نے بطور تحفہ دی تھی اور اُس وقت اس کی قیمت تیس روپے تھی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

یہ بدمعاش اب امید بھری نگاہوں سے میری جانب دیکھنے لگا۔ اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ اور آنکھوں سے پریشانی جھلک رہی تھی۔ میرا احساس ذمہ داری بطور لائسنس ہولڈر کہیں دور جا سویا۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ انکار کروں لیکن میرے منہ سے بے اختیار نکلا “نہیں بیرا، میں بالکل بھی نہیں بتاؤں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔”

وہ اُچھل کر کھڑا ہوا اور پھر اس نے پُجاریوں کے سے انداز میں تین بار اپنا ماتھا زمین پر ٹیکا اور بولا “میں تہہ دل سے مالک اپنی اور اپنے خاندان کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج سے ہم سب آپ کے غلام ہیں۔”

میں نے بیرا سے وعدہ لیا کہ وہ دن چڑھے میرے بنگلے پر آئے گا۔ دراصل میں اس سے اس جنگل کے درندوں کی بابت پوچھنا چاہ رہا تھا۔ واپسی پر جان بوجھ کر میں مردہ سانبھر سے دور ہو کر گذرا ورنہ شاید میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا۔

وعدے کا پکا بیرا دس بجے میرے بنگلے پر پہنچا۔ سوالات کرنے پر پتہ چلا کہ دو دن قبل جب وہ سانبھر کی تلاش میں بیٹھا تھا تو ایک شیر اس سے پانچ فٹ کے فاصلے سے گذرا تھا۔ اس نے بتایا کہ یہ بوڑھا شیر اس علاقے میں ہی رہتا ہے اور عمر کی وجہ سے اس کی نقل و حرکت بہت محدود ہو چکی ہے۔

اس نے ایک اور داستان سنائی۔ پچھلے ماہ وہ اسی طرح چھپا ہوا اپنی توڑے دار بندوق کے ساتھ سانبھر کا انتظار کر رہا تھا۔ اچانک پانی کے گڑھے پر ایک چیتل نمودار ہوا ۔ چاند پوری طرح چمک رہا تھا۔ اس نے نشانہ لے کر گولی چلائی اور چیتل وہیں ڈھیر ہو گیا۔ بیرا نے بندوق دوبارہ بھری اور سونے کی تیاری کرنے لگا۔ اچانک ایک شیر نزدیکی جھاڑیوں سے نکلا اور سیدھا چیتل کی لاش پر آ کر رُکا۔ شیر نے لاش کو سُونگھا اور پھر اسے اٹھا کر چلتا بنا۔ بیرا نے اپنی توڑے دار بندوق کی وجہ سے ہلنے کی جرأت بھی نہ کی کہ اسے ایک بار چلانے کے بعد دوبارہ بھرنے میں کافی وقت لگتا تھا۔

اس وقت میرے ساتھ کوئی چارے کا جانور نہیں تھا۔ میں اگر کسی کو پناگرام بھیجتا تو وہ جانور لے کر تب پہنچتا جب دن کی روشنی ختم ہو چلی ہوتی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ رات کو بیرا کے ساتھ “امیراں ووڈو” کے کنارے بیٹھوں۔ میں نے بیرا کو یہ صاف کہہ دیا کہ جب تک وہ میرے ساتھ رہے گا، اسے غیر قانونی شکار کا خیال تک نہ آئے۔

چھ بجے ہم دونوں ندیوں کے درمیان والے جنگل میں بیرا کی بنائی ہوئی کھوہ نما پناہ گاہ میں بیٹھ گئے۔ یہ نہایت آرام دہ تھی۔ راتیں کافی گرم تھیں۔ بیرا صرف لنگوٹی پہنے ہوئے تھا۔ اس دن میں نے بیرا سے یہ سبق سیکھا کہ شکار کے انتظار میں کیسے بیٹھا جاتا ہے۔ جب بیرا بیٹھا تو ساری رات اس کی ٹانگ یا بازو تک بھی نہیں ہلا۔ دو بجے تک جب کوئی جانور نہ دکھائی دیا تو میں بے صبرا ہو کر سو گیا۔ صبح جب منہ اندھیرے بیدار ہوا تو بیرا ابھی تک اسی انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔

میری مایوسی کا اندازہ کرتے ہوئے اس نے مجھے مدد کی پیش کش کی کہ دن چڑھے وہ میرے ساتھ شیر کے پگ تلاش کرنے نکلے گا۔ بنگلے میں آ کر ، ناشتہ کر کے اور غسل سے فارغ ہو کر ہم نو بجے سے پہلے پلٹ آئے۔ میل بھر آگے جا کر ہم نے دیکھا کہ ایک بڑے نر شیر کے پگ دکھائی دیئے۔ یہ شیر شاید رات کو ادھر سے گذرا تھا۔ زمین اتنی سخت تھی کہ پگ کا پیچھا کرنا ممکن نہ تھا۔ بیرا کا خیال تھا کہ اسے چند ایسی جگہیں معلوم ہیں جہاں شیر کی موجودگی ممکن ہے۔

ہم لوگ آگے بڑھتے چلے گئے۔ پوری وادی کی گھنی گھاس اور جھاڑیاں چھان ماریں۔ بانس کے جھنڈ بھی نہ چھوڑے۔ ایک بار ہمیں ہاتھی کی وہ آواز سنائی دی جو وہ خوراک کو ہضم کرتے ہوئے نکالتا ہے۔ ہمیں علم تھا کہ اگر اس حالت میں ہاتھی کو چھیڑا جائے تو وہ بہت خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ ہم نے راستہ بدل کر دوسری سمت سے پیش قدمی جاری رکھی۔

اب ہم اس جگہ آ گئے جہاں جنگل صرف جھاڑیوں پر مشتمل تھا۔ ہر طرف چھوٹے چھوٹے پتھر بکھرے پڑے تھے۔ بیرا نے بتایا کہ شیر اور ریچھ اسی جگہ کے غاروں میں رہتے ہیں۔ پتھریلی زمین پر چلنے اور سخت گرمی کی وجہ سے ہمیں نشانات نہ دکھائی دیئے۔ میں نے واپسی کا ارادہ کیا۔ بیرا نے مزید کچھ دور چلنے کی درخواست کی۔

جلتے سورج کے پسینے سے شرابور ہم آخر کار پہاڑی کی چوٹی تک آ گئے جہاں سے دوسری طرف کی ڈھلوان شروع ہوتی تھی۔ اس جگہ اترائی چڑھائی سے زیادہ دشوار تھی اور زیادہ پتھریلی بھی۔ آخر کار ہم اس جگہ پہنچے جہاں کئی غار تھے۔ بیرا نے کہا کہ میں سائے میں بیٹھ جاؤں اور وہ ادھر ادھر کا جائزہ لے کر آتا ہے۔ بخوشی میں بیٹھ گیا اور پائپ سلگا لیا۔ بیرا جلد ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

دس منٹ بعد ہی بیرا لوٹ آیا۔ وہ بہت پرجوش دکھائی دے رہا تھا اور اس ے بتایا کہ اس نے شیر کی بو محسوس کی ہے۔ شیر لازماً یہیں کہیں نزدیک ہی چھپا ہوا ہے۔ اس وقت تک میں سخت مایوس اور تھک چکا تھا۔ میں نے کافی سخت لہجے میں اسے بکواس بند کرنے کو کہا۔ اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات پیدا ہوئے۔ وہ بولا آئیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ اس نے اتنا کہا اور میرے جواب کا انتظار کئے بنا چل دیا۔

رائفل اٹھائے میں اس کے پیچھے پیچھے چلا۔ فوراً ہی غار ہمارے سامنے تھے۔ بیس گز نزدیک جا کر بیرا نے مجھ سے کہا کہ اسے شیر کی بو آ رہی ہے۔ مجھے کچھ نہ محسوس ہوا۔ کچھ اور پاس ہو کر اس نے پھر سونگھنے کو کہا۔ اس بار میں نے بو کو صاف محسوس کیا۔ ایسی بو جو گلی سڑی سبزیوں سے آتی ہے۔ میرے کئی سال کے مشاہدے نے بتایا تھا کہ یہ بو شیر سے ہی آتی ہے۔

بیرا نے سر اٹھا کر ان پانچ غاروں کا جائزہ لیا جو سامنے تھے۔ اس نے کافی دیر جائزہ لے مجھے بتایا کہ ان میں سے چوتھا غار ایسا ہے جہاں شیر کی موجودگی کا امکان ہے۔ یہ غار میرے اندازے کے مطابق بالکل بھی شیر کے لئے موزوں نہیں تھا۔

میں نے غیر یقینی انداز سے اسے دیکھا۔ اس نے میرے تاثرات کو نظر انداز کر کے مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ ہم لوگ جلد ہی اس جگہ پہنچ گئے جہاں پتھر سے سر نکال کر ہم غار میں جھانک سکتے تھے۔ میں نے سر اٹھا کر جھانکا تو وہ جگہ خالی تھی۔ دوسرے ہی لمحے جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھمائی ہو، ایک بہت بڑے شیر کا سر نمودار ہوا جس کی آنکھوں سے تحیر جھلک رہا تھا۔

بمشکل آٹھ فٹ کی دوری سے میری گولی اس کی آنکھوں کے عین درمیان لگی۔ شیر اس ڈھلوان پر لڑھکتا ہوا بالکل اس پتھر پر آ کر ٹک گیا جو میرے سامنے تھا۔ اس کا بھاری سر اس کے اگلے پنجوں کے درمیان تھا، سبزی مائل آنکھیں نیم وا تھیں اور پیشانی سے خون کی دھار نکل رہی تھی۔

بیرا کی جنگل کے بارے معلومات کے امتحان کا یہ پہلا مرحلہ بخوبی طے ہوا۔ میں حد سے زیادہ خوش تھا لیکن بیرا پر اپنی خوشی ظاہر نہ ہونے دی۔ گذرتے سالوں سے ہماری دوستی اور اعتماد کا رشتہ پختہ ہونے لگا اور آج تک مجھے بیرا سے دوستی پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔

ذیل میں بیرا کے ساتھ بے شمار واقعات میں سے دو واقعات درج ذیل ہیں۔ پہلا واقعہ تلوادی کے ریچھوں کے بارے ہے جہاں بیرا نے بخوشی مجھے بچانے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔ دوسرا منداچی پالم کے آدم خور شیر کے بارے ہے۔

تلوادی دراصل ایک وسیع وادی کا نام ہے جہاں تلوادی نام کی ایک ندی گذرتی ہے۔ جہاں میری بیرا سے پہلی ملاقات ہوئی تھی، یہ جگہ ادھر سے گیارہ میل دور ہے اور سالم ضلع کے دور افتادہ جگہوں میں سے ایک۔

تلوادی ندی آئیور کے مقام پر جہاں سے گذرتی ہے، اسے میں مکڑیوں کی وادی کے نام سے جانتا ہوں۔ یہاں سرخ اور پیلی مکڑیوں کے جالے ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ جالے بیضوی شکل کے اور بیس فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں۔ درمیان میں مکڑی خود ہوتی ہے جو عموماً نو انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ اتنی بڑی جسامت کے باوجود یہ مکڑیاں بہت زود رنج اور غصیلی ہوتی ہیں۔اس کا شکار پتنگے اور تتلیاں ہوتے ہیں۔ جنگل کے دوسرے حشرات بھی یہ نہیں چھوڑتیں۔ یہ مکڑیاں اپنی ہی نسل کی دوسری مکڑیوں کے لئے بھی یکساں خطرناک ہوتی ہیں۔ اپنے جالے میں دوسری مکڑی کی موجودگی کا مطلب دونوں میں سے ایک نہ ایک مکڑی کی ہلاکت ہے۔

تلوادی کی ندی اس مقام سے گذرتی ہے اور دو شاخوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ چھوٹی شاخ جنوب کی طرف کمپی کاری کی وادی کی جانب دریائے چنار سے جا ملتی ہے۔ یہ علاقہ کمپی کاری کے پاگل ہاتھی کی بھی آماج گاہ رہا ہے۔ جس نے سات آدمی، دو تین مویشی مار ڈالے تھے اور پانچ یا چھ بیل گاڑیاں بھی تباہ کر دی تھیں۔ ایک تین ٹن وزنی لاری جو بانس لاد کر جا رہی تھی، کو بھی الٹ دیا۔ ندی کا بڑا حصہ مغرب کی جانب بہتے ہوئے چند میل بعد جنوب مغرب کا رخ کر لیتا ہے۔

یہ حصہ بالعموم گھنے جنگلات سے بھرا ہوا ہے۔ پہاڑی علاقے نسبتاً چھدرے لیکن باقی ہر جگہ بانس بھرا ہوا ہے۔ اس کے اختتام پر بلگنڈلو نامی مچھیروں کی بستی ہے۔ اس سارے علاقے میں ہاتھیوں اور بھینسوں کے غول موجود ہیں۔ اکا دکا شیر بھی پائے جاتے ہیں۔ تلوادی بذات خود گھنی گھاس سے ڈھکی اور تیندوؤں کا مسکن ہے۔ یہاں ریچھ، جنگلی سور، سانبھر، بھونکنے والے ہرن اور مور بھی اتنی بڑی تعداد میں ہیں جو میں نے کہیں اور نہیں دیکھے۔

کہانی کی ابتداء کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ بیرا نے مجھے پوسٹ ماسٹر کے ذریعے خط بھیجا۔ اس میں لکھا تھا کہ ایک بہت بڑا تیندوا ماتھور انچٹی والی سڑک کے گیارہویں میل سے پندرہویں میل کے درمیان مویشی مار رہا ہے۔ خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ یہ تیندوا عام شیر سے بھی زیادہ بڑا ہے۔

پانچ دن کی چھٹی لے کر میں ڈینکانی کوٹہ کے شارٹ کٹ سے ہوتا ہوا انچٹی اور پھر ماتھور پہنچا جہاں میری ملاقات بیرا سے ہوئی۔ یہاں سے ہم پندرہویں میل کی طرف پلٹے جو وادی میں ہی تھا۔ سڑک بالکل تباہ شدہ تھی۔ راستے میں کئی ندیاں تھیں اور راستہ جگہ جگہ بیل گاڑیوں کی آمد و رفت کی وجہ سے کٹا پھٹا تھا۔ راستے میں ہی بڑے بڑے پتھر بکثرت تھے جو کہ کار اور اس کے مالک سے خراج وصول کرتے تھے۔ خیمہ لگا کر ہم لوگ مویشی پٹی کی طرف چلے گئے جو یہاں سے پون میل دور ہے۔ یہاں میں نے بذات خود تیندوے کے بارے سنا۔ تیندوے نے ریوڑ پر حملہ ساڑھے پانچ بجے کیا جب ریوڑ گاؤں واپس لوٹ رہا تھا۔ اس نے حملے کے لئے سب سے بڑی گائے کا انتخاب کیا۔ کئی چرواہوں نے تیندوے کو بھگانے کی کوشش کی لیکن الٹا تیندوا ان پر غراتا رہا۔ میرے علم کے مطابق یہ تیندوا کسی ایک جگہ نہیں رہتا تھا اور چار میل چوڑا علاقہ اس کی آماج گاہ تھا۔

چرواہوں کو جانور بیچنے پر مجبور کرنا بہت مشکل کام ہے۔ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تیندوے کی ہلاکت ان کے لئے ہی فائدہ مند ہوگی، وہ مذہبی تقدس کے باعث مجبور تھے۔ خیر مختلف طریقے آزما کر میں نے دو عدد تقریباً جوان جانور خریدے۔ ایک کو دریا کے کنارے اور دوسرے کو چودہویں سنگ میل کے ساتھ باندھا۔

اب میرا کام صرف انتظار کرنا ہی تھا کہ تیندوا کب انہیں ہلاک کرتا ہے۔ یہاں مور اور جنگلی مرغ بکثرت تھے۔ لیکن ان پر گولی چلاتا تو تیندوا بھاگ جاتا۔ صبح شام میں وادی کا چکر لگاتا کہ شاید تیندوے یا پھر کسی شیر سے مڈبھیڑ ہو جائے۔

خوش قسمتی سے تیسرے ہی دن شام کو سات بجے مجھے اطلاع ملی کہ اسی روز تیندوے نے دوسری مویشی پٹی سے ایک گائے ماری ہے جو یہاں سے تین میل دور ہے۔ جونہی گاؤں والوں کو خبر ہوئی، انہوں نے میری طرف ہرکارہ بھیج دیا۔

رائفل اٹھاتے ہوئے میں نے ٹارچ اور اوور کوٹ بھی اٹھائے اور اس جگہ کا رخ کیا جہاں گائے ماری گئی تھی۔ کئی فرلانگ قبل ہی میں نے ٹارچ بجھا دی اور اس طرح ہم لوگ احتیاط سے چلنے لگے۔ پہاڑیوں سے نصف چاند طلوع ہو رہا تھا۔ یہاں ایک تنگ موڑ مڑتے ہی تیندوا دکھائی دیا۔ وہ مردہ گائے کے پیچھے عین راستے کے درمیان چھپا ہوا تھا۔

میرے پاس بارہ بور کی بندوق تھی جو کم فاصلے کے لئے مناسب ہی۔ میری ونچسٹر رائفل بیرا اٹھائے میرے پیچھے تھا۔ قبل اس کے کہ میں بندوق اٹھاتا، تیندوے نے چھلانگ لگائی اور جھاڑیوں میں گم ہو گیا۔

میں نے سرگوشی میں بیرا سے کہا کہ وہ چرواہے کے ساتھ باتیں کرتا ہوا واپس چلے تاکہ تیندوا دھوکا کھا جائے کہ ہم جا چکے ہیں۔ میں خود بیس قدم دور کھجور کے ایک جھاڑی نما درخت کے پیچھے چھپ گیا۔

تیندوے نے جلد ہی اپنی موجودگی کی اطلاع آواز نکال کر بہم پہنچائی۔ پھر یہ آواز اس طرف سے آئی جہاں بیرا اور چرواہا گئے تھے۔ شاید وہ پوری تسلی کرنا چاہتا ہوگا۔ گھنٹہ بھر کی خاموشی کے بعد تیندوا اچانک ہی نمودار ہوا۔ وہ اب بھی اس راستے کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں سے ہم لوگ آئے تھے۔

نیم تاریکی میں میں نے اس کے شانے کے پیچھے ہر ممکن احتیاط سے نشانہ لے کر گولی چلائی۔ تیندوا گز بھر ہوا میں اچھلا۔ زمین پر آئے بغیر اس نے ہوا ہی میں چھلانگ لگائی اور دوسری گولی چلانے سے قبل ہی گم ہو گیا۔ بلاشبہ اس کے فرار کے وقت کی آوازیں بتا رہی تھیں کہ وہ زخمی ہو چکا ہے۔ چند منٹ بعد خاموشی چھا گئی۔ میں نے مزید وقت گذارنا بیکار سمجھا اور واپس چل دیا۔

اگلی صبح ہم لوگ منہ اندھیرے اس جگہ واپس لوٹے۔ یہاں فوراً ہی بیرا نے تیندوے کے خون کے نشانات تلاش کر لئے۔ اس بار میں رائفل سے مسلح تھا۔ بیرا میرے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میرے Lg کے چھرے تیندوے کو لگے تھے۔ اس طرح تیندوے کی تلاش اور حملہ کی صورت میں اسے روکنا میرے ذمہ تھا۔ بیرا میرے پیچھے نسبتاً محفوظ رہ کر کھوج لگاتا آ رہا تھا۔

سو گز دور ہی ہمیں تیندوے کے رکنے کا پہلا نشان ملا۔ یہاں سے تیندوا ایک نزدیکی نالے میں گھس گیا تھا جہاں گھنی جھاڑیاں تھیں۔ یہاں پیچھا کرنا نہ صرف مشکل بلکہ خطرناک بھی ہوتا۔

پنجوں کے بل چلتے ہوئے ہم بار بار رک کر تیندوے کے لئے ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ ہمیں علم نہ تھا کہ تیندوا زندہ ہے یا مر چکا ہے۔ یہاں میں بار بار جھاڑیوں اور گھاس میں اسے تلاش کرتا رہا۔ خوش قسمتی سے یہاں چٹانیں اور درخت بہت کم تھے۔

اسی طرح ہم چند ہی قدم چلے ہوں گے کہ اچانک میرے سامنے ایک گڑھے سے ایک عجیب الخلقت جانور نکلا۔ یہ ایک مادہ ریچھنی اور اس کا بچہ تھے جو اس گڑھے میں سو رہے تھے۔

ریچھنی کے سینے پر V کا نشان بالکل صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ نسبتاً اوپر کو اٹھی۔ اس کا انداز کافی جارحانہ اور غصیلا تھا۔ پھر وہ دوبارہ چاروں پیروں پر جھکی اور سیدھا ہماری طرف آئی۔ میری رائفل بالکل اس کے کھلے منہ میں تھی کہ میں نے فائر کیا۔ اس لمحے وہ ہوا جس پر شکاری کی زندگی اور موت کا دار و مدار ہوتا ہے۔ یعنی “مس فائر”

اس نے رائفل کو دانتوں میں جکڑ کر اس پر پنجہ مارا اور رائفل میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ اپنے دفاع میں پیچھے ہٹتے ہوئے میں ٹھوکر کھا کر گرا۔ ریچھنی میری طرف لپکی تاکہ مجھے نوچ سکے۔ عموماً یہ جانور سب سے پہلے چہرہ نوچتے ہیں۔ اس لمحے بیرا نے وہ عظیم ایثار کیا جو مجھے ساری زندگی اس کا احسان مند رکھنے کے لئے کافی ہے۔

وہ چھلانگ لگا کر میرے اور ریچھنی کے درمیان آیا اور پوری قوت سے چلانے کی کوشش کی تاکہ ریچھنی بھاگ جائے۔ اسے صرف اتنی کامیابی ہوئی کہ ریچھنی اب اسے بھلا کر بیرا پر حملہ آور ہو گئی۔

چونکہ بیرا آخری لمحے اس کے سامنے آیا تھا، ریچھنی کے دانت اس کے شانے میں گڑ گئے۔ اس کے پنجوں نے بیرا کے سینے، کمر اور پہلوؤں کو چھیل کر رکھ دیا۔ بیرا نیچے گرا اور ریچھنی اس پر لپٹی ہوئی تھی۔ میں فوراً رائفل کی طرف لپکا۔ میں نے مس فائر والا کارتوس نکالنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ لیور کام چھوڑ چکا ہے۔ چند ہی لمحے گذرے ہوں گے۔ بیرا درد سے چلا رہا تھا اور ریچھنی غصے سے۔ رائفل کو ڈنڈے کی طرح اٹھائے دستے والے سرے کو ریچھنی کے سر پر مارا۔ شکر ہے کہ میرا نشانہ خطا نہیں ہوا اور ریچھنی نے بیرا کو چھوڑ دیا اور پھر میری رائفل منہ میں پکڑ لی۔ اس بار اس کے دانت دستے میں گڑ گئے۔ رائفل پھر میری گرفت سے چھوٹ گئی۔ اس نے دستے کو کترنا شروع کر دیا۔ خوش قسمتی سے ریچھنی کے بچے نے، جو اس دوران حیرت اور دہشت سے دم بخود تھا، چند چیخیں ماریں۔ اچانک ہی ریچھنی نے رائفل چھوڑ دی اور بچے کی طرف لپکی۔ اس نے بچے کو بغور دیکھا اور سونگھا۔ پھر اچانک ہی دونوں مڑ کر ہماری نظروں سے جلد ہی اوجھل ہو گئے۔ یہ دہشت ناک منظر کئی دن تک میرے اعصاب پر سوار رہا۔

بیرا کہنیوں اور گھٹنوں کے بل جھکا درد کے مارے تڑپ رہا تھا۔ اس کے زخموں سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ میں نے بھاگ کر اپنا کوٹ اور قمیض اتاری۔ قمیض کو پھاڑ کر پٹیاں بنائیں اور بیرا کے زیادہ گہرے زخموں پر پٹی باندھنے کی کوشش کی تاکہ خون کا بہاؤ تھم سکے۔ پھر اسے کمر پر لادا اور ناکارہ رائفل اٹھائے میں مویشی پٹی کی طرف پلٹا۔ یہاں بیرا کو چارپائی پر لادے چار چرواہوں کی مدد سے اسے لے کر کیمپ پہنچا۔ یہاں زخموں پر آئیوڈین لگا کر اور جلدی جلدی سب کچھ سمیٹ کر میں نے بیرا کو گاڑی میں ڈالا اور پندرہ میل دور پناگرام کی طرف روانہ ہوا جہاں ڈسپنسری سے ابتدائی طبی امداد حاصل کی۔ بیرا خون بکثرت بہہ جانے کی وجہ سے زرد ہو رہا تھا اور غشی کی حالت میں تھا۔ یہاں سے پھر اسے کار میں ڈال کر میں اکسٹھ میل دور سالم ضلع پہنچا جہاں اول درجے کا ہسپتال موجود تھا۔

ان دنوں پینسلین ایجاد نہیں ہوئی تھی اور پہلا ہفتہ بیرا نے زندگی اور موت کی کشمکش میں گذارا۔ میں اس کے ساتھ اس کے بستر سے ٹکا رہا۔ جلد ہی ڈاکٹروں نے اسے خطرے سے باہر قرار دے دیا۔ اب میں پناگرام پلٹا جہاں بیرا کی بیوی اور بچے نہایت پریشان کسی اچھی خبر کے منتظر تھے۔ انہیں میں نے کچھ رقم دی۔ یہاں مجھے تیندوے کی کیڑوں سے بھری کھال بھی پیش کی گئی جو پریشانی کے باعث میرے ذہن سے نکل چکا تھا۔ تلوادی میں گدھوں کو اڑتا دیکھ کر چرواہوں نے تیندوے کی لاش پائی تھی۔ یہ جگہ ہمارے ریچھنی سے مڈبھیڑ والی جگہ سے دو سو گز دور تھی۔ یہ کھال کیڑوں سے پر تھی اور محفوظ کئے جانے کے قابل نہ تھی۔

سالم لوٹ کر میں نے بیرا کے علاج کے لئے کافی رقم چھوڑی اور واپس گھر لوٹ آیا۔ دو ماہ بعد جب بیرا چلنے کے قابل ہو سکا۔ اس بار اس کی دائیں ٹانگ میں کچھ لنگ سا آ چکا تھا۔ اس کے جسم پر زخموں کے نشانات بھی باقی تھے۔

میری رائفل کا کندہ بیکار ہو چکا تھا جسے میں نے بدل لیا۔ نالی پر سرے سے چھ انچ نیچے ریچھنی کے دانتوں کے نشانات موجود تھے۔ اس دن سے بیرا اور میں، دونوں حقیقی بھائی بن چکے ہیں۔ ہمارے درمیان جو محبت اور بھائی چارہ قائم ہوا ہے وہ ہر طرح کی دنیاوی آلائشوں سے پاک ہے۔

اس واقعے کے کئی سال بعد یہ دوسرا واقعہ منداچی پالم کے آدم خور شیر کے بارے ہے۔

منداچی پالم یا اس کا تامل ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے، منداچی کی ندی یا منداچی کا گڑھا۔ یہ جگہ گھاٹ کنارے سے کچھ دور اور دو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے جہاں پناگرام کی بستی موجود ہے۔ یہاں سے دریائے کاویری بھی گذرتا ہے۔ یہاں سے چار میل دور اوتائی ملائی نامی مچھیروں کی بستی ہے۔ یہاں بالکل ہی قریب ہوگانیکال کی آبشار ہے۔ یہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ نے سڑک کے کنارے منداچی پالم کے پاس کنواں بنوایا ہوا ہے تاکہ مسافروں اور دوسرے جانور جو بھاری عمارتی لکڑی لے جاتے ہیں ، کی پیاس بجھا سکے۔ یہاں سے پناگرام کی طرف چھ میل کی چڑھائی شروع ہوتی ہے۔ یہ چڑھائی نہایت مشکل ہے۔

چھوٹا سا کنواں جس کے چاروں طرف گھنا جنگل ہے، یہاں سے ایک پتلی سی پگڈنڈی گذرتی ہے۔ اس جگہ سے میری کہانی شروع ہوتی ہے جو کئی ہلاکتوں کے بعد اور میرے شکاری رانگا کے بال بال بچنے کے بعد ختم ہوتی ہے۔

علی الصبح ساڑھے سات بجے کا وقت ہوگا جب پتوں اور گھاس پر شبنم کے قطرے موتیوں اور ہیروں کی طرح چمک رہے تھے اور ان پر گھنے درختوں سے چھلکتی سورج کی روشنی عجب بہار دکھا رہی تھی۔

ایک مرد اور دو عورتیں مچھلیاں اٹھائے ادھر سے گذرے۔ ان کے پاس بانس کی تیلیوں سے بنی ٹوکریاں تھیں جن میں مچھلیاں تھیں۔ کنویں پر پہنچ کر انہوں نے ٹوکریاں زمین پر رکھ دیں اور بیٹھ کر آرام کرنے لگے۔ مرد کی کمر کے گرد رسی کی مدد سے لوٹا بندھا ہوا تھا۔ کنویں پر آ کر انہوں نے لوٹے کو رسی کی مدد سے کنویں میں لٹکایا اور تازہ، شفاف اور ٹھنڈے پانی کو باہر نکالا۔ یہاں کی مقامی رسوم کے مطابق مرد نے اپنی پیاس پہلے بجھائی۔ اس کے بعد دونوں عورتوں کی باری آئی۔ اس کے پانی پینے کے دوران لوٹے کو منہ سے نہ لگایا کہ یہ حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف تھا۔

یہ لوگ مچھلیاں لے کر پناگرام جا رہے تھے۔ پناگرام سے پہلے یہ آخری کنواں تھا۔ مرد نے اپنی طلب کے مطابق پانی پیا اور پھر لوٹے کو دو بار بھرا تاکہ دونوں خواتین اپنی اپنی پیاس بجھا سکیں۔ دونوں عورتیں بمشکل بیس یا بائیس سال کی ہوں گی۔ انہوں نے کمر سے اوپر محض ساڑھی کا پلو کندھے پر ڈالا ہوا تھا اور باقی اوپری بدن ننگا تھا۔ ان کی سانولی رنگت پر پسینہ موتیوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اگرچہ صبح خاصی خنک تھی لیکن مچھلیوں کے وزن سے وہ پسینے میں شرابور ہو رہے تھے۔

پانی پی کر یہ لوگ چند منٹ کے لئے کمر سیدھی کرنے لگے۔ انہوں نے اپنی پوٹلیوں سے پان کے پتے اور سپاری وغیرہ نکالی اور پان بنا کر چبانے لگے۔ چند ہی منٹوں میں ان کی باچھوں سے لال رنگ کا لعاب بہنے لگا جسے وہ بے تکلفی سے بار بار ادھر ادھر تھوکتے جا رہے تھے۔

اچانک کنویں کے پاس والے جنگل سے شاخوں کے ٹوٹنے اور پتوں کے مسلے جانے کی آوازیں آئیں۔ آوازیں بار با رآتیں اور فوراً ہی تھم جاتیں۔اس کے علاوہ جنگل بالکل خاموش تھا۔

تینوں افراد نے آواز کا ماخذ جاننے کی کوشش کی۔ انہوں نے سمجھا کہ کوئی ہرن یا چیتل ہوگا جو جنگلی کتوں سے گھبرا کر ادھر پناہ لے رہا ہے۔ عورتوں کو متاثر کرنے اور یہ سوچ کر کہ اگر جانور زیادہ زخمی ہوا تو اسے پکڑ بھی سکتا ہے، مرد آگے بڑھا۔ اس نے ہاتھ میں پتھر اٹھایا ہوا تھا۔

اس وقت آوازیں تھمی ہوئی تھیں۔ اس نے ذرا قدم اور بڑھائے۔ جھاڑیوں کے درمیان ایک ببول کا درخت تھا۔ اس نے اس درخت کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ اس نے دیکھا کہ اس کے عین سامنے فٹ بھر دور شیروں کا جوڑا جنسی ملاپ کی حالت میں تھا۔

ایک عام شیر ایک ایسا جانور ہے کہ عموماً اس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ایک بار میں مچھلیوں کے شکار پر تھا کہ مجھ سے بمشکل پندرہ گز دور شیر نمودار ہوا۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ ہم میں سے کون زیادہ حیران ہوا۔ تاہم شیر نے فوراً ہی رخ بدلا اور جدھر سے آیا تھا، ادھر واپس چل دیا۔ میں غیر مسلح تھا اور متجسس بھی، میں اس کے پیچھے چل دیا۔ شیر میرے تعاقب سے باخبر ہو کر بھی عام کتے کی رفتار سے چلتا رہا۔ تاہم جلد ہی وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔

تاہم چاہے شیر ہو یا کوئی بھی اور جانور، اسے بعض اوقات خلوت درکار ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ناراض ہو کر یا پھر اپنی مادہ کو متاثر کرنے کے لئے شیر نے مختصر سی دھاڑ لگائی اور ایک ہی چھلانگ میں اس آدمی کا گلا دبوچ لیا۔ بغیر آواز نکالے آدمی وہیں ڈھیر ہو گیا۔ شیر اب بھی غرائے جا رہا تھا۔ دونوں عورتوں نے یہ آوازیں سنیں اور وہ اوتاملائی کی طرف سرپٹ دوڑ پڑیں۔ شیر نے محض ناراضگی دکھانے کے لئے یہ حملہ کیا تھا۔ اس نے لاش کو چھوا تک نہیں۔ لیکن اسے انسان کی بے بسی کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔

چند ہفتے بعد ایک لکڑہارا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لا رہا تھا کہ ایک موڑ پر اس کی مڈبھیڑ شیر سے ہوگئی۔ ایک بار پھر شیر کی مختصر دھاڑ اور چھلانگ لگی۔ ایک اور آدمی ہلاک ہو گیا۔ اس بار کوئی بھی وجہ نہیں تھی۔ اس بار بھی شیر نے لاش کو چھوا تک نہیں۔

دو ماہ گذرے۔ چند عورتیں مل کر جنگل میں املی کے پھل تلاش کر نے گئیں۔ ایک عورت باقیوں سے ذرا دور تھی۔ وہ پھل جمع کر کے انہیں اٹھانے کے لئے جھکی ہی تھی کہ اس کی نگاہیں شیر سے ملیں۔ ایک چیخ آئی اور پھر ایک دھاڑ کی آواز اور تیسری انسانی جان چلی گئی۔ اس بار شیر کے دانت شہہ رگ میں گھسے اور ان سے گرم گرم نمکین خون ابلنے لگا۔ یہ خون سیدھا شیر کے منہ میں گیا اور اس طرح منداچی پالم کا آدم خور وجود میں آیا۔ شیر اس عورت کو چند گز دور جھاڑیوں میں لے گیا اور اگلے دن کھوپڑی، پنجوں اور پیروں کے تلوے کے سوا سب کچھ کھایا جا چکا تھا۔

مختصر عرصے میں تین مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ پہلی ساتویں سنگ میل پر، دوسری دریائے چنار کے کنارے اور تیسری اوکتاملائی سے بمشکل میل بھر دور۔ تینوں بار لاش کو شیر نے کلی یا جزوی طور پر کھایا تھا۔

شیر کی اس آخری واردات سے اتنا خوف و ہراس پھیلا کہ لوگوں نے پناگرام جا کر حکام کو درخواست کی کہ براہ کرم شیر کے خلاف کوئی کاروائی کی جائے ورنہ وہ پورا گاؤں ہڑپ کر جائے گا۔ میرا شکاری رانگا بھی وہیں تھا۔ اس نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے اس کام کے لئے تیار کرے گا۔ اس نے سو میل کا طویل سفر بس کے ذریعے کیا اور بنگلور میرے پاس شام ڈھلے پہنچا اور اطلاع دی۔

یہاں رانگا کا مختصر سا تعارف بے جا نہ ہوگا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ رانگا سے میری ملاقات ماتھور میں ہوئی تھی جہاں کچھ سال قبل میں بیرا سے پہلی بار ملا تھا۔ رانگا بیل گاڑی چلاتا تھا اور جنگل سے بانس لے کر پناگرام آتا تھا۔ وہ اپنا فالتو وقت بیرا کی طرح مانگے تانگے کی توڑے دار بندوق سے غیر قانونی شکار کھیل کر گذارتا تھا۔ تاہم وہ بیرا سے بہت مختلف تھا۔ جسمانی اور شخصی، دونوں اعتبار سے۔ بیرا کے برعکس وہ لمبا اور توانا آدمی تھا۔ اس نے سال بھر جیل میں بھی گذارا تھا کہ اس نے اپنی بیوی پر شبہ کرتے ہوئے اسے جان سے مار دینے کی کوشش کی تھی۔ جیل سے نکل کر اس نے دوسری شادی کی اور جب میں اس سے ملا تو وہ تین بچوں کا باپ تھا۔ جلد ہی اس نے تیسری شادی بھی کر لی اور اب درجن بھر بچوں کا باپ اور دادا بھی بن چکا ہے۔ اس میں بیرا کے برعکس انتظامی صلاحیتیں بھی تھی اور وہ دئے گئے احکامات کو بخوبی بجا لاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس کا کردادر بھی پختہ نہ تھا۔ وہ ببول اور دیگر اجزاء سے ناجائز شراب بھی کشید کرتا تھا۔ میں نے کئی بار اس شراب کو چکھا تھا۔ یقین مانیں کہ نہایت عمدہ شراب ہوتی تھی۔ وہ بیرا سے کہیں زیادہ بے ایمان ہے۔ خصوصاً بارہ بور کے کارتوسوں کے لئے تو اس پر بالکل بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ اسے بیرا سے نفرت ہے اور وہ اکثر بیرا کی طرف حقارت اور نفرت سے دیکھتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ وہ میری اور بیرا کی دوستی سے جلتا ہے۔ لیکن رانگا خطرے کے وقت بہادری سے ڈٹ کر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ مشکل وقت میں قابل اعتماد ہے اور اسے جنگلی جانوروں یا ان کی کہانیوں سے بھی ڈر نہیں لگتا۔

بدقسمتی سے جب رانگا میرے پاس آیا تو میں کافی مصروف تھا اور کم از کم دو ہفتوں کے لئے میرا ان مصروفیات سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں تھا۔ سو میں نے رانگا کو پناگرام واپس بھیجا اور اسے تفصیلی ہدایات کے ساتھ ساتھ اپنے پتے لکھے ہوئے کافی سارے ڈاک کے لفافے بھی دئے۔ اسے میں نے ہدایت کی کہ وہ ہر دوسرے دن مجھے صورتحال سے تفصیلاً آگاہ کرتا رہے۔

اس وقت رانگا کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے شاید میں ان دو اموات کا بالواسطہ ذمہ دار ہوں جو اس دوران واقع ہوئیں۔ اس کے بعد جونہی مجھے کچھ فراغت ملی، میں بذریعہ کار پناگرام پہنچا۔ رانگا کو ساتھ لے کر میں ماتھور بیرا کی طرف چلا۔ اسے بھی ساتھ لے کر ہم اوکتا ملائی پہنچے۔ یہاں ہمارے گروپ کا آخری ممبر سوری تھا۔ سوری بھی جیل میں تین ماہ کاٹ چکا تھا۔ سوری کا جرم ایک جنگلی ہاتھی پر گولی چلانا اور اسے ہلاک کرنا تھا۔ یہ ہاتھی ایک نوجوان مادہ تھی۔ جب سوری غیر قانونی شکار کے لئے ایک گڑھے میں چھپا ہوا تھا تو یہ ہتھنی اس کے گڑھے کے کنارے آ گئی۔ سوری کو جان کے لالے پڑے تو اس نے گولی چلانے کا فیصلہ کیا۔ ہتھنی کے کان کے پیچھے اس نے اپنی توڑے دار بندوق سے گولی چلائی۔ سخت گولی نے اپنا اثر دکھایا اور ہتھنی وہیں ڈھیر ہو گئی۔ بدقسمتی سے سوری رنگے ہاتھوں وہیں پکڑا گیا۔ اس وقت میں دریا کے دوسرے کنارے شکار کھیل رہا تھا۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے آ کر ہتھنی کی تصویر کھینچی اور اس طرح سوری سے واقفیت بھی پیدا ہوئی۔

مجھے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہے کہ میں اتفاقاً ان تینوں سے ملا۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے الگ شخصیات رکھتے تھے۔ ان کے پاس جنگل کے مختلف پہلوؤں کے متعلق معلومات کے خزانے تھے۔ بیرا نے اس موقع پر فوراً ہی اپنی خدمات پیش کر دیں کہ وہ جنگل میں جا کر اس آدم خور شیر کو تلاش کرتا ہے۔ بمشکل میں اسے سمجھا پایا کہ یہ صریح خود کشی ہے۔ میں نے اس کے ساتھ سوری کو اپنی بارہ بور بندوق دے کر بھیجا۔ ایک اور بندہ جو محکمہ ماہی پروری کا نگران تھا، بھی ان کے ساتھ چلا۔ رانگا کے ذمے تین بھینسے لے کر انہیں مناسب جگہوں پر باندھنا ٹھہرا۔ رانگا کے لئے تین جانور پیدا کرنا مشکل نہ تھا کیونکہ وہ دھمکیاں، دھونس اور لالچ دے کر کام نکالنا بخوبی جانتا تھا۔

پہلا چارہ دریائے چنار کے کنارے اس جگہ سے میل بھر دور باندھا گیا جہاں دریائے چنار دریائے کاویری سے ملتا ہے۔ دوسرے کو اس جگہ سے تین میل دور اور تیسرا اس جگہ سے سو گز کے اندر باندھا گیا جہاں پہلی واردات ہوئی تھی۔ طے یہ پایا کہ بیرا اور دوسرے لوگ دریائے کاویری کے دوسرے کنارے پر شیر کی تلاش جاری رکھیں گے جبکہ میں اور ایک مقامی کھوجی کے ہمراہ دیرا کے دوسرے کنارے کی تلاشی لیں گے۔ رانگ کا کام بھینسوں کی دیکھ بھال اور ان کے چارے وغیرہ کا خیال رکھنا تھا۔

اس طرح ہم نے چار دن گذارے۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ ہمیں بہت ساری جگہوں پر شیر کے پگ ملے لیکن وہ تازہ نہ تھے۔ اس کے علاوہ کسی کو بھی علم نہ تھا کہ یہ آدم خور ہی کے پگ ہیں یا کسی اور شیر کے۔

ہماری طرف سے تمام دیہاتیوں کا جنگل میں داخلہ اور عام راستے کا استعمال بند کرا دیا گیا تاکہ شیر کو بھینسوں کی چاٹ لگ جائے۔ اس کے علاوہ اس جنگل میں جنگلی جانوروں کی بھی بہتات تھی۔ شیر کے بھوکے مرنے کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔ اسی طرح دوسرے گاؤں سے لوگوں کو آمد و رفت کو روکنا ہمارے بس میں نہ تھا۔ آدم خور ان پر بھی ہاتھ صاف کر سکتا تھا۔

اس دوران میں نے ہر ممکن طریقے سے گرد و نواح میں اپنی آمد کی اطلاع پہنچا دی تاکہ اگر شیر کہیں بھی واردات کرے تو مجھے فوراً اطلاع مل جائے۔اس کے بعد بیر ا کی مدد سے ہم اس جانور کی کھوج آسانی سے لگا سکتے تھے۔ ہانکہ ناممکن تھا کہ اول تو اس کے لئے آدمی نہ ملتے، دوسرا اگر آدمی مل بھی جاتے تو یہ شیر اتنا نڈر اور کمینہ تھا کہ وہ الٹا ہانکے والوں پر ہی حملہ کر دیتا۔

پانچویں دن علی الصبح مجھے اطلاع ملی کہ پانا پتی کی مویشی پٹی میں ایک آدمی کو شیر نے مارا ہے۔ وہ جگہ یہاں سے چار میل دور تھی۔ یہ واردات سابقہ شام ڈھلے ہوئے تھی۔ یہ آدمی اپنے گھر سے نکل کر سو گز دور اپنے کتے کو بلانے گیا تھا کہ واپس نہ لوٹا۔ میں اور بیرا عجلت میں اس طرف چل پڑے۔ یہاں جست لگانے سے قبل شیر کے پنجے بہت پھیل گئے تھے۔ اس کے علاوہ دریائے چنار میں سے جب وہ اپنے شکار کو لے کر گذرا تو نرم مٹی پر اس کے پگ بالکل صاف تھے۔ یہاں دریا عبور کر کے وہ جنگل کے دوسرے کنارے بانس کے جھنڈ میں گھسا۔ یہاں ہم نے اس آدمی کی لاش پائی جو تقریباً مکمل ہی کھائی جا چکی تھی۔

یہاں درخت بالکل نایاب تھے۔ صرف تیس فٹ دور بانس کا ایک گھنا سا جھنڈ تھا۔ میں نے بیرا کو ہدایت کی کہ اس جھنڈ میں سے آٹھ یا نو بانس کے تنے نیچے اور پھر چار فٹ کی بلندی سے کاٹ دے۔ چونکہ بانس کے اوپری سرے اس بری طرح گھتے ہوئے تھے کہ نیچے موجود شگاف کے باوجود بھی کوئی بانس نیچے نہ گرتا۔

بیرا نے جلد ہی اپنا کام پورا کر دیا۔ ایک آرام دہ غار نما جگہ بنا دی تھی۔ اس میں بیٹھتے ہوئے میں نے دیکھا کہ اب پشت اور دیگر تمام اطراف سے میں بالکل محفوظ تھا کیونکہ میرے پیچھے اور اطراف میں موجود بانس کا جھنڈ بہت گھنا تھا۔ اگر شیر میری طرف آتا تو اسے سامنے سے حملہ کرنا پڑتا۔ میرے وفادار دوست بیرا نے میرے ساتھ ہی بیٹھنے پر اصرار کیا۔ میں نے سختی سے اسے روکا۔ مجھے اس کی ہمراہی میں زیادہ سکون ملتا لیکن یہ جگہ صرف اتنی ہی تھی کہ ایک بندہ بیٹھ سکتا تھا۔ اگر اسے کھلا کرنے کے لئے ہم دوسرے بانس کاٹتے تو خدشہ تھا کہ اوپر والے بانس نیچے گر پڑتے کیونکہ جھنڈ زیادہ بڑا نہ تھا۔ اس کے علاوہ زیادہ بانس کاٹنے سے زیادہ مقدار میں شاخیں اور پتے پھینکنے پڑتے جس سے شیر کو زیادہ شبہ ہو جاتا اور کٹتے تنوں کے شور سے بھی وہ خبردار ہو سکتا تھا۔

مجھے اندازہ تھا کہ رات بہت تاریک ہوگی کیونکہ یہ چاندنی راتیں نہیں تھیں۔ میں نے اپنی ونچسٹر رائفل پر ٹارچ جمائی اور اضافی ٹارچ کو بندوق پر لگا لیا اور اسے بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔ بانسوں کے درمیان موجود رہ کر میں شبنم اور جنگل کی خنک ہوا سے بھی محفوظ تھا۔ اسی طرح یہاں سانپوں کی آمد کا خطرہ بھی نہیں تھا۔

ایک بجے دوپہر کو میں اس جگہ پر بیٹھ گیا اور اپنے ساتھیوں کو واپس بھیج دیا۔ بیرا اب بھی ساتھ رکنے پر اصرار کر رہا تھا۔ میں نے انہیں ہدایت کی کہ صبح کو وہ جب دریائے چنار کی دوسری طرف پہنچیں تو مجھے پکاریں۔ ان کے جانے کے بعد میں اور میرے ہتھیار اگلے سترہ گھنٹوں کے لئے تنہا رہ گئے۔

آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس جگہ میں ہر طرف سے محفوظ تھا۔ میرے سامنے صرف اتنی سی جگہ تھی کہ میں سامنے دیکھ سکتا اور یہ بھی کہ انسانی لاش بھی میرے بالکل سامنے موجود تھی۔ مجھے اطمینان تھا کہ رات کو جب شیر اندھیرے میں بخوبی دیکھ سکے گا تو میں ہر طرف سے اس کے حملے سے کتنا محفوظ رہوں گا۔ خصوصاً جب میں اسے اندھیرے کے باعث نہیں دیکھ سکوں گا۔

انسانی لاش پر جھکے ہوئے بانس کے درختوں نے اسے گدھوں سے بچائے رکھا۔ مکھیاں البتہ بکثرت تھیں اور جلد ہی سڑاند ناقابل برداشت ہو گئی۔

تاریکی چھانے تک کچھ نہ ہوا۔ اندھیرا تیزی سے پھیل گیا۔ نہ صرف رات تاریک تھی بلکہ اس جگہ پر چھت کی طرح موجود بانس کے درختوں نے تاریکی کی شدت کو مزید بڑھا دیا تھا۔ تاریکی اتنی گہری تھی کہ حقیقتاً ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دیتا تھا۔ ٹارچ کا بٹن اور رائفل کی لبلبی، دونوں کو میں چھو کر ہی محسوس کر سکتا تھا ورنہ ان کا دکھائی دینا اس تاریکی میں ناممکن ہی تھا۔ البتہ میری کلائی پر بندھی ریڈیم ڈائل کی گھڑی پر مجھے صاف پونے آٹھ بجے کا وقت دکھائی دے رہا تھا۔ دس گھنٹے بعد ہی سورج نکلتا۔

مجھے علم تھا کہ مجھے اس دوران اپنی آنکھوں کو جنگل کے بادشاہ کی آمد کے لئے مستقل تیار رکھنا ہوگا۔ حقیقتاً رات کے گھپ اندھیرے میں شیر جو مجھے بالکل صاف دیکھ سکتا تھا، میرے لئے واضح خطرہ تھا۔ اسے تا حد نظر تمام چیزیں صاف دکھائی دیتیں اور میں ایک بھی انچ دور نہ دیکھ سکتا تھا۔ البتہ میں اس کی آمد کی آہٹ کو سن سکتا تھا۔ اسی طرح شیر کو میری آہٹ خبردار کر دیتی۔ میں شیر کی بو نہ سونگھ سکتا تھا اور نہ ہی شیر میری بو سونگھ سکتا تھا۔ البتہ میری آہٹ سے خبردار ہو کر وہ یا تو فرار ہو جاتا یا پھر میرے سامنے موجود سوراخ سے مجھ پر جھپٹ پڑتا۔ مجھے اس کی خوراک بننے کا کوئی شوق نہیں تھا۔

میرے پاس خاموش اور بے حس و حرکت بیٹھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ مچھر بھی اس جگہ گھس آئے اور خوب اذیت پہنچائی۔ اچانک ایک نرم اور لجلجی چیز میری گود میں حرکت کرنے لگی۔ اس کی لمبائی ہی لمبائی تھی اور ٹانگیں ندارد۔ بلاشبہ یہ کوئی سانپ ہی تھا۔ اس وقت ہلکی سی حرکت کا مطلب یقینی موت ہوتا۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے بیکار ہوتے اعصاب پر قابو پایا۔ خوش قسمتی سے سانپ فوراً ہی مجھ سے دور باہر کی طرف چلا گیا۔

اچانک میرے گلے میں سرسراہٹ سی پیدا ہو چلی۔ س وقت کھانسنا ناکامی کے مترادف ہوتا۔ میں نے بھیڑیں گننا شروع کر دیں حتیٰ کہ سرسراہٹ بالکل ہی ختم ہو گئی۔

دس بج کر پچیس منٹ پر میں نے عقبی طرف سے ہلکی سی آہٹ سنی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ منٹ پر منٹ گذرتے رہے۔ پھر یہ آواز میری دائیں جانب بالکل چند فٹ دور جھنڈ کے سرے سے آئی۔ بھاری سانس صاف سنائی دے رہی تھی۔ پھر ہلکی سی غراہٹ اور پھر خاموشی۔ پھر ایک اور غراہٹ اور پھر خاموشی۔ میرے سامنے کوئی چیز زمین پر گھسٹتی ہوئی گذری۔ کیا شیر شکار پر آ گیا ہے؟ کیا وہ چند فٹ دور مجھے تاک رہا ہے؟ کیا وہ حملہ کرنے کے لئے جھک رہا ہے؟ مجھے تو اپنی ناک کے سرے پر بھی کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔

میری رائفل بھری ہوئی تھی۔ میں نے آہستگی سے اسے اٹھایا تاکہ شیر کی جست کی صورت میں تیار رہوں۔ دہشت اور خوف کے مارے میرے چہرے سے پسینہ آبشار کی طرح بہہ رہا تھا۔ پورے جسم پر لرزہ طاری تھا۔

میں نے ٹارچ کا بٹن دبا دیا۔ میرے سامنے تیز روشنی میں نہایا ہوا لگڑبگڑ موجود تھا۔ وہ اس بات پر حیران تھا کہ لاش انسان کی ہے۔ اس نے ٹارچ کی طرف چند سیکنڈ کے لئے دیکھا اور پھر فرار ہو گیا۔ میرا دل چاہا کہ ایک قہقہہ لگاؤں لیکن موقع اس کے لئے مناسب نہ تھا۔

خیر ابھی تو میری موجودگی کا راز فاش ہو چکا تھا۔ میں توقع ہی کر سکتا تھا کہ آدم خور ان اطراف میں موجود نہ ہو ورنہ اسے میری موجودگی کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہوگا۔ میں نے عجلت میں تھرماس سے چائے کی چسکی لگائی۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ایک بار اپنی ٹانگیں پھیلا کر پھر سمیٹ لیں۔ اب میں چند منٹ قبل والی دہشت کی حالت سے باہر تھا۔

دس یا بارہ منٹ بعد ہی میں نے فاصلے سے شیر کی آواز سنی۔ پانچ سے دس منٹ کے وقفوں سے یہ آواز کئی بار آئی۔ میرا اندازہ تھا کہ یہ آواز چوتھائی میل دور سے آئی ہے۔ اگرچہ اس جنگل میں آواز کا بالکل درست اندازہ لگانا ناممکن تھا پھر بھی میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ شیر نے خاموشی سے آنے کی بجائے عام طریقے سے آواز پیدا کرتے ہوئے آنے کو ترجیح دی ہے۔

پون گھنٹہ خاموشی سے گذرا۔ اس دوران ٹھنڈی ہوا چل پڑی۔ میرے اطراف میں موجود بانس کے تنے ایک دوسرے سے رگڑ کھا کر بے تحاشہ شور پیدا کرنے لگے۔ اس سے میرے ذہن میں ایک نیا خطرہ بیدار ہوا۔ اگر میرے سر پر معلق بانس کا کوئی تنا بھی اپنے وزن کے سبب نیچے گرتا تو کیا ہوتا؟ اس کے کٹے ہوئے تنے سے میں اس طرح زمین میں پیوست ہو جاتا جس طرح تتلی کو پن سوئی کی مدد سے تختے میں گاڑتے ہیں۔ مجھے اس خیال سے ہنسی آ گئی۔

عین اسی لمحے مجھے لاش کی جانب سے ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی۔ میں نے آہستگی سے رائفل اٹھائی اور اسے کندھے کے لیول پر لا کر سیدھا کیا۔ ٹارچ کا بٹن دبایا۔ تاریکی ہی رہی۔ ٹارچ نے جلنے سے انکار کر دیا۔ میں نے بار بار بٹن دبایا۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ شاید اس کا بلب جل گیا ہوگا۔ اب مجھے یا تو شیر کی موجودگی کے دوران خاموش رہنا ہوگا یا پھر بندوق سے گولی چلاتا۔ میں نے گولی چلانے کا فیصلہ کیا۔ بہت احتیاط سے رائفل زمین پر رکھی اور پھر اسی احتیاط سے ٹٹول کر بارہ بور کی بندوق سنبھالی۔ اسے اٹھا کر میں نے اونچا کرنا شروع کیا۔ میں امید کر رہا تھا کہ آدمی کو کھاتے وقت شیر کا رخ میری جانب نہ ہو۔ اچانک بندوق کی نال بانس کے تنے سے ٹکرائی اور کلک کی آواز پیدا ہوئی۔

اچانک ہی شیر کی آوازیں رک گئیں۔ پھر بہت بلند دھاڑ بلند ہوئی۔ میں نے فوراً ہی ٹارچ جلائی۔ چھلانگ لگا کر گم ہوتے ہوئے شیر کی جھلک دکھائی دی۔ شیر نے بار بار دھاڑنا شروع کر دیا۔ شاید وہ اس مداخلت پر ناراض تھا۔

میں نے بندوق کو سیدھا رکھتے ہوئے اور ٹارچ جو جلائے ہوئے دوسرے ہاتھ سے جیب سے ٹارچ کا اضافی بلب نکالا جو میری جیب میں اس طرح کی صورتحال کے پیش نظر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ میں نے ایک ہاتھ سے رائفل کی ٹارچ کو کھول کر اس کا بلب بدلا۔ اب ٹارچ جل پڑی۔ میں نے بندوق کی ٹارچ بجھا دی۔ ابھی بھی بندوق میرے قدموں میں سیدھی رکھی تھی۔

شیر اب بھی دھاڑ رہا تھا۔ اب وہ میرے عقب میں آ چکا تھا۔ مجھے اطمینان تھا کہ سامنے کے علاوہ میں ہر طرف سے محفوظ ہوں۔ سامنے کے حملے سے بچنے کے لئے مجھے مسلسل ٹارچ جلائے رکھنی ہوتی۔ صبح ہونے میں ابھی کم از کم پانچ گھنٹے باتی تھے۔ میری دونوں ٹارچیں اگرچہ نئے سیلوں والی تھیں لیکن پھر بھی پانچ گھنٹے تک انہیں مسلسل جلائے رکھنا ممکن نہ تھا۔ میں نے ٹارچ بجھا کر محض اپنے کانوں پر بھروسہ کیا۔ اگر لمبی خاموشی چھا جاتی تو میں ٹارچ جلا لیتا۔ اڑھائی بجے تک شیر دھاڑتا رہا پھر آوازیں دور ہوتی چلی گئیں۔ یقیناً وہ سخت ناراض اور مایوس ہوا ہوگا۔ مجھے اس کی مایوسی اور ناراضگی بہت اچھی لگی کہ اس طرح میری جان بچ گئی۔

میں رات بھر چوکسی کی حالت میں شیر کی آمد کے لئے تیار رہا۔ شیر جو آدم خور بھ ہو، اس کے بارے کسی قسم کی پیشین گوئی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وقت گذرتا رہا اور آخر کار جنگلی مرغ کی آواز سنائی د ی۔ یہ سورج طلوع ہونے کی نشانی تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ کئی صدیوں کے بعد سورج کو دیکھنے والا ہوں۔

جلد ہی دریا کے پار سے میرے ساتھیوں کا نعرہ سنائی دیا۔ مجھے یہ آواز خوش کن موسیقی جیسی لگی۔ میں نے چلا کر انہیں کہا کہ مطلع صاف ہے۔ وہ آ سکتے ہیں۔ اٹھنے سے قبل میں نے رات والی چائے کی تھرموس خالی کی اور اس دوران ٹانگیں بھی ہلائی جلائیں۔ اس کے بعد پائپ نے مجھے تازہ دم کر دیا۔ اس دوران میں نے رات کے واقعات کی کڑیاں بھی ملائیں۔

میرے تینوں دوست مجھے بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کچھ کہا تو نہیں لیکن ان کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ مجھے زندہ دیکھ کر بہت حیران ہو رہے ہیں۔ رات گئے تک جاری رہنے والے آدم خور کے ہنگامے کو انہوں نے بخوبی سنا تھا اور رات بھر دم بخود رہے تھے۔

بیرا نے مجھے کہا کہ وہ چار میل دور جا کر اپنے شکاری کتے کو لائے گا جو شیر کو منٹوں میں ڈھونڈ نکالے گا۔ یہ کتا عام پالتو دیہاتی کتا تھا۔ اس کا رنگ سفید اور بھورا نما تھا۔ اس کا نام کُش کُش کریہا تھا۔ بیرا اس کا نام لیتے وقت جب کریہا پر پہنچتا تو اس کی آواز ایک لمبی چیخ میں بدل جاتی۔ میں اس کی نقالی آج تک نہ کر سکا۔ خیر خالی کُش کُش کرنے پر بھی وہ متوجہ ہو جاتا۔ یہ بھی غنیمت تھا۔

میں نے اصرار کر کے سوری کو اس کے ساتھ بھیجا اور خود رانگا کے ساتھ اوتا ملائی کی طرف پلٹا۔ ناشتہ کر کے اور دریائے کاویری میں غسل کر کے سو گیا۔ دو بجے دوپہر کو میری آنکھ کھلی۔ بیرا، سوری اور بیرا کا کتا موجود تھے۔ کتے نے مجھے دیکھ کر اپنی دم ہلائی اور اپنی ناک میرے کندھے سے رگڑی۔

دوپہر کا کھانا بعجلت نگل کر ہم لوگ رات والی جگہ کی طرف پلٹے۔ متوفی کے لواحقین ہمارے ساتھ تھے جو اکیلا جانے سے کتراتے تھے۔

اب لاش اتنی متعفن ہو چکی تھی کہ اس کے رشتہ داروں نے طے کیا کہ وہ اسے اٹھا کر دریائے چنار کے پار دفن کر دیں گے۔ ان کے جانے کے بعد بیرا کے کتے نے شیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ بمشکل سو گز ہی دور جا کر وہ رک گیا۔ شاید شیر کی بو پر لاش کی بو غالب آ گئی تھی۔ رات ہونے سے ذرا قبل ہم کیمپ پلٹے۔

اگلے دن کچھ نہ ہوا۔ اس سے اگلی صبح رانگا مرتے مرتے بچا۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ بیرا، سوری اور میں مل کر شیر کو تلاش کرتے جبکہ رانگا کا کام بھینسوں کے چارے، پانی پلانا اور دیکھ بھال تھا۔ اس دن اس نے صبح جلدی کام کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ایک اور دیہاتی بھی تھا۔ منداچی پالم کے کنویں والے بھینسے سے ہو کر وہ لوگ منداچی پالم سے نیچے اترے۔ اب ان کا رخ دوسرے بھینسے کی طرف تھا جو چنار دریا کے کنارے بندھا ہوا تھا۔ دیہاتی آگے آگے اور رانگا اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ میل بھر دور آ کر جب وہ ندی میں اترے تو ان سے پچاس گز ہی دور شیر کھڑا تھا۔

دیہاتی نے گھاس کا گٹھڑ وہیں پھینکا اور نزدیکی درخت پر چڑھنے لگا۔ اسے مناسب بلندی تک پہنچنے میں چند ہی سیکنڈ لگے لیکن اس دوران رانگا کا راستہ رکا رہا۔ رانگا ابھی زیادہ بلند نہ ہوا تھا کہ شیر پہنچ گیا۔ اس نے پچھلے پنجوں پر بلند ہوتے ہوئے رانگا پر پنجہ مارا۔ رانگا کی دھوتی اس سے الجھ کر گری۔ شیر پل بھر کے لئے ہی دھوتی کی طرف متوجہ ہوا تھا کہ رانگا (منفی دھوتی) اب محفوظ مقام تک پہنچ گیا۔ شیر اب دھوتی کو چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہوا اور دھاڑنے لگا۔ رانگا اور دیہاتی چلا چلا کر اپنی بپتا سنانے لگے۔

خوش قسمتی سے اس وقت کافی سارے دیہاتی اکٹھے ہو کر ادھر سے گذر رہے تھے۔ انہوں نے رانگا اور دیہاتی کی آواز سنی، پیغام کو سمجھا اور پورا گروہ میرے پاس کیمپ کی طرف دوڑا اور چار میل طے کر کے مجھ تک پہنچے۔

یہ جانے بغیر کہ یہ واقعہ رانگا سے متعلق ہے، میں بیرا اور سوری کی واپسی کا انتظار کئے بنا سر پٹ اس مقام کی طرف دوڑا۔ اس مقام کے نزدیک پہنچ کر میں نے صرف ان دونوں کے چلانے کی آواز سنی۔ دونوں اتنے خوفزدہ تھے کہ شیر کے چلے جانے کے بعد بھی اس کے حملے کا خطرہ تھا۔ ہر ممکن احتیاط سے آگے بڑھا تاکہ اگر آدم خور موجود ہو تو اسے اس کی بے خبری میں جا لوں۔ تاہم مجھے دیکھ کر رانگا محض حیران ہی ہوا۔ میں نے انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ پھر ہم نے شیر کا پیچھا کرنے کی ٹھانی۔ زمین اتنی سخت تھی کہ کوئی نشان نہ ملا۔ ہم نے دوسرے بھینسوں کی دیکھ بھال کا سوچا۔ دونوں جانور بحفاظت تھے۔ سہ پہر کو ہم کیمپ لوٹے۔ ہمارا خیال تھا کہ شیر ان بھینسوں کو گھاس نہیں ڈالنے والا۔ گذشتہ دو دن قبل والے واقعے کے بعد اب آدم خور کے شکار پر واپس آنے کے امکانات کم ہی تھے۔ منداچی پالم کا یہ آدم خور ان شیروں میں سے ایک تھا جو خطرہ بھانپ کر کسی دوسری جگہ اپنی خون آشام سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔

دو دن بعد صبح سات بجے اچانک اس کہانی کا اختتام ہو گیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، آغاز والی جگہ ہی اختتام والی جگہ بنی۔

ایک جماعت جو دس افراد پر مشتمل تھی، اسی جگہ، اسی کنویں پر رکے۔ منداچی پالم کی چڑھائی سے قبل وہ پانی پی کر اور دم لینا چاہتے تھے۔

چونکہ عورتیں ہمراہ تھیں، ایک مرد پیشاب کرنے کے لئے تھوڑی دور ہی رک گیا۔ پھر ہلکی سی غراہٹ اور ایک چھلانگ کے ساتھ ہی آدم خور اس کو لے کر غائب ہو گیا۔ خوش قسمتی سے میں، رانگا، بیرا اور سوری بھینسوں کی دیکھ بھال کے لئے میل بھر ہی دور تھے۔ جلد ہی ہم بقیہ نو افراد سے ملے۔ انہوں نے حادثے کی اطلاع دی۔ میں نے رانگا اور سوری کو ہدایت کی کہ وہ درخت پر چڑھ جائیں اور میرا انتظار کریں۔ بیرا اور میں اس طرف بڑھے جہاں آدم خور نے حملہ کیا تھا۔ یہاں ہم نے خون کی دھار دیکھی۔

بیرا اب نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے میرے آگے چل رہا تھا۔ سو ہی گز کے بعد ہمیں ہڈیاں چبانے کی آواز آئی۔ آواز بائیں طرف نالے سے آئی تھی۔ بیرا کو رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں اس طرف رینگنے لگا جہاں سے آواز آئی تھی۔ اگر ایسے مواقع پر ساتھی ہمراہ ہو تو ایک اضافی جان کی حفاظت کرنا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔

جنگل بالکل خاموش تھا۔ ہڈیاں توڑنے اور بھنبھوڑنے کی آوازیں اب بالکل صاف آ رہی تھیں۔ نہایت احتیاط اور خاموشی سے میں آگے بڑھتے ہوئے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا تھا مبادا کہ میں کسی خشک پتے کو نہ کچل دوں یا کوئی پتھر میری ٹھوکر سے نہ لڑھک جائے۔ پندرہ گز کا فاصلہ بہت دیر سے طے ہوا۔ یہاں مجھے آدم خور کا کچھ حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ چند قدم اور۔ اچانک آدم خور اٹھ کر میری طرف مڑا اور اس کے منہ میں متوفی کا بازو تھا جو کندھے سے کٹا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔ پھر اچانک اس نے غضب ناک دھاڑ لگائی۔

میری ونچسٹر رائفل کی نرم سیسے والی گولی کے پیچھے تین سو گرین کارڈائٹ کی طاقت تھی جس نے اس گولی کو فی مربع انچ پانچ ٹن وزن کی قوت سے دھکیلا تھا۔ یہ گولی اس کی گردن کی جڑ میں لگی۔ بلوپ کی آواز کے ساتھ بازو اس کے منہ سے گرا۔ اس نے آگے جھکتے ہوئے غراہٹ کی آواز نکالی۔ تیزی سے گولی تبدیل کرتے ہوئے میں نے اپنی پرانی اور وفادار رائفل سے دوسری گولی چلائی جو اس کے دل میں ترازو ہو گئی۔ اس کا کمینہ دل پھر کبھی نہ دھڑکنے کے لئے رک گیا۔ منداچی پالم کا آدم خور اسی جگہ گرا جہاں وہ تھا۔ اس طرح اس آدم خور کا خاتمہ ہوا۔ یہ شیر نر اور بے عیب و بے داغ جانور تھا۔ شاید فطرتاً یہ شیر کمینہ تھا جو آدم خوری کی طرف اتفاقاً مائل ہوا۔ ایسے ہی اتفاقات بے شمار انسانی جانوں کے اتلاف کا سبب ہوتے ہیں۔

میری عدم موجودگی سے پریشان میری بیوی اسی دن دوپہر کو بنگلور سے اپنی کار پر پہنچی کہ شاید میں گھر بار بھول چکا ہوں۔

ہم بیرا کو اپنے ہمراہ لئے اس کی کھوہ تک پہنچے۔ اسی وقت اس کے ہاں پانچویں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔ اس بچے کی آمد کچھ یوں ہوئی۔ ایک گہرا گڑھا جو بیرا نے دریائے چنار کی نرم مٹی میں کھودا تھا۔ اس میں نرم سبز پتے بھر کر اس نے زچہ خانہ تیار کیا۔ بیرا ہی مڈ وائف بنا۔ کوئی دوائی نہیں، کوئی سوئی دھاگہ نہیں، نہ ہی گرم پانی اور نہ ہوئی کپاس۔ صرف سبز پتے اور پتھر کا تیز کنارہ جس سے اس نے بچے کی نال کاٹی۔ نال سے خون روکنے کے لئے اس نے راکھ استعمال کی۔ پیدائش کے دو گھنٹے کے بعد ہی زچہ و بچہ اپنے اصل گھر یعنی دوسری کھوہ میں منتقل ہوئے۔ بیرا نے نال وغیرہ کو وہیں گڑھا کھود کر دفن کر دیا۔ بیرا خود بھی شاید اسی طرح پیدا ہوا ہوگا۔ اس طرح وہ زندگی گذرا کر مرتے ہوں گے۔ حقیقتاً یہ جنگل کی اولاد ہیں۔ تہذیب سے نا آشنا یہ لوگ جنگل، پہاڑیوں، ندیوں، نالوں، ہر جگہ بغیر کسی جھجھک کے گھومتے ہیں۔ جس خاموشی سے پیدا ہوتے ہیں، اسی خاموشی سے ایک دن اسی زمین میں دفن ہو جاتے ہیں۔

اس دن صبح کو میں نے ایک مور مارا۔ اس کو ہم نے جنگل کے طریقے سے پکایا۔ پر اور آلائشیں وغیرہ نکال کر ہم نے اس کا سر اور گردن بمع پنجے کاٹ کر الگ کر دیئے۔ اس کے گوشت میں چاقو سے چرکے لگا کر اس میں نمک اور مصالحے بھر کر اس پر ہر طرف سے دریا کی گیلی مٹی کا لیپ کر دیا۔ مور اب گیند لگ رہا تھا۔ پھر آگ جلا کر انگاروں میں اس کو رکھ دیا۔ آگ متواتر جلتی رہی لیکن مور کو صرف انگاروں پر ہی رکھا گیا۔ جب مٹی ٹوٹ کر الگ ہونے لگی تو اسے آگ سے نکال لیا کہ کھانا تیار تھا۔ اس طرح ہلکی سی محنت سے اتنا لذیذ مور تیار ہو سکتا ہے کہ جو اچھے خاصے باورچی کو بھی شرمندہ کر دے۔

جالا ہالی کا قاتل
یہ کہانی کسی آدم خور شیر کی نہیں اور نہ ہی کسی آدم خود تیندوے کے بارے ہے۔ بلکہ یہ کہانی ایک عام سی جسامت کے حامل ایک عام سے تیندوے کی ہے جو اپنی جان بچانے کے لئے نہایت بے جگری، چالاکی اور موثر طریقے سے لڑا۔ اس نے کُل تین افراد کو ہلاک کیا اور کم از کم گیارہ افراد زخمی بھی کئے۔

1938 میں دوسری جنگ عظیم سے ذرا قبل ، جالا ہالی کا گاؤں جو کہ بنگلور سے سات میل شمال مغرب میں، تمکور کی سڑک کے پاس واقع ہے، ایک غیر اہم وادی تھا۔ اس میں بمشکل ڈیڑھ سو کے قریب گھر رہے ہوں گے۔ ان میں سے کچھ گھر اینٹوں سے بنے ہوئے اور دیگر گھاس پھونس وغیرہ سے بنے ہوئے تھے۔ چونکہ بنگلور شہر میسور کی ریاست کا صدر مقام تھا، اس ریاست کے محکمہ جنگلات کا صدر دفتر بھی یہیں واقع تھا۔ ریاست میں سدا بہار اور برساتی، دونوں طرح کے جنگلات بے تحاشہ تھے۔ ریاست میں جنگلات کو کیڑوں اور بیماریوں سے ہونے والے باقاعدہ نقصان اور تباہی سے نمٹنے کے لئے حکومت نے جالاہالی سے میل بھر دور ایک چار مربع میل زمین کا ٹکڑا مختص کیا ہوا تھا۔ یہاں صندل، روز ووڈ، ریڈ روز ووڈ اور دیگر اقسام کے درخت قطاروں میں لگائے گئے تھے تاکہ ان پر کیڑوں سے ہونے والے نقصان کا مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ کیڑے خود سے محدود مقدار میں چھوڑے جاتے تھے۔ بنگلور میں واقع جنگلات کی لیبارٹری بھی نزدیک ہی تھی۔ یہ درخت دس فٹ کی اونچائی کے ہو چکے تھے اور ان میں تیز دھار گھاس اور کانٹے دار جھاڑیاں بھی بکثرت تھیں جن کی وجہ سے یہاں اکثر جگہوں پر گذر ناممکن تھا اور سانپوں، خرگوشوں اور اکا دُکا موروں، تیتروں اور بٹیر کی بھی بڑی تعداد یہاں آباد تھی۔

ایک دن اس علاقے میں ایک تیندوا بیس میل دور مگاڈی کے پہاڑی سلسلے سے گھومتا ہوا آن پہنچا۔ پہلے پہل اس نے خرگوشوں، چوہوں اور اس علاقے میں موجود دیگر چھوٹے موٹے جانوروں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ تاہم جلد ہی اس نے جالاہالی کی بکریوں اور دیہاتی کتوں پر بھی نظر کرم ڈالنا شروع کر دی۔

سب کچھ بخیر چلتا رہا حتیٰ کہ ایک دن تیندوے نے ایک موٹے پولیس دفعدار کی بکری کو کھا لیا۔ تیندوے کے اس فعل کو دفعدار نے اپنے سرکاری عہدے اور اپنی انا پر ضرب سمجھا اور اس نے علی اعلان قسم کھائی کہ وہ اس تیندوے کو نیست و نابود کر دے گا۔

مقامی پولیس فورس کو تھری ناٹ تھری رائفلیں دی گئی تھیں۔ ان کے میگزین کو اس لئے ہٹا دیا گیا تھا کہ کوئی جذباتی پولیس والا عوامی احتجاج کے دوران پے در پے فائر نہ کرتا چلا جائے۔ اس رائفل سے ایک وقت میں ایک گولی چلتی تھی۔ اس کے بعد دوسری گولی کو بھر کر پھر فائر کیا جاتا تھا۔

دفعدار اپنی سروس رائفل لے کر مردہ بکری کے ساتھ موجود ایک درخت پر بیٹھ گیا۔ سورج غروب ہوتے وقت تیندوا پہنچا اور اس کی بے خبری میں چلائی گئی گولی سے اس کی اگلی بائیں ٹانگ زخمی ہوئی۔ اس ناکام کوشش کی وجہ شاید دفعدار کا برا نشانہ اور رعشہ زدہ ہاتھ تھے۔

تیندوے نے غرا کر چھلانگ لگائی اور یہ جا وہ جا۔ موٹا دفعدار ساری رات درخت پر خوف کے مارے کانپتا رہا۔ اگلی صبح وہ نیچے اترا تو اس نے خون کے نشانات دیکھنے کی کوشش کی پر ناکام رہا۔ اس نے اندازہ لگایا کہ خوش قسمتی سے اس کا نشانہ خطا ہوا تھا۔ تاہم اس نے سوچا کہ تیندوے کے لئے یہ اچھا سبق تھا اور اب تیندوا بکریوں کی طرف اب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔

یہ سب کچھ جمعہ کی رات ہوا۔ اگلا دن یعنی ہفتے کا دن بغیر کسی خاص واقعے کے گذرا۔ اس شام دیہاتیوں نے اگلے دن کے لئے بڑے پیمانے پر ہانکا کرنے کا سوچا تاکہ خرگوشوں کا شکار ہو سکے۔ دو فٹ اونچے خرگوشوں کے جال کے گز در گز محکمہ جنگلات کے اس قطعے کے ایک کنارے تین ایکٹر تک بچھا دیئے گئے۔ اگلے دن ہانکا کرنے کے لئے سو کے قریب دیہاتی جمع ہو گئے جن کے پاس کتے اور لکڑی کے بھالے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہانکے سے جب خرگوش بھاگ کر جال میں پھنسیں تو انہیں بھالے مار مار کر ہلاک کیا جائے۔

بظاہر سب کچھ ٹھیک رہا۔ جب وہ جال کے نزدیک درختوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے وہاں سے بے ضرر خرگوشوں کی بجائے تیندوے کو نکلتے دیکھا۔ تیندوا ہانکا کرنے والوں کے دائرے میں پہنچا اور پلک جھپکنے جتنی دیر میں اس نے چھ افراد کو مختلف نوعیت کے زخم پہنچائے۔ کسی کو محض ایک خراش لگی تو کسی کو بلیڈ کی طرح تیز پنجوں سے گہرے زخم یا بھنبھوڑا۔

ہانکے والے دوڑ کر ادھر ادھر پھیل گئے جبکہ تیندوا واپس اسی جگہ گھس گیا جہاں سے وہ نکلا تھا۔

اس جگہ کے نزدیک ہی ہفی پلنکٹ اپنی والدہ کے ہمراہ رہتے تھے۔ اپنی جوانی میں وہ مانے ہوئے شکاری تھے اور انہوں نے مدراس پریزیڈنسی میں دیگو وامتا کے علاقے میں کوئی درجن بھر شیر اور دو درجن سے زیادہ تیندوے مارے ہوئے تھے۔ ہانکے والے بوکھلاہٹ میں سیدھا ان کے پاس پہنچے اور انہیں یہ خبر سنا کر مدد مانگی۔ ہفی اس وقت دیر سے اٹھے تھے اور شب خوابی کے لباس میں تھے۔ انہوں نے پولیس دفعدار کا تیندوے پر گولی چلانے اور اسے زخمی کرنے کے بارے نہیں سنا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ بنگلور جیسے بڑے شہر سے سات میل کے فاصلے پر کسی تیندوے کی موجودگی کا خیال محض حماقت ہے۔ خیر انہوں نے گھبرائے ہوئے دیہاتیوں سے الجھنا مناسب نہ سمجھا اور ایک ایل جی اور ایک گولی کا کارتوس لے کر اپنی بارہ بور کی بندوق کے ہمراہ چل پڑے۔

یہاں جب انہوں نے گھائل افراد کو دیکھا تو انہیں حقیقتاً پہلی بار صورتحال کی سنگینی اور تیندوے کی موجودگی کا علم ہوا۔

انہوں نے احتیاط سے ان درختوں کا جائزہ لیا اور ان کے پیچھے پیچھے نصف درجن دیہاتی چل رہے تھے۔ ہفی ابھی نصف درختوں سے ہی گذرے ہوں گے کہ ایک جگہ انہوں نے تیندوے کو اپنی جگہ بدلتے دیکھ لیا۔ انہوں نے اوپر تلے پہلے بائیں اور پھر دائیں نال خالی کر دیں اور تیندوا اپنی جگہ لوٹنے لگا۔

ہفی دوڑ کر اس کے پاس پہنچے۔ دیہاتی بھی ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ یہاں ان سے وہ غلطی ہوئی جس کے بدلے انہیں اپنی جان دینی پڑی۔ انہوں نے ساکت پڑے تیندوے کو اپنے پاؤں سے چھوا۔ چھوتے ہی تیندوا اٹھا اور حملہ کر دیا۔ اس نے پلنکٹ پر دھاوا بولا اور ان کے دائیں بازو پر دانت جما دیئے تاکہ وہ اپنا ہتھیار نہ استعمال کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے پچھلے پنجوں سے ان کی رانوں کو چھیلنا شروع کر دیا۔ ان کے ہمراہی ادھر ادھر بھاگے۔ صرف ایک بندے نے اپنے لکڑی کے بھالے سے تیندوے پر حملہ کیا۔ تیندوے نے ہفی کو تو چھوڑ دیا لیکن اب اس نے اس بندے پر حملہ کر دیا۔ اس نے نہ صرف اس بندے بلکہ چار دیگر افراد کو بھی پنجے مارے اور بھاگ کر دوبارہ درختوں میں جا چھپا۔ اس کے پیچھے خون کی لکیر بھی جا رہی تھی۔

اب آپ اس صورتحال کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہفی درمیان میں تھے اور دیہاتی ان کے گرد۔ اس وقت تک ہفی بے ہوش ہو چکے تھے اور ان کا دائیں بازو تقریباً الگ ہو چکا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے خود کو سنبھالا اور ہفی کو لے کر ان کے فارم ہاؤس کی طرف لپکے۔ ہفی کا خون اس دوران بری طرح بہتا رہا۔ دو دن بعد میں جب اس جگہ سے گذرا تو مجھے جمے ہوئے خون کی مقدار سے حیرت ہوئی کہ اتنا خون بہہ جانے کے بعد بھی کوئی انسان کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔

مسز پلنکٹ نہایت حاضر دماغ خاتون تھیں اور انہوں نے ہفی اور چار دیگر شدید زخمیوں کو کار میں ڈالا اور سیدھا بنگلور کے بورنگ ہسپتال پہنچیں۔ بقیہ سات زخمی بنگلور کے وکٹوریہ ہسپتال بھیجے گئے۔

ہفی کو اضافی خون بہم پہنچایا گیا اور ان کے بازو کو بچانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اگلے دن جب گینگرین کے آثار نمایاں ہوئے تو ان کا بازو کاٹ دیا گیا۔ لیکن صدمے اور کثرت سے خون بہہ جانے کی وجہ سے ہفی نہ بچ سکے اور اس سے اگلے دن بخار کی حالت میں وفات پا گئے۔

یہ سب واقعات اتوار کی صبح ہوئے۔ اسی دوپہر کو ایک گڈریا ادھر سے گذرا تو اس نے تیندوے کے خون کے نشانات دیکھے جب تیندوا ان درختوں سے نکلا تھا۔ اس نے جالا ہالی کے دو بھائیوں کو اس کی اطلاع دی جن کے نام کالیہ اور پپیہ تھے۔

اگلی صبح یعنی پیر کے دن دونوں بھائیوں نے نہایت بہادری لیکن حماقت سے تیندوے کا پیچھا کرنے کی ٹھانی۔ بڑے بھائی کالیہ کے پاس بارہ بور کی توڑے دار بندوق تھی جبکہ چھوٹے بھائی کے پاس ایک نالی مزل لوڈر۔

اپنی اپنی بندوقیں بھر کر ان بہادروں نے کندھے سے کندھا ملائے اس علاقے میں موجود خون کے نشانات کا پیچھا کیا۔

اس طرح چلتے ہوئے وہ دونوں ایک جگہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور پلک جھپکتے ہی تیندوا کالیہ پر تھا۔ تیندوے نے کالیہ کو زمین پر گرایا اور اس کے مثانے اور جنسی اعضاء کو چبا ڈالا۔ دھکے سے کالیہ کی بارہ بور کی بندوق گر گئی۔ وہ نیچے اور تیندوا اوپر۔ کالیہ درد کی شدت سے چلا رہا تھا کہ اس کا بھائی اس کی مدد کو لپکا اور آتے ہی اس نے اپنی مزل لوڈر سے تیندوے پر فائر جھونک دیا۔ تاہم اس کی گولی اس کے بھائی کو کیسے نہ لگ سکی، یہ ایک راز ہے۔

تیندوا جو کہ اب مزید زخمی وہ چکا تھا، کالیہ کو چھوڑ کر پپیہہ پر چڑھ دوڑا۔ وہ منہ کے بل نیچے گرا۔ تیندوے کے دانت اس کی پشت سے ہوتے ہوئے اس کے پھیپھڑے تک پہنچ گئے جبکہ تیندوے کے پچھلے پنجوں نے اس کے کولہے اور رانوں کو نوچ ڈالا اور پھر گم ہو گیا۔

میں اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ ایک بندہ میرے پاس پسینے میں شرابور پہنچا اور اس نے خبر پہنچایا۔ عجلت میں میں نے اپنی رائفل، بارہ بور کی بندوق اور ٹارچ اٹھائی اور کار کی طرف بڑھا۔ میری بیوی نے اسی وقت ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ جونہی ہم گیٹ سے باہر نکلے، میرا دوست ایرک نیو کامب ہمیں ملنے کی نیت سے آتا ہوا دکھائی دیا جو مقامی پولیس میں کام کرتا ہے۔ اسے جلدی سے بتاتے ہوئے کہ میں کہا جا رہا ہوں، معذرت کی اور چلنے ہی والا تھا کہ ایرک نے بھی ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔

ہمیں جالا ہالی پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور دہشت ناک منظر ہمارے سامنے تھا۔ ہر مکین، چاہے وہ بوڑھا تھا چاہے نوجوان، مرد یا عورت، سب کے سب موجود تھے۔ ایک ہجوم درختوں کے ذخیرے کے پاس جمع تھا کہ شاید انہیں تیندوے کی کوئی جھلک دکھائی دے جائے۔ انہوں نے درختوں کی شاخوں پر پناہ لی ہوئی تھی۔ اس علاقے کے درخت آدمیوں کے بوجھ سے ٹوٹنے کے قریب تھے۔ تاہم کوئی بھی فرد آگے جا کر دونوں بھائیوں کی مدد کرنے کی جرأت نہیں رکھتا تھا جو گذشت چار گھنٹوں سے درد کے مارے چلا اور مدد مانگ رہے تھے۔

سب سے پہلا کام تو زخمیوں کو اٹھا کر ہسپتال پہنچانا تھا۔ کالیہ کی حالت بہت بری تھی اور وہ بہت تکلیف میں تھا۔ اس کے سوراخ شدہ پھیپھڑے سے خون بلبلوں کی صورت میں نکل رہا تھا۔

ہم نے انہیں اٹھا کر کار میں ڈالا اور میں نے انجن چلایا تاکہ ہم انہیں ہسپتال لے جا سکیں کہ ایک دیہاتی دوڑا ہوا ہمارے پاس آیا۔ اس کے پاس اتنا لمبا نیزہ تھا کہ میں نے آج تک اتنا بڑا نیزہ نہیں دیکھا۔ شاید اس کی لمبائی بارہ فٹ رہی ہوگی۔ اس نے بتایا کہ تین سو گز دور ایک بڑی جھاڑی میں ابھی ابھی تیندوا گھسا ہے۔ اگر ہم اس کے ساتھ چلیں تو تیندوا آسانی سے مارا جا سکتا ہے۔

مجھے بخوبی احساس ہے کہ اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا، وہ میری ذاتی غفلت کا نتیجہ تھا۔ میں اپنے بنیادی فرض یعنی زخمیوں کو وقت پر ہسپتال پہنچانے کی بجائے تیندوے کے شکار میں الجھ گیا۔ تاہم، تیندوے کو مار سکنے کا اتنا آسان موقع ایسی بات تھی جس سے میری آنکھوں پر پردے پڑ گئے اور میں زخمیوں کو بھلا کر تیندوے کو مارنے بڑھا۔ ایرک نے میرے ساتھ چلنے پر اصرار کیا اور میں نے اسے بارہ بور کی بندوق پکڑائی جس کی بائیں نالی میں ایل جی اور دائیں نالی میں گولی کا کارتوس تھا۔ اسے چند اضافی کارتوس بھی میں نے دیئے۔ میرے پاس اعشاریہ 405 بور کی رائفل تھی جو میں نے خود اپنے استعمال کے لئے رکھی۔ یہ دوسری غلطی تھی جیسا کہ آگے چل کر آپ کو علم ہوگا۔ مجھے رائفل کی بجائے بارہ بور کی بندوق اپنے پاس رکھنی چاہیئے تھی۔ اب ہم اس دیہاتی کے ساتھ آگے بڑھے اور میری بیوی بطور تماشائی ہمارے پیچھے تھی۔

ہم بڑی جھاڑیوں سے پچیس گز قریب پہنچ گئے لیکن چونکہ ہمیں دیہاتی نے کسی خاص جھاڑی کا نہیں بتایا تھا کہ اس نے تیندوا کس جھاڑی میں دیکھا تھا، میں نے ایرک کو کہا کہ وہ مجھ سے تیس گز دور دائیں طرف چلے جائیں تاکہ ہم ایک دوسرے کی گولی چلانے کی سیدھ سے ہٹ جائیں اور تیندوے کو فرار ہونے سے بھی روک سکیں۔ پھر میں نے نیزہ بردار سے کہا کہ وہ ان جھاڑیوں میں پتھراؤ کرے۔ اس نے بہت منظم طریقے سے پتھراؤ شروع کیا۔ بیس منٹ تک پتھراؤ جاری رہا لیکن ہمیں نہ تو کچھ سنائی دیا اور نہ ہی دکھائی۔ مجھے اب شبہ ہو چلا تھا کہ تیندوا قرب و جوار میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ اسی وقت ایرک کی آواز آئی کہ انہیں جھاڑیوں میں صاف دکھائی دے رہا ہے اور یہ بھی کہ تیندوا موجود نہیں۔

اسی دوران ہجوم سے چند دلیر جوان ہمارے پاس آ گئے تھے۔ ان کے پاس ایک کتا بھی تھا۔ ہم نے اس کتے کو جھاڑیوں میں گھسانے کی کوشش کی تاکہ تیندوے کی موجودگی کا علم ہو سکے لیکن کتے نے اندر گھسنے سے انکار کر دیا۔ کتا ان جھاڑیوں سے باہر ہی رہ کر جھاڑیوں کی طرف منہ اٹھا کر بھونکتا رہا۔

اس سے مجھے اپنا خیال تبدیل کرنا پڑا کہ تیندوا موجود بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت تک ایرک بے صبرے ہو کر جھاڑیوں کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی طرف سے ایک پتھر بھی پھینکا۔ پہلے چند پتھروں کی حد تک تو کچھ بھی نہ ہوا۔ پھر انہوں نے ایک بڑا پتھر پھینکا جو یا تو تیندوے کو لگا یا اس کے بہت نزدیک گرا۔ آوف! آوف! کی آواز آئی اور پھر ایک پیلے رنگ کی لکیر سی جھاڑی سے نکلتی ہوئی دکھائی دی۔ انہیں بندوق سیدھی کرنے کا موقع تک نہیں ملا لیکن بوکھلاہٹ میں ان سے بندوق کا ٹریگر دب گیا۔ شاید اسی وجہ سے ان کی جان بھی بچ گئی۔ بندوق چلی اور اس نے تیندوے کے سامنے زمین میں سوراخ کر دیا۔ اس سے تیندوا کچھ جھجھکا۔ اگلے ہی لمحے وہ ان پر تھا۔ ایرک کے ہاتھ سے بندوق چھوٹ گئی اور ایرک اور تیندوا ایک ووسرے سے لپٹے ہوئے گھاس کے اندر اور گہرے نالے کے بالکل کنارے پر تھے۔

اس تمام وقت ایرک چیخ چیخ کر مجھے گولی چلانے کو کہتے رہے اور تیندوا مہیب آوازیں نکالتا رہا۔ مجھے محض گھاس ہلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ میں دوڑ کو ادھر پہنچا۔ مجھے خوف تھا کہ اگر میں نے اتنے نزدیک سے اپنی طاقتور رائفل سے گولی چلائی تو گولی تیندوے کو چھیدتی ہوئی ایرک کے بھی پار ہو جائے گی۔

اس کے بعد تیندوے نے ایرک کو چھوڑا اور کھڈ میں موجود جھاڑیوں میں گھس گیا۔ میں نے اس پر گولی چلائی اور جیسا کہ بعد میں علم ہوا، گولی تیندوے کی گردن کو چھوتی ہوئی گذری۔

میرا خیال تھا کہ ایرک بالکل نڈھال پڑے رہیں گے لیکن انہوں نے فوراً ہی جست لگائی اور ریکارڈ رفتار سے نالے کے دوسرے کنارے پر جا رکے۔ میں اس دن سے انہیں اکثر ان کی رفتار کے حوالے سے چھیڑتا رہتا ہوں اور یہ ان کی دکھتی رگ بن چکا ہے۔ تیندوے نے ان کے پہلو کو چبایا تھا۔ ایک پسلی بھی تیندوے کے دانت کی وجہ سے ٹوٹ چکی تھی۔ ان کی رانیں اور بازو بری طرح زخمی تھے۔

ہم نے مزید مہم جوئی کا ارادہ ترک کیا اور برؤنگ ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئے۔ میری کار انسانی خون سے بری طرح بھیگ چکی تھی۔ اس شام کو ہم پولیس اور دیگر سرکاری نوعیت کی الجھنوں سے نبرد آزما رہے۔

کالیہ اسی رات انتہائی کرب کی حالت میں اس دنیا سے گذر گیا۔ اس کا بھائی پپیہہ ایک مہینے کے بعد مکمل صحت یاب ہو گیا۔ خوش قسمتی سے اس کے پھیپھڑے کا زخم جلد ہی مندمل ہو گیا۔ ایرک نیو کامبے محض خوش قسمتی سے دو ہفتوں میں ہی بالکل بھلے چنگے ہو گئے۔

اگلا دن منگل کا دن تھا۔ کئی شکاری زخمی تیندوے کے پیچھے گئے۔ ان میں لائڈز ورتھ بھی تھے جو تمباکو کی فیکٹری کے مالک ہیں۔ یہ ایک مشہور شکاری ہیں جنہوں نے بہت سارے شیر اور تیندوے مارے ہیں۔ بیک، وہ بھی اتنے ہی مشہور بڑے شکاری ہیں۔ تاہم انہیں کچھ نہ ملا۔ خون کے نشانات بھی غائب ہو چکے تھے اور تیندوا بھی جیسے فضا میں تحلیل ہو چکا ہو۔

اسی شام کو تیندوے نے ایک بارہ سالہ چرواہے کو ہلاک کیا جو لاعلمی میں تیندوے کی کمین گاہ کے بہت نزدیک چلا گیا تھا۔ یہ جگہ دیگر واقعات والی جگہ سے کوئی میل بھر دور تھی۔ لڑکا بیچارہ فوراً ہی مر گیا کیونکہ تیندوے نے اس کو گلے سے پکڑا تھا اور اس کی شہہ رگ اور سانس کی نالی چبا ڈالی تھی۔

پانچویں دن صبح کو میں اس جگہ پہنچا جہاں یہ لڑکا مارا گیا تھا۔ ہم نے ہر ممکن احتیاط سے اس جانور کا پیچھا شروع کیا جو بظاہر بہت بری طرح گھائل ہو چکا تھا۔ اس کے جسم سے بیرونی طور پر خون کا بہاؤ تو اب تک تھم چکا تھا۔ میں گھنی جھاڑیوں میں گھسا اور تیندوے کی تلاش جاری رکھی۔ نصف فاصلے پر ہی تیندوے نے یا تو مجھے دیکھا یا پھر میری آہٹ سن لی اور غرانے لگا۔ خوش قسمتی سے اس نے مجھے خبردار کر دیا ورنہ جھاڑیاں اتنی گھنی تھیں کہ میں شاید تیندوے پر جا دھمکتا اور پھر مجھے وہ دکھائی دیتا۔ میں نے تیندوے کے تعاقب کا ارادہ ترک کر دیا۔ مجھے یقین ہو چلا تھا کہ تیندوا اب ایک یا دو دن کا مہمان ہے۔

اس دن ایک عجیب واقعہ ہوا۔ بنگلور سے پولیس پہنچ گئی۔ تیس افراد ایک لاری میں سوار تھے جس کے باہر جنگلہ اور جالی لگی ہوئی تھی۔ ان سب کے پاس ان کی سرکاری رائفلیں تھیں جن میں ایک ایک گولی موجود تھی۔ ڈرائیور کو ہدایت کی گئی تھی وہ اس گاڑی میں رہتے ہوئے تیندوے کو ہلاک کر کے اس علاقے کو محفوظ بنا دیں۔ اس نے اپنی پوری کوشش کی مگر بیچارے کو علم نہیں تھا کہ وہ کس جگہ گاڑی کو لے کر جا رہا ہے۔ آخر کار اسے اس وقت احساس ہوا جب گاڑی ایک گہرے کھڈ میں پھنس گئی۔ سب کے سب افراد اندر پھنس گئے اور انہوں نے چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا لیا جیسے انہیں یہ خوف ہو کہ جو فرد پہلے نکلا، یہ “آدم خور” تیندوا اسے ہڑپ کر جائے گا۔

کچھ فاصلے پر ہم تھے کہ ہمیں یہ چیخ و پکار سنائی دی۔ ہم لوگ دوڑ کر ان کی مدد کوپہنچے اور قانون کے محافظین کو چھڑایا۔ جونہی وہ لوگ اور گاڑی نکلی، انہوں نے فوری واپسی کی ٹھانی۔ واپسی سے قبل انہوں نے بتایا کہ انہیں اس گھنی گھاس سے تیندوے کی آواز سنائی دی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ محض ان کا تخیل تھا۔

اب میرا یہ معمول تھا کہ روزانہ صبح سات بجے میں اس جگہ پہنچتا اور سورج ڈوبتے واپس لوٹتا۔ چھٹے دن دوپہر کے وقت میں نے آسمان پر چند گدھ دیکھے۔ دوربین کو استعمال کیا تو پتہ چلا کہ ان کا رخ وادی کے درمیان میں ایک نسبتاً خالی جگہ کی طرف ہے۔ گذشتہ دن میں نے اس طرف جانے کی کوشش کی تھی لیکن راستہ نہیں ملا تھا۔

مجھے معلوم تھا کہ یہ مردار خور پرندے کسی جانور کی لاش پر ہی اتر رہے ہیں۔ یہ جانور یا تو تیندوا ہوگا یا پھر تیندوے کا کوئی شکار۔ محتاط ہو کر میں بمشکل تمام ان جھاڑیوں میں سے راستہ بناتا ہوا گذرا۔ اس کوشش میں میں کانٹوں سے الجھتا اور ہر لحظہ یہ دھڑکا لگا رہتا کہ اب تیندوے کی آواز سنائی دے گی اور پھر حملہ۔ تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کانٹوں نے مجھے لہولہان کر ڈالا۔ میں وادی میں پہنچ گیا۔ ابھی میں پچاس گز ہی آگے بڑھا ہوں گا کہ چار گدھ زمین سے اڑے۔ آگے بڑھتے ہوئے میرے سامنے پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب آیا۔ تیندوا اس کے کنارے پانی پیتی حالت میں مردہ موجود تھا۔

بیچارہ تیندوا اندورنی جریان خون کا شکار ہوا تھا اور پیاس اور بخار کے مارے اس حال تک پہنچا تھا۔ اپنی جگہ سے نکل کر اس پانی کے تالاب تک پہنچنے کی مشقت اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔ مرنے سے قبل اس نے خون کی قے کی تھی اور آدھے سے زیادہ تالاب اس کے خون سے سرخ تھا۔ خوش قسمتی سے میں وقت پر پہنچا کہ ابھی گدھوں نے اسے کھانا شروع نہیں کیا تھا اور اس کی کھال بالکل محفوظ تھی۔

جالا ہالی واپس پہنچ کر میں نے چند آدمی تلاش کئے جو میرے ساتھ جا کر تیندوے کی لاش لا سکیں۔ میں اسے یشونتا پور پولیس سٹیشن لے کر پہنچا تاکہ سرکاری طور پر رپورٹ درج کرائی جا سکے۔ یہاں مجھے تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا کیونکہ کچھ سرکاری افسران موجود نہیں تھے۔ مجھے بہت شدید غصہ آ رہا تھا کہ اس تاخیر سے تیندوے کی کھال خراب ہو سکتی تھی۔

آخر کار مجھے کھال اتارنے کی اجازت مل گئی اور میں نے فوراً ہی کھال اتارنا شروع کر دی۔کھال اتارتے ہوئے میں نے وہ معلومات اکٹھی کیں جن سے مجھے ان حقائق سے آگہی ہوئی جن کی بدولت تیندوے نے تین انسانی جانیں لی تھیں اور بہت سے افراد کو زخمی کیا تھا۔

تیندوے کی اگلی ٹانگ کا زخم موٹے پولیس دفعدار کی تھری ناٹ تھری بور کی رائفل سے لگا تھا۔ اس میں اب کیڑے رینگ رہے تھے اور اس پر گینگرین کا شکار ہو چکا تھا۔ ہفی پلنکٹ کی گولی تیندوے کے جسم سے پار ہوئی لیکن معدے سے گذرنے کے باوجود اس نے کوئی فوری مہلک زخم نہیں پہنچایا۔ ایک ایل جی کا چھرا تیندوے کی کھال کے نیچے کھوپڑی کی ہڈی میں پیوست ملا۔ اس سے تیندوا غش کھا گیا اور ہفی کو تیندوے کو چھونے کا موقع ملا۔ پپیہہ کی بندوق سے پانچ چھرے تیندوے کے پہلو میں موجود تھے لیکن وہ تمام کے تمام کسی نازک جگہ نہیں تھے۔ آخر کار میری گولی تیندوے کی گردن پر اس وقت لگی جب وہ ایرک کو چھوڑ کر بھاگ رہا تھا۔ اس سے محض خراش ہی پہنچی۔

میں نے اس کھال کو عدالت میں پیش کیا تاکہ حکومت کی طرف سے کالیہ کے خاندان کو امداد مل سکے کیونکہ کالیہ اپنے خاندان کا کفیل تھا۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ متوفی کی بہادری کو قبول کرتے ہوئے حکومت نے ایک کھیت اس کے خاندان کو دے دیا۔

دوسری جنگ عظیم کے آغاز جالا ہالی میں ڈرامائی تبدیلی ہوئی۔ اس علاقے کے مصنوعی جنگل کو کاٹ کر ہزاروں ہٹ بنائے گئے۔ ان میں پہلے اطالوی جنگی قیدیوں کو اور پھر برما اور مالے پر حملے کے لئے اس خطے میں موجود ایک بہت بڑے ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد یہاں ہوائی فوج کے فوجیوں کی بیریکیں بنائی گئیں تاکہ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فضائی فوج کے لئے تربیت گاہ مہیا کی جا سکے۔

اس تیندوے کی کھال اب میرے بنگلے کی زینت ہے۔ میں اس جانور کے لئے دلی عزت رکھتا ہوں۔ دیگر تیندوے چھپ کر اپنے شکار کو لاعلمی میں مارتے ہیں جبکہ اس نے اپنے زخموں اور تمام تر مشکلات کے باوجود نہایت بہادری اور جرأت سے اپنے دفاع کے لئے لڑائی لڑی اور اس میں کامیاب رہا۔

دیواراین درگا کی خلوت پسند
اسے خلوت پسند یا تنہائی پسند کا نام دیئے جانے کی وجہ اس کا الگ تھلگ رہنا اور اس کی عجیب و غریب عادات تھیں۔

وہ غیر معمولی شیر تھا۔ اگرچہ وہ نہ تو آدم خور تھا اور نہ ہی اس نے کبھی انسانی گوشت کو چکھا تھا۔ لیکن اس کی انسانی نسل سے بے پناہ نفرت اس کی خاصیت تھی۔ اس نے کل تین انسان ہلاک کئے جن میں ایک عورت اور دو مرد شامل تھے۔ یہ تمام تر ہلاکتیں اس نے پانچ دن کے اندر اندر کیں۔ ان کا محرک صرف اور صرف نسل انسانی سے اس کا بغض تھا۔ اس کے علاوہ اس کی عادات عام شیروں سے بہت مختلف تھیں۔ وہ گاؤں کی بکریوں اور کتوں پر ہاتھ صاف کرتا تھا۔ عام شیر بالعموم بکریاں اور کتے نہیں کھاتے۔ وہ بنگلور سے پچاس میل دور اور تمکور شہر سے چھ میل دور دیواراین درگا کے ساتھ واقع جنگلات سے نکلا۔ دیواراین درگا میں کئی دہائیوں سے کوئی شیر نہیں پایا جاتا۔ یہاں چند جنگلی سور اور موروں کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں باقاعدہ جنگلات بھی نہیں پائے جاتے۔ البتہ کانٹے دار جھاڑیاں اور خودرو بیلیں یہاں بکثرت ہیں۔ اس کے علاوہ پہاڑ کی چوٹی سخت اور پتھریلی ہے جہاں چند غاریں بھی ہیں۔ ان غاروں میں کبھی کبھار تیندوے آ کر یہاں پہلے سے موجود سیہوں کو نکال کر قبضہ جما لیتے ہیں۔ تاہم یہ غاریں بالکل بھی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں اور شیر جیسا جانور یہاں چھپنے سے رہا۔ یہ سارا خاردار علاقہ چاروں اطراف سے کھیتوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک عام شیر کبھی بھی، چاہے دن ہو یا رات، کھیتوں کو عبور نہیں کرتا۔

تاہم اس خلوت پسند شیر نے بالکل یہی کیا۔ وہ کھیتوں کو عبور کر کے اس پہاڑی پر آ کر رہنے لگا۔

پہلے پہل تو کسی کو شیر کی آمد کا علم بھی نہیں ہوا۔ آس پاس کے گاؤں میں مویشیوں کی تعداد اچانک ہی گھنٹے لگی۔ لوگوں نے اسے تیندوے کی کارستانی سمجھا۔ ایک دن انہی میں سے ایک گاؤں کے باہر ہل چلے کھیت میں شیر کے پگ دکھائی دیئے۔ اگلے دو دنوں میں ایک بڑی گائے ماری گئی جو گاؤں کے بالکل ہی پاس چرنے کے لئے رات بھر چھوڑ دی گئی تھی۔ اس گائے کی مالکن ایک بوڑھی عورت تھی۔ اسے جب گائے کی ہلاکت کی خبر ملی تو گاؤں سے نکل کر اس جگہ پہنچی جہاں گائے ہلاک ہوئی تھی۔ یہ جگہ گاؤں سے چوتھائی میل دور رہی ہوگی۔ وہ گائے کی لاش کے پاس پہنچ کر بیٹھ گئی اور اپنے غم کے اظہار کے لئے زور زور سے بین شروع کر دیا۔ اس کے خاندان کے افراد بھی اس کے ساتھ آئے تھے۔ وہ بھی کچھ دیر تک تو اس کے ساتھ بیٹھے۔ تاہم جلد ہی وہ اس غم زدہ منظر سے اکتا گئے۔ انہیں اور بھی بہت سے کام کرنے تھے۔ وہ سب ایک ایک کر کے گاؤں لوٹ گئے۔ تاہم بڑھیا گائے کی لاش پر ماتم کرتی رہی۔

گیارہ بجے دن سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ جب یہ شیر واپس آیا تو اس نے گائے کی لاش کے ساتھ بڑھیا کو ماتم کرتے پایا۔ اس نے شاید یہ سوچا ہو کہ اس شور کو اب بند ہو جانا چاہیئے۔ اس نے بڑھیا پر جست لگائی اور ایک ہی پنجے سے بڑھیا کا خاتمہ ہو گیا۔ پھر اس نے گائے کو چند گز دور گھسیٹا اور خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ بڑھیا کی لاش ویسے کی ویسے ہی پڑی رہی جیسے شیر کو اس کا خیال ہی نہ رہا ہو۔

جب شام چار بجے تک بڑھیا واپس نہ لوٹی تو اس کے گھر والوں نے اندازہ لگایا کہ بیچاری بین کرتے کرتے تھک کر سو گئی ہوگی۔ وہ اسے واپس لانے کے لئے پہنچے تو بڑھیا کی لاش ملی۔ ان کی دہشت کی انتہا نہ رہی۔ گائے کی لاش بھی موجود تھی لیکن شیر پیٹ بھر کر واپس جنگل میں جا چکا تھا۔ سب کے سب سر پر پیر رکھ کر بھاگے اور انہوں نے گاؤں پہنچ کر سب کو خبردار کیا۔ فوراً ہی دو درجن افراد مختلف ہتھیار لے کر نمبردار کی سربراہی میں اس جگہ پہنچے۔ نمبردار کے پاس توڑے دار بندوق تھی۔ انہوں نے شیر کا پیچھا کرنے کا سوچا لیکن شیر پاس ہی موجود جنگل میں گھس گیا تھا۔ چونکہ سب ہی جنگل میں گھسنے سے ڈر رہے تھے، انہوں نے جنگل کے کنارے ہی کھڑے ہو کر خوب شور و غل کیا اور نمبردار نے اپنی بندوق سے دو ہوائی فائر بھی کئے۔ اس کے بعد وہ سب بڑھیا کی لاش اٹھانے کے لئے بڑھے۔ اتنے میں ان کے عقب سے شیر نکلا اور پارٹی کے آخری آدمی پر جھپٹا جو کہ نمبردار تھا۔ اس بیچارے کے خبردار ہونے سے قبل ہی اسے موت نے آ لیا۔

ایک بار پھر پوری پارٹی گاؤں کو بھاگی اور اگلے دن چڑھے وہ پھر بہت سے افراد کو جمع کر کے لاشیں اٹھانے پہنچے۔ رات بھر پڑے رہنے کے باوجود دونوں لاشیں بالکل صحیح و سلامت تھیں۔ تاہم شیر گائے کی لاش سے مزید گوشت کھا چکا تھا۔

اگلے دو دن تک لوگوں میں غم و غصہ بڑھتا رہا۔ تیسری صبح تمکور سے آنے والا ایک مسافر ادھر سے گذرا۔ اس کے ساتھ مختلف سامان سے لدے دو گدھے بھی تھے۔ ابھی وہ یہاں سے میل بھر ہی دور گیا ہوگا کہ شیر نے جست لگا کر اگلے گدھے کو دبوچ لیا۔ دوسرا گدھا بالکل بے حس و حرکت کھڑا رہا۔ تاہم مسافر نے دہشت سے چیخ ماری اور واپس گاؤں کی طرف بھاگا۔ بظاہر اس کی چیخ اور بھاگنے کی وجہ سے شیر نے اس کا پیچھا کیا اور اسے ہلاک کر دیا۔ پھر وہ مردہ گدھے کی طرف لوٹا۔ مسافر کے پیچھے جانے اور پھر واپس آنے کے دوران وہ دوسرے گدھے کے پاس سے گذرا لیکن اسے بالکل چھوا تک نہیں۔مسافر کی لاش حسب معمول پھر ویسے کی ویسے پڑی رہی۔

بنگلور کے اتنے قریب ہونے والے یہ واقعات اخباروں کی شہ سرخیاں بنے۔ اگلی صبح میں کار میں اس طرف روانہ ہوا اور دو گھنٹے بعد ادھر پہنچ گیا۔

خوفزدہ دیہاتیوں سے پوچھنے پر جو معلوم ہوا، وہ آپ ابھی پڑھ چکے ہیں۔ موسم خشک اور راستے گرد و غبار سے بھرے ہوئے تھے۔ تمام تر نشانات اس وقت تک مٹ چکے تھے۔ تاہم کچھ دیر تک میں یہی سمجھتا رہا کہ یہ سب واقعات کسی بڑے اور مشتعل چیتے کے ہیں۔ وہ افراد جو نمبردار پر حملے وقت اس کے ساتھ تھے، نے مجھے یقین دلایا کہ یہ شیر ہی تھا۔ تاہم مجھے ابھی بھی شک تھا کیونکہ دیہاتی لوگ اس طرح کی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

مختصر سا کھانا کھا کر میں ایک خوفزدہ رہنما کے ساتھ نکلا۔ پوری دوپہر ہم نے آس پاس کی ہر ممکنہ جگہ اور غاروں کی چھان بین کی لیکن شیر تو کجا اس کا ایک ماگھ یعنی پگ تک بھی نہ ملا۔ تھکن سے میرا برا حال ہو گیا۔

چار بجے شام کو میں واپس لوٹا اور بدقت تمام ایک نو عمر بچھڑا خریدا تاکہ اسے گارے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اس پورے علاقے میں بھینسیں نہیں تھیں۔ میں نے اسے گاؤں سے پون میل دور اس جگہ باندھا جہاں راستے میں ایک عمیق پتھریلا نالہ آتا تھا۔

چھ بجے شام کو ہم گارے کو باندھ کر فارغ ہوئے۔ اب مچان باندھنے کا وقت نہیں بچا تھا۔ میں نے سوچا کہ اب رات کو چھ میل دور تمکور جا کر فارسٹ بنگلے میں رات گذاروں۔ اگلی صبح واپسی پر مجھے امید تھی کہ شیر گارے کو مار چکا ہوگا۔

میں نے ایسا ہی کیا۔ صبح پانچ بجے اٹھا اور ساڑھے پانچ بجے میں اس جگہ پہنچ چکا تھا جہاں گارا بندھا ہوا تھا۔ اس جگہ سے نصف میل دور میں نے کار کو روکا تو اس وقت تک روشنی پھیلنے لگ گئی تھی۔ میں نے کار کو اتنی دور اس وجہ سے چھوڑا تاکہ اس کی آواز سے شیر خبردار نہ ہو جائے۔ بہت احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے میں پہنچا تو دیکھا کہ گارا اپنی جگہ سے غائب تھا۔ جائزہ لینے سے علم ہوا کہ شیر نے نہ صرف گارے کو ہلاک کیا بلکہ رسی کو بھی کتر کر الگ کر دیا۔ عموماً شیر رسی کو نہیں کترتے تاہم یہ عجیب ہی شیر تھا۔ ماگھ بھی موجود تھے جن سے علم ہوا کہ یہ جانور ایک نر نہیں بلکہ مادہ شیرنی ہے اور بالغ عمر کی ہے۔ اس کی جسامت عام شیرنیوں سے کچھ زیادہ بڑی ہے۔

شیرنی سے متعلق کہانیوں اور اس کے بلاوجہ حملہ کرنے کی عادت کی وجہ سے میں نے ان نشانات کا بہت احتیاط سے پیچھا کیا۔ ہر قدم پر مجھے نہ صرف اپنے سامنے بلکہ دائیں بائیں اور ہر چند منٹ کے بعد عقب میں بھی دیکھ بھال کرنی پڑ رہی تھی۔ اس طریقے سے پیش قدمی کافی سست تھی۔ نشانات بالکل واضح تھے اور ڈیڑھ سو گز پر ہی میں نے ادھ کھائے بچھڑے کو تلاش کر لیا۔ بظاہر شیرنی آس پاس موجود نہیں تھی۔

اس کم عمر بچھڑے شیر کے عمومی انداز میں گردن توڑ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ شیرنی اسے اٹھا کر اس جگہ تک لائی تھی۔ یہاں آ کر اس نے شہہ رگ سے خون پیا جس کا ثبوت شہہ رگ میں موجود سوراخ اور ان کے گرد جما ہوا خون تھا۔ اس کے بعد شاید وہ رات کے لئے لاش کو چھوڑ کر چلی گئی تھی یا اسی وقت کھانا شروع کر دیا۔ اس نے پہلے دم کو جڑ سے کتر کر لاش سے دس فٹ دور جا پھینکا۔ یہ شیروں کی عام عادت ہے۔ بعض اوقات بڑے تیندوے بھی ایسا کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس نے پیٹ کو چاک کیا اور آنتیں وغیرہ نکال کر دس فٹ دور لیکن دوسری طرف جا پھینکا۔ اس کے بعد اس نے عام شیروں کی طرح پچھلی ٹانگوں کے درمیان سے کھانا شروع کر دیا۔ وہ آدھا بچھڑا کھا چکی تھی۔

ان سب علامات سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ شیرنی اتنی بھی عجیب و غریب عادات کی نہیں تھی جتنا کہ اس کے بارے کہانیاں مشہور ہو چکی تھیں۔ وہ محض غصیلی شیرنی تھی۔

اس کی واپسی کا سوچ کر میں بیس گز دور ایک درخت پر چڑھ گیا۔ گارے کے آس پاس یہ واحد درخت تھا۔ یہاں میں ساڑھے نو بجے تک بیٹھا رہا لیکن شیرنی نہ آئی۔ تاہم گدھوں کی تیز نظروں نے گارے کو تلاش کر لیا۔ جلد ہی ان کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ نزدیک آ گئی۔

لاش کو گدھوں سے بچانے کے لئے میں نیچے اترا اور آس پاس سے جھاڑیاں اکھاڑ کر گارے پر ڈال دیں اور پھر کار کی طرف لوٹا تاکہ گاؤں پہنچ سکوں۔ یہاں میں نے چار افراد کو ساتھ لیا اور گارے کی لاش پر واپس آیا۔ یہاں میں نے انہیں ہدایت کی کہ وہ میری چارپائی مچان کو باندھیں۔ دوپہر تک مچان تیار ہو چکی تھی۔

ایک آدمی نے یہ تجویز دی کہ یہ شیرنی بکریوں کی بہت شوقین ہے۔ اگر میں گارے کی لاش کے آس پاس ایک بکری بھی باندھ دوں تو شیرنی کے مارے جانے کے امکانات بہت بڑھ سکتے ہیں۔ شیرنی اگر گارے کے لئے نہ بھی پلٹے تو بھی بکری اسے اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔ اس کی بات میں وزن تھا۔ میں فوراً گاؤں کی طرف پلٹا اور جلد ہی ایک نو عمر بکری لے کر واپس پہنچا۔اس عمر کی بکری بہت شور کرتی ہے۔

چند بسکٹ اور چائے سے پیٹ پوجا کر کے میں مچان پر چڑھا اور ہمراہیوں کو ہدایت کی کہ میرے چھپ جانے کے بعد وہ بکری کو باندھ کر چلے جائیں تاکہ بکری خود کو اکیلا محسوس کر کے خوب شور مچائے۔ ان کے جاتے ہی بکری نے بہت ہی بلند آواز سے غل مچانا شروع کر دیا۔

پونے چھ بجے تک بکری بولتی رہی حتیٰ کہ میں نے وہ آواز سنی جو شیر چلتے وقت اکثر نکالتے رہتے ہیں۔ بکری نے بھی اس آواز کو سنا اور فوراً ہی چپ ہو گئی۔ اس کا رخ اس طرف تھا جہاں سے شیرنی کی آمد متوقع تھی۔ بیچاری کا سارا جسم دہشت کے مارے کانپ رہا تھا۔

بدقسمتی سے شیرنی میرے عقب سے آ رہی تھی۔ اگرچہ مچان اتنی کھلی تھی کہ میں اس پر آسانی سے رخ بدل سکتا تھا لیکن درخت کے تنے اور پھر ساتھ ہی موجود آلو بخارے کی گھنی جھاڑی کی وجہ سے مجھے کچھ دکھائی نہ دیا۔ شیرنی جس جگہ موجود تھی وہاں زمین کچھ ڈھلوان تھی۔ اس طرح شاید شیرنی نے مجھے یا مچان کو دیکھ لیا۔

ہو سکتا ہے کہ اس کی غیر معمولی چھٹی حس نے اسے خطرے سے آگاہ کر دیا ہو۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ بعض درندوں میں یہ چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ خیر جو بھی وجہ ہو، شیرنی نے خطرہ محسوس کرتے ہی فلک شگاف دھاڑ لگائی اور غراتے ہوئے اس پورے قطعے کے گرد چکر لگانا شروع کر دیا۔ بیچاری بکری نیم جان ہو چکی تھی۔ اندھیر ا اتنا تھا کہ مجھے بکری کی جگہ ایک لرزتا ہوا دھبہ دکھائی دے رہا تھا۔

نو بجے تک شیرنی اسی طرح غراتی ہوئی جنگل کے سکون کو تہہ و بالا کرتی رہی۔ پھر آخری بار دھاڑ کر وہ چل دی۔ رات گئے درجہ حرارت حسب معمول اچانک گرا اور ٹھنڈک بہت بڑھ گئی۔ درخت کے نیچے بکری کے اور درخت کے اوپر میرے دانت بجتے رہے۔ صبح تک مزید کوئی خاص واقعہ نہ ہوا۔

صبح صادق کے وقت ہم دونوں ہی ٹھنڈک اور بے آرامی سے بے حال ہو چکے تھے۔ گذشتہ رات کے شور و غل سے بکری کا گلا بیٹھ چکا تھا اور جب وہ منہ کھولتی تو آواز نہ نکلتی۔

دوپہر کو میں نے مزید دو گھنٹے تک شیرنی کی تلاش جاری رکھی لیکن بے سود۔ اس بار میں نے ایک اور درخت اس طرح چنا کہ جو ہر طرف سے میری مچان کو ڈھانپے رکھے۔ یہاں میری مچان باندھی گئی اور چار بجے شام کو میں اس پر بیٹھ گیا۔ اس بار ایک اور بکری باندھی گئی۔ یہ بکری بہت عجیب تھی کہ بجائے شور مچانے کے زمین پر بیٹھ کر خدا معلوم کیا چبانے لگ گئی۔ تاریکی چھانے تک وہ اسی شغل میں لگی رہی۔

اس بار میں زیادہ گرم کپڑے پہن کر نکلا تھا اور کمبل بھی ساتھ تھا۔ رات گئے مجھے نیند آ گئی۔ جب اٹھا تو یہ منحوس بکری ابھی تک نہ جانے کیا چبائے جا رہی تھی۔ لگتا تھا کہ پوری دنیا سے درندے ختم ہو گئے ہیں۔

اگلے دن میں نے حسب معمول شیرنی کی تلاش جاری رکھی لیکن ناکامی ہوئی۔ تین بجے واپس میں اس مچان پر بیٹھ گیا۔ اس بارے میرے پاس ایک کم عمر بیل بطور چارے کے تھا۔

سات بجے تک مکمل تاریکی چھا گئی۔ اچانک غیر متوقع طور پر دیہاتیوں کا ایک گروہ لالٹینیں اٹھائے میری طرف آیا۔ انہوں نے بتایا کہ نصف گھنٹہ قبل شیرنی نے تالاب کے بند کے پاس ایک گائے ہلاک کر دی ہے۔ یہ جگہ گاؤں کے دوسری طرف فرلانگ بھر دور تھی۔ اس وقت شیرنی گائے کو کھانے میں مصروف تھی۔

یہاں مزید بیٹھنا اب بے کار تھا۔ میں نیچے اترا اور دیہاتیوں کو ہدایت کی کہ وہ بیل کو یہیں رہنے دیں تاکہ شیرنی اگر رات کو ادھر سے گذرے تو اس کے لئے گارا موجود ہو۔ اب ہم بعجلت موقعہ واردات کی طرف لپکے۔

گاؤں پہنچ کر میں نے لالٹینیں بجھوا دیں۔ ایک بندے کو بطور راہبر چن کر میں آگے بڑھا۔ باقی تمام افراد وہیں رک گئے۔ میرے ہمراہی نے بتایا کہ شیرنی نے گائے کو سڑک کے بائیں جانب ہلاک کیا ہے۔ یہ جگہ سڑک کے کنارے سے پچاس گز دور اور گاؤں سے ایک فرلانگ دور تھی۔

تاریکی گہری ہو چکی تھی اور ہمراہی اور میں ساتھ لگ کر سڑک کے درمیان میں چل رہے تھے۔ میں نے رائفل پر لگی ٹارچ جو جلا کر اس کی روشنی سڑک کے بائیں طرف ڈالی۔

پہلے غراہٹ اور پھر “آوف” کی آواز آئی۔ پھر اندازاً دو سو گز دور سے مجھے دو چمکدار آنکھیں دکھائی دیں جو بظاہر کچھ بلندی پر تھیں۔مجھے حیرت ہوئی لیکن ہمراہی نے بتایا کہ شیرنی بند پر چڑھ کر کھڑی ہوئی ہے۔

ربڑ کے جوتوں کی مدد سے اور دیہاتی ننگے پاؤں چلتے ہوئے آگے بڑھے۔ ہماری پیش قدمی بالکل بے آواز تھی۔ اس دوران شیرنی ٹارچ کو گھورتی رہی۔ اس طرح بڑھتے ہوئے ہم کوئی سو گز آگے گئے۔ اب ہم اس جگہ تھے جہاں سڑک بند سے جا ملتی ہے۔ یہاں سے ہم بائیں مڑے اور بند پر چڑھنے لگے۔

شیرنی یہاں سے سو گز دور تھی اور اب اس نے غرانا شروع کر دیا تھا۔ میں رک گیا اور رائفل ابھی شانے تک اٹھائی ہی تھی کہ شیرنی کی ہمت شاید جواب دے گئی۔ دم اٹھائے تین چار چھلانگوں میں اس نے بند کا کنارہ عبور کیا اور دوسری طرف غائب ہو گئی۔

ہم بند پر چڑھے اور میں نے ادھر ادھر ٹارچ کی روشنی پھینکنی شروع کر دی۔ یہاں ایک بڑا اور اکیلا بنیان کا درخت تھا۔ ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہم نے اس درخت پر کوئی پندرہ فٹ کی بلندی پر ایک دو شاخے پر شیرنی کی آنکھیں چمکتی دیکھیں۔ شیر عموماً درخت پر نہیں چڑھتے بالخصوص جب رات کو ٹارچ کی روشنی میں ان کا پیچھا کیا جا رہا ہو۔

اب مجھے شیرنی کے خد و خال دکھائی دے رہے تھے۔ وہ درخت پر کتے کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی چمکتی آنکھوں کے درمیان میں نے احتیاط سے نشانہ لیا اور گولی چلا دی۔ بھد کی آواز سے شیرنی زمین پر گری اور غراہٹ کی آواز آئی اور پھر خاموشی چھا گئی۔

ہم بند پر کچھ دور تک بڑھے اور دائیں طرف ٹارچ کی روشنی پھینکتے رہے لیکن کچھ دکھائی دیا اور نہ ہی سنائی دیا۔ مجھے علم تھا کہ شیرنی کو گولی لگی ہے۔ میں نے سوچا کہ اب جا کر سو جاؤں اور شیرنی کا پیچھا کل دن کی روشنی میں کرنا بہتر رہے گا۔ یہاں سے ہم واپس کار تک آئے۔ رات کا کھانا میں نے تمکور میں کھایا اور پھر چائے اور تمباکو سے دل بہلانے کے بعد اگلے دن کے سہانے خوابوں میں گم سو گیا۔

اگلی صبح پو پھٹتے وقت میں دوبارہ گاؤں پہنچ گیا۔ رات والے راہبر کو ساتھ لے کر میں واپس پلٹا اور بند پر آکر ہم بہت احتیاط سے نیچے اتر کر بنیان کے درخت تک پہنچے جہاں میں نے گذشتہ رات شیرنی پر گولی چلائی تھی۔

فوراً ہی ہم نے بہت بڑے رقبے پر پھیلے خون کے نشانات تلاش کر لئے جہاں شیرنی نیچے گری تھی۔ یہاں ہمیں ہڈی کا ایک ٹکڑا ملا جس پر میری اعشاریہ 405 بور کی رائفل کی گولی کے سیسے کا ٹکڑا موجود تھا۔ میرا ساتھی درخت پر چڑھا اور اس نے فوراً ہی اس دو شاخے پر خون کے چند قطرے تلاش کر لئے جہاں شیرنی بیٹھی تھی۔

یہاں سے ہم نے خون کے نشانات کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ جلد ہی ہمیں معلوم ہوا کہ شیرنی کو سر پر گولی لگی ہے اور وہ بری طرح زخمی ہے۔ اس کے خون کے نشانات آڑے ترچھے اور دائروں کی صورت میں ایک دوسرے سے ہو کر گذر رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ اسے بالکل بھی احساس نہیں ہے کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔

ہمیں جمے ہوئے خون کے بکثرت بڑے بڑے دائرے ملے۔ آخر کار وہ جگہ ملی جہاں شیرنی یا تو گری تھی یا دم لینے کے لئے رکی تھی۔ شاید اس نے رات کا کچھ حصہ بھی یہاں گذارا تھا۔ یہ کوئی دس مربع فٹ کا دائرہ تھا اور خون سے بھرا ہوا۔ علی الصبح جب وہ یہاں سے نکلی تو بظاہر خون کا بہاؤ تھم چکا تھا۔ اکا دکا جھاڑیوں پر ہمیں خون کے قطرے دکھائی دے رہے تھے۔

پہلا دائرہ ہم نے بند کی جڑ سے لے کر ان جھاڑیوں تک پورا کیا۔ بند کے اوپر تک ہمیں خون کا کوئی نشان نہ ملا اور نہ ہی شیرنی کا کوئی اتہ پتہ کہ جس سے اندازہ ہو سکے کہ شیرنی نے اپنی پناہ گاہ چھوڑ دی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ شیرنی گھنی گھاس کے اسی قطعے میں چھپی ہوئی ہے جو دو سو گز لمبا اور دس سے لے کر پچھتر گز تک چوڑا تھا۔ پر کیا وہ زندہ بھی تھی؟ یہ ایک ایسا سوال تھا کہ جس کے جواب پر میری اور میرے ساتھی کی زندگی کا انحصار تھا۔

اس جگہ لوٹ کر جہاں ہم نے شیرنی کے خون کا آخری قطرہ دیکھا تھا، گھنی گھاس میں پتھر پھینکنے شروع کر دیئے۔ ان تمام کوششوں کا نتیجہ مکمل خاموشی رہا۔

ہم اس طرح گھاس کے کنارے کنارے آگے بڑھتے رہے۔ شیرنی کی موجودگی کا جائزہ لینے کے لئے میں نے گھاس میں پانچ گولیاں بھی چلائیں لیکن شیرنی کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ تین چوتھائی فاصلے کو طے کر لینے کے بعد ہمیں ایک پستہ قد درخت دکھائی دیا جو بمشکل دس یا بارہ فٹ بلند ہوگا۔ میرا ساتھی اس پر چڑھنے کی نیت سے اس کی طرف بڑھا تاکہ اس پر چڑھ کر بہتر طور پر جائزہ لے سکے۔ اچانک ہی بغیر کسی وارننگ کے شیرنی گھاس سے نکلی اور دھاڑ لگا کر میرے ساتھی کی طرف جھپٹی۔

میرا ساتھی دہشت کے مارے چلایا اور میں اس جگہ سے بمشکل بیس گز دور تھا۔ میں نے شیرنی پر یکے بعد دیگرے تین گولیاں چلائیں۔ شیرنی الٹ کر اسی جگہ گم ہو گئی جہاں سے وہ نکلی تھی۔ بالآخر اسے موت نے آ ہی لیا۔

یہ شیرنی جیسا کہ میرا اندازہ تھا، بوڑھی ہو چکی تھی اور اس کے دانت گھس چکے تھے۔ اس کی بوڑھی عمر نے اسے انسان کے قریب آ کر آسان شکار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہاں وہ کتے اور بکریاں آسانی سے مار سکتی تھی۔ بھوک اور ڈھلتی عمر شاید اس کے غصیلے ہونے کی وجہ تھے۔ انسان سے پیدائشی خوف اور کم ہمتی نے اسے آدم خور بننے سے روکے رکھا۔ اگرچہ میرا خیال تھا کہ اگر شیرنی کو نہ مارا جاتا تو وہ بہت جلد ہی آدم خور بن جاتی۔ گذشتہ رات کی گولی شیرنی کی ناک پر لگی تھی اور وہ اتنی اندر نہیں جا سکی تھی کہ شیرنی کو کوئی مہلک زخم پہنچاتی۔ اس طرح گولی لگنے اور ہڈی ٹوٹنے اور سیروں خون بہہ جانے کے باوجود بھی ہو سکتا تھا کہ شیرنی مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتی۔ میرے ساتھی پر حملہ کرنے کے وجہ سے اسے اپنی جان گنوانی پڑی۔

یماؤ ڈوڈی کا آدم خور
یماؤ ڈوڈی کدور ضلع، میسور ریاست کے ایک جنگل میں واقع علاقہ ہے۔ اس کے ایک کنارے پر پہاڑی سلسلہ ہے جس کی سب سے بلند چوٹی ہوگر خان کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سلسلہ ایک اور بڑے پہاڑی سلسلے بابا بُدان کی شاخ ہے۔ بابا بُدان کی بلندی 6500 فٹ تک ہے۔ یہاں ایک عظیم الشان جھیل “مدک” کے نام سے موجود ہے۔ یہ جھیل اس علاقے کے جنوب میں جنگلات پر مشتمل پہاڑوں سے گھری ہے۔ یہاں سے ایک تنگ نالہ بھی نکلتا ہے اور اس نالے کے ساتھ ساتھ پگڈنڈی بھی شروع ہوتی ہے۔ دس میل تک شمال مشرقاً چلنے کے بعد یہ نالہ بیرور سے تین میل پہلے شمال میں ایک اور جھیل میں جا گرتا ہے۔

اس علاقے میں شکار کی کثرت ہے۔ اس سے بھی زیادہ تعداد میں پالتو جانور یہاں ہیں جو دن میں جنگل چرنے کے لئے بھیج دیئے جاتے ہیں اور شام ڈھلے واپس ہانک لائے جاتے ہیں۔

اسی وجہ سے یہ علاقہ شیروں سے بھی پٹا پڑا ہے کیونکہ یہاں سانبھر، چیتل اور جنگلی سور بکثرت ہیں۔ تاہم شکار کی کثرت کے باوجود جلد یا بدیر یہ شیر لاگو ہو جاتے ہیں کیونکہ مویشیوں کا شکار جنگلی جانوروں کی نسبت بہت آسان ہے۔ چرواہے کی طرف سے ہونے والے احتجاج پر یہ توجہ ہی نہیں دیتے۔ بلا مبالغہ ہر روز ایک نہ ایک نہایت عمدہ نسل کی فربہہ گائے یا بیل کی قربانی لازم ہوتی ہے۔ تیندوے بچھڑوں، بکریوں اور آوارہ کتوں کو گاؤں کی سرحد سے پکڑ کر لے جاتے ہیں۔

درحقیقت تیندوں کی تعداد نسبتاً کم ہے اور یہ گاؤں کے آس پاس ہی موجود رہتے ہیں۔ یہ علاقے عموماً شیروں کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ تیندوں کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ شیروں کو ان کی موجودگی پسند نہیں اور اگر داؤ لگ جائے تو شیر انہیں کھانے سے نہیں چوکے گا۔

1946 کے شروع میں اس علاقے کے ایک شیر کی عجیب عادات تھیں۔ اس نے بچھڑوں اور بکریوں سے اپنی شکاری زندگی کا آغاز کیا۔ یہ حملے وہ گاؤں واپس لوٹتے ہوئے ریوڑوں پر کرتا تھا۔ پہلے پہل تو ان حملوں کا ذمہ دار تیندوں کو ٹھہرایا گیا لیکن ایک دن ایک چرواہے نے اس شیر کو حملہ کرتے دیکھ لیا۔ اس دن سے کسی کو شبہ نہ رہا کہ یہ حرکات شیر کی ہی ہیں۔لیکن اس سے قبل لوگ ان حملوں کو تیندوے کی کارستانی گردانتے تھے۔ تاہم ہر جانور کی گردن ٹوٹی ہوئی ملتی تھی جو عموماً شیروں اور چند بڑے تیندوں کی عادت ہوتی ہے۔

یہ نو عمر شیر جلد ہی جوان ہو گیا۔ اسی دوران وہ بے شمار مرتبہ معجزانہ طور پر شکاریوں کی گولیوں سے بھی بچتا رہا۔ یہ شکاری مقامی اور بیرونی، دونوں طرح کے تھے۔ ہر ناکام حملے کے ساتھ ساتھ اس کی مکاری اور چالاکی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ڈیڑھ سال کے بعد یہ شیر ایک ایسا عفریت بن چکا تھا کہ ہر ہفتے کم از کم دو بار اور اکثر تین بار حملہ کرتا اور ہر بار ریوڑ کا سب سے بہترین جانور اس کا شکار ہوتا۔

1948 کے اختتام پر میں چند دوستوں کے ہمراہ اس علاقے میں اس نیت سے آیا کہ کسی تیندوے یا شیر کو مار سکوں کیونکہ میرا ایک دوست الفی رابرٹسن جلد ہی انگلستان واپس جا رہا تھا۔وہ یہ کھال ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ مجھے اس شیر کی حرکات کی اکثر خبریں ملتی رہتی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ چند دن بیرور میں قیام سے میں اس شیر پر بہ آسانی ہاتھ صاف کر لوں گا۔

ہم لوگ بنگلور سے بذریعہ موٹر کار روانہ ہوئے۔ یہ کوئی 134 میل کا سفر تھا۔ بدقسمتی سے میں اس روز شام گئے تک دفتر میں مصروف رہا۔ سڑکیں بدحال تھیں اور تپ تر کے نزدیک حادثہ پیش آیا۔ یہ جگہ بنگلور سے 86 میل دور ہے۔ ہم دوست کی کار پر تھے اور وہ خود کار چلا رہا تھا۔ کار کا پچھلا ٹائر ایک پوشیدہ پتھر سے گذرا اور جونہی وہیل اس کے کنارے پر پہنچا، یہ پتھر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اس کے تیز کنارے سے ایندھن کی ٹینکی میں 9 انچ لمبا سوراخ ہو گیا۔ یہ ٹینکی کار کے بالکل آخر پر لگی ہوئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے 8 گیلن ایندھن بہہ گیا اور کار رک گئی۔

ہمارے پاس اضافی پیٹرول نہیں تھا لیکن تیل سے چلنے والے چولہے ہمارے پاس تھے۔ ان چولہوں کو جلانے کے لئے دو بوتیل پیرافین کا تیل موجود تھا۔ فٹ پیڈل کے ربر کی نلکی کا ایک سرا اس بوتل میں ڈال کر اور دوسرا سرا کاربوریٹر میں ڈالنے کے بعد ہم نے کاربوریٹر میں بھی تیل سے تھوڑی سی پھوہار ماری۔ اب ہم تپ تر تک پہنچ گئے۔ یہاں آ کر ہم نے علاقے کے واحد لوہار کو جگایا۔ اس نے پیرافین کے ڈبے کو کاٹ کر ٹینکی کی مرمت کر دی۔ یہ ڈبہ ایک گھر کے باہر سے ملا تھا۔

اب مسئلہ یہ کھڑا ہوا کہ بقیہ سفر کے لئے ایندھن کہاں سے لیا جائے۔ ہم نے دھکا لگایا اور گاڑی کو شہر کے واحد پیٹرول پمپ تک لے گئے۔ یہاں آ کر معلوم ہوا کہ تیل ختم ہو چکا ہے اور اگلے دن دوپہر سے پہلے تیل کے آنے کے کوئی امکانات نہیں۔

بظاہر ہم تیل کی آمد تک رکنے پر مجبور تھے۔ شہر میں ایک دو لاریاں بھی تھیں۔ ان کے ڈرائیوروں کو جگا کر ہم نے بھاری رقم کے عوض ایک گیلن تیل مانگا۔ یکے بعد دیگرے سب نے انکار کیا کہ ان کے اپنے پاس تیل ختم ہو چکا ہے اور وہ اگلے دن تیل کی سپلائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ارسیکر کا شہر یہاں سے سولہ میل دور تھا جہاں برما شیل کا پمپ موجود تھا۔

صورتحال کافی حوصلہ شکن تھی۔ میں نے تنگ آ کر انتہائی اقدام کا فیصلہ کیا۔ ساڑھے تین بج رہے تھے اور پورا شہر بہت دیر ہوئی گہری نیند سو چکا تھا۔ میں نے الفی کو پیرا فین کا ٹن لانے کو کہا جس کو کاٹ کر ہم نے ایندھن کی ٹینکی کو مرمت کروایا تھا۔ میں نے ربر کا پمپ اٹھایا ہوا تھا۔ اب ہم بیرور میں جاسوسی کی نیت سے نکلے۔ ایک جگہ میں نے اکیلی فورڈ اے ماڈل کی کار کھڑی دیکھی۔ الفی کو نگرانی پر چھوڑ کر میں کار کی دوسری طرف سے آگے بڑھابونٹ تک پہنچ کر میں نے ٹینکی کا ڈھکن کھولا اور ربر کا پائپ اس میں ڈال کر تیل نکالنا شروع کر دیا۔ اس دوران ٹن میرے گھٹنوں میں دبا ہوا تھا۔ اسی طرح دو چکر لگا کر میں نے کافی پیٹرول جمع کر لیا۔ اس پیٹرول کو پیرافین سے ملا کر ہم نے ارسیکر تک پہنچنے کا بندوبست کر لیا۔ یہاں پہنچ کر ہم نے مزید پیٹرول خریدا۔

نتیجتاً ہم لوگ ساڑھے سات بجے اپنی منزل پر جا پہنچے۔ ہم قصبے کے درمیان سے گذر کر مزید دو میل گئے ہوں گے کہ اچانک ایک کھیت میں ہمیں گدھ جمع ہوتے دکھائی دیئے۔ میرے دوست نے تصاویر بنائیں جب کہ میں تفتیش کی نیت سے ادھر گیا تاکہ گدھوں کی موجودگی کی وجہ جان سکوں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ یہ ایک نو عمر بیل تھا جسے تیندوے نے بالکل سڑک کے کنارے موجود جھاڑیوں کی باڑ نما جگہ کے ساتھ مارا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہ تیندوے کا شکار ہے۔ لاش کے گلے پر موجود نشانات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ تیندوے نے بیل کو گلا گھونٹ کر مارا تھا۔ گردن کی ہڈی صحیح و سلامت تھی۔ اگر شیر نے اسے مارا ہوتا تو یہ گردن ٹوٹی ہوئی ملتی۔ اس کے علاوہ لاش کا نچلا حصہ کھایا گیا تھا جبکہ انتڑیاں وغیرہ ابھی اندر ہی تھیں جو تیندوے کے شکار کو ظاہر کرتی ہیں۔ شیر ایک ایسا جانور ہے جو نہایت صفائی سے پیٹ بھرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ پہلے جانور کے پچھلے حصے میں شگاف ڈالتا ہے اور انتڑیاں اور اوجھڑی وغیرہ نکال کر عموماً دس فٹ دور جا پھینکتا ہے تاکہ اس کی خوراک لاش کے فضلے سے خراب نہ ہو ۔

اس خوش قسمتی پر ہم بہت مسرور ہوئے اور لاش کو گدھوں سے چھپانے کے لئے ہم نے اس باڑ سے دور کچھ جھاڑیاں اور شاخیں توڑیں اور ان کی مدد سے لاش کو ڈھانپ دیا۔ اس کے بعد میں نے اس باڑ میں کمین گاہ بنائی جہاں سے شکار بالکل ہی سامنے تھا۔ گذشتہ رات کی پریشانی کے بعد اب تیندوے کو مارنے کے اتنے یقنی موقعے کی وجہ سے الفی کو سب کچھ بھول چکا تھا۔ بس صرف تیندوے کے شام کو واپس لوٹنے کی دیر تھی۔

اب کچھ دور جا کر ہم نے کھانا کھایا اور پھر سو گئے تاکہ شام کے لئے تازہ دم ہوں۔ پانچ بجے ہم لاش پر واپس لوٹے اور جھاڑیاں وغیرہ ہٹا دیں۔ الفی کمین گاہ کے اندر گھس گئے۔ ان کے پاس ٹارچ، رائفل، کمبل اور پانی کی بوتل تھیں جبکہ میرے ذمے کار کو واپس بیرور لے جانا تھا۔ ابھی میں روانہ ہونے ہی والا تھا کہ ایک چرواہا پھولی سانس کے ساتھ ہمارے پاس آیا۔ اس نے بتایا کہ اس ایک بڑی ددھیل گائے کو شیر نے نصف گھنٹہ قبل ہی مارا ہے اور یہ جگہ کوئی میل بھر دور ہے۔

میں نے فیصلہ الفی پر چھوڑا۔ کیا وہ تیندوے کا شکار کرنا چاہیں گے جو کہ یقینی تھا یا وہ شیر پر قسمت آزمائی کریں گے؟ انہوں نے یہ سوچتے ہوئے کہ اگر وہ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے، انہوں نے شیر پر قسمت آزمانے کا سوچا۔ اب ہم سب اس جگہ روانہ ہو گئے جہاں گائے ماری گئی تھی۔ نصف میل پر ہی چرواہے نے ہمیں رکنے کا کہا۔ اب ہم سارا سامان اٹھا کر اس کے پیچھے پیچھے جنگل میں گھس گئے۔

ہمیں دور نہ جانا پڑا۔ تین فرلانگ پر ہی ہمیں لاش مل گئی۔ یہ ایک عمدہ نسل کی ددھیل گائے تھی۔ اس کی گردن توڑ کر ہلاک کیا گیا تھا اور ابھی تک اس کے ناک سے خون کے بلبلے نکل رہے تھے۔ شیر نے اسے ابھی تک چکھا بھی نہ تھا، شاید چرواہے کے شور کی وجہ سے یا پھر دیگر بھینسوں نے شیر کو بھگا دیا ہو۔

چھ بج رہے تھے اور تیزی سے اندھیرا چھاتا جا رہا تھا۔ بدقسمتی سے اس جگہ پر کوئی درخت نہ تھا۔ چند منٹ کی سوچ بچار کے بعد ہم نے طے کیا کہ یا تو شکار کا خیال دل سے نکال دیں یا پھر زمین پر ہی رہ کر شیر کو گولی ماریں۔

الفی اس وقت اتنے تنک ہو رہے تھے کہ شکار کو چھوڑنے کی بات ہی کرنا فضول تھا۔ چرواہے کی مدد سے میں نے کچھ شاخیں توڑیں اور ایک کمین گاہ سی بنا لی۔ ہم سب اس میں ساڑھے چھ بجے بیٹھ گئے۔

اب تقریباً مکمل تاریکی چھا چکی تھی اور پندرہ منٹ بعد ہی پچیس گز دور موجود گائے کی لاش دھندلکے میں گم ہو گئی۔ اگرچہ آج کل چاندنی راتیں نہیں تھیں لیکن پھر بھی تاروں کی روشنی میں ہمیں کچھ دور تک دکھائی دے رہا تھا۔ البتہ گائے کی لاش ہماری نظروں سے اوجھل تھی۔ ایک گھنٹہ گذرا کہ نصف میل دور سے ہمیں اکیلے گیدڑ کی آواز سنائی دی۔ اکیلا گیدڑ جنگل کا ایک عجیب اسرار ہے۔ عموماً گیدڑ غول کی شکل میں گاؤں اور قصبوں کے آس پاس منڈلاتے پھرتے ہیں۔ ان کی آواز کورس کی شکل میں ہوتی ہے اور وہ اپنے لیڈر کی آواز کے جواب میں بولتے ہیں۔ اس آواز سے ہندوستان میں رہنے والے تمام افراد بخوبی واقف ہیں۔ یہ کچھ ایسی ہوتی ہے: اُووووہ! اوووئیر؟ اوو وئیر؟اوو وئیر وئیر وئیر؟ ہیئر! ہیئر! ہیئر! ہی ی ی ئر! ہی ی ی ی ی ر! ہی ی ی ی جاہ! ہی ی ی یاہ! ہی ی ی ی ی یاہ! ہیئر ہیئر ہیئر ہیئر ہی ی ی ی یاہ۔ یاہ! یاہ! یاہ۔

اکیلا گیدڑ تاہم ہر اعتبار سے ایک عام گیدڑ ہی ہوتا ہے۔ تاہم اس کی آواز مختلف ہوتی ہے۔ یہ آواز ایک لمبی اور اپنی نوعیت میں ایک انوکھی آواز ہوتی ہے۔ بلا آہ۔ با آ وو آہ، کی وجہ سے ہی اسے یہ شہرت ملی ہے۔ اس آواز اور جنگل کی بھوت پریت کی اور توہم پرستی کی عادات کی وجہ سے اس کے بارے کئی داستانیں مشہور ہیں۔ پہلی داستان کے مطابق یہ گیدڑ کسی شیر یا عموماً تیندوے کا ہم رکاب بن جاتا ہے۔ یہ گیدڑ اپنے ساتھی کو اپنی عجیب آواز کی مدد سے کسی شکار تک لے جاتا ہے اور اس کی آواز اس شکاری کو یہ درخواست کرتی ہے کہ جب وہ اپنا پیٹ بھر چکیں تو پھر اس گیدڑ کے لئے کچھ نہ کچھ کھانا باقی بچا دیں۔ دوسری داستان کے مطابق یہ گیدڑ خود کو کسی درندے سے منسلک کر دیتا ہے۔ پھر یہ گیدڑ اس درندے کا محتاط ہو کر پیچھا کرتا ہے تاکہ اسے باقاعدگی سے اُس درندے کے مارے ہوئے شکاروں سے غذا ملتی رہے۔ تاہم، جو بھی وجہ ہو، اس اکیلے گیدڑ کی آواز عموماً کسی شیر یا تیندوے کی آمد سے وابستہ ہوتی ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ بھی اس بات کی دلالت کرتا ہے۔

پس، اس رات بھی ہمیں اکیلے گیدڑ کی آواز نے یہ اطلاع پہنچائی کہ شیر آنے والا ہے۔ یہ بات اتنی یقینی تھی جیسے کہ ہم نے شیر کو خود آتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ دس منٹ گذرے اور پھر ہم نے “اوفا، اوف! اوف!” کی آواز بھینس کی لاش کے عقب سے آتی ہوئی سنی۔ شیر پہنچ گیا۔ آہستگی سے میں نے الفی کی ٹانگ کو ٹہوکا دیا۔ مگر الفی پہلے سے ہی تیار تھے۔ وقت گذرتا رہا اور ہمیں گھاس پھونس کی طرف سے ہلکی سی آواز سنائی اور پھر گھسیٹے جانے کی آواز آئی۔

الفی نے ٹارچ کا بٹن دبایا اور تیز روشنی ٹارچ سے نکل کر پھیل گئی۔ بدقسمتی سے انہیں یہ درست اندازہ نہ ہو سکا کہ لاش کس جگہ موجود تھی۔ انہوں نے جہاں ٹارچ کی روشنی ڈالی، وہ لاش سے کچھ بائیں جانب تھی۔ یہ تنبیہ شیر کے لئے کافی تھی۔ اس نے “ارر۔۔۔اُوف۔۔۔ ارر۔۔۔ اُوف” کی آواز نکالی اور جست لگا کر جھاڑیوں میں گھس گیا۔ ہم ایک گھنٹہ مزید رکے رہے تاہم مجھے معلوم تھا کہ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں اور شیر اب نہیں آنے کا۔ گھنٹہ بھر کے بعد ہمیں مدھم سی “آؤنگھ، آؤنگھ، اوووں” کی آواز آئی جب شیر میل بھر دور ایک چٹان سے گذر رہا تھا۔

خود کو کوستے ہوئے ہم نے سامان سمیٹا اور واپس گاڑی کی طرف آئے تو علم ہوا کہ الفی سے گاڑی کی چابی گم ہو گئی ہے۔ اسے تلاش کرنے کے دوران لنگا دھالی سے آنے والی بس گذری۔ اس کے بعد الفی نے چابی تلاش کر لی۔ اب ہم بس کے پیچھے روانہ ہوئے۔

اس جگہ پہنچ کر، جہاں ہم نے تیندوے پر گھات لگانے کے لئے کمین گاہ بنائی تھی، دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بس کی بتیوں کی روشنی میں ہمیں تیندوے کی آنکھیں چمکتی ہوئی دکھائی دیں۔ شاید تیندوا واپس آ کر اپنا شکار اڑا رہا تھا۔ اسی وقت ہی بس ڈرائیور نے تیندوے کی چمکتی آنکھیں دیکھیں اور زور سے بریکیں لگائیں۔ بس رک گئی اور اس کے پیچھے گرد کا بادل بھی اٹھ کر ہمارے اطراف میں چھا گیا۔

الفی اور میں نیچے اترے اور چل کر بس کی دوسری طرف پہنچے۔ یہاں ہمیں تیندوا لاش کے پیچھے چھپا ہوا کھیت کے درمیان میں نظر آیا۔ انہوں نے گولی چلائی اور “آررر۔۔ آرہ” کی آواز آئی اور تیندوا فضاء میں اچھلا۔ نیچے گرتے ہی تیندوا بجلی کی سی تیزی کے ساتھ کھیت کو عبور کر گیا۔

ہمیں بہت دیر ہو چکی تھی کہ ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ دراصل ہمیں چاہیئے تھا کہ ہم الفی کو دوبارہ کمین گاہ میں چھپا دیتے اور پھر بس اور کار دونوں روانہ ہو جاتیں۔ یقیناً چند ہی منٹ بعد تیندوا واپس آتا اور الفی کو بہت عمدہ موقع مل سکتا تھا۔ تاہم یہ میری غلطی تھی اور اب ہمارا سامنا ایک زخمی تیندوے سے تھا۔

تاہم اب افسوس کرنا بیکار ہوتا۔ ہم بیرور کو لوٹے اور رات ہم نے مسافر بنگلے میں گذاری۔ اگلی صبح ہم واپس اس جگہ پلٹے اور ہم نے مدھم سے خون کے نشانات تلاش کر لیے۔ یہ نشانات کھیت کے تقریباً دوسرے سرے سے شروع ہوئے تھے۔ جب ہم جھاڑیوں میں گھسے تو یہ نشانات زیادہ ہو گئے۔

اب ہمارے سامنے ایک بہت مشکل کام تھا۔ تیندوا کا زخم بظاہر پہلو میں تھا کیونکہ گولی لگنے کے بعد خون کے بہنے اور پھر زمین پر گرنے میں کچھ وقت لگا۔ اس کے بعد یہ بہاؤ تیز ہو گیا اور تیندوا گھنی کانٹے دار جھاڑیوں میں گھس گیا۔ یہاں تیندوے کا تعاقب جاری رکھنے کے لئے ہمیں گھنٹوں اور کہنیوں کے بل رینگنا پڑتا۔ یہاں ہمیں ایک پرانی جنگلی سوروں کی گذرگاہ ملی۔ تیندوا بھی یہاں سے گذرا تھا کیونکہ یہاں خون کے نشانات بکثرت تھے۔

کہنیوں اور گھٹنوں پر چلتے ہوئے اور اپنی اعشاریہ چار سو پانچ بور کی بھری ہوئی ونچسٹر رائفل کو دھکیلتے ہوئے میں آگے بڑھتا رہا۔ الفی میرے پیچھے تھے تاکہ وہ مجھے عقب یا اطراف سے ہونے والی حملے سے بچا سکیں۔ اسی طرح ہم کوئی پچھتر گز بڑھے ہوں گے کہ اچانک بغیر کسی تنبیہ کے ہم نے تیندوے کو حملے کے لئے اگلے موڑ پر تیار پایا۔ یہاں نشانہ خطا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ وہ بمشکل اتنی دور تھا جتنا کہ رائفل کی نال لمبی تھی۔ نرم سرے والی گولی نے اس کی کھوپڑی کو پاش پاش کر دیا اور اس کی کھوپڑی کے عقبی حصے کو اڑا لے گئی۔ وہ میرے قدموں میں موت سے ہمکنار ہوا اور اس کے سر کے زخم سے مغز بہتا رہا۔

ہم مزید دس دن تک بیرور رکے رہے تاہم اس دوران صرف ایک اور جانور مارا گیا۔ یہ واقعہ ساتویں دن کو دوپہر سے ذرا قبل ہوا۔ یہ جگہ یمائی ڈوڈی سے چھ میل دور تھی۔ جب ہمیں اطلاع ہوئی اور ہم اس جگہ پہنچے تو شام ڈھل چکی تھی۔ چونکہ انہوں نے لاش کو چھپانے کے لئے کوئی کوشش نہ کی تھی، گدھوں نے اسے چٹ کر ڈالا تھا۔ اس جگہ سے چالیس گز دور ایک درخت موجود تھا جس پر الفی نصف شب تک ٹارچ اور رائفل کے ہمراہ بیٹھے رہے لیکن شیر نہ آیا۔

اس کے علاوہ مزید کچھ نہ ہوا۔ گیارہویں دن ہم بنگلور واپس لوٹے۔

وقت گذرتا رہا۔ ایک تاریک رات تھی جب لنگا ڈھالی سے آنے والی سڑک پر کار شکاری گشت پر تھے۔ یہ شکاری کار میں بیٹھے ہوئے نہایت طاقتور برقی سرچ لائٹوں کی مدد سے شکار کرتے تھے۔ انہیں جنگل، قدرت اور قدرتی مناظر کی الف بے کا علم بھی نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس بارے کچھ جاننا چاہتے تھے۔ ان کے لئے شکار کی اصل روح یہی تھی کہ جنگل میں سڑک پر گذرتے ہوئے ٹارچ کی روشنی ڈالتے جاتے تھے۔ جہاں بھی انہیں انتہائی طاقتور برقی سرچ لائٹوں سے کوئی چمکتی ہوئی آنکھیں دکھائی دیتیں، وہ اپنی بندوقیں اور رائفلیں اس پر خالی کر دیتے۔ انہیں یہ غرض نہ تھی کہ وہ کسی مادہ کو مار رہے ہیں یا کسی بچے کو۔ انہیں یہ بھی غرض نہ ہوتی تھی کہ ان کی گولی سے جانور مرا ہے یا زخمی ہو کر نکل گیا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ شکار کے قوانین اس طرح کی حرکات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے لیکن یہ حرکات ہوتی رہی ہیں۔

اس رات انہوں نے ایک جگہ بیرور سے چار میل دور شیر کی چمکتی ہوئی آنکھیں دیکھیں جو سڑک کے کنارے جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا۔

دو گولیاں چلیں اور شیر نے جست لگائی اور یہ جا وہ جا۔ ایک گولی سے اس کا جبڑہ ٹوٹ چکا تھا جبکہ دوسری گولی خالی گئی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان شکاریوں نے نیچے اتر کر دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی اور آگے روانہ ہو گئے تاکہ کہیں اور کوئی آنکھیں دکھائی دیں تو وہ انہیں مار سکیں۔ اگلے دن واپس آ کر انہوں نے شیر کا پیچھا کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔

یقیناً اگلے دو ماہ اس زخمی شیر نے انتہائی کرب میں گذارے ہوں گے اور نہ ہی وہ پیٹ بھر کر کھا سکا ہوگا۔ اس کا جبڑے کا زخم مندمل تو ہو چکا تھا لیکن اس کی مدد سے وہ اب جانوروں کو ہلاک کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔ اس لئے وہ اب جانوروں اور مویشیوں سے اپنا پیٹ بھرنے سے معذور ہو چکا تھا۔

تین ماہ بعد، ایک دن اس نے ایک ریوڑ سے ایک بکری مارنے کی کوشش کی۔ یہ ریوڑ چرنے کے لئے جنگل میں بھیجا گیا تھا۔ اس نے نہایت احتیاط سے گھات لگائی اور جب وہ ایک موٹی تازی بکری پر جھپٹا ہی تھا، اس نے بکری کو گردن توڑ کر مارنے کی بجائے پنجہ مار کر ہلاک کیا۔ اتفاق سے چرواہا نزدیک ہی موجود تھا اور اس نے اپنی لاٹھی شیر پر پھینک ماری۔ لاٹھی اتفاق سے شیر کو جا لگی۔ غصے سے پاگل شیر نے چرواہے پر چھلانگ لگائی اور اس کو بھی پنجہ مارا اور اس کی کھال چھیل دی۔ اس کی درد میں ڈوبی ہوئی چیخ ادھوری ہی رہ گئی کہ دوسرے پنجے میں شیر نے اس کا کام تمام کر دیا۔ اس بار اس کے پنجے کی ضرب سے چرواہے کی کھوپڑی انڈے کی طرح پچک گئی۔

چرواہے کے مرتے ہی اب شیر کے سامنے دو شکار تھے۔ ایک انسانی لاش اور ایک بکری کی لاش۔ اس نے انسان کو کھانے سے کچھ گریز کیا۔ اس نے بکری کا رخ کیا اور اسے گردن سے پکڑ کر جنگل کی طرف چلا۔ چند ہی قدم چلنے کے بعد، بغیر کسی معقول وجہ کے، شیر واپس پلٹا اور بکری چھوڑ کر آدمی کو اٹھا کر گھنی جھاڑیوں میں گھس گیا۔

اس طرح یمائی ڈوڈی کے خوفناک آدم خور کا جنم ہوا۔ پورے علاقے میں خوف اور دہشت کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے بعد اڑھائی سو مربع میل کے رقبے میں اس نے انسانی جانوں کا خراج لینا شروع کر دیا۔ یہ علاقہ شمال میں بیرور، لنگا ڈھالی اور بھگواڈ کٹے، مغرب میں سنتاویری جو کہ بابا بدان کے سلسلے کے پہاڑوں میں تھا، جنوب میں آئرن کیری جھیل سے ہوتا ہوا سیکری پنتہ اور پھر بیرور تک پھیلا ہوا تھا۔

چونکہ انسانی ہلاکتیں باقاعدگی سے ہونے لگیں، ان کے درمیان بالعموم یکساں فاصلہ ہوتا اور ہر شکار گردن توڑنے سے نہیں بلکہ پنجے کی ضرب سے مارا جاتا۔ اس کے علاوہ وہ لاشیں جن پر شیر دوبارہ نہ لوٹا، ان کے معائنے سے صاف ظاہر تھا کہ ان سے گوشت اس طرح سے کھایا گیا ہے کہ شیر کا اوپری جبڑا تو ٹھیک تھا لیکن نچلا جبڑہ بالکل کام کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔ یعنی شیر گوشت اتارنے کا کام اب منہ سے نہیں بلکہ پنجوں کی مدد سے کرتا تھا۔

آدم خور کے ظہور کے ساتھ ہی اس علاقے میں نہایت سرگرم مویشی خور کی حرکات اچانک ہی بند ہو گئیں۔ ظاہر تھا کہ یہ مویشی خور ہی زخمی ہو کر آدم خور بنا ہے۔ کچھ عرصے تک تو کار شکاریوں کے شیر کو زخمی کرنے کی خبر کسی کو نہ ہوئی۔ تاہم پھر ان میں سے ہی ایک کسی دن یہ بک دیا کہ انہوں نے ہی بیرور لنگا ڈھالی سڑک پر شیر پر گولی چلائی تھی اور اسے زخمی کر دیا تھا۔ ان تمام حقائق کو اکٹھا کرنے سے جو کہانی ترتیب پائی، وہ آپ نے ابھی پڑھی۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، اس شیر کی سرگرمیاں ان علاقوں میں باقاعدگی سے ہوتی تھیں۔ وہ دیہاتوں اور وادیوں کی بیرونی حدوں میں شکار کرتا۔ یہ معلومات میں نے مقامی اخباروں میں شیر کی ہلاکت خیزی کو پڑھ کر اور پھر اپنے بنائے ہوئے مقامی نقشے پر ہر ہلاکت کے مقام اور تاریخ درج کرنے سے اخذ کی تھیں۔

اس علاقے کے مرکز کو شیر نے اپنی سرگرمیوں کا محور بنایا ہوا تھا۔ یہ جگہ پتھریلی اور گھنے جنگلات سے بھری ہوئی ہے۔ اس کے اوپر ہوگر خان نام کا ساڑھے چار ہزار فٹ بلند پہاڑ ہے۔ میں نے اندازہ لگایا کہ یہ ڈھلوان ہی شیر کی رہائش گاہ ہے اور یہاں کوئی انسان نہیں آباد۔ یہاں سے وہ آس پاس کے آباد علاقوں میں جا کر شکار کرتا ہے۔ نقشے کو دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ہر تیسرے یا چوتھے مہینے یہ شیر واپس اسی جگہ لوٹتا ہے جہاں اس نے پہلے شکار کیا ہوتا تھا۔ اس وقت تک کل ہلاکتیں ستائیس ہو چکی تھیں۔

اسے مارنے کے سلسلے میں میں نے ہوگر ہالی نامی گاؤں کو مستقر بنانے کا سوچا۔ یہ جگہ بیرور اور لنگا ڈھالی کے تقریباً درمیان میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ جگہ ہوگر خان سے ساڑھے تین میل دور ہے۔ ہوگر خان کے دامن سے ڈھلوانی جنگل یہاں تک پہنچتا ہے۔ میں نے اس جگہ کو اس وجہ سے چنا کہ میں اس جنگل اور آس پاس کے علاقے کی جغرافیائی صورتحال سے بخوبی واقف تھا۔ اس کے علاوہ میں مقامی افراد کو بھی اچھی طرح جانتا تھا اور ان کا تعاون پا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ ہوگر ہالی کا گاؤں ہوگر خان سے نزدیک تھا جہاں میرے اندازے کے مطابق شیر رہتا تھا۔ ہر بار جب شیر یہاں سے گذرا تو اس نے ایک نہ ایک انسانی جان کی قیمت اس گاؤں سے وصول کی۔ یعنی اس طرح بھی یہ گاؤں آدم خور کی یقینی واپسی کا امکان رکھتا تھا۔

میں اس گاؤں شیر کے سہ ماہی چکر سے پورے دو ہفتے قبل پہنچا۔ دو سے چھ ہفتے کے دوران شیر کا ادھر سے گذر یقنی تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اس دوران اس علاقے سے اچھی طرح واقفیت پیدا کر لوں اور لوگوں سے بھی ہر ممکن معلومات لے سکوں تاکہ اس آدم خور کو مارنے کی ہر ممکن کوشش کر سکوں۔

یہ گاؤں نسبتاً بڑا ہے لیکن اس کی آبادی اتنی زیادہ نہیں۔ یہاں لوگ مستقل بنیادوں پر رہتے ہیں۔ یہ سرخ رنگ کے پتھر اور مٹی سے بنائے جاتے ہیں جو یہاں عام ملتے ہیں۔ یہ پتھر ہتھیلی سے لے کر کئی فٹ تک سائز کے ہوتے ہیں۔ یہ گھر چھوٹے بڑے ہر قسم کے سائز کے ہوتے ہیں۔ ہوگر ہالی بہت قدیم آبادی ہے اور یہاں دو پرانے مندر بھی موجود ہیں۔ اس کے مغرب، شمال مغرب اور جنوب مغرب میں گھنے جنگلات ہوگر خان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے جنوب میں ایک خوبصورت اور بڑی جھیل ہے جو سردیوں میں مرغابیوں، جنگلی بطخوں اور ٹیلوں سے بھری ہوتی ہے۔ اس کے جنوب میں ایک راستہ تین میل دور یمائی ڈوڈی کے نالے تک جاتا ہے۔ جنوب مغرب میں کیلے اور ناریل کا ذخیرہ ہے۔ سارے ذخیرے میں پان کی گھنی بیلیں بھی ہیں جس کے پتوں کو پورے ہندوستان میں چبایا جاتا ہے۔ یہ علاقہ نمدار زمین سے بھرا ہوا ہے اور جنوب سے جھیل کا پانی یہاں آبپاشی کے لئے آتا ہے۔ ہوگر ہالی سے مزید جنوب میں چاول کے چند کھیت ہیں۔ مزید جنوب مشرق اور مشرق کی جانب بنجرکھیت ہیں جہاں صرف برسات میں ہی کاشت ہوتی ہے۔ یہ کھیت ڈیڑھ میل دور بیرور لنگا ڈھالی سڑک تک پھیلے ہوئے ہیں۔

جیسا کہ آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ زیادہ تر وارداتیں مغرب، جنوب مغرب اور شمال مغرب میں ہوئی تھیں۔ دو وارداتیں اس ذخیرے کے عین درمیان میں ہوئی تھیں جن میں سے ایک ذخیرے کے مالک کا کزن تھا۔ زیادہ کھلے علاقے سے آدم خور نے احتراز کیا تھا۔ اس کے علاوہ زیادہ تر وارداتیں دن ڈھلے ہوئی تھیں۔ ان کے بعد سے مقامی لوگوں نے دن ڈھلے سے ہی خود کو گھروں میں مقید کر دینا شروع کر دیا تھا۔ شیر کے بکثرت پگ بھی دکھائی دیتے تھے جب وہ علی الصبح گاؤں میں داخل ہوتا تھا۔ تاہم مضبوط بنے ہوئے گھروں اور لکڑی کی موٹے دروازوں کی وجہ سے ابھی تک شیر کسی سوئے ہوئے فرد کو نقصان نہ دے پایا تھا۔

ان حالات میں کوئی خاص منصوبہ بنانا ناممکن تھا۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک بار آدم خور نے یہاں کسی کو لقمہ بنا لیا، پھر وہ تین چار ماہ کے لئے گم ہو جائے گا۔ بطور ایک انسان، میرے لئے یہ اندازہ کرنا نا ممکن تھا کہ اب کے شیر کس جگہ اور کسے ہلاک کرے گا۔ واحد حل یہ تھا کہ میں خود کو شیر کے لئے بطور چارہ پیش کرتا۔ آپ کے خیال کے عین مطابق میں اس طریقہ کار کو اپنانے کے لئے گریز کر رہا تھا۔ تاہم یہ واحد راستہ بچا تھا۔

ایک ہفتہ انہی معلومات کو اکھٹا کرنے، ہر واردات کی تفاصیل اور پھر جائے واردات کے معائینے میں ہی گذر گیا۔ آدم خور کے اگلے چکر کے لئے وقت بہت تیزی سے قریب آتا جا رہا تھا۔

مجھے معلوم ہوا تھا کہ مغرب کی جانب ہونے والے زیادہ تر شکار یا تو لکڑہارے تھے یا پھر چرواہے جو اپنے مویشی چرا رہے تھے۔ تاہم کسی بھی مویشی کو آدم خور نے چھوا تک نہیں تھا۔ البتہ کبھی کبھار مقامی تیندوا مویشیوں سے اپنا حصہ وصول کرتا رہتا تھا۔ اسی دوران ایک نیا خیال میرے ذہن میں ابھرا۔ بلا شبہ یہ ایک انتہائی دانش مندانہ خیال تھا۔ گھنی جھاڑیوں میں نصف میل دور میں نے ایک مضبوط درخت چنا تاکہ اس پر ایک کرسی کو شاخوں کے درمیان پندرہ فٹ کی بلندی پر بندھوائی جا سکے۔یہ اتنی بلندی ہے کہ شیر کی جست بھی اس تک نہ پہنچ سکے۔ اس کے بعد میں نے لکڑی کا ایک مضبوط ٹکڑا لیا جو چھ فٹ لمبا اور تین انچ موٹا تھا۔ اس کو زمین پر ایک سرا ٹکا کر دوسرے کو درخت کے تنے سے ٹکا کر رسی سے اپنے پاؤں سے باندھ دیتا۔ اس طرح میں بالکل تیار ہو کر بیٹھتا اور میرے پاؤں کی معمولی سی حرکت سے یہ لکڑی درخت کے تنے سے ٹکرا کر ایسی آواز پیدا کرتی جو عموماً لکڑہارے پیدا کرتے ہیں اگرچہ یہ آواز نسبتاً نیچی ہوتی۔ جب ایک پاؤں تھک جاتا تو میں دوسرا پاؤں اس مقصد کے لئے استعمال کرتا۔ جب چاہتا میں رسی کو ہاتھ میں لے کر میں اسے زیادہ دور تک کھینچ کر زیادہ آواز پیدا کر سکتا تھا۔ خود کو دھوپ سے بچانے کے لئے میں نے اپنے اوپر موجود شاخوں کو ویسے ہی رہنے دیا۔ اس طرح میرے اوپر ایک کنوپی سی بن گئی۔ اس میں میں آرام سے بیٹھ سکتا تھا، کھا، پی، تمباکو نوشی، کھانسی وغیرہ بھی کر سکتا تھا اور کسی قسم کی جسمانی تکلیف نہ ہوتی۔ اس طرح خود کو بطور چارہ پیش کرتے ہوئے میں جتنا شور کرتا، اتنا ہی آدم خور کے اس طرف آنے اور گھات لگانے اور حملہ کرنے کے امکانات بڑھ جاتے۔

ہوگر خان گاؤں کے پٹیل یعنی نمبردار نے مجھے بھرپور تعاون دینے کا وعدہ کیا۔ میں نے اسے اپنا منصوبہ وضاحت سے پیش کیا۔ میں نے اس پر واضح کیا کہ جب میں اپنے منصوبے پر کام شروع کروں تو یہ اس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ کسی کو بھی اس علاقے میں اور نہ ہی کسی کو ذخیرے میں یا جنگل میں گھسنے دے۔ اس سے شیر کو شکار تلاش کرنے میں مشکل پیش آتی۔ اس نے ایسا ہی کرنے کا وعدہ کیا۔ اس نے فوراً ہی گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اعلان کرا دیا کہ کوئی بھی شخص دوپہر کے بعد اور مغربی جنگل اور ذخیرے کی طرف ہرگز نہ جائے۔ خلاف ورزی پر اس نے سخت دھمکیاں بھی دیں۔ اس وقت گاؤں میں بھوسہ وغیرہ اتنی مقدار میں موجود تھا کہ تین ہفتوں کے لئے مویشیوں کی طرف سے کوئی فکر نہ تھی۔ مجھے امید تھی کہ اس عرصے میں شیر اپنی آمد کا اظہار کر چکا ہوگا۔ پٹیل کے اعلان کا سب نے خیر مقدم کیا کیونکہ کوئی بھی شیر کے پنجوں کا نشانہ بننے کو تیار نہیں تھا۔ ویسے بھی تین ہفتے بیکار گذارنا کسے برا لگتا ہے۔

ہوگر ہالی میں میری آمد کے ٹھیک دسویں دن میں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ قبل از وقت کھانا کھا کر میں گیارہ بجے سے ذرا قبل درخت تک پہنچ گیا۔ میرے ساتھ پانی کی بوتل، سینڈوچ، پائپ اور اعشاریہ 405 بورکی رائفل تھیں۔ اب میرا پہلا دن درخت پر شروع ہوا۔ جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ پاؤں کی حرکت سے آواز پیدا کرنا کتنا اکتا دینے والا کام ہے۔ اس کے علاوہ دوپہر کے وقت سورج کی جھلسا دینے والی شعاعیں بہت تکلیف دے رہی تھیں۔ اس دھوپ میں چاروں طرف مسلسل گھورتے رہنا بھی آنکھوں کے لئے بہت تکلیف دہ تھا۔ سورج ڈوبنے تک میں اپنی جگہ پر رہا اور اگلا سارا ہفتہ میں نے ایسے ہی گذارا۔ تاہم مجھے شیر کی آمد کا کوئی نشان تک نہ مل سکا۔ اس دوران میں نے درخت کے ارد گرد تمام علاقے اور آس پاس کی تمام بڑی جھاڑیوں کو اچھی طرح چھان لیا اور شیر کے آنے کے تمام ممکنہ راستے بھی فرض کر لئے۔

ایک ہفتہ بیکار گذرنے کے بعد میں نے خود کو سکون دینے کے لئے بیرور ریلوے سٹیشن کے چھوٹے سے بک سٹال سے دو سستے ناول خریدلیئے جنہیں میں درخت پر بیٹھے ہوئے پڑھتا رہتا اور اس دوران میرا تمام تر انحصار قوت سماعت پر تھا جو مجھے کسی بھی آواز سے آگاہ کرتی۔ اسی طرح دوسرا ہفتہ بھی گذرا لیکن ابھی تک شیر کی واپسی کی کوئی خبر نہیں ملی۔

اب میں کافی بے صبرا ہو رہا تھا۔ خود عائد کردہ بیکاری مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی۔ میں نے کسی دوسرے منصوبے کے لئے بہت ذہن مارا لیکن تقریباً اسی طرح کے منصوبے ہی ذہن میں آتے۔

چوتھا مہینہ شروع ہو چکا تھا اور اگر شیر اپنے عمومی رویے کو تبدیل نہ کرتا تو شیر کی آمد کسی بھی وقت متوقع تھی۔چمک مگلور کے ڈپٹی کشنر سے میں نے طے کیا تھا کہ وہ اس سارے علاقے میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں کی تفصیل سے اپنے ماتحت کدور کے عملدار کے ذریعے مجھے آگاہ رکھیں۔ جونہی کسی انسانی ہلاکت کی خبر ملتی، میری طرف ہرکارہ بھیج دیا جاتا۔ دو دن بعد ایک ہرکارہ آن پہنچا کہ چار دن قبل چک مگلور سیکری پنٹا سڑک پر واقع ایک وادی میں شیر نے انسانی جان لی ہے۔ اگلے روز پھر وہی ہرکارہ آیا کہ اس بار شیر نے آئرن کیری جھیل کے شمالی کنارے پر مویشیوں کے ایک ریوڑ میں قتل عام کیا ہے۔ یہ جگہ مدک جھیل سے پانچ میل دور تھی جو ہوگر ہالی سے مزید نو میل دور تھی۔

اب تک ملنے والی تمام اطلاعات تسلی بخش تھیں۔ ان سے اندازہ ہو رہا تھا کہ شیر اپنے معمول کے مطابق آگے بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ دو دن قبل شیر اس جگہ سے چودہ میل دور تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ شیر اب ہوگر ہالی نہیں پہنچا تو پھر اس کے آس پاس ہی موجود ہے۔ اسے پچھلا شکار کھائے تین دن ہو رہے تھے۔ اب اس کے حملے کا وقت قریب تھا۔

اسی شام میں نے مودلا گیری کو بتایا کہ وہ ہوگر ہالی اور آس پاس کے تمام باشندوں کو خبردار کر دے کہ شیر آن پہنچا ہے۔ اب انہیں جنگل اور ذخیرے سے ہر ممکن طور پر دور رہنا ہوگا۔

اگلی صبح معمول سے ذرا پہلے میں پھر اپنی جگہ براجمان تھا۔ اس بار میں اپنے ساتھ ناول نہیں لایا تھا تاہم میں نے لکڑی کے تنے پر زور سے مارنے، کھانسنے اور شاخوں پر ادھر ادھر حرکت کرتے رہنے کی ہر ممکنہ کوشش جاری رکھی۔ اس شام گاؤں واپس لوٹتے وقت میں نے کسی بھی غیر متوقع حملے کے پیش نظر ہر ممکنہ احتیاط اپنائے رکھی۔ تاہم دو دن مزید گذر گئے اور کچھ نہ ہوا اور نہ ہی مجھے آدم خور کے بارے کوئی اور اطلاع ملی۔

اب مجھے خیال ہوا کہ شیر اپنی پرانی رہائش گاہ یعنی ہوگر خان کے دامن میں پہنچ چکا ہے یا پھر وہ ہوگر ہالی کو چھوڑ کر شمال مغرب کی طرف لنگا ڈھالی اور بگواڈکٹی کی طرف نکل گیا ہے یا عین ممکن ہے کہ وہ اس سے مزید مغرب کی طرف سنتاویری کی طرف چلا گیا ہو۔

چونکہ موسم نسبتاً گرم تھا اور چاند بھی آدھا ہو چکا تھا۔ میں نے اگلے دو دن تک دوپہر سے لے کر اگلے دن صبح تک درخت پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہو سکتا تھا کہ اس طرح میں شیر کو اپنی طرف زیادہ آسانی سے متوجہ کر سکتا جو تاریکی چھانے کے بعد شکار کی تلاش میں نکلا ہوا ہوگا۔ اس سے میرے اعصاب پر یقیناً اضافی بوجھ پڑتا کیونکہ میں پہلے ہی پندرہ دن سے بیکار وقت گذار رہا تھا۔ تاہم میں نے ایسا ہی کرنے کا سوچا۔

اگلے دن میں دن چڑھے واپس اپنی جگہ پر پہنچ چکا تھا۔ اس بارے میرے ساتھ ایک ٹوکری میں کھانے کا سامان، گرم چائے کا تھرماس، ایک کمبل، پانی کی بوتل، ٹارچ اور دیگر ضروریات کی چیزیں تھیں جو رات گذاری میں مجھے ضرورت پڑتیں۔ اس کے علاوہ میں نے بینزیڈرائین کی تین گولیاں بھی خریدیں تاکہ سونے کا کوئی امکان نہ باقی رہے۔

سارا دوپہر اور پھر سہہ پہر حتیٰ کہ رات گئے تک میں نے اسی طرح آواز پیدا کرنے میں گذاریں۔ جنگل میں الو کی آواز کے سوا بالکل خاموشی تھی۔ اسی طرح دور کہیں سے کاکڑ کی آواز بھی آ رہی تھی۔ چاند ڈیڑھ بجے غروب ہو گیا اور اس کے بعد اچانک تاریکی چھا گئی اور سردی بہت بڑھ گئی۔ تین بجے کے قریب میں غنودگی محسوس کرنے لگا تو میں نے تین میں سے دو گولیاں کھا لیں۔ نصف گھنٹے بعد گھسٹنے کی آواز سنی اور اس کے بعد لگڑ بگڑ نے یا تو مجھے دیکھا یا پھر میری بو سونگھ کر چلایا۔ ہا ہا ہا ہا ہا۔ اس کے بعد وہ تاریکی میں گم ہو گیا۔

اس کے بعد خاموشی اور تاریکی رہی حتیٰ کہ صبح کاذب کی زرد روشنی نمودار ہوئی جو کہ سورج نکلنے سے گھنٹہ بھر پہلے آتی ہے۔ پھر وہ گھنٹہ گذرا اور جنگلی مرغ کی آواز گونجی۔ میں بعجلت نیچے اترا تاکہ ہوگر ہالی جا کر چار گھنٹے کی نیند لے سکوں۔

گیارہ بجے دن کو میں دوبارہ اسی جگہ واپس پہنچ گیا تاکہ دوبارہ سے مہم شروع کر سکوں۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں اس کو مزید جاری نہیں رکھ سکتا۔ گرم دوپہر حسب معمول گذری، کسی پرندے کی ٹک ٹک ٹک ٹک کی آواز آئی اور پھر کوئل کی کوو کوو سنائی دی۔ شام آئی اور کوئی پرندہ پاس کسی جگہ پتے کھدیڑنے لگا۔ اس کے بعد شام کو گھونسلوں کو لوٹتے پنچھی بولنے لگے۔

جب سورج ہوگر خان کے پیچھے چھپ گیا تو رات کے پرندے جاگ گئے۔ جب کوئی الو اوپر سے گذرتا تو اس کی آواز سنائی دیتی۔ جب وہ زمین پر یا درخت پر بیٹھتے تو ان کے پروں کی آواز آتی۔

دس بج گئے اور اس کے فوراً بعد چیتلوں کی آواز آنے لگی۔ ان کی آواز میں ایک تنبیہ پوشیدہ تھی۔

یقیناً انہوں نے کسی درندے کو دیکھا تھا۔ یہ درندہ کوئی تیندوا یا عام شیر یا آدم خور بھی ہو سکتا تھا لیکن اس بارے وقت ہی کچھ بتا سکتا ۔ تھا۔ میں نے لکڑی کو اور زیادہ زور سے تنے پر مارنا شروع کر دیا، مجھے امید تھی کہ آدم خور یہ نہیں سوچے گا کہ کون لکڑ ہارا رات کو جنگل میں لکڑیاں کاٹنے آیا ہوا ہے۔

منٹ گذرتے گئے، اچانک ہی سانبھر کی “پونک! ویی اونک۔۔۔ وی اونک” سنائی دی۔ اس نے ہوگر خان کی جاتے ہوئے مزید آوازیں نکالیں۔

اس کے بعد اچانک موت کی سی خاموشی چھا گئی۔ لکڑی کو تنے پر مارتے ہوئے میں نے ہر ممکنہ جھاڑی کا جائزہ لینا جاری رکھا جو مجھے دکھائی دے رہی تھی تاکہ اگر شیر گھات لگا رہا ہو تو مجھے دکھائی دے جائے۔ کہیں دور سے سانبھر کی پونک کے بعد سے کوئی آواز نہ سنائی دی اور نہ ہی کچھ حرکت کرتا دکھائی دیا۔

اچانک ایک عجیب سا احساس طاری ہونے لگا۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔ میں نے لکڑی سے آواز پیدا کرتے ہوئے عام بھارتی انداز میں کھانسا اور پھر تھوک پھینکا۔ کچھ بھی نہیں سنائی دیا۔ اچانک، جیسے آسمان پر بجلی کا کوئی کوندہ لپکا ہو، وہ آیا

“ووف، ووف” وہ غرایا اور بہت بڑا بھورا سا جسم، اتنا بڑا جیسے شیٹ لینڈ پونی ہوتا ہے، مجھ سے دس گز دور جھاڑی سے ایسے نکلا جیسے جادوگر کے ہیٹ سے کبوتر تاکہ وہ درخت کے تنے تک پہنچ کر مجھ پر جست لگا سکے۔

ایک بہت بڑا بھورا سر مجھ سے تین گز دور بالکل میرے نیچے تھا، میں نے ٹارچ جلا کر دو جلتی ہوئی آنکھوں کے درمیان گولی چلائی۔ رائفل کے دھماکے کے ساتھ ہی وہ اچھل کر نیچے گرا اور حواس مختل کر دینے والی دھاڑ لگائی۔ میں نے دوسری گولی چلائی۔ اس نے اس پر ایک اور دھاڑ لگائی اور اگلے ہی لمحے وہ گم ہو گیا۔ سو گز دور جھاڑی سے اس کی آخری بار :وررف” سنائی دی اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔

مجھے معلوم تھا کہ میری کوئی بھی گولی خطا نہیں گئی لیکن پھر بھی میں نے خود کو کوسا کہ دوسری گولی سے بھی میں شیر کو گرانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ تاہم مجھے یقین تھا کہ شیر شدید زخمی ہو چکا ہے اور زیادہ دور نہیں جا پائے گا۔ بقیہ رات میں آرام سے سوتا رہا اور صبح ہوتے ہی میں ہوگر ہالی لوٹا تاکہ زخمی درندے کے تعاقب کے منصوبے بنا سکوں۔

مودلاگری نے بہترین کام کیا۔ جب تک میں نے مختصر سا آرام کیا، گرم چائے، ٹوسٹ اور بیکن کھائے، اس نے بھینسوں کے ریوڑ اور اس کے مالک کو زخمی شیر کی تلاش میں ہمارے ساتھ چلنے پر تیار کر لیا ۔ ہمیں امید تھی کہ بھینسوں کو دیکھ کر شیر اپنی کمین گاہ سے غرائے گا۔

نو بجے میں، دو سکاؤٹ، مودلاگری اور پندرہ بھینسیں بمع مالک اس درخت تک پہنچ گئے۔ سب سے پہلے میں درخت پر چڑھا تاکہ شیر کو تلاش کر سکوں۔ شیر کہیں دکھائی نہیں دیا۔ درخت کی جڑ پر خوش کے نشانات کھال پر تھے جیسے وہ شیر کے سر یا چہرے سے نکلے ہوں۔ یہ میری پہلی گولی کا اثر تھا۔ جب وہ جھاڑی کے پیچھے گھسا تو ہم نے بہت زیادہ خون دیکھا۔ ظاہر تھا کہ دوسری گولی نے بھی اپنا اثر دکھایا تھا۔

اس کے بعد ہم نے بھینسوں کو آہستگی سے اس طرف بھیجا جہاں خون کی لکیر جا رہی تھی۔ ہم نے بھینسوں کو دور دور تک ایک قطار کی سی شکل میں پھیلا دیا تھا۔ میں بھینسوں کے پیچھے اور دونوں سکاؤٹ میرے پیچھے تھے۔ مودلاگری اور بھینسوں کا مالک درخت پر اس جگہ چڑھے ہوئے تھے جہاں میں بیٹھتا تھا۔

ابھی ہم دو سو گز ہی گئے ہوں گے کہ ایک بہت زوردار دھاڑ سنائی دی۔ اسی وقت ساری بھینسیں بھی رک گئیں اور انہوں نے سر نیچے کر دیئے اور ان کے سینگ سامنے کی طرف ہو گئے جہاں سے آواز آئی تھی۔

میرے ذرا بائیں جانب ایک درخت موجود تھا۔ میں نے ایک سکاؤٹ سے کہا کہ وہ اس پر چڑھ کر شیر کو تلاش کرے۔ اس نے اوپر جا کر اشارہ کیا کہ اسے کچھ نہیں دکھائی دیا۔ اسی دوران بھینسیں اس جگہ سے واپس آنے لگ گئی تھیں۔ ہم انہیں واپس نہیں بھیج سکتے تھے۔ انہیں وہیں چھوڑ کر اور پہلے سکاؤٹ کو درخت پر ہی رہنے کا کہہ کر میں نے دوسرے سکاؤٹ کو ساتھ لیا اور واپس مودلاگری تک پہنچا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ گاؤں جا کر چند کتوں کو لے آئے جو ہماری مدد کر سکیں گے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد جب وہ واپس لوٹا تو اس کے ساتھ دو دیسی کتے بھی تھے۔ اس نے بتایا کہ وہ یہی دو کتے ہی تلاش کر پایا۔ ہم نے کتوں کو بھینسوں کے پیچھے لگایا تاکہ وہ آگے بڑھیں۔ ابھی ہم پچیس گز ہی گئے ہوں گے کہ شیر نے انتہائی غضب ناک انداز میں غرانا شروع کر دیا۔ بھینسیں ایک دم رک گئیں جبکہ کتوں نے دیوانہ وار بھونکنا شروع کر دیا۔

اگلی دو بھینسوں کے پیچھے چھپ کر رینگتے ہوئے میں نے ان کی ٹانگوں کے درمیان سے شیر کو دیکھنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ پھر میں نے انہیں آگے بڑھنے کے لئے ہانکا تو ایک بھینس اچانک مجھ پر الٹ پڑی۔ اس کے لمبے سینگ سے میں بال بال بچا۔

اب میری پوزیشن بہت خطرناک ہو گئی تھی۔ ایک زخمی شیر میرے سامنے چھپا ہوا تھا جو کسی بھی لمحے حملہ کر سکتا تھا اور دوسری طرف گھبرائی ہوئی بھینسیں میرے اردگرد۔ انہوں نے مل کر اپنا دفاع کرنا تھا چاہے وہ میرے خلاف ہوتا چاہے شیر کے خلاف۔ میں چند قدم پیچھے ہٹا اور پھر درخت پر چڑھے سکاؤٹ سے نیچے اترنے کا کہا۔ پھر دونوں سکاؤٹوں کی مدد سے میں نے بھینسوں کے اوپر سے اس جگہ پتھر برسانے شروع کر دیئے جہاں سے شیر کے غرانے کی آواز آئی تھی۔ فوراً ہی شیر دھاڑا۔ مگر ہم مزید کچھ نہ کر سکتے تھے کہ شیر اپنی جگہ چھوڑ کر باہر نکلتا۔ نہ ہی شیر اپنی جگہ چھوڑ رہا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ بری طرح زخمی ہے۔

مزید پتھراؤ بیکار معلوم ہوا۔ میں نے بھینسوں کو وہیں چھوڑا اور دونوں سکاؤٹوں اور کتوں کو لے کر میں لمبا چکر کاٹ کر شیر کے عقب سے پہنچا۔ جب ہم تین سو گز دور رہ گئے تو ہم بہت احتیاط سے آگے بڑھنے لگے۔ ہر درخت پر سکاؤٹ چڑھ کر دیکھتے کہ کیا شیر موجود ہے یا نہیں۔ ابھی ہم دو سو گز ہی بڑھے ہوں گے کہ ایک سکاؤٹ نے اشارہ کیا کہ اسے اس جگہ سے کچھ دکھائی دے رہا ہے جہاں وہ موجود تھا۔ نیچے اتر کر اس ے سرگوشی میں بتایا کہ اس نے سفید اور بھورے رنگ کی کوئی چیز دیکھی ہے جو یہاں سے پچاس گز دور جھاڑی کے نیچے تھی۔

میرے ساتھ درخت پر چڑھتے ہوئے اس نے جھاڑیوں کی طرف اشارہ کیا جہاں پہلے پہل تو مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ پھر اچانک مجھے وہ سفید اور بھورے رنگ کی چیز دکھائی دے گئی۔ اس پر نشانہ لے کر میں نے گولی چلائی اور شیر ہماری آمد کی سمت کا غلط اندازہ کرتے ہوئے بھینسوں پر غراتے ہوئے چڑھ دوڑا۔ سب سے آگے والی بھینس کو شیر نے جا لیا۔ باقی سب نے سر جھکا لئے تاکہ شیر سے بچ سکیں۔ اسی دوران جس بھینس پر شیر نے حملہ کیا تھا، درد کی شدت سے چلا رہی تھی اور شیر بھی برابر دھاڑے اور غرائے جا رہا تھا۔

اس جگہ سے میں شیر کو واضح طور پر دیکھ سکتا تھا لیکن گولی چلاتا تو یا تو زخمی بھینس یا ریوڑ کی دیگر بھینسوں میں سے کسی کے مرنے کا اندیشہ تھا۔

دیگر بھینسیں فوراً ہی پہنچ گئیں اور پھر اٹھتے گرتے سینگ اور ہل چل دکھائی دی۔ اپنی نازک پوزیشن کو محسوس کرتے ہوئے شیر بھاگا اور پچیس گز دور ایک جھاڑی میں گھس گیا۔ میں اسے صاف دیکھ سکتا تھا کہ وہ جست لگانے کی حالت میں تھا۔ بائیں شانے کے پیچھے لگنے والی گولی سے وہ وہیں کا وہیں رہ گیا۔

بعد ازاں معائینہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ رات والی پہلی گولی شیر کے گال پر اس کی آنکھ سے دو انچ نیچے اور دائیں طرف لگی اور اس کی گال کی ہڈی کو توڑ گئی۔ دوسری گولی اس کے پیٹ کو کاٹتی ہوئی گذری اور نکلتے ہوئے اس نے بڑا سوراخ کیا جہاں سے شیر کی انتڑیاں لٹک رہی تھیں۔ تیسری اور آخری گولی اس کے دل میں ترازو ہو گئی تھی۔ مہینوں قبل کار شکاریوں کی گولی سے زخمی ہونے والا جبڑہ بہت بری طرح مندمل ہوا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ شیر مناسب طریقے سے چبا نہیں سکتا تھا اور اس وجہ سے آدم خور بنا۔

جس بھینس پر شیر نے حملہ کیا تھا،پنجوں کے زخم سے بری طرح زخمی تھی۔ مالک کو معاوضے کی ادائیگی نے خاموش کرا دیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بھینس زخموں سے صحت یاب ہو گئی ہوگی کیونکہ دیگر مویشیوں کی بہ نسبت یہ بھینسیں زیادہ گہرے زخم بھی برداشت کر لیتی ہیں۔

اس طرح یمائی ڈوڈی کے آدم خور کا خاتمہ ہوا۔ اس کے آدم خور بننے کا بنیادی سبب کار شکاریوں کی طرف سے لاپرواہی اور ظالمانہ انداز میں چلائی گئی گولی تھی۔ اس طرح ان کی گردن پر انتیس انسانوں کا خون تھا۔

٭٭٭

اصلی شہد

Standard

اصلی شہد
فرید صاحب امریکہ کے دورے سے واپس لوٹے تو ان کے جسم میں جگہ جگہ گرمی دانے نکل آئے پھر پھنسیاں نکلیں اور بعد میں ایک پھوڑا بھی نکل آیا۔ محلہ میں ایک پرانے حکیم صاحب رہا کرتے تھے۔ جب ان کو دکھایا تو انھوں کہا کہ بیرونی ملک میں الٹی سیدھی غذا کھانے سے فساد خون کی بیماری پیدا ہو گیپ ہے۔ ایک ماہ دوا کھائیں اس کے بعد اصلی شہد روزانہ صبح کو ایک چمچہ پی لیا کریں ان شاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ فرید صاحب نے دوا لی اور ایک ماہ نہایت اہتمام سے استعمال کی۔ الحمد للہ ٹھیک ہو گئے لیکن کمزوری باقی رہی تب ان کو شہد کی ضرورت پیش آئی اپنے بیٹے انس کو انھوں نے شہد لانے کے لئے بازار بھیجا اور وہ دو سو روپیہ میں فرانس کی بنی ہوئی عمدہ شہد کی شیشی لے آئے جب انس میاں حکیم صاحب کو شہد دکھانے گئے تو انھوں نے پوچھا یہ شہد کہاں سے لیا انس نے بتایا کہ وہ بڑے بازار میں وہاں گئے جہاں بہت سی اعلیٰ قسم کی شہد کی دوکانیں تھیں بڑے بڑے شو کیس میں شہد کی شاندار بوتلیں رکھی تھیں دوکانیں برقی روشنی سے چمک رہی تھیں۔
کافی لوگ ان دوکانوں سے شہد خرید رہے تھے جن پر بڑے بڑے بورڈ ’’شفائے کامل‘‘ اور ’’علاج عاجل‘‘ کے لگے ہوئے تھے۔ حکیم صاحب یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا کہ یہ شہد اسی دوکان پر واپس کر آؤ۔ در اصل آج کل اصلی شہد کی پہچان بہت مشکل ہے۔ لوگ بڑے بڑے بورڈ اور چمکتی ہوئی دوکانوں کے دھوکے میں آ جاتے ہیں جو شہد مغرب سے آتا ہے اس میں معجون شباب آور قسم کی دوا ملی ہوتی ہے۔ جس کے استعمال سے انسان کی جنسی ہوس بڑھ جاتی ہے اور وہ اس کو اچھا سمجھتا ہے۔ لیکن چند ہفتہ بعد اس میں دوگنی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ جو شہد مشرق سے آتا ہے اس میں نشہ آور دوا ملی ہوتی ہے۔ جس سے انسان پر نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ فائدہ ہو رہا ہے۔ لیکن کمزوری اپنی جگہ باقی رہتی ہے۔
حکیم صاحب نے انس سے کہا اسی بازار کے آخر میں ایک پرانی دوکان ہے جس پر اسلم نا م کا شخص بیٹھا ہے میں اس کے دادا سے شہد لیا کرتا تھا۔ تم وہاں جاؤ۔ انس نے چمک کر کہا میں نے وہ ٹوٹی پھوٹی دوکان دیکھی ہے اس پر لکھا ہے اصلی شہد جو فساد خون کو دور کرتا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا جو آدمی دوکان پر بیٹھا ہے خود وہ فساد خون کا مریض ہے۔ اور اس کے بدن پر پھنسیاں نکلی ہوئی ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ جب تمہارا شہد خون صاف کرتا ہے تو تم خود کیوں استعمال نہیں کرتے۔ اس پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حکیم صاحب نے کہا اس بدحالی اور بیماری سے اصلی شہد کے خواص پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جو بھی اسے صحیح طور پر استعمال کرے گا فائدہ اٹھائے گا۔ تم اس کی بد حالی کو مت دیکھو اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔ تم وہی اصلی شہد لے کر آؤ جس کے مقابلے کا پورے بازار میں کوئی دوسرا شہد نہیں ہے۔ تم کو اپنے علاج سے غرض ہے۔اپنی صحت کی فکر کرو۔
میں نے جب یہ قصہ مولانا رشیدالدین صاحب کو سنایا تو انھوں نے چمک کر کہا یہ تو ہمارے دین اسلام کی کہانی ہے لوگ اصلی شہد چھوڑ کر ملاوٹی شہد خریدتے ہیں اور دوکانوں کی چمک دمک پر چلے جاتے ہیں لیکن اصلی طالب پرانی دوکان پر ہی جاتے ہیں چاہے بیچنے والا خود استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بیمار دکھائی دے۔ اس کی بدحالی اس کی بے عملی کا نتیجہ ہے اصلی شہد میں آج بھی شفا موجود ہے۔
٭٭٭
موت کا تختہ
ایک بار شہر میں سالانہ کھیلوں کا مقابلہ ہو رہا تھا دور دور سے کھلاڑی اس مقابلے میں شرکت کے لئے آئے۔ جب پانچ کلو میٹر کی دوڑ کا دن آیا تو کئی درجن لوگوں نے اس میں شرکت کی ، دوڑ قریب کے ایک گاؤں سے شروع ہو کر اسٹیڈیم پر ختم ہونی تھی راستہ میں ایک لکڑی کا پل بھی پڑتا تھا۔ سب تیاری کے بعد صبح سات بجے ریس شروع ہوئی ، بائیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان آگے نکل رہا تھا پل تک پہونچتے پہونچتے اس نے سارے دوسرے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا اب پل پر وہ سب سے آگے جا رہا تھا اس کی نظر اسٹیڈیم کے جھنڈے پر تھی جو بس ایک کلو میٹر باقی رہ گیا تھا۔
لیکن یہ کیا اچانک پل کا ایک تختہ ٹوٹا اور وہ خوبصورت نوجوان نیچے گرتے ہی دریا کی موجوں میں غرق ہو گیا ،لوگ دریا کی طرف دوڑ پڑے سارا کھیل خراب ہو گیا ، غوطہ خوروں نے ایک گھنٹہ بعد اس کی لاش کنارے پر لا کر رکھ دی۔ لوگ رو رہے تھے سینہ پیٹ رہے تھے۔ ایک بوڑھے آ دمی نے کہا ا س کا وقت آگیا تھا اس کو کوئی آگے پچھے نہیں کر سکتا۔ لوگوں کو اس واقعہ پر عجیب حیرت ہوئی۔
دراصل یہ دنیا ایک ریس کورس ہے اس میں جگہ جگہ پل ہیں جن میں بہت سے لکڑی کے تختے لگے ہوئے ہیں ہر شخص پیدا ہوتے ہی اس میدان میں دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ دور سے اس کو امیدوں کے جھنڈے نظر آنے لگتے ہیں وہ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہو جاتا ہے۔ سانس پھول جاتا ہے لیکن دوڑتا رہتا ہے۔
ایک بار شہر میں سالانہ کھیلوں کا مقابلہ ہو رہا تھا دور دور سے کھلاڑی اس مقابلے میں شرکت کے لئے آئے۔ جب پانچ کلو میٹر کی دوڑ کا دن آیا تو کئی درجن لوگوں نے اس میں شرکت کی ، دوڑ قریب کے ایک گاؤں سے شروع ہوکر اسٹیڈیم پر ختم ہونی تھی راستہ میں ایک لکڑی کا پل بھی پڑتا تھا۔ سب تیاری کے بعد صبح سات بجے ریس شروع ہوئی ، بائیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان آگے نکل رہا تھا پل تک پہونچتے پہونچتے اس نے سارے دوسرے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا اب پل پر وہ سب سے آگے جا رہا تھا اس کی نظر اسٹیڈیم کے جھنڈے پر تھی جو بس ایک کلو میٹر باقی رہ گیا تھا۔
لیکن یہ کیا ۔۔۔۔اچانک پل کا ایک تختہ ٹوٹا اور وہ خوبصورت نوجوان نیچے گرتے ہی دریا کی موجوں میں غرق ہو گیا ،لوگ دریا کی طرف دوڑ پڑے سارا کھیل خراب ہو گیا ، غوطہ خوروں نے ایک گھنٹہ بعد اس کی لاش کنارے پر لا کر رکھ دی۔ لوگ رو رہے تھے سینہ پیٹ رہے تھے۔ ایک بوڑھے آ دمی نے کہا ا س کا وقت آگیا تھا اس کو کوئی آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔ لوگوں کو اس واقعہ پر عجیب حیرت ہوئی۔
دراصل یہ دنیا ایک ریس کورس ہے اس مںم جگہ جگہ پل ہیں جن میں بہت سے لکڑی کے تختے لگے ہوئے ہیں ہر شخص پیدا ہوتے ہی اس میدان میں دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ دور سے اس کو امیدوں کے جھنڈے نظر آنے لگتے ہیں وہ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہو جاتا ہے۔ سانس پھول جاتا ہے لیکن دوڑتا رہتا ہے۔ دوڑتے دوڑتے کسی پل کا کوئی تختہ ٹوٹ جاتا ہے اور اچانک وہ اپنی قبر کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ لوگ روتے ہیں سینہ کوبی کرتے ہیں لیکن یہ حادثہ اچانک عمل میں نہیں آتا ہر شخص کی قبر پیدائش کے وقت ہی تیار کر کے چھپا دی جاتی ہے در اصل ہمارا پورا ریس کورس قبروں پر ہی بنا ہوا ہے۔ لوگ دوڑتے رہتے ہیں دوڑتے رہتے ہیں اور اپنی قبر تک پہونچ جاتے ہیں اچانک پل کا تختہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تمناؤں کے جھنڈے دور چمکتے ہوئے رہ جاتے ہیں اور لوگ دوسری دنیا میں پہونچ جاتے ہیں۔
قابلِ مبارکباد ہیں وہ لوگ جو حقیقت کو سمجھتے ہیں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اپنے وقت کو قیمتی بناتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا اگر تم صبح کر لو تو شام کی توقع مت کرو اور شام کر لو تو صبح کا اعتماد نہ کرو نہ جانے کون سا قدم قبر کے تختہ پر پڑ جائے۔
٭٭٭

وقت ختم
یہ میڈیکل کالج میں داخلہ کا امتحان تھا بڑے ہال میں دور تک امیدواروں کی قطاریں پرچہ حل کرنے میں مصروف تھیں۔ عامر بھی بڑے انہماک سے سوالوں کا جواب لکھ رہا تھا کہ اچانک ہال میں ایگزامنر کی آواز گونج اٹھی’ Time over‘ (ٹائم ختم ہو گیا ) Pen Down قلم گرا دو چند سیکنڈ کے بعد دوسری آواز آئی ’کاپی چھین لو‘ وہ ہکا بکا رہ گیا ابھی اس کے دو سوال باقی تھے جن سے وہ مقابلہ میں کامیاب ہو سکتا تھا۔ ذرا سی دیر میں ایگزامنر اس کے سر پر آگیا اور زور سے کہا Pen down۔
اس نے نہایت لجاجت کے انداز میں کہا پانچ منٹ اور دے دیجئے بس پانچ منٹ۔ ایگزامنر نے سنی ان سنی کر دی اور کاپی اس کے ہاتھ سے چھین لی۔ عامر کی آنکھ سے دو آنسو ٹپکے اور اس نے کہا آہ میں ہار گیا۔
سنتے ہیں ایک بادشاہ نے قبر کا حال معلوم کرنے کے لئے اعلان کیا کہ جو شخص رات قبر میں گذار کر یہ بتائے کہ کیا حال ہوا اس کو ایک لاکھ روپیہ انعام ملے گا۔ ایک بخیل نے سوچا یہ تو لکھ پتی بن جانے کا سنہرا موقع ہے ایک رات میں کیا ہوتا ہے دیکھا جائے گا۔ بس وہ تایر ہو گیا اور لوگ جلوس کی شکل میں اس کو بادشاہ کے پاس لے جانے لگے۔ راستے میں ایک فقیر ملا اس نے بخیل کے آگے ہاتھ پھیلا دیا۔ بخیل نے کہا تجھے معلوم نہیں میں نے آج تک کسی کو بھیک نہیں دی۔ فقیر نے کہا کچھ بھی دیدے صدقہ تیرے کام آئیگا۔ بخیل نے اِدھر اُدھر دیکھا زمین پر ایک بادام کا چھلکا پڑا تھا اس نے وہی اٹھا کر فقیر کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر میں جلوس بادشاہ کے پاس پہونچا اور بادشاہ نے دوسرے دن خود قبرستان جا کر بخیل کو دفن کرا دیا۔
بخیل نے قبر میں لیٹ کر اپنے ماحول کا جائزہ لیا اور ایک لاکھ روپیہ پانے کی خوشی میں جلدی ہی سو گیا تھوڑی دیر میں پھوں پھوں کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک نہایت خوفناک کالا ناگ اس کے سامنے کھڑا ہے۔ وہ خوف سے کانپنے لگا۔ اس نے زور زور سے چیخنا شروع کیا لیکن افسوس اس کی آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا۔ کالے ناگ کی لال لال آنکھیں اس پر گڑی ہوئی تھیں وہ زور سے چیخا ارے ہے کوئی جو مجھے اس ناگ سے بچائے۔ اتنے میں ناگ نے آگے بڑھ کر زور سے اس سینے پر پھن مارا .. اس نے خوف سے کانپتے ہوئے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں لیکن یہ کیا۔ وہ اس کو کاٹ نہیں سکا اس نے آنکھیں کھول دیں دیکھا کہ ایک بادام کا چھلکا ناگ کے پھن کو روک رہا ہے ناگ پیچھے ہٹا اور گھوم کر داہنی طرف ڈسنے کے لئے آیا اچانک وہ بادام کا چھلکا کود کر داہنی طرف آگیا اور سانپ کے پھن کو روک دیا۔ رات بھر یہی سلسلہ جاری رہا ناگ کود کود کر ہر طرف ڈسنے کے لئے آتا اور بادام کا چھلکا اس کو روک دیتا تھا۔ صبح ہوتے ہوتے بخیل کا سارا جسم گھل گیا وہ صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ، چہرہ زرد ہو گیا ، حلق خشک ہو کر آواز بند ہو گیر۔
دوسرے دن لوگوں نے قبر کھولی بڑی مشکل سے کھینچ کر اس کو باہر نکالا وہ ایک زندہ لاش تھا وہ کسی سے نہیں بولا اشارہ سے گھر جانے کو کہا وہاں جا کر اپنی ساری دولت اور مال و متاع جو برسوں میں جمع کیا تھا سب ایک دن میں اللہ کی راہ میں لٹا دیا۔
یہ واقعہ جب ایک دولتمند تاجر نے سنا جو عرصہ سے بیمار چلے آرہے تھے تو انھوں اپنی چیک بک نکال کر ایک یتیم خانہ کے نام ایک لاکھ روپیہ کا چیک لکھ دیا۔ لیکن ابھی وہ دستخط کر ہی رہے تھے کہ آواز آئی ’’ٹائم اوور ‘‘ ان کا ہاتھ کانپنے لگا اور پیچھے گر کر ان کا انتقال ہو گیا۔ بنک نے آدھے دستخط کا چیک قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
سنتے ہیں چین اور جاپان میں جب کوئی بڑا کام دو سال بعد بھی کرنا ہو تو ایک بڑا الیکٹرانک Count Down کلاک دو سال کے منٹ کا لگا دیتے ہیں ہر ایک منٹ کے بعد وہ ایک منٹ کم کر دیتا ہے۔ سب کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اب اس کام کے کرنے میں مثلاً 1,051,000 منٹ رہ گئے ہیں۔ ہر لمحہ ایک ایک منٹ کم ہو کر اخیر میں دو سال بعد وہ کلاک زیرو پر آ جاتا ہے اور وہ کام پورا ہو جاتا ہے۔
در اصل ہر انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کی عمر کا کلاک بھی کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔اور اس کی عمر کی مدت اس پر نصب کر دی جاتی ہے۔ ہر لمحہ ا س میں ایک ایک منٹ کم ہوتا رہتا ہے۔ اور وقت پورا ہونے پر وہ شخص اپنا سفر پورا کر لیتا ہے۔ قدرت کی گھڑی سانسوں کی مقدار پر چلتی ہے۔ جس طرح گھڑی کا پنڈولم دائیں بائیں طرف جاتا ہے اسی طرح سانس انسان کے سینے کے اندر باہر آتا جاتا رہتا ہے۔ جس وقت یہ سانس پورے ہو جاتے ہیں گھڑی بند ہو جاتی ہے۔ ہر شخص اپنے وقت کو پورا کرتا ہے۔ کوئی چار سال میں چلا جاتا ہے کوئی چوبیس میں اور کوئی چوراسی میں۔ لیکن جس وقت سانس پورے ہو جاتے ہیں اس میں کوئی ایک سانس کا بھی اضافہ نہیں کر سکتا۔ ٹائم اوور کا بورڈ اس کے سامنے لٹکا دیا جاتا ہے۔
ہمارے خالق کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہماری عمر کو ہم سے چھپا رکھا ہے۔ اس میں یہ راز پوشیدہ ہے کہ ہم کو ہر وقت واپس جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہ اگر وہاں آج ہی چلے گئے تو کیا حساب دیں گے۔ دوسرے یہ کہ اگر انسان کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ دو سال بعد مر جائے گا تو وہ دو سال پہلے ہی مر جائے گا یعنی مرنے کے غم میں بستر مرگ پر پڑ جائے گا۔ اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ اگر صبح کر لو تو شام کا انتظار مت کرو اور اگر شام کر لو تو صبح پر اعتماد مت کرو۔
ایک مسلمان رات کو سوتے وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے کہ اے میرے رب میں نے اپنی کمر زمین پر( مثل قبر ) رکھ دی اگر تو نے اسی رات میں مجھے بلا لیا تو میرے گناہوں کو بخش دے اور اگر میں صبح کو زندہ اٹھا اور تو نے ایک دن کی زندگی اور عطا فرما دی تو اس کی حفاظت فرما اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بھلا اس سے بھی عمدہ کوئی دعا ہو سکتی ہے اور یہ ایک نیک مسلمان کی روز کی دعا ہے۔ ہم کو بھی۔ ٹائم اوور کی آواز آنے سے پہلے اچھے نمبر کما لینے چاہئیں تاکہ امتحان میں پاس ہو جائیں۔
٭٭٭

ایر کارگو
سعید اور فرید ایک دونوں ایک ہی ضلع کے رہنے والے تھے دونوں کو ایک ساتھ امارات میں آنے کا موقع ملا۔ اور دونوں نے الگ الگ اپنی بزنس جمالی۔ اپنے ملک سے سستا مال منگا منگا کر اچھے داموں میں فروخت کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دس سال کی مختصر سی مدت میں دونوں لکھ پتی بن گئے۔ فرید نے شارجہ میں عمدہ فیلا بنا لیا امریکن کار خرید لی اور اعلیٰ قسم کے فرنیچر سے اپنے گھر آراستہ کر لیا۔ وہ نہایت ٹھاٹ کی زندگی بسر کر رہا تھا کہ پچھلے مہینے اچانک وہاں کی حکومت نے دونوں کا خروج نہائی لگا دیا۔فرید کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن اس عیش و عشرت کی زندگی کو اچانک چھوڑ کر جانا پڑے گا۔ اس نے یہاں رہ کر جتنی دولت کمائی تھی وہ سب یہیں پر خرچ کر ڈالی تھی۔ اس اچانک تبدیلی پر اس نے اپنا فیلا فروخت کرنا چاہا لیکن کوئی آدھی قیمت دینے پر بھی تیار نہ ہوا۔ اسے بہت صدمہ ہوا یہی حال اس کی دونوں امریکن کاروں کا ہوا۔ تب اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا سارا سامان اپنے ساتھ اپنے ملک لے جائے۔ اس نے ایک سامان پیک کرنے والی کمپنی کو بلا کر چار کنٹینر سامان سے بھروا دئے۔ جس میں بیڈ روم سیٹ ، ڈرائنگ سیٹ ، چار عمدہ صوفے ، اے سی ، ڈش ، بڑا ٹی وی وی سی آر ، عمدہ قسم کے پردے ، دفتر کی مز کرسیاں اور دونوں کاریں شامل تھیں۔ اسی درمیان اس کو خیال آیا کہ جس گاؤں میں وہ رہتا تھا اس میں بجلی نہیں ہے۔ اس لئے اس نے بقیہ رقم سے اپنے ٹی وی کے لئے ایک بڑا سا جنریٹر بھی خرید ڈالا۔ یہ سب کرنے کے بعد جب اس نے کارگو کمپنی کو بلا کر اپنے گاؤں تک سامان پہونچانے کے لئے کہا تو اس نے چالیس ہزار یال کا تخمینہ دیا۔ یہ سن کر فرید کے ہوش اڑ گئے۔ اس کے پاس نقد رقم بہت کم تھی کوئی دوسرا شخص جاتے ہوئے مسافر کو ادھار دینے پر بھی تیار نہیں تھا۔ فرید سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ حکومت کی طرف سے اس کے پاس صرف تین دن رہ گئے تھے جس میں اس کو ملک چھوڑ دینا تھا۔ جب سامان لے جانے کا کوئی انتظام نہ ہو سکا تو اس نے سارا سامان اپنے ایک دوست کے پاس چھوڑ دیا اور روتا ہوا ایر پورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ہر شخص یہی کہہ رہا تھا کہ اس قدر بے کار چیزوں کے جمع کرنے میں کیا عقلمندی تھی دراصل اسے بھی اپنی کم عقلی پر غصہ آ رہا تھا لیکن اب سوائے افسوس کے اور کیا ہو سکتا تھا۔ ایر پورٹ پر اس کی ملاقات اپنے پرانے دوست سعید سے ہوئی جو اس کے ساتھ ہی آیا تھا اور اس کے ساتھ ہی جا رہا تھا اسے سعید کو دیکھ کر نہایت حیرت ہوئی سعید بہت خوش تھا اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بریف کیس تھا جس میں کچھ ضروری کاغذات رکھے ہوئے تھے۔ ۔ فرید نے سعید سے پوچھا تمہارا سامان کہاں ہے سعید نے جواب دیا کیسا سامان۔ وہ میں نے پہلے ہی سے ایر کارگو کرا دیا۔ میرے ہاتھ میں سوائے اس بریف کیس کے اور کچھ نہیں ہے۔ نہایت ہلکا پھلکا سفر ہو گا۔ فرید نے پوچھا تم نے اپنے مکان کا کیا ؟ سعید نے کہا کون سا مکان ؟ میں تو کرایے پر رہتا تھا مجھے معلوم تھا کہ یہاں کا قیام عارضی ہے اور ایک دن مجھے یہاں سے Final Exit پر جانا ہے۔ جس میں واپسی کا امکان بھی نہںں دراصل میرا گھر تو میرا وطن ہے۔ اصلی وطن آخرت کا گھر میں نے وہاں کئی بڑے بڑے باغات لگائے ہیں ایک عمدہ کوٹھی خریدی۔ اس کو عمدہ سامان سے سجایا ہے۔ گو میں نے خود جا کر یہ سب کچھ نہیں دیکھا ہے لیکن میرے والد نے نصیحت کی تھی اور سب تفصیل فون پر بتائی تھی۔ مجھے اپنے والد پر پورا اعتماد ہے۔ فرید نے یہ سب سن کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کاش میں نے بھی اپنے لئے وہاں ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا ہوتا۔ جہاں جا کر مدت دراز تک رہنا ہے۔ فرید نے کہا سعید تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔ میں نے جو کچھ کمایا وہ سب یہیں لگا دیا۔ اور سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ جا رہا ہوں۔ ہائے میں لٹ گیا۔ ہائے میں برباد ہو گیا۔ اب کوئی دوسرا موقع بھی سامنے نہیں۔ امارات کا قیام ختم ہو گیا۔ جوانی کے دن بھی ڈھل گئے۔ یہ سارا سامان جو کل تک مجھے نہایت عزیز تھا آج میری نظر میں ایک کباڑ سے زیادہ نہیں۔ آہ میں نے اپنی ساری صلاحیتیں فضول چیزوں کے کمانے میں صرف کر دیں۔
کاش میں نے بھی اپنے وطن آخرت کے بنکوں میں دولت جمع کی ہوتی۔ کاش میں نے بھی باغات لگائے ہوتے۔ جن کے پھلوں سے میں لطف اندوز ہوتا۔ کاش میں نے تھوڑا تھوڑا سامان ایر کارگو سے اپنے مکان کو سجانے کے لئے بھیج دیا ہوتا۔ اور آج میں بھی سعید کی طرح خوش و خرم مسکراتا ہوا ہلکا پھلکا آخری سفر پر روانہ ہو جا تا۔ سعید نے فرید کو دلاسا دیتے ہوے کہا میرے دوست زیادہ ر نج نہ کر و۔ اب بھی وقت ہے کچھ آخرت کے بنک میں جمع کرالو۔ کچھ اچھے اعمال ایر گارگو کر کے آگے بھیج دو ہمیشہ عیش کرو گے۔
٭٭٭

دولتمند
رات کے دس بجے کا وقت تھا سیٹھ نواز علی سمرو آیل ملوں کے مالک اپنے دفتر میں اکیلے بیٹھے تھے کہ ایک ادھیڑ عمر کا شخص ان کے کمرے میں داخل ہوا اس نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کر کے کہا سیٹھ صاحب مجھے ایک ہزار روپے کی سخت ضرورت ہے آپ دے دیں تو مہربانی ہو گی..سٹھم صاحب نے اپنی موٹی موٹی چشمہ لگی آنکھوں سے نو وارد کو گھور کر دیکھا ان کو اس کے چہرے پر عجیب سی بشاشت نظر آئی ..انہوں نے کھا بیٹھ جاؤ اور جو میں پوچھتا جاؤں بتاتے جاؤ ..نو وارد سنبھل کر بیٹھ گیا ..
سوال … تم نے نمک کھانا کب چھوڑا
جواب ..ابھی دو پہر جو کھچڑی کھائی تھی اس کے بعد کچھ نہیں کھایا۔
س ..شکر کتنے سال سے نہیں چکھی۔
ج .. الحمد لللہ آج صبح چائے میں دو چمچے ڈالی تھی..
س۔ تم نے اپنا گردہ کتنے میں بدلوایا۔
ج۔ بچوں کی اماں نے پچھلے جمعے کو گردے کلیجی پکائے تھے بس وہی کھائے تھے..
س۔ تمہاری آنکھ کا آپریشن کب ہوا
ج۔ میرا تو نہیں میری دادی کی آنکھ کا آپریشن پچھلے سال ہوا تھا اب ٹھیک ہے۔
س۔ تمہارے لڑکے کینیڈا کی کونسی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔
ج۔ میرا لڑکا احمد محلے کی مسجد مںر حفظ کر رہا ہے۔
س۔ تمہاری لڑکی نے کس امریکن سے شادی کی۔
ج ..میری بچی صائمہ کا رشتہ حافظ محمد صدیق سے آیا ہے ..
س۔ تمہاری بیوی پچھلے سال سے سوئزرلینڈ کے کس ہوٹل میں رہتی ہے ..
ج۔ جی ہم دونوں گلی سمرو کے کچے مکان میں رہتے ہیں۔
س۔ تم کو پچھلے سال کتنا نقصان ہوا۔
ج۔ جی پچھلی برسات میں ہماری چھت گر گیہ تھی اب ہم نے ٥٠٠ روپے میں کھپریل ڈلوا لی ہے
اس جواب پر سیٹھ صاحب جھلا گئے کھڑے ہو کر چلا کر کہا یہ دیکھو اس سال مجھے ایک مل سے دو سو ملیون کا نقصان ہوا… اس پر نووارد گھبرا گیا… لیکن دوسرے لمحے ہی سیٹھ صاحب نے دوسری رپورٹ اٹھاتے ہوے کہا.. لیکن دوسرے مل سے تین سو ملیون کا فائدہ ہوا۔
سیٹھ صاحب نے نو وارد سے پوچھا.. تمہارا نام کیا ہے اس نے جواب دیا …ثروت حسین ..
سیٹھ صاحب یہ سن کر چلائے .. واقعی تم صاحب ثروت ہو میں تو فقیر ہوں فقیر۔
۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے دس ہزار کے نوٹ ثروت حسین کی طرف ڈال دئے
ثروت حسین نے ان میں سے ایک ہزار روپے لے لئے اور باقی نو ہزار میز پر رکھتے ہوے کہا.. میں نے آپ سے ایک ہزار روپوں کے لئے کہا تھا اس سے زیادہ نہیں لوں گا… ثروت حسین سلام کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا…
سیٹھ صاحب سنبھل کر بولے… ثروت واقعی دولتمند تم ہو کاش میں اپنی ساری پراپرٹی سے تمہاری دولت خرید سکتا۔
٭٭٭
دوستی کی خاطر
یہ جب کی بات ہے جب شیر خان نے لالہ بنسی دھر سے پانچ سو روپے ادھار لیے تھے اس وقت اس کا دوست جیون بھی اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا لالہ نے یہ روپے چھ ماہ کی مدت پر دئے تھے ..لیکن جب یہ مدّت گزر گیپ۔تو شیر خان نے دو ماہ کی مدّت طلب کی جو لالہ نے دے دی مگر دو کیا جب چار ماہ گزر گئے اور لالہ بنسی دھر روپیہ مانگنے گیا تو شیر کہن نے روپیہ دینے سے انکار کر دیا اور ساتھ میں یہ بھی کہ دیا کہ تم جھوٹ بولتے ہو میں نے تم سے کوئی روپیہ نہیں لیا ..جاؤ رپٹ لکھا دو تھانے میں …
بس اب تو بات ہی الٹ گی شیر خان نے نہ صرف یہ کہ ایک سال گزر جانے پر روپے نہیں دیے بلکہ روپے لینے سے ہی انکار کر دیا۔لالہ بیست دھر کو بڑی حیرت ہوئی اس کو یاد آیا کہ روپیہ دیتے وقت جیون بھی وہاں بیٹھا تھا جیون بڑا سچا پکا اور نمازی آدمی تھا اسی لئے لوگ اس کو ملا جیون کہتے تھے۔ لالہ بنسی دھر نے عدالت میں درخواست لگا دی اور یہ بھی لکھ دیا کہ ملا جیون سے اس کی تصدق کر لی جائے۔
ہوا شیر خان کو جب یہ پتہ چلا تو وہ بہت پریشان ہوا۔ لیکن اس کو یہ اطمینان ہوا کہ معاملہ ملا جیون کے ہاتھ میں ہے اور ملا جیون اس کا پکّہ دوست ہے وہ فورا ملا جیون کے پاس گیا اور سارا معاملہ اس کو سنا دیا اور یہ کہا یہ میری عزت کا سوال ہے میں تم کو اپنی دوستی کا واسطہ دیتا ہوں ..ملا جیون بہت پریشانی میں پھنس گیا کچھ دیر بعد اس نے سوچ کر کہا ..شیر خان اگر کسی آدمی کے دو دوست ہوں ایک نیا دوست .. ایک پرانا.. تو اس کو کس کا ساتھ دینا چاہیے.. شیر خان نے چمک کر کہا.. پرانے کا… میں تو تمہارا پرانا دوست ہوں.. شرا خان مطمن ہو کر چلا گیا۔
چند ہفتہ بعد عدالت میں پیشی ہوئی ..بنسی دھر نے اپنا معاملہ پیش کیا جج صاحب نے بہ حیتد گواہ ملا جیون کو طلب کیا۔ شیر خان بہت خوش تھا اس کی دوستی کام آ رہی تھی ..ملا جیون آیا اور بیان دیا ..لالہ بنسی دھر سچ کہتا ہے اس نے شیر خان کو پانچ سو روپے میرے سامنے دئے تھے ..شیر خان جھوٹ بولتا ہے۔عدالت نے مقدمہ خارج کر دیا اور شیر خان کو دو ہفتہ کے اندر ادائیگی کا حکم دے دیا۔
شیر خان شیر کی طرح بپھرا ہوا ملا جیون کے پاس آیا اور کہا تم دھوکے باز ہو تم نے مجھے دھوکا دیا ملا جیون نے نرمی سے کہا ناراض مت ہو.. میں نے یہ کام تمہارے مشورہ سے کیا ..میرا مشورہ… کیا خاک مشورہ …ملا جیون نے کہا تم کو یاد نہیں میں نے تم سے کہا تھا کہ اگر کسی آدمی کے دو دوست ہوں ایک نیا ایک پرانا .. تو اس کو کس کا کہنا ماننا چاہیے..تم نے جواب دیا پرانے کا ..بس پھر میں نے تمہارے مشورہ پر عمل ..اور پرانے دوست کا کہنا مانا…..کون ہے تمہارا پرانا دوست.. شیر خان …۔ نے چمک کر کہا
میرا پرانا دوست اللہ ہے.. ملا جیون نے کہا ..جس سے میری پچاس سال پرانی دوستی ہے روز میں اس کے پاس وقت گزارتا ہوں اس کی باتیں سنتا ہوں اپنی باتیں سناتا ہوں.. اس نے کہا دیکھو جھوٹ کبھی نہیں بولنا … بس میں نے یہ کام اس کی دوستی کی خاطر کیا… رہا تمہارے قرضہ کا سوال تو کل میں نے اپنا مکان رہن رکھ کر لالہ بنسی دھر کو پانچ سو روپے دے دیے ہیں اب وہ تمہارے پاس قرض مانگنے نہیں آئے گا۔
٭٭٭
پارس پتھر
اس کا نام عمر تھا قسمت کا دھنی تھا جو چیز وہ ہاتھ میں لیتا تھا وہ چمک اٹھتی تھی کہتے ہیں اگر وہ مٹی اٹھاتا تھا وہ اس کے ہاتھ میں آ کر سونا بن جاتی تھی اس کو اپنے باپ سے ورثے میں دس ملیں ریال ملے تھے اس سے اس نے ایک فیکٹری خریدی جو پانچ سال میں ہی دوگنی ہو گی پھر اس کی آمدنی سے اس نے شیر(حصص) خریدے جو دس گنے ہو گئے بس پھر کیا تھا ہر طرف دولت ہی دولت تھی وہ حیران تھا کہ اتنی دولت کا کیا کرے اس نے سویزر لینڈ کے ایک ہوٹل میں بڑا حصّہ خرید لیا چند سال بعد مالکان نے پورا ہوٹل اس کے ہاتھ بیچ دیا جس کو اس نے بڑھا کر دوگنا کر دیا۔
ایک دن وہ بیٹھا ہوا اپنے کاروبار کی سالانہ رپورٹ دیکھ رہا تھا جس کی مالیت اب سو ملیون سے زیادہ تھی ہر ماہ کئی ملیون کا اس میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس قدر دولت کا کیا کرے۔ اچانک ایک بوڑھے سے مولوی صاحب ہاتھ میں تھیلا اٹھائے ہانپتے کانپتے اس کے کمرے میں داخل ہوے اور سلام علیکم کہ کر صوفے پر بیٹھ گئے۔ پہلے انہوں نے پسینہ خشک کیا سانس درست کیا پھر فرمایا۔ ہمارے یتیم خانے میں پچاس بچے رہتے ہیں اس ماہ کے بعد ان کے لئے راشن کا کوئی انتظام نہیں۔ کم از کم دن میں ایک وقت دال روٹی دینے کے لئے ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ آپ سے جو تا ون ہو سکے وہ فرما دیں۔
عمر مبہوت بنا ہوا ان کی بات سنتا رہا۔ پھر پوچھا یہ یتیم خانہ کیا ہوتا ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیا یہ وہ گھر ہے جہاں ایسے معصوم بچے رہتے ہیں جن کے ماں باپ وفات پا چکے ہیں اب ان کی پرورش کی ذمہ داری پوری قوم پر عاید ہوتی ہے۔ عمر نے انجان بن کر پوچھا اگر مزید روپے کا انتظام نہ ہو سکا تو کیا ہو گا ..مولوی صاحب نے آہستہ سے کہا۔ پانی پی کر بچے بھوکے سو جائیں گے۔
عمر کے منہ سے ایک دم چخو نکل گیک ..بچے بھوکے سو جائیں گے اور میری دولت کے انبار یوں ہی بڑھتے رہیں گے وہ رونے لگا اس کی آنکھوں سے بہتے ہوے آنسو اس چیک بک پر گرے جو اس کے ہاتھ میں تھی۔
اس نے نہایت رازدارانہ انداز میں مولوی صاحب سے کہا میں آپ سے کچھ مشورہ کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ بات آپ اپنے تک ہی رکھے گا۔ میرے پاس اچھی خاصی دولت ہے جو میں نے اپنی محنت اور عقلمندی سے کمائی ہے۔ میں اس کے بارے میں آپ کی رائے لیتا ہوں۔ مولوی صاحب نے آہستہ سے پوچھا۔ کتنی دولت ہے عمر نے جواب دیا یہی کوئی دو سو ملین ..مولوی صاحب نے پھر آہستہ سے کہا پہلے تو آپ پانچ ملیون اس پر زکات دیجئے ..عمر نے چونک کر کہا۔ پانچ ملیون ؟ مولوی صاحب نے کہا یہ تو الله کا حق ہے عمر نے کہا اچھا یہ میں ضرور دوں گا ..پھر مولوی صاحب نے پوچھا آپ نے اپنے لئے کوئی گھر بنایا ..عمر نے جواب دیا کوئی ایک گھر… میں نے پوری کالونی بنائی ہے ..
مولوی صاحب نے کہا یہاں نہیں …جنت میں.. عمر نے جواب دیا اس کے بارے میں تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں۔ مولوی صاحب نے کہا الله کے حبیب صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا جس نے دنیا میں مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا ..اسی طرح آپ صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا جس نے کسی یتیم کی کفالت کی وہ اور میں جنت میں ایک ساتھ ہوں گے ..اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے کہ حضور کے ساتھ جنت میں رہنے کا موقع مل جائے .. یہ سب سن کر عمر رونے لگا اس نے کہا مولوی صاحب آپ نے میری آنکھیں کھول دین۔ دولت نے مجھے اندھا کر دیا تھا
آپ کے یتیم خانے کی میں کفالت لیتا ہوں کل معائنہ کرنے آؤں گا اور ایک مسجد کا نقشہ بھی بنوا لینا ..مولوی صاحب نے کہا تم تو پارس ہو …عمر نے جواب دیا میں نہیں … پارس تو آپ ہیں… جن کے ایک ہی مس نے پتھر کو سونا بنا دیا۔
٭٭٭

حور کا بچہ
ایک ٹیلیفون : خالہ جا ن سنا ہے آپ نے اپنے بیٹے کے لئے کوئی لڑکی دیکھی ہے
جواب: ہاں بیٹی.. الله تمہارا بھلا کرے ایک لڑکی دیکھی ہے.. بڑی پیاری لڑکی ہے..تیکھے نقوش ..گول چہرہ چاند جیسا ..بڑی بڑی آنکھیں ..جیسے گلاب کے کٹورے ..اونچی پیشانی ..لمبی گردن مور جیسی ..خاندان اونچا ..زبان اس قدر شیریں کہ بات کرتی ہے تو منہ سے پھول جھڑتے ہیں ..بیٹی لڑکی کیا ہے حور کا بچہ ہے..میں تو جلد ا ز جلد اس کو بیاہ کر لاؤں گی.. کہیں یہ موتی ہاتھ سے نہ نکل جائے …۔
ایک ماہ بعد دوسرا فون : خالہ جان مبارک ہو ماشاء اللہ آپ کے گھر میں چاند اتر آیا.. اب تو ہر طرف نور ہی نور ہو گا ..
جواب :ہاں بیٹی شادی تو خیر سے ہو گئی ..دلہن بھی گھر آ گی .. اچھی ہے لیکن …۔ اچھا خیر میں بعد میں بات کروں گی اس وقت ذرا مصروف ہوں..
ایک ماہ بعد تیسرا فون :ہاں خالہ جان آپ تو ملتی ہی نہیں ہیں … کیا ہر وقت دلہن سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔
جواب : کون دلہن…۔کیسی دلہن .. وہ تو میری سا س ہے ..دن بھر پلنگ توڑتی رہتی ہے ..میرے اوپر حکم چلاتی ہے.. جس دن سے گھر میں قدم رکھا ہے میرا بیٹا میرے ہاتھ سے چھن گیا ..الله ایسے منحوس قدم کسی کونہ بنائے.. بات کرتی ہے تو منہ سے آگ اگلتی ہے ..رنگت چٹی ضرور ہے لیکن چہرے پر ذرا کشش نہیں ..دن بھر چہرے کی لیپا پوتی کرتی رہتی ہے پھر بھی وہی چڑیل کی چڑیل …تم مجھ سے کبھی اس کے بارے میں بات نہ کرنا ..میں اس کا نام بھی نہیں سننا چاہتی.. کل موہی کہیں کی ..خدا ایسی بہو کسی کو نہ دے…۔ ..ٹیلیفون بند ….
خالہ جان …خالہ جان…..فون بند کرنے سے پہلے…۔ بس میری ایک بات سن لیجئے …۔اگر آپ کی بیٹی سارہ جس کی شادی ابھی چھ ماہ پہلے ہوئی ہے …اس کے با رے میں کوئی ایسا ہی کہے تو آپ کو کیسا لگے گا…
جواب : الله میری توبہ ..ایسا تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں
٭٭٭

ایمر جینسی لائٹ
یہ پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ میں رات کے آٹھ بجے اپنے دفتر کی آٹھویں منزل پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی سارا علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا عجیب بھیانک منظر تھا دور دور تک کہیں روشنی کا نام نہیں تھا کمرے کا ایر کنڈیشن بھی بند ہو گیا ذرا سی دیر میں سارا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔ شیشے کی عمارت میں بڑھتی ہی گرمی سے سا نس پھولنا شروع ہو گیا میں جلدی سے باہر نکلنے کے لئے اٹھا لیکن اٹھتے ہی دروازے سے ٹکرا گیا مجھے ابھی تک یہ علم بھی نہیں تھا کہ کرسی سے دروازے تک کتنے قدم کا فاصلہ ہے۔ خیر کسی طرح لفٹ تک پہونچا لیکن آہ … وہ لفٹ بھی بند پڑی تھی اور اس میں سے ان لوگوں کے چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں جو لفٹ میں پھنس گے تھے .. کئی جگہ ٹھوکریں کھا کر زینے تک پہونچا اور دیوار کے سہارے ٹٹول ٹٹول کر نیچے اترنا شروع کیا .. کئی جگہ ٹھوکر کھائی کئی مرتبہ گر پڑا ..آٹھ منزل کی سیڑھیاں ایک مصیبت بن گئیں…
خدا خدا کر کے کسی طرح اپنی کار تک پہنچا اور اس کا دروازہ کھولتے ہی شہر میں بجلی واپس آ گئی سارا شہر پھر اسی طرح جگمگانے لگا میں نے اپنا جائزہ لیا کئی جگہ چوٹ لگی ماتھے سے خون نکل رہا تھا کپڑے پسینے میں شرابور تھے اور میں ایک پرانے مریض کی طرح بس اپنے بستر پر گر جا نا چاہتا تھا ۔
بجلی گئی اور ایک گھنٹے میں آ گئی لیکن یہ ایک گھنٹہ میری زندگی میں ایک انقلاب برپا کر گیا کہ ہم کتنے مصنوعی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں..دوسرے دن میں نے محسوس کیا کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہمارے دفتر میں ایک امرجینسی لایٹ کا ہونا ضروری ہے تا کہ نہ میز سے ٹھوکر لگے نہ دروازے سے سر ٹکرائے ..میں نے ایک کمپنی کو ٹیلیفون کیا اور وہاں سے ایک سیلزمین کیٹلاگ لے کر آ گیا اس نے اپنی فنکاری د کھائی اور کہنا شروع کیا.. ہماری کمپنی کی لایٹ بہت پائیدار ہے پانچ سال کی گارنٹی ہے اس کو آپ ایک بار دیوار پر لٹکا کر بجلی کا کنکشن لگا دیجئے اور بس ..جس وقت بھی بجلی بجھے گی یہ جل اٹھے گی.. آپ کو بجلی جانے کا احسا س بھی نہیں ہو گا۔ اس کی بیٹریاں اصلی جاپانی ہیں.. چین کی بنی ہوئی نہیں ہیں.. بس سال میں ایک بار اس کی سروس کرا لیا کیجئے۔کبھی آپ کو اندھیرے سے سابقہ نہیں پڑے گا۔
میں نے سیلزمین کا بیان بہت غور سے سنا اچانک مجھے خیال آیا.. یہ تو ایک گھنٹے کا اندھیرا تھا .. اور قبر کا اندھیرا …میں نے سنبھل کر سیلزمین سے پوچھا بجلی جاتے ہی آپ کی لایٹ خود بخود روشن ہو جاتی ہے اس نے جواب دیا.. یہ آٹومیٹک ہے میں نے پوچھا اس کی بیٹری کب بدلوانی پڑتی ہے اس نے جواب دیا.. یہی کوی سال دو سال بعد..
میں نے جلدی سے یہ کہ کر اس کو رخصت کیا کہ جلد ایک امر جینسی لایٹ بھیج دو اور میں فورا آٹھ کر مسلم یتیم خانے کے دفتر گیا اور تین ہزار روپے جمع کراتے ہوے آہستہ سے کہا ..یہ میری امر جینسی لایٹ کے ہیں ..ہر سال بیٹری کے الگ سے دوں گا..ناظم صاحب میری بات نہ سمجھ سکے انہوں نے فرما یا میں نے یہ رقم کفالت یتیم کی مد میں جمع کر لی ہے الله آپ کا دل منوّر کرے ..میں نے آہستہ سے کہا… اور قبر بھی۔۔۔
٭٭٭
ریشم کی ڈوری
چند لوگ ایک کشتی میں سفر کر رہے تھے دریا بہت چوڑا تھا اور اس میں طغیانی آئی ہوئی تھی رات کے وقت اس کی موجیں ڈراؤنی شکل اختیار کر رہی تھیں اچانک۔ ہوائیں تیز ہو گیںل اور دریا کے اندر طوفانی کیفیت پیدا ہو گیص بوڑھے ملاح نے کشتی کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لکنر دیکھتے دیکھتے کشتی پانی میں الٹ گئی۔ اور اس کے چاروں مسافر پانی میں غوطے کھانے لگے کچھ لوگوں کو تیرنا آتا تھا وہ ادھر ادھر ہاتھ پیر مارنے لگے سب سے نازک معاملہ ماجد کا تھا جس کو تیرنا بالکل نہیں آتا تھا دو چار غوطے کھانے میں ہی موت سامنے نظر آنے لگی۔
اتنے میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک موٹر بوٹ تیزی سے دریا کو پار کر رہی ہے کچھ ہی دیر میں وہ موٹر بوٹ اس کے قریب سے گزری اس نے دیکھا موٹر بوٹ سے ایک ریشم کی ڈوری پانی پر لہرا رہی ہے ماجد نے جھپٹ کر اس کو پکڑ لیا اس کو پکڑتے ہی اس کو ایک طرح کا اطمینان حاصل ہو گیا وہ ڈوبنے کے خطرے سے بچ گیا موٹر بوٹ تیزی سے کنارے کی طرف جا رہی تھی ماجد اس کی ڈوری کو مضبوطی سے پکڑے رہا۔
اس نے دیکھا اس کے تیرنے والے ساتھی پانی میں ڈبکیاں لگا رہے ہیں اس نے ان کو آواز دی کہ آگے بڑھ کر اس ڈوری کو پکڑ لو لیکن انہوں نے کہا ہم کو تیرنا آتا ہے ہم اپنی طاقت سے تیر کر پار ہو جائیں گے بلکہ انہوں نے ماجد سے بھی کہا کہ ڈوری چھوڑ دو ہمارے ساتھ آ جاؤ لکنہ ماجد نے ایک نہ سنی اور ڈوری کو مضبوطی سے پکڑے رہا کچھ دیر بعد موٹر بوٹ کنارے پر آ لگی اور ماجد صحیح سلم کنارے پر پہنچ گیا تھوڑی دیر بعد اس کو دو ساتھیوں کی لاش پانی پر بہتی نظر آئی اس نے کہا افسوس اگر انہوں نے بھی ریشم کی ڈوری مضبوطی سے پکڑ لی ہوتی تو اس دریائے شور میں ڈوبنے سے بچ جاتے
گھر پہنچ کر جب یہ واقعہ ماجد نے اپنے والد کو سنایا تو انہوں نے کہا بیٹے تم نے بہت اچھا کیا جو مضبوط رسی پکڑ لی اور دریائے شور کو آسانی سے پار کر لیا بیٹے یہ دنیا بھی دریائے شور ہے بس جو شخص الله کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے وہ سلامتی سے پار ہو جاتا ہے اور جو اپنی مرضی پر چلنے کی کوشش کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔
٭٭٭

نوری
جب میں ایک عزیز کی عیادت کے لئے اسپتال پہونچا تو وہاں انتظار کے کمرے میں ایک صاحب کو دیکھا جو اپنی ایک بی کو لئے ہوے بیٹھے تھے بچی کی عمر کوئی چار سال رہی ہو گی گول چہرہ کھلتا ہوا رنگ گھونگریالے بال بڑی بڑی آنکھیں بڑی پیاری بچی تھی میں نے بچی کا نام پوچھا اسکے والد نے اس کا نام نوری بتایا وہ خود ایک ورکشاپ میں میکنک کا کام کرتے ہیں اور اپنی اہلیہ اور نوری کے ساتھ قریب ہی میں رہتے ہیں دو دن پہلے اچانک ان کی اہلیہ کے جسم میں درد ہوا اور سارا جسم اکڑ گیا وہ مثل ایک لکڑی کے تختے کے ہو گیںب۔ دائیں بائیں کسی طرف گردن بھی نہیں موڑ سکتی تھیں فورا ان کو اسپتال میں داخل کیا گیا ڈاکٹروں نے کئی ٹیسٹ بتائے، کئی ہفتے علاج چلے گا۔
میں ان سے ساری بات سن ہی رہا تھا کہ نوری نے آہستہ سے کہا اماں اور اپنے والد کی طرف دیکھنے لگی میں نے دیکھا اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے میرے اوپر اس منظر کا بڑا اثر ہوا میں اٹھا اور قریب کی دکان سے ایک کھلونا اور چاکلیٹ لے کر آیا میں نے پہلے کھلونا اس کی طرف بڑھایا اس نے نگاہ بھر کر کھلونا دیکھا لیکن ہاتھ بڑھا کر نہیں لیا اس نے پھر آہستہ سے کہا اماں اور اپنے والد کی طرف دیکھنے لگی میں اس کے ضبط پر حیران رہ گیا اب میں نے چاکلیٹ کا پیکٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھایا نوری نے غور سے چاکلیٹ دیکھی پھر اس نے زور سے کہا اماں اور باپ سے چپٹ کر رونے لگی
میرا دل یہ منظر دیکھ کر تڑپ اٹھا اس معصوم سی تتلی کو کتنا لگاؤ تھا اپنی اماں سے نہ کوی کھلونا اسے اچھا لگا نہ چاکلیٹ اسے اپنی طرف کھینچ سکی میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور زبان سے یہ الفاظ نکلے کاش مجھے بھی اپنے رب سے اتنی ہی محبت ہوتی جتنی اس معصوم بچی کو اپنی اماں سے ہے میں بچشم نم وہاں سے اٹھ کر چلا آیا رات کو تہجّد کی نماز میں میں نے دعا کی میرے پروردگار نوری کی ماں کو صحت دے کر نوری سے ملا دے اور مجھ کو نوری جیسی اپنی محبت عطا فرما ۔ امین۔
٭٭٭

پروانے کی موت
برسات کے دن تھے ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا ایک ننھا سا پروانہ جھاڑیوں میں ٹکراتا پھر رہا تھا کہ اچانک دور سے اسے ایک روشنی نظر آئی اور وہ اڑتا ہوا اس کے قریب پہونچا اس نے دیکھا ایک مکان کے اندر ایک خوبصورت سے چاندی کے شمعدان میں ایک شمع جل رہی ہے پاس ہی ایک ننھی سی بچی بیٹھی ہوئی ایک نظم پڑھ رہی ہے۔
لب پہ آتی ہے دوا بن کے تمنّا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدا یا میری
دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر طرف میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ننھا سا پتنگا اس دعا سے بہت متاثر ہوا اور اس نے لمبی سی آمین کہی پروانہ سیدھا شمع کے پاس گیا اور اس سے کہا تھوڑی سی روشنی مجھے دے دو میں بھی اس ظلمت کدے میں نور کی کرنیں پھیلاؤں گا۔
طویل قامت شمع نے پروانے سے پوچھا تم کو معلوم ہے یہ روشنی مجھ کو کہاں سے ملی ہے یہ نور خدواندی ہے جو مجھ کو عطا ہوا ہے۔میں دنیا کو روشنی دینے کے لئے خود کو جلا کر راکھ کر دیتی ہوں میری عمر ایک رات سے زیادہ نہیں لیکن اس ایک رات میں ہی میں وہ خِدمَت انجام دیتی ہوں کہ لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں او ر اپنی ہر مجلس میں مجھے جگہ دیتے ہیں
مُنے سے پتنگے نے کہا میں بھی تمہاری طرح روشنی پھیلاؤں گا اور اندھیرے کی چادر پھر دوں گا۔
شمع نے محبت بھرے انداز میں کہا میرے پیارے پروانے میں تمہارے جذبے کی قدر کرتی ہوں لیکن تم یہ خیال اپنے دل سے نکال دو۔
پروانے نے جواب دیا میں اپنی زندگی کو کامیاب بنانا چاہتا ہوں میں چھوٹا ضرور ہوں لیکن عزم بلند رکھتا ہوں میں اندھیرے کے خلاف جہاد کروں گا روشنی پھیلا کر رہوں گا۔
پروانے نے یہ کہا اور دیوانہ وار شمع کا طواف کرنے لگا۔
شمع حیرت سے اسے دیکھنے لگی اس کا دل دھڑکنے لگا سات چکر پورے کرنے کے بعد وہ اچانک شمع کی لو کی طرف بڑھا اور نہایت بہادری کے ساتھ اس کے اندر داخل ہو گیا۔
ایک دم ایک چھوٹا سا شعلہ اٹھا اور پروانہ جل کر شمع کے قدموں میں گر گیا۔
شمع کی آنکھ سے دو موٹے موٹے آنسو نکلے اور پروانے پر آگرے شمع نے جھک کر پروانے کو دیکھا اس کا سارا جسم جل کر خاک ہو گیا تھا لیکن اس کے ہونٹ حل رہے تھے۔ وہ کہہ رہا تھا میں کامیاب ہو گیا میں نے روشنی پھیلانے کی کوشش میں شہادت حاصل کی۔ شمع تم گواہ رہنا شمع تم گواہ رہنا۔
پروانے کی آواز بند ہو گیہ لیکن اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ باقی تھی۔
شمع کا کلیجہ پھٹ گیا وہ زار و قطار رونے لگی میرے پیارے پروانے میں تم کو کبھی نہیں بھولوں گی
تم نے ایک نیک کام کا قصد کیا اور اپنا عزم پو را کر دکھایا۔
شمع روتی رہی روتی رہی اور آج تک پروانے کی یاد میں آنسو بہاتی ہے اور کہتی ہے……
کر گیا نام وفا پروانہ
اپنی لو میں تو سبھی جلتے ہیں
شمع کی لو میں جلا پروانہ
٭٭٭

میاں فضلو کی نوکری
پہ جب کی بات ہے جب میاں فضلو جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے اور کوی بات بھی نہیں پوچھتا تھا اچانک ایک دن میرے پاس آئے۔ عمدہ سلکن شیروانی لٹھے کا پاجامہ سیاہ بوٹ سر پر سنہری کلاہ کا طرّہ چمک رہا تھا میں نے انجان بن کر پو چھا۔ آپ کا تعارف … فرمانے لگے فضل محمد خان مصاحب نواب جام نگر ۔میں نے پلٹ کر کھا یہ دھونس کسی اور پر جمانا مجھے تو سیدھی بات بتاؤ یہ تم دھوڑی کی جوتی سے کانپوری بوٹ تک کیسے پہنچے …میاں فضلو فورا اپنی اوقات پر اتر آئے اور میرے پاس کھسک کر کان میں کہنے لگے۔ مجھے نواب صاحب کے یاشں حاضری مل گیآ ہے .. اب تو ہم بھی سنبھل کر بیٹھ گئے اور ان سے کارگزاری سننے لگے۔ انہوں نے کہنا شروع کیا .. ہوا یوں کہ ایک صاحب ہم کو نواب صاحب کے دربار لے گیے..آپ کو معلوم ہے یہ ساری ریاست ان کی ہے۔ بڑے رتبے والے ہیں عجیب بات ہے بہت محبت سے ملے اپنے قریب بلایا اور کہا کبھی کسی بات کی فکر مت کرنا کوی بات بھی پریشانی کی ہو فورا مجھے بتا دینا میں تمھاری مدد کروں گا انہوں نے مجھے اپنا فون نمبر بھی دے دیا۔ میں نے بےچینی سے پوچھا۔ آگے کیا ہوا۔ کیا کام دیا تم کو۔کام کچھ بھی نہیں۔ بس یہ کہا صبح شام سلام کے لیے آ جایا کرو کھانا تم کو شاہی دستر خوان سے ملتا رہے گا۔ ہماری ریاست میں جو لوگ ہم سے واقف نہیں ان کو ہمارے بارے میں بتاتے رہنا۔ کوئی برائی کرے اس کو سمجھانا کوئی اچھے کام کرے ہم سے ملاقات کرنا چاہے اس کو ہمارے پاس لے آنا اور ہاں یہ تمھاری شاہی وردی ہے اس کو پہنا کرو لوگ تمھاری عزت کریں گے۔ میاں فضلو یہ بیان کر رہے تھے کہ ان کی نظر ہمارے چہرے پر پر پڑی اور وہ اچھل کر بولے۔ارے آپ رو رہے ہیں یہ آنسو کس بات کے۔ یہ تو خوشی کی بات ہے۔میں نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ میاں فضلو میں اپنی بد نصیبی پر رو رہا ہوں میں بھی ایک نواب کا نوکر ہوں بلکہ وہ تو نوابوں کا نواب ہے یہ ساری ریاست اسی کی ہے بڑی طاقت والا ہے وہ بھی مجھ سے محبّت کرتا ہے اس نے بھی مجھ سے کہا گھبرانا مت جب کوی بات ہو مجھ کو پکار لینا میں فورا تمھاری مدد کروں گا۔ اس نے بھی مجھ سے کہا بس دن میں چند بار سلام کے لئے آ جایا کرو جو لوگ میری ذات کو نہیں جانتے ان کو میرے بارے میں بتایا کرو۔ جو برائی کرے اس کو روکو جو بھلائی کرے اس کی مدد کرو جو مجھ سے ملنا چاہے اسے میرے دربار میں لے او اور سنو اپنے کھانے پینے کی فکر مت کرنا ہمارے شاہی دستر خوان سے روزانہ تمھیں توشہ پہنچتا رہے گا۔ اور ہاں یہ تمھاری وردی ہے اسکو پہنا کرو لوگ تمھاری عزت کریں گے۔
میاں فضلو چونک کر بولے۔ پھر آپ نے کیا کیا؟
میں نے روتے ہوے جواب دیا۔ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ نہ وردی پہنی۔ نہ سلام کو گیا۔ نہ کسی کو اس کے بارے میں بتایا …۔بس روز اسکے یہاں سے توشہ آتا ہے وہ میں کھا لیتا ہوں۔
وہ بولے جو ملازم مالک کا کچھ کام نہیں کرتے مفت کا مال کھاتے ہیں تنخواہیں لیتے ہیں لوگ ان کو نمک حرام کہتے ہیں۔
میں نے کہا۔ فضلو تم سچ کہتے ہو۔
٭٭٭
چاند تارہ
شادی کے دو سال بعد جب اللہ تعالیٰ نے ہلال کو بیٹا دیا تو اس نے اس کا نام چاند رکھا ۔ پھر دو سال بعد ایک بیٹی ہوئی ۔ اس کا نام تارہ تجویز ہوا۔ بس اب کیا تھا سارے گھر مین بہار آ گئی ہر طرف چاند تارہ کا شور تھا ، ہر وقت ان کی پیاری پیاری باتیں تھیں۔
ہلال کے محلے سے کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں انجینئر بن بن کر کر امریکہ جا رہے تھے ۔غریب ماں باپ نے ادھار قرض کر کے ان کو اچھی تعلیم دلائی لیکن وہ سب غیروں کے کام آئی ۔ڈالروں کی چمک نے سب کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا تھا ہلال کے دل میں بھی یہی خیال پیدا ہوا وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلا کر امریکہ بھیجے گا ۔ بس پھر کیا تھا ۔ اس کے سر پر امریکہ کی دھن سوار ہو گئی ۔ اس نے دونوں بچوں کو مشنری اسکول میں داخل کیا انگریزی بولنا سکھائی انگریزی لباس انگریزی کھانا انگریزی اسٹائل سکھایا ۔دونوں اسکول کالج میں جولی اور لَولی کہلانے لگے ۔ بی ایس کی ڈگری مکمل کرتے ہی ہلال نے دونوں کے لئے امریکہ کا پروگرام بنایا لڑکی کو رشتہ مل گیا وہ کینیڈا چلی گئی ۔ چاند نے بھی امریکہ جا کر ایک یہودی بیوہ سے شادی کر لی اور وہیں کی نیشنلٹی لے لی ۔ دونوں گھروں میں ڈالروں کی ریل پیل ہو گئی ۔ مغربی طرز زندگی اس قدر اپنایا کہ مشرقی انداز بالکل بھول گئے ۔ بچوں کے نام بھی گڈو ببلو ہو گئے ۔ یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ہمارے یہاں احمد اور عائشہ نام ہوا کرتے تھے ۔ چاند اور تارہ دونوں اپنی اساس اور بنیاد کو بھلا بیٹھے ۔
ہلال اور اس کی بیوی اختری دونوں اپنے اسی پرانے مکان میں رہتے تھے پڑوس میں محبوب حسین پتنگ باز کا مکان تھا ۔ جس میں ان کے پوتا پوتی اور نواسہ نواسی کے کھیل کود کی بہار رہتی تھی وہ غریب تھے لیکن خوش تھے ۔ ہلال امیر تھا اس کے پاس بچوں کے بھیجے ہوئے ڈالر تھے لیکن وہ خوش نہیں تھا ۔ اس کے گھر میں ہمیشہ ویرانی چھائی رہتی تھی۔ ایک دن عصر کی نماز کے بعد جب وہ قرآن شریف پڑھ رہا تھا تو اچانک اس کی آنکھ اس آیت پر جم گئی ( بل توثرون الحیاۃ الدینا والآخرۃ خیر و ابقیٰ . وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى) بلکہ تم (اﷲ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے) دنیاوی زندگی (کی لذتوں) کو اختیار کرتے ہو. حالانکہ آخرت (کی لذت و راحت) بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے) وہ آخرت کے لفظ پر چونک پڑا ۔ اس نے تو کبھی آخرت کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا ۔ وہ تو بس دنیا کی زندگی بنانے کی دھن میں لگا ہوا تھا ۔ یہی کچھ اس نے اپنے دونوں بچوں کو سکھایا تھا ۔ وہ سوچتا رہا اس کے دل کو گھبراہٹ نے گھیر لیا وہ گھر سے باہر ٹہلنے چلا گیا ۔
باہر بہت سے لوگ پتنگ اڑا رہے تھے شام کے نیلگوں آسماں پر ہرے رنگ کی ایک پتنگ جس پر چاند تا رہ بنا ہوا تھا خوب لہرا رہی تھی کبھی شرق میں اڑتی کبھی غرب کی طرف جاتی ۔ کبھی گہرا غوطہ لگا کر پھر چاند کی طرح بادلوں کے بیچ سے نکل آتی ۔ عجیب بہار دکھا رہی تھی ۔ اچانک آسمان پر ایک دوسری پتنگ ظاہر ہوئی جس پر کالا ناگ بنا ہوا تھا اونچی اڑان لیکر وہ چاند تارہ سے ٹکرائی لیکن چاند تارہ کنی کاٹ کر نکل گئی دونوں میں تھوڑی دیر داؤ پیچ ہوتے رہے ۔ کبھی یہ اوپر کبھی وہ اوپر ۔ اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ چاند تارہ والی پتنگ کٹ گئی جو ابھی آسماں پر دمک رہی تھی ۔ چرخی سے ڈور ٹوٹتے ہی ہوا کے جھونکوں سے ٹکراتی ہوئی نیچے گرنے لگی ۔ ہر طرف ایک شور اٹھا پتنگ لوٹنے والے اپنے بانس اور جھاڑو لے کر گرتی ہوئی پتنگ کی طرف دوڑ پڑے ۔ لوگ کہہ رہے تھے چاند تا رہ مشکل سے ملتی ہے۔ زمین کے قریب آتے ہی پتنگ لوٹنے والوں نے اسے بانسوں پر اٹھا لیا بہت سے لوگ جھپٹ پڑے ۔ چاند تارہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ۔ کانپ کیںر گئی اڈہ کہیں گیا ،چاند کہیں گیا تارہ کہیں ۔ ذرا سی دیر میں ہرے رنگ کی پتنگ کے پراخچے اڑ گئے ۔
ہلال یہ منظر دیکھ کر کانپ اٹھا ۔ پاس میں محبوب حسین کٹی ہوئی پتنگ کی چرخی لئے ہوئے کھڑے تھے ۔ اس نے ڈوبی ہوئی آواز سے پوچھا محبوب یہ کیا ہوا ؟ ۔ محبوب حسین بولے ’’یہ تو ہونا ہی تھا ۔ پتنگ کی طاقت چرخی سے بندھے رہنے میں ہوتی ہے ۔ جب پتنگ بہت اونچی ہو کر اپنی ڈور چرخی سے توڑ لیتی ہے تو ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح زمیں پر آ گرتی ہے اور پھر زمین والے مفت کا مال سمجھ کر اس کو لوٹتے ہیں ۔ اس چھینا جھپٹی میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ چاند کہیں تارہ کہیں کانپ کہیں اڈا کہیں ۔
ہلال نے محبوب حسین کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔ بس محبوب بس ۔ میری بھی چرخی سے ڈور ٹوٹ گئی ہے ۔ اللہ میرے چاند تارہ کی حفاظت فرمائے۔
٭٭٭
ریا کاری کا انعام
جب ایک وزیر صاحب کا انتقال ہوا تو وہ بہت مطمئن تھے کہ ان کی بخشش ضرور ہو جائے گی۔ ابھی پچھلے ہفتہ ہی ایک صحافی نے ( جو ان کا وظیفہ خوار تھا) ان کی ایک فوٹو البم تیار کی تھی جس میں ان کو پچاس سے زیادہ مشروعات کا افتتاح کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔جس میں بہت سے مدرسہ ، بہت سے اسکول اور بہت سے خیراتی ادارے شامل تھے۔ ہر جگہ ان کا نام پتھر پر کھود کر لگایا گیا تھا۔ ہر جگہ ان کی شان میں قصیدے پڑھے گئے اخباروں میں خبریں چھپیں اور خوب واہ واہ ہوئی تھی۔<جب وہ قبر میں اترے تو دیکھا کہ ان کے اعمال ایک بڑی ترازو میں تولے جا رہے ہیں۔ اخباروں اور اشتہاروں کا ڈھیر ہے وہ سب کے سب ترازو کے پلڑے میں بھر دئیے گئے۔ اتنے میں اعلان ہوا کہ جن جن کاموں کے اخبار اور اشتہار چھپے ہیں ان کا معاوضہ دنیا میں ہی دے دیا گیا۔ لوگوں سے خوب واہ واہ کرا دی گئی یہ اعلان سنتے ہی ایک فرشتے نے ایک پھونک ماری اور کاغذوں کا سارا ڈھیر ہوا میں اڑ گیا۔ ان کا پلڑا ہلکا ہو کر آسمان سے جا لگا۔ وزیر صاحب ایک دم رونے لگے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دنیا کی یہ واہ واہ ان کے سارے اعمال کو ضائع کر دے گی اب ان کے پاس چند اسکولوں کا افتتاح رہ گیا تھا اس کے بارے میں اعلان ہوا کہ جن اداروں کے افتتاحی کتبوں پر ان کا نام پتھروں پر کھدا ہوا ہے( یعنی جن کی واہ واہ مرنے کے بعد بھی جاری کی گئی ہے) وہ سارے ادارے ان کے نام سے نکال دئیے جائیں۔ اس اعلان پر تو وزیر صاحب دھاڑیں مار مار کر رونے لگے کیونکہ کوئی مدرسہ کوئی اسکول ایسا نہ تھا جس پر اپنے نام کا پتھر لگوانے کی انہوں نے پہلے سے تصدیق نہ کر لی ہو۔ وہ تمنا کرنے لگے کاش کوئی شخص جا کر ان تمام کتبوں کو توڑ دیتا جس پر ان کا نام کندہ تھا۔لیکن افسوس کوئی ان کی فریاد سننے والا نہ تھا۔اب انہوں نے اپنے اعمال کے پلڑے کو دیکھا وہ بالکل خالی پڑا تھا ان کا سارا بھرم ٹوٹ گیا۔ دنیا میں و ہ بڑے مخیر مانے جاتے تھے انہوں نے بڑے بڑے کام کئے لیکن شہرت کی چاٹ نے انکے سارے اعمال کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔وہ رو روکر عرش الہٰی کی طرف دیکھنے لگے اور رحم کی بھیک مانگنے لگے۔اتنے میں ایک فرشتہ ایک چھوٹی سی ڈبیہ لے کر آیا اور اس کو ان کے اعمال کے پلڑے میں رکھ دیا۔ اچانک وہ پلڑا نیچے کی طرف آگیا وہ حیرت سے اس ڈبیہ کو دیکھنے لگے کھول کر دیکھا تو یاد آیا کہ ایک دن سردیوں کی رات میں جب وہ گھر واپس آرہے تھے تو دیکھا کہ مسجد کی نالی کا پانی راستہ میں بہہ رہا ہے ۔ نالی بند ہے۔انہوں نے چاہا کہ اس کو کھول دیں لیکن کوئی ڈنڈا یا لکڑی نہیں ملی تو انہوں نے اپنا ہاتھ گندی نالی میں ڈال کر کوڑا نکال دیا۔ نالی صاف ہو گئی پانی بہنے لگا ۔ سڑک بھی صاف ہو گئی گھر آ کر انہوں نے اپنا ہاتھ صابن سے دھو لیا اس عمل کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ بس قادر مطلق نے اسی پر ان کی بخشش فرما دی۔
٭٭٭

گدھے کے سینگ

Standard

گدھے کے سینگ
یہ اس زمانے کی کہانی ہے جب یہ دنیا نئی نئی بنی تھی۔ زمین پر آدمیوں نے پھیل کر بستیاں بسا لی تھیں۔ حیوان جنگلوں میں پھرا کرتے تھے۔ آدمیوں نے گائے بھینسوں کو پال کر ان کا دودھ نکالنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے بچھڑوں کو بیل بنا کر کھیتی باڑی کا کام لینے لگے تھے، لیکن گدھے کو کسی نے نہ پکڑا تھا۔ وہ دوسرے جانوروں کے ساتھ جنگل میں پھرا کرتا تھا۔ اس وقت گدھا ایسا نہیں تھا جیسا اب ہے۔ اس وقت اس کے سر پر دو بڑے بڑے سینگ تھے، مگر گدھے کو اپنے سینگوں کی خبر نہیں تھی۔ جنگل میں آئینہ تو تھا نیں جو کوئی اپنا عکس اس میں دیکھ لیتا اور پھر جنگل میں آئینہ کہاں سے آتا، آدمیوں نے ابھی آئینہ نہیں بنایا تھا۔ بہت سی چیزیں ضرورت پڑنے پر آدمی بناتے جا رہے تھے۔ سنا ہے آئینہ سکندر بادشاہ کے عہد میں اس کے حکم سے تیار ہوا تھا۔ خیر، تو گدھا جنگل کے ہرنوں، بارہ سنگھوں کو دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ میں ان سے ڈیل ڈول میں بہت بڑا ہوں، اگر ان کی طرح میرے بھی سینگ ہوتے تو میں سب سے زیادہ رعب دار ہوتا۔ اسی دھن میں ایک دن وہ ندی پر گیا۔ اس روز ندی کا بہاؤ رُکا ہوا تھا اور پانی ٹھہرا ہوا تھا۔
گدھے نے جیسے ہی پیاس مٹانے کے لیے پانی میں منہ ڈالا اسے اپنا عکس پانی میں نظر آیا۔ حیران ہو کر دیکھنے لگا کہ اس کے سر پر تو دو لمبے لمبے سینگ ہیں۔ وہ اپنی اگلی ٹانگیں تو سر پر نہیں پھیر سکتا تھا۔ یہ اندازہ کرنے کے لیے کہ سچ مچ اس کے سینگ ہیں، جلدی جلدی پانی پی کر وہاں سے چل دیا۔ ایک کیلے کا درخت سامنے تھا۔ اس میں سینگ مار کر دیکھا۔ سینگ کی نوک تنے میں گھس گئی۔ اب تو گدھا بہت ہی خوش ہوا اور سینگوں کو ہلاتا ہوا آگے چلا۔ ایک خرگوش اچھلتا کودتا جا رہا تھا۔ گدھے نے اسے ڈانٹ کر روکا۔ خرگوش سہم کر کھڑا ہو گیا۔ گدھے نے کہا:
ایک سینگ اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے خرگوش کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
خرگوش ڈر گیا اور منہ بسورتے ہوئے بولا: “میں نے کیا قصور کیا ہے؟”
گدھے نے اکڑ کر کہا:
“تُو بہت گستاخ ہے۔ میرے سامنے سے چھلانگیں لگاتا ہوا چلا جاتا ہے۔ ٹھہر کر ادب سے مجھے سلام نہیں کرتا۔”
خرگوش نے معافی مانگی اور پچھلی دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو کر اور اگلی ٹانگ ایک ماتھے پر رکھ کر سلام کیا۔ گدھا یہ کہہ کر کہ اب کبھی سلام کیے بغیر میرے سامنے سے نہ جانا، آگے چل دیا۔تھوڑی دور پر ایک گیدڑ ملا۔ گدھے نے اسے بھی روک کر کہا:
ایک سینگ اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے گیدڑ کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
گیدڑ تو بزدل ہوتا ہی ہے۔ اتنے بڑے گدھے کو یہ دھمکی دیتے دیکھ کر کانپنے لگا اور جھجھکتے جھجھکتے بولا:
“گدھے صاحب ! اگر مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہے تو آپ بڑے ہیں، مجھے چھوٹا سمجھ کر معاف کر دیں۔”
گدھے نے اس سے بھی یہی کہا: “تم بے ادب ہو، مجھے سلام نہیں کیا کرتے۔” گیدڑ نے بھی گردن جھکا کر بڑی عاجزی سے سلام کیا۔ یہاں سے بھی گدھا آگے چلا تو لومڑی ملی۔
لومڑی بڑی مکار اور ہوشیار ہوتی ہے۔ وہ گدھے کو اکڑتے اتراتے دیکھ کر سمجھ گئی کہ یہ بے وقوف جانور آج کس وجہ سے اینٹھ رہا ہے۔ جیسے ہی گدھا قریب آیا، بولی: “گدھے صاحب! آداب عرض کرتی ہوں۔ اس وقت کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟”
گدھے نے کہا: “آج جنگل کے گستاخ جانوروں کو ادب اور تمیز سکھانے نکلا ہوں، جو حیوان مجھے سلام نہیں کرتا، اس سے کہتا ہوں:
ایک سینگ اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے لومڑی کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
لومڑی بڑی تجربے کار تھی۔ اسے معلوم تھا کہ انسان، حیوان سے بڑا عقلمند ہوتا ہے۔ اس نے اونٹ اور گھوڑے جیسے بڑے جانوروں کو غلام بنا لیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اس احمق گدھے کو بھی انسان تک پہنچانا چاہیے۔ اس لیے کہنے لگی:
“ایک آدمی کو میں نے جنگل کے کنارے دیکھا تھا۔ چار پاؤں سے چلنے والے جانور تو بے چارے سیدھے سادے ہیں، آپ تو اس جانور کو ٹھیک کیجیے جو دو پاؤں سے سر اٹھا کر چلتا ہے۔ آپ کے مقابلے میں ہے تو دُبلا پتلا، مگر بہت گستاخ اور بڑا سر کش ہے۔”
گدھے نے پوچھا: “کیا اس کے سینگ میرے سینگوں سے بھی بڑے ہیں؟”
لومڑی نے جواب دیا: “بڑے چھوٹے کیسے، اس کے تو سرے سے سینگ ہی نہیں۔ خوامخواہ کا غرور ہے اور ہم سب جنگلی جانوروں سے اپنے آپ کو برتر سمجھتا ہے۔”
گدھے نے پھر سوال کیا: “کیا اس کا منہ میرے منہ سے بڑا ہے؟ اور اس کے لمبے لمبے نوکیلے دانت ہیں؟”
لومڑی نے کہا: “نہیں، کلھیا کی طرح ذرا سا منہ ہے اور گھاس کھانے والے ہرن چکاروں جیسے چھوٹے چھوٹے دانت ہیں۔ اگلے پاؤں جن سے وہ چلتا نہیں، انھیں ہاتھ کہتا ہے، وہ پچھلی ٹانگوں سے بھی پتلے اور چھوٹے ہیں۔ کان اتنے ذرا ذرا سے ہیں کہ آپ کے ایک کان سے آدمیوں کے بہت سے کان بن سکتے ہیں۔ بس شیخی ہی شیخی ہے۔”
گدھے نے کہا: “مجھے بتاؤ وہ کدھر ہے؟ میں ابھی جا کر اس کی ساری شیخی کرکری کر دوں؟”
لومڑی نے جس جگہ آدمی کو دیکھا تھا۔ اشارہ کر کے بتا دیا اور گدھا فوں فاں کرتا ہوا اس طرف چل دیا۔
جو آدمی وہاں پھر رہا تھا اس نے اعلیٰ درجے کا تیزاب بنایا تھا۔ اسے بوتل میں لیے اس کی آزمائش جنگلی جانوروں کی ہڈیوں پر ڈال ڈال کر کر رہا تھا کہ یہ گلتی ہیں کہ نہیں۔ ایک ہڈی کو گلتے دیکھ کر وہ اپنی کامیابی پر خوش ہو رہا تھا کہ گدھا وہاں پہنچا۔ آدمی کے ڈیل ڈول کو دیکھ کر دل میں ہنسا کہ اگر اس کو گرا کر میں اس پر گر پڑوں تو یہ میرے بوجھ سے ہی کچل کر رہ جائے گا۔ بڑی آن سے سر اٹھا کر بولا:
ایک سینگ سے اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے آدمی کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
اس آدمی نے جو یہ سنا تو بڑے اطمینان سے گدھے کو دیکھا اور بولا: “میں تو آپ کی دعوت کرنے آیا ہوں اور آپ میرا پیٹ پھوڑنا چاہتے ہیں۔ یہ کیسی اُلٹی بات ہے؟”
گدھے نے کہا: “میری دعوت کس چیز کی؟ میرے کھانے کے لیے جنگل میں گھاس بہت ہے۔”
آدمی نے جواب دیا: “گھاس کیا چیز ہے! میں آپ کو ایسی عمدہ چیز کھلاؤں گا، جو آپ نے کبھی نہ کھائی ہو، میرا ایک زعفران کا کھیت ہے جو لہلہا رہا ہے اور بہت خوشبودار ہے۔ آپ اسے چریں گے تو پھر آپ کی سانس سے ایسی خوشبو نکلے گی کہ سارا جنگل مہک اٹھے گا اور سب چرند پرند حیران ہو ہو کر آپ سے پوچھیں گے کہ یہ مہک آپ میں کیونکر پیدا ہو گئی؟ اس کے کھانے سے آپ اتنے خوش ہوں گے کہ ہر وقت ہنستے رہا کریں گے۔”
گدھا آخر گدھا تھا آدمی کی باتوں مںو آ گیا اور کہنے لگا: “لومڑی بڑی جھوٹی ہے۔ وہ تو کہتی تھی کہ آدمی بہت برا ہوتا ہے۔ تم تو بہت اچھے ہو۔ جلدی سے مجھے زعفران کے کھیت پر لے چلو۔”
آدمی نے گدھے کو ساتھ لے کر اپنی بستی کا رُخ کیا جو وہاں سے بہت دُور تھی۔
تھوڑی دُور چل کر آدمی نے گدھے سے کہا: “آپ کے چار پاؤں ہیں اور میں دو پاؤں سے چلتا ہوں، آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ اگر آپ بُرا نہ مانیں تو میں آپ کی پیٹھ پر بیٹھ جاؤں اور راستہ بتاتا ہوا چلوں۔”
گدھے نے زعفران کے لالچ میں اس کی بات مان لی اور آدمی گدھے پر سوار ہو گیا۔ ابھی دونوں کچھ ہی دور ہی گئے تھے کہ آدمی بولا: “گدھے میاں! آپ پھدکتے ہوئے بہت تیز تیز چلتے ہیں، میں کہیں گر نہ پڑوں۔ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے سینگ ہاتھوں سے پکڑ لوں؟”
گدھے نے اجازت دے دی۔ آدمی نے سینگ اوپر سے پکڑ کر سینگوں کی جڑوں پر تیزاب کے قطرے ٹپکا دیے۔ ذرا دیر میں دونوں سینگ ٹوٹ کر گرنے لگے۔ آدمی نے ان کو ہاتھ میں لے کر پیچھے کی طرف زور سے پھینک دیا۔ گدھے کا منہ آگے کی طرف تھا، وہ کیا دیکھتا، اسے خبر بھی نہ ہوئی اور دونوں سینگ غائب ہو گئے۔
چلتے چلتے بہت دیر ہو چکی تھی۔ گدھے کو تکان ہونے لگی تو بولا: “اے آدمی! اتنی دور تو آ گئے، زعفران کا کھیت کہاں ہے؟”
آدمی بستی تک اس پر سوار ہو کر جانا چاہتا تھا، بولا: “تھوڑی دور اور چلو۔”
گدھے کو شبہ گزرا کہ یہ آدمی دھوکا دے کر میری پیٹھ پر تو سوار نہیں ہوا، کہنے لگا: “میری پیٹھ سے اترو اور مجھے بتاؤ! وہ زعفران کا کھیت کہاں ہے؟”
آدمی گدھے پر سے اترا اور درخت کی ایک ڈال توڑ کر اس کی قمچی بنانے لگا۔ گدھے کو آدمی کے ٹھہرنے پر غصہ آ گیا۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی، جھنجلا کر بولا: “اے آدمی! تو زعفران نہیں کھلائے گا؟”
آدمی نے کہا: “کہیں گدھے بھی زعفران کھاتے ہیں؟”
اس پر گدھا آدمی کو مارنے پر آمادہ ہو گیا اور اپنی بات دہرائی:
ایک سینگ اوڑوں موڑوں
ایک سینگ سے پتھر توڑوں
آ، رے آدمی کے بچے
پہلے تیرا ہی پیٹ پھوڑوں
یہ سُن کر آدمی ہنسا اور بولا: “گدھے تیرے سینگ کہاں ہیں؟ وہ تو غائب ہو گئے۔ اب تُو کیا میرا پیٹ پھوڑے گا۔ جدھر کو میں کہوں سیدھا سیدھا چل، نہیں تو مارے قمچیوں کے تیری کھال اُدھیڑ دوں گا۔”
گدھے نے اپنا سر ایک پیڑ سے ٹکرا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سر پر سینگ موجود ہی نہیں۔ آدمی نے قمچیوں کی مار سے اسے اپنے گھر کے راستے پر لگا لیا اور دروازے کے آگے کھونٹا گاڑ کر ایک رسی سے باندھ دیا۔
اب گدھا بے چارہ آدمی کا بوجھ ڈھوتا ہے، سواری دیتا ہے، گاڑی کھینچتا ہے اور اپنی اس حماقت پر پچھتاتا ہے کہ سینگ پا کر میں اتنا مغرور کیوں ہو گیا تھا۔ سخت شرمندگی اسے آدمیوں کی بات سُن کر ہوتی ہے، جب کوئی آدمی بغیر کہے سُنے چلا جاتا ہے تو دوبارہ ملنے پر لوگ اس سے کہتے ہیں:
“تم ایسے غائب ہوئے، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔”
٭٭٭

مشرقی ترکستان

Standard

مشرقی ترکستان

مشرقی ترکستان چین میں مسلم اقلیت پر مشتمل خطے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ چین کے مقبوضات میں سے ایک اسلامی مستقل شناخت رکھنے والے وسیع خطے کا نام ہے۔ سنکیان جو اپنی اسلامی شناخت کو بچانے کیلئے کوشاں ہے تو یہ چین کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ غاصب ملک کے قبضے سے آزادی پانے کی جدوجہد ہے۔ اقوام عالم میں یہ ایک مفتوحہ قوم کا تسلیم شدہ حق ہے اور اسلامی اصطلاح میں جہاد کہلاتا ہے۔
گویا مشرقی ترکستان قصہ پارینہ ہے۔ مسلم اُمہ کے اذہان میں جگہ نہ پا سکنے والے کاشغر کا خطہ۔ اُمت مسلمہ پر پے درپے ایسے مصائب آئے ہیں کہ اُن میں گھر کر کتنے ہی مسائل اپنی طرف توجہ ہی مبذول نہیں کرا سکے۔ انہیں فراموش کردہ مسائل میں مشرقی ترکستان کا بھی شمار ہوتا ہے جو چین کے جابرانہ تسلط میں اپنا اسلامی تشخص گم کرتا جا رہا ہے۔ چین گزشتہ کئی سالوں سے مشرقی ترکستان کے اسلامی شناخت پر مبنی تاریخی ورثے کو مٹاتا چلا جا رہا ہے۔ چین نے اس علاقے پر قبضہ جما کر اسے سنکیان کے نام سے اپنا ایک صوبہ (شينگ) قرار دے دیا ہے۔ چین کے قبضے سے لے کر آج تک اِس غاصبانہ قبضے کے خلاف عالم اسلام سے کوئی آواز نہیں اٹھی ہے۔
مشرقی ترکستان میں اسلامی تشخص کو مٹانے کیلئے چین ہر غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام کر رہا ہے، اپنے مذموم مقاصد کیلئے چین مخلوط تربیتی پروگرام ترتیب دیتا ہے تاکہ وہاں بداخلاقی اور زناکاری کو فروغ حاصل ہو اور اسلام مردوزن کو جس اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اس کا برسرعام تمسخر اڑا سکے۔ مقامی مسلمان قائدین نے جب ایسے تربیتی پروگرام کے خلاف آواز بلند کی تو چین نے ساڑھے تین لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قتل کردیا۔ ان قتل ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے قائدین میں چند نامور نام بھی تھے جنہوں نے ترکستان میں قربانی کی داستانیں رقم کی ہیں جن میں عبدالرحیم عیسٰی، عبدالرحیم سیری اور عبدالعزیز قاری جیسے نام شامل ہیں۔
دو کروڑ کی آبادی پر مشتمل مشرقی ترکستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے کیلئے اور بالخصوص عقیدہ اسلام کو مسخ کرنے کیلئے چین نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔
چین جیسے دیوہیکل ملک سے اپنے اسلامی تشخص کو بچانے کیلئے وہ تنہا ہی برسرپیکار رہتے ہیں۔ یہاں بسنے والے مسلمان یہ حق رکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں بسنے والے مسلمان ان کی تاریخ، ثقافت اور جہاد سے روشناس ہوں اور دُنیا میں ان پر جو ظلم اور غاصبانہ قبضہ کیا گیا ہے اس کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک ہنستا بستا مسلم آبادی والا خطہ خاموشی سے چین کے قبضے میں چلا گیا۔
آپ کو نقشے میں مشرقی ترکستان نامی کوئی ملک نہیں ملے گا۔ مشرقی ترکستان سیاسی لحاظ سے سنکیان ہے جو چین کے نقشے میں آپ کو ملے گا۔
متحدہ ترکستان کو ہتھیانے کیلئے روس اور چین کے مابین بارہا چپقلش رہی ہے بالآخر دونوں نے متحدہ ترکستان کو تقسیم کرلیا اور مغربی ترکستان پر روس کا قبضہ اور مشرقی ترکستان پر چین کا قبضہ بلاکسی بین الاقوامی مداخلت کے قبول کرلیا گیا۔
مشرقی ترکستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان سے بڑا ہے اس کی آبادی دو کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اور مسلمان واضح ترین اکثریت میں ہیں۔ مشرقی ترکستان کا دارالحکومت کاشغر ہے جسے قتیبہ بن مسلم باھلی نے فتح کیا تھا۔ اُس زمانے میں ترکستان کا اسلامی شناخت پر مشتمل نیلے رنگ کا پرچم تھا جس میں روپہلی چاند تارا چمکتا دمکتا نظر آتا تھا۔
1945ء سے ہی چین نے مشرقی ترکستان کو کئی خطوں میں تقسیم کردیا تھا اور شہروں اور قصبوں کے نام بھی تبدیل کر دیئے تھے۔ ابتدائی سالوں میں مساجد مقفل ہوا کرتی تھیں لیکن بعد میں حکومت کی کڑی نگرانی میں مساجد کھلنے کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔
ترکستانی مسلمان چین کے اس قبضے سے کبھی مطمئن نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ ترکستان میں چین سے آزادی کی تحریکیں اٹھتی رہتی ہیں۔ چین کا پہلا قبضہ ١٧٦٠ءمیں ہوا تھا ١٨٦٣ءمیں آزادی کی پرزور تحریک اٹھی اور اُس نے مشرقی ترکستان کو واگزار کرا لیا۔ یعقوب خان بادولت کی قیادت میں مشرقی ترکستان ایک مستقل ملک قرار پایا اور یعقوب خان نے عثمانی خلیفہ سلطان عبدالعزیز خان کی بیعت کا اقرار کیا۔روس اور چین وسطی ایشیا میں بھلا کسی آزاد مسلم اسلامی ملک کو کب گوارا کرتے تھے چنانچہ محض تیرہ برس بعد چین نے مشرقی ترکستان پر قبضہ کرلیا۔
ترکستان کی تاریخ کے مطابق امیر معاویہ کے دور میں ہی اہل کاشغر اسلام سے شناسائی حاصل کر چکے تھے، عبدالکریم صادق بوگرا خان حاکم ترکستان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی ٩٦٠ءمیں اسلام پورے ترکستان میں پھیل گیا تھا بلکہ وسطی چین کی طرف دعوت اِسلام پہنچانے کا فریضہ بھی ترکستان نے انجام دیا تھا۔ عربی زبان میں دینِ اِسلام کی تعلیم کا رواج بھی اِسی زمانے میں ہوا تھا۔
ترکستان کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا قطعاً خلاف ضابطہ نہیں ہے اور نہ ایسا سمجھنا چاہیے، مشرقی ترکستان ایک اختلافی مسئلہ ہے جس پر چین کا قبضہ چلا آرہا ہے مشرقی ترکستان چین کا صوبہ نہیں ہے بلکہ ایک اسلامی ملک پر چین نے قبضہ کیا ہے اور یہاں کی مسلم آبادی کو کسی صورت میں چین کی اقلیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مشرقی ترکستان کے مسلمان کبھی اس قبضے سے مطمئن نہیں ہوئے اور برسوں سے اپنے اسلامی تشخص کے احیاءکیلئے جہاد کر رہے ہیں اور قربانیوں کی داستان لکھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس طویل جہاد میں اب تک دس لاکھ نفوس قربانی دے چکے ہیں، جہاں مغربی ترکستان روس کے تسلط سے چھٹکارا پاکر آزاد ہو چکا ہے وہاں مشرقی ترکستان بھی پیچھے رہنے والا نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ہی خطہ ہے جسے روس اور چین نے اپنے درمیان تقسیم کر رکھا تھا مشرقی ترکستان کے مسلمان ابھی تھکے نہیں ہیں اور نہ ہی اُمت مسلمہ کی ہمدردیوں سے مایوس ہیں۔ اُن کا مبارک جہاد اسلامی مملکت کے قیام تک جاری وساری ہے۔
مشرقی ترکستان میں جہاد کی شمع بجھائی نہیں جا سکی، ١٩٣١ءمیں مشرقی ترکستان کا بیشتر حصہ واگزار کرا لیا گیا تھا۔ ١٩٣٣ءمیں مشرقی ترکستان نے اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا اور کاشغر کو دارالحکومت قرار دیا گیا مگر روس چین گٹھ جوڑ سے یہ آزادی برقرار نہ رہ سکی۔ ایک مرتبہ پھر ١٩٤٤ءمیں دو صوبے آزاد کرا لئے گئے اور ایلی کو صدر مقام قرار دیا گیا۔ مشرقی ترکستان کی اِس چھوٹی سی مملکت نے باقی علاقے بھی آزاد کرانے میں پیش رفت جاری رکھی لیکن روسی اور چینی تعاون پھر اِس کی کامیابی میں آڑے آیا، دوسری طرف اسلامی ممالک سے اس تحریک کے لئے کوئی آواز اور حمایت نہ مل سکی اور نہ ہی اِس مسئلہ کو اسلامی ممالک نے کسی بین الاقوامی فورم پر اٹھایا، یہی وجہ ہے کہ مشرقی ترکستان کی تاریخ اور جہادی سرگرمیوں سے مسلمانوں کی کثیر تعداد ناواقف ہے۔
اگرچہ مسئلہ فلسطین اور گیارہ ستمبر جیسے گھمبیر مسائل کے بارے میں مسلمانوں کے ذرائع ابلاغ بہت کچھ لکھتے رہے ہیں اور ابلاغ عامہ میں تقریباً ہر روز ان کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے مشرقی ترکستان مسلمانوں کے ابلاغ عامہ میں کوئی خاص جگہ نہیں پا سکا۔ اس مسئلے کو سیاسی اور ابلاغ عامہ کی سطح پر فراموش کر دینے کا نتیجہ اس طرح نکلا ہے کہ مسلمانوں کا ایک وسیع قطعہ اراضی چین نے ہتھیا کر وہاں کے مسلمانوں کو باقی اُمت سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ مسلمانوں کی سرزمین اور وہاں کے باشندے ہرگز اس لائق نہیں کہ اُن کی اسلامی شناخت آہستہ آہستہ چین کے الحاد میں تحلیل ہونے کیلئے چھوڑ دی جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ مشرقی ترکستان میں اسلامی شناخت کو ختم کرنے کیلئے چین ایک طرف تو وہاں چین کے غیر مسلم اقوام کو لا کر بسا رہا ہے تاکہ مسلم آبادی غالب ترین اکثریت نہ رہ سکے یا کم از کم بڑے شہروں کی حد تک ایک معتدبہ تعداد غیر مسلم باشندوں کی دکھلائی جا سکے اور دوسری طرف اسلامی عقیدے کو مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کے ذہن سے محو کرنے کیلئے مختلف حربے بھی استعمال کر رہا ہے اور تیسری طرف روس کی طرح چین بھی یہاں کی معدنی اور زرعی پیداوار کو نچوڑ کر دوسرے صوبوں میں لے جاتا ہے۔
مشرقی ترکستان کے معدنی وسائل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں ١٢١ اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں۔ کم وبیش ٥٦ کانیں سونے کی دھات حاصل کرنے کیلئے چین کی سرپرستی میں شبانہ روز کام کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں معدنی تیل، یورینیم، لوہا اور سیسہ بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ خوردنی نمک اس کثرت سے پیدا ہوتا ہے کہ کل عالم کو ایک ہزار سال تک مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حلال جانوروں کی٤٤ انواع پائی جاتی ہیں۔
مشرقی ترکستان کی آبادی ایک ہی نسل اور ایک ہی تاریخ رکھنے والی آبادی پر مشتمل ہے۔ بنا بریں پہلی صدی کے اختتام تک کاشغر سمیت پوری آبادی اسلام میں داخل ہو گئی تھی۔ یہ سنی العقیدہ ہیں اور وہاں حنفی مذہب رائج ہے۔
اگر ہمیں اپنی تاریخ پڑھنے کا موقع ملے تو ہمیں اپنے علمی اثاثہ سے معلوم ہوگا کہ وسطی ایشیا کی اقوام اتراک کہلاتی ہیں اور اسی وجہ سے اس علاقے کو ترکستان کہا گیا ہے۔ ترک اقوام نے اسلام کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں اُس سے ہم خوب واقف ہیں۔ ترک اقوام اسلامی اُمت کا ایک مستقل جزولاینفک ہیں۔ ترکوں کی ان خدمات میں ماضی قریب تک مشرقی ترکستان کا ایک فعال کردار رہا ہے اگرچہ یہ کردار ہمارے ہاں کوئی بڑی پذیرائی حاصل نہیں کر سکا جس کی وجہ ابلاغ عامہ کی خیانت ہے اور اب بھی وہاں اسلامی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئی ہیں بلکہ برابر زور پکڑ رہی ہیں۔
یہ درست ہے کہ اُمت مسلمہ گوناگوں مسائل میں گھری ہوئی ہے لیکن اگر یہ اُمت ایک جسم کی مانند ہے تو پھر ہر زخم اپنا زخم ہے اور ہر زخم مرہم کا متقاضی ہے۔