اُمّہات المومنین

Standard

اُمّہات المومنین
مرتبہ : مسعود نبی خان
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی الہ و اصحابہ و ازواجہ و بارک وسلم اجمعین
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت مبارکہ کی برکت سے ازواج مطہرات کا مقام و مرتبہ بہت ہی ارفع و اعلی اور بلند و بالا ہے، ان کی شان میں قرآن حکیم کی کئی آیات بینات نازل ہوئیں اور حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی احادیث شریفہ میں بھی ان کی عظمت و فضیلت اور خصائص و کمالات کا تذکرہ موجود ہے- چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ – ترجمہ: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو- (سورۂ احزاب- 32)
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام رازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 606ھ نے لکھا ہے: یعنی فیکن غیر ذلک امر لا یوجد فی غیرکن وھو کونکن امھات المومنین و زوجات خیر المرسلین- ترجمہ: یعنی ازواج مطہرات وہ خصوصی شان رکھتی ہیں جو دوسری خواتین نہیں رکھتیں، یہ برگزیدہ و عفت مآب خواتین تمام مومنین کی مائیں اور نبیوں کے سردار کی بیبیاں ہیں- تفسیر الرازی، سورۃ الاحزاب، 32-
اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ازواج مطہرات حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کاشانۂ اقدس کی برکت سے دنیا کی تمام خواتین میں ایک منفرد و ممتاز مقام کی حامل بن گئیں جس میں کوئی ان کا شریک نہیں ہے-
دوسری آیت شریفہ میں ارشاد باری تعالی ہے: وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْؕ ترجمہ: اور آپ کی بیویاں مومنین کی مائیں ہیں- سورۂ احزاب- 6
نیز ارشاد الٰہی ہے: وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزْوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعْدِہٖۤ اَبَدًا ؕ ترجمہ: اے ایمان والو!)اور یہ ناجائز ہے کہ کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد آپ کی بیبیوں سے نکاح کرو- سورۂ احزاب- 53
اور یہ بھی ارشاد ہے: وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ترجمہ: اور جب نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج سے تم کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو- سورۂ احزاب- 53
کنزل العمال میں حضورصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: خيارکم خيارکم لنسائی ۔
ترجمہ : تم میں سب سے بہتر افراد وہ ہیں جو میری ازواج مطہرات کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والے ہوں ۔
کنزل العمال ،کتاب الفضائل ۔ فصل ازواجہ علیہ الصلوة والسلام ،حدیث نمبر: 24400
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات کی تعداد اور ان کے ساتھ نکاح کی ترتیب کے بارے سیرت نگاران کا قدرے اختلاف ہے، البتہ گیارہ امہات المومنین کے بارے میں سب کی رائے متفق ہے-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی متعدد شادیوں کا ایک عظیم مقصد یہ رہا کہ مختلف قبائل سے رشتۂ اخوت قائم ہو جائے اور اس کی وجہ سے واقعۃً اسلام کے فروغ میں بڑی مدد ملی اور مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا-
ازواج مطہرات میں چھ کا تعلق قبیلہ قریش سے ہے، حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا- چار ازواج مطہرات قبیلۂ قریش کے علاوہ عرب کے دیگر قبائل سے ہیں اور ایک زوجۂ مطہرہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بنی اسرائیل کے قبیلہ بنی نضیر کی ہیں-سبل الہدی والرشاد ج11 جماع أبواب ذكر أزواجه صلى الله عليه وسلم ص143

ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا- کنیت: ام ہند، لقب: طاہرہ
نسب مبارک یہ ہے: خدیجۃ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ،قصی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جد امجد ہیں-
ماں کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا جو خاندان عامر بن لوئی سے تھیں-
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد خویلد بن اسد ایک کامیاب تاجر تھے، اپنے قبیلہ میں بڑی با عظمت شخصیت کے مالک تھے، بلکہ اپنی خوش معاملگی و دیانتداری کی بدولت تمام قریش میں بے حد ہر دلعزیز اور محترم تھے-
حضرت خدیجۃ الکبریٰ عام الفیل سے پندرہ سال قبل 555ء میں پیدا ہوئیں -بچپن ہی سے نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں، جب سن شعور کو پہنچیں تو ان کی شادی ابو ہالہ ہند بن نباش تمیمی سے ہوئی- ابو ہالہ کے انتقال کے بعد حضرت خدیجۃ (رضی اللہ عنہا) کی دوسری شادی عتیق بن عابد مخزومی سے ہوئی، کچھ عرصہ بعد عتیق بن عابد مخزومی بھی فوت ہو گئے- اور عابد مخزومی کے انتقال کے بعد کچھ ایسی دل برداشتہ ہوئیں کہ دنیوی معاملات سے دور رہنے لگیں اور زیادہ وقت خانۂ کعبہ میں گزارنے لگیں ، آپ کی زندگی میں تقدس یہیں سے پیدا ہوا ، اس دوران قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے آپ سے نکاح کا پیغام بھیجا، آپ نے سب کو رد کر دیا، کیونکہ آپ دولت و ثروت کے علاوہ حسن صورت اور حسن سیرت میں بھی ممتاز درجہ رکھتی تھیں، اور زمانۂ جاہلیت میں “طاہرہ” کے لقب سے مشہور تھیں-
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد نکاح
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نکاح کی خواہش ظاہر کی اور 40 سال کی عمر میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نکاح میں آئیں، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر 25 برس تھی- ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا، 500 درہم کے برابر سونا مہر مقرر ہوا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجیت میں آگئیں- ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وہ لازم تکریم اور لائق تعظیم خاتون تھیں جن کی زندگی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نور ہدایت کی روشنی میں سب سے پہلے منور ہوئی اور خواتین میں سب سے پہلے اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئیں-
حلیۂ نبوی سے متعلق مفصل روایت آپ ہی سے مروی ہے- ابتدائے اسلام میں جب کہ ہر طرف سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مخالفت کا طوفان اٹھ رہا تھا، ایسے کٹھن وقت صرف ان ہی کی وہ ذات تھی جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مونس حیات بن کر آپ کو تسلی دیتی- انہوں نے ایسے خوفناک اور خطرناک اوقات میں جس استقلال اور استقامت کے ساتھ خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اور جس طرح تن ،من، دھن سے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں قربانی پیش کی، اس خصوصیت میں آپ کو تمام ازواج مطہرات پر ایک فوقیت و فضیلت حاصل ہے- اسی وجہ سے بعض علماء نے آپ کو تمام امہات المومنین میں افضل قرار دیا-
آپ کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی خدمت میں کھانے کا ایک برتن لے کر حاضر ہو رہی ہیں، جب یہ آپ کے پاس آ جائیں تو آپ ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام فرمائیں- اور ان کو جنت میں موتی کے ایک عالیشان محل کی خوشخبری سنادیں، جس میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی- (بخاری)
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دریافت کرنے پر ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی، جب سب لوگوں نے میرےساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں، اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جب لوگ مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہیں تھے، اس وقت حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) نے اپنا سارا مال مجھے پیش کر دیا- اور ان ہی کے بطن سے اللہ تعالی نے مجھے اولاد عطا فرمائی جن میں 2 صاحبزادے اور 4 صاحبزادیاں ہیں- (زرقانی)
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مقدس زندگی کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شروع ہی سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مزاج شناس تھیں- شاید یہی وجہ تھی کہ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور غار حرا سے واپس لوٹنے کے بعد سارا واقعہ من و عن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سامنے بیان کر دیا- اس حیرت انگیز واقعہ کے بعد طبیعت متاثر ہو گئی تھی تو فرمایا: زملونی زملونی، مجھے چادر اڑھاؤ ، مجھے چادر اڑھاؤ، آپ نے حکم کی تعمیل کی اور پوچھا آپ اتنے دنوں سے کہاں تھے؟ آپ کی تلاش میں میں کئی آدمیوں کو بھیج چکی ہوں، اس واقعہ کے بعد آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: آپ سچ فرماتے ہیں، غریبوں کی دستگیری کرتے ہیں، مہمان نواز ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، امانت گزار ہیں، دکھیوں کے خبر گیر ہیں، اللہ آپ کو تنہا نہ چھوڑے گا-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دنیا میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کا انگور کھلایا تھا- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت تھی، آپ جب تک بقید حیات رہیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں کیا، آپ کے وصال سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بے پناہ صدمہ ہوا اور آپ اکثر ملول رہنے لگے، حضرت خدیجۃ الکبری کے وصال کے بعد بھی آپ کو ان سے اتنی محبت تھی کہ جب کوئی قربانی کرتے تو پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو گوشت بھیجتے اور بعد میں کسی اور کو دیتے، جب کبھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا کوئی رشتہ دار آپ کے پاس آتا تو آپ ان کی بے حد خاطر مدارات فرمایا کرتے – حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی رحلت کے بعد مدت تک حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس وقت تک گھر سے باہر تشریف نہ لے جاتے جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اچھی طرح تعریف نہ کر لیتے- اسی طرح جب گھر تشریف لاتے تو ان کا ذکر کر کے بہت کچھ تعریف فرماتے- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس عمل سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ان پر رشک آتا تھا- حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تا دم آخر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مثالی کردار پیش کیا اور شکایت کا کوئی موقع نہ دیا-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے علاج و معالجہ اور تسکین و تشفی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی –
وصال اقدس: حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا 25 سال تک خدمت گزاری کا شرف حاصل کیں اور ہجرت سے 3 برس قبل 65 سال کی عمر پاکر ماہ رمضان المبارک میں مکہ معظمہ کے اندر وفات پائیں- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جحون (جنت المعلی) میں خود بہ نفس نفیس ان کی قبر میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپرد خاک فرمایا چونکہ اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا اس لئے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی- (زرقانی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، کنیت: ام عبداللہ (بھانجے کے نام پر) ، لقب: صدیقہ اور حمیرا
نسب مبارک یہ ہے: عائشہ بنت ابوبکر صدیق بن قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن یتیم بن مرہ بن کعب بن لوی-
والدہ کا نام ام رومان بنت عامر تھا جو جلیل القدر صحابیہ ہیں-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی علی صاحبہ والصلوۃ والسلام کے چار سال بعد ماہ شوال میں پیدا ہوئیں ، آپ حضر ت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نور نظر اور دختر نیک اختر ہیں، بچپن ہی سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زیر سایہ پرورش پائیں – حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بچپن ہی سے بیحد ذہین اور ہوشمند تھیں، بچپن کی باتیں انہیں یاد تھیں- امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ جب آیۃ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَ السَّاعَۃُ اَدْہٰی وَ اَمَرُّ-(سورۃ القمر: 46 ) مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کھیل کود میں مشغول تھیں- یعنی ابھی آپ لڑکپن کا دور گزار رہی تھیں-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اعلان نبوت کے دسویں سال اور ہجرت کے تین سال قبل ماہ شوال میں ہوا- ایک دفعہ ماہ شوال کے مہینے میں عرب میں طاعون کی خوفناک وباء پھیلی جس نے ہزاروں گھرانوں کو ویران کر دیا ، اس وقت سے شوال کا مہینہ اہل عرب میں منحوس سمجھا جاتا تھا، وہ اس مہینے میں خوشی کی تقریب کرنے سے احتراز کرتے تھے، چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح شوال میں ہوا اور خطبۂ نکاح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھا اور رخصتی بھی چند سال بعد شوال ہی میں ہوئی، اس مبارک نکاح کی برکت سے شوال کی نحوست کا وہم لوگوں کے دلوں سے دور ہوا- آپ کا مہر 500 درہم مقرر ہوا- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ پیدائشی مسلمان تھیں- ان ہی سے روایت ہے کہ “جب میں نے اپنے والدین کو پہچانا انہیں مسلمان پایا”- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر روز ازل سے کفر و شرک کا سایہ تک نہ پڑا-
چند مخصوص فضائل میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تمام صحابہ اور صحابیات میں امتیازی حیثیت رکھتی ہیں- بہ روایت قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں کہ دس اوصاف مجھ میں ایسے ہیں جن میں دوسری ازواج مطہرات سے کوئی میری شریک نہیں-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے سوا کسی دوسری کنواری خاتون سے نکاح نہیں فرمایا-
میرے سوا ازواج مطہرات میں سےکوئی بھی ایسی نہیں جن کے ماں اور باپ دونوں مہاجر ہیں-
اللہ تعالی نے میری براءت و پاکدامنی کا بیان آسمان سے قرآن (سورۂ نور) میں نازل فرمایا-
نکاح سے قبل حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دکھلا دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تین راتیں خواب میں مجھے دیکھتے رہے- (مشکوٰۃ)
میں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک ہی برتن سے پانی لے کر غسل کیا کرتے تھے- یہ شرف میرے سوا ازواج مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا-
حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نماز تہجد پڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی- امہات المومنین میں سے کوئی بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس کریمانہ محبت سے سرفراز نہیں ہوئیں-
میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں سوئی رہتی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر خدا کی وحی نازل ہوا کرتی تھی- یہ وہ اعزاز خداوندی ہے جو میرے سوا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کو حاصل نہیں ہوا-
وصال اقدس کے وقت میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنی گود میں لئے ہوئے بیٹھی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وصال ہوا-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا-
حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا روضۂ انور خاص میرے گھر میں بنا- (زرقانی، جلد 3 )
علمی شان
زہری فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کا تمام امہات المومنین اور تمام خواتین کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے بڑھا رہے گا- آپ کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی خطیب کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح و بلیغ نہیں دیکھا- (طبرانی)
اکابر صحابہ کو جب بھی کوئی اشکال پیش آتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف رجوع کرتے، عہد صحابہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم ، تفقہ اور تاریخ دانی مسلم تھی- یہاں تک کہا گیا کہ احکام شرعیہ کا چوتھائی حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے- صحابہ کو آپ کے یہاں مشکل مسئلہ کا حل مل جاتا تھا- (ترمذی)
حضرت عروۃ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ میں نے قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ اور علم الانسان میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو اشعار عرب کا جاننے والا نہیں پایا- وہ دوران گفتگو بر موقع کوئی نہ کوئی شعر پڑھ دیا کرتی تھیں جو بہت ہی برمحل اور مناسب و موزوں ہوا کرتا تھا-
علم طب اور مریضوں کے علاج معالجہ میں بھی انہیں کافی مہارت تھی- حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جو آپ کے بھانجے ہیں فرماتے ہیں کہ ایک دن حیران ہو کر بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اے اماں جان! مجھے آپ کے علم حدیث و فقہ پر کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ آپ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجیت و محبت کا شرف پایا ہے، اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سب سے زیادہ محبوب ترین زوجۂ مقدسہ ہیں- سنن ابو داؤد میں روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اے باری تعالی : یوں تو میں سب ازواج سے برابر کا سلوک کرتا ہوں، مگر دل میرے بس میں نہیں کہ وہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو زیادہ محبوب رکھتا ہے- یا اللہ اسے معاف فرما، چنانچہ مجھے اس پر بھی کوئی تعجب نہیں ہے-
اور اس پر بھی کوئی تعجب و حیرانی نہیں ہے کہ آپ کو عرب کے اس قدر زیادہ اشعار کیوں اور کس طرح یاد ہو گئے؟ اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ حضر ت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نور نظر ہیں اور وہ اشعار عرب کے بہت بڑے حافظ و ماہر ہیں، مگر میں اس بات پر بہت ہی حیران ہوں کہ آخر یہ طبی معلومات اور علاج و معالجہ کی مہارت آپ کو کہاں سے اور کیسے حاصل ہو گئی؟ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی آخری عمر شریف میں اکثر علیل ہو جایا کرتے تھے اور عرب و عجم کے اطباء آپ کے لئے دوائیں تجویز کرتے تھے، اور میں ان دواؤں سے آپ کا علاج کرتی تھی- اس لئے مجھے طبی معلومات بھی حاصل ہو گئیں-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زہد و تقوی کی پیکر ہیں اور آپ کو عبادت الٰہی سے بے انتہا شغف رہا- فرض نمازوں کے علاوہ سنتیں اور نوافل بھی کثرت سے پڑھتی تھیں- تہجد کی نماز اور چاشت کی نماز کا ساری عمر میں کبھی ناغہ نہیں کیا- حج کی شدت سے پابند تھیں- رمضان المبارک کے علاوہ نفلی روزے بھی بڑی کثرت سے رکھتی تھیں-
دل میں حد درجہ کا خوف خدا تھا- عبرت کی کوئی بات یاد آ جاتی تو بے اختیار رونے لگتیں، ایک مرتبہ فرمایا کہ میں کبھی سیر ہو کر نہیں کھاتی کہ مجھے رونا آتا ہے، ان کے ایک شاگرد نے پوچھا: یہ کیوں؟ فرمایا: مجھے وہ حالت یاد آتی ہے جس میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دنیا کو چھوڑا، خدا کی قسم !آپ نے کبھی دن میں دو بار سیر ہو کر روٹی اور گوشت نہیں کھایا-
اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جان چھڑکتی تھیں، ایک دفعہ آپ رات کے وقت اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ کھلی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود نہ پایا تو سخت پریشان ہوئیں، دیوانہ وار اٹھیں اور ادھر ادھر اندھیرے میں ٹٹولنے لگیں- اخیر ایک جگہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قدم مبارک پایا، دیکھا تو آپ سربسجود یاد الٰہی میں مشغول ہیں، اس وقت انہیں اطمینان ہوا-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی محبوب زوجہ مطہرہ ہیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم طہارت میں بہت اہتمام فرماتے تھے اور اپنی مسواک بار بار دھلوایا کرتے تھے، اس خدمت کا شرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حاصل تھا، شدت مرض میں کمزوری کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی مسواک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے ، وہ اپنے دانتوں میں چبا کر نرم کرتیں اور پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم استعمال فرماتے- جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم احرام باندھتے یا احرام کھولتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جسم مبارک میں خوشبو لگاتی تھیں-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حیات مبارکہ کے چار واقعات بے حد اہم ہیں:
( 1 ) افک ( 2 ) ایلا (3) تحریم (4) تخییر
جنگ احد میں زخمیوں کو پانی پلایا، ام المومنین فطری طور پر نہایت دلیر اور نڈر تھیں، راتوں کو اٹھ کر قبرستان جاتی تھیں- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے جبریل امین علیہ السلام کا سلام آتا-
الغرض فی الحقیقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا پایۂ علم و فضل اتنا بلند تھا کہ اس کو بیان کرنے کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہیں- یہاں ہم اسی قدر لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں-
اخلاق عالیہ
فضائل اخلاق کے لحاظ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا رتبہ بہت بلند تھا، وہ بے حد فیاض، مہمان نواز اور غریب پرور تھیں، ایک بار حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک لاکھ درہم بھیجے- انہوں نے اسی وقت مکمل رقم فقراء و مساکین میں تقسیم کر دی، اس دن روزے سے تھیں، خادمہ نے عرض کیا:”ام المومنین! افطار کے لئے گوشت خرید لیا ہوتا” فرمایا :”تم نے یاد دلایا ہوتا”-
موطا امام مالک میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن روزے سے تھیں اور گھر میں ایک روٹی کے سوا کچھ نہ تھا، اتنے میں ایک سائلہ نے آواز دی، انہوں نے باندی کو حکم فرمایا کہ روٹی سائلہ کو دے دے ، باندی نے کہا: شام کو افطار کس چیز سے کریں گی؟ ام المومنین نے فرمایا: تم یہ اسے دے دو، شام ہوئی تو کسی نے بکری کا گوشت ہدیہ بھیج دیا- باندی سے فرمایا: دیکھو! اللہ نے روٹی سے بہتر چیز بھیج دی ہے-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے رہنے کا مکان امیر معاویہ کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا، انہیں جو قیمت ملی وہ سب راہ خدا میں دے ڈالی-
ام المومنین کو غیبت اور بد گوئی سے سخت اجتناب تھا، آپ سے مروی کسی حدیث میں کسی شخص کی توہین یا بد گوئی کا ایک لفظ بھی نہیں ہے- وسعت قلب کا یہ عالم تھا کہ اپنی سوکنوں کی خوبیاں اور مناقب خوشدلی سے بیان کرتی تھیں-
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں تمام ازواج مطہرات کے دس دس ہزار درہم سالانہ مقرر تھے، البتہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارہ ہزار دینار تھے- سب کچھ رہنے کے باوجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ موٹے اور کم قیمتی کپڑے پہنتی تھیں- البتہ ان کپڑوں کو ارغوانی یا زعفرانی رنگ میں رنگ لیتی تھیں- ہاتھوں کی انگلیوں میں سونے اور چاندی کی انگوٹھی بھی پہن لیتی تھیں، باریک کپڑوں سے ان کو سخت نفرت تھی- پردے کا اہتمام کرتیں، مدینہ منورہ میں ایک نابینا جن کا نام اسحق تھا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں مسائل دریافت کرنے کے لئے آیا کرتے تھے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے پردہ فرماتی تھیں، اسحق نابینا نے ایک دن کہا”میں تو اندھا ہوں، آپ مجھ سے پردہ کیوں کرتی ہیں؟” جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا “میں تو اندھی نہیں ہوں”- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فضیلتیں بہت ہیں- آپ رضی اللہ عنہا کے بارے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” جس طرح تمام کھانوں میں بہتر ثرید ہے، اسی طرح تمام عورتوں میں بہتر عائشہ ہے”-
آپ کی ذات گرامی خوبیوں کا مجموعہ تھی، آپ کی ایک بڑی خوبی زہد و قناعت تھی، ساری زندگی فقر و تنگدستی میں گزاری مگر ایک حرفِ شکایت زبان پر نہیں لایا-
کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا تھا، اسی کو دھو دھو کر پہنتی تھیں- کردار کا سب سے روشن پہلو ،ان کی سخاوت تھی- نہایت دریا دل اور فیاض واقع ہوئیں- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بہت قریب سے دیکھا تھا ، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں آپ کی ہر بات بڑا وزن رکھتی ہے- آپ کی روایات کی بڑی اہمیت ہے-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ عدیم المثال ایثار تھا کہ آج فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ،شاہ لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوئے اقدس میں استراحت فرما ہیں-
وصال اقدس: 17 رمضان شب سہ شنبہ 57ھ یا 58 ھ میں مدینہ منورہ کے اندر آپ کا وصال ہوا- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق رات میں لوگوں نے آپ کو جنت البقیع میں دوسری ازواج مطہرات کی قبروں کے پہلو میں دفن کیا- (زرقانی، اکمال حاشیہ الکمال)
عالم اسلام کے لئے رشد و ہدایت، علم و فضل اور خیر و برکت کا ایک عظیم مرکز بنی رہیں- آپ سے 2210 (دو ہزار دو سو دس) احادیث شریفہ مروی ہیں- بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ احکام شرعیہ کا ایک چوتھائی حصہ آپ سے منقول ہے-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے شاگردوں کی تعداد دو سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے- جس میں قاسم بن محمد،مسروق تابعی ، عائشہ بنت طلحہ ، ابو سلمہ ، عروہ بن زبیر اور ابو موسی اشعری وغیرہ رضی اللہ عنہم بہت مشہور ہیں-

ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: سودہ رضی اللہ عنہا ، آپ قریش کے قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں-
نسب مبارک یہ ہے: سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبد و بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر لوی – ماں کا نام شموس بنت قیس تھا جو انصار کے خاندان بنو نجار سے تھیں-
اللہ تعالی نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہایت صالح طبیعت عطا کی تھی، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح آپ کے چچازاد بھائی سکران بن عمر سے ہوا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت حق کا آغاز کیا تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے ساتھ اسلام لائیں، اس طرح آپ کو قدیم الاسلام ہونے کا شرف بھی حاصل ہے- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے ساتھ اسلام لانے کے بعد ہجرت کر کے حبشہ چلی گئیں، کئی برس وہاں رہ کر مکہ مکرمہ واپس لوٹے- چند دن بعد حضرت سکران رضی اللہ عنہ کے وصال سے پہلے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے ایک خواب دیکھا،چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدل چلتے ہوئے آپ کی طرف تشریف لائے اور ان کی گردن پر اپنا قدم مقدس رکھ دیا- جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اس خواب کو اپنے شوہر سکران بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اگر تمہارا یہ خواب سچا ہے تو میں یقیناً مرجاؤں گا اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تم سے نکاح فرمائیں گے- اس کے بعد دوسری رات حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے یہ خواب دیکھا کہ ایک چاند ٹوٹ کر ان کے پیٹ پر گر پڑا ہے، صبح سکران رضی اللہ عنہ سے اس خواب کا بھی ذکر کیا تو سکران بن عمر رضی اللہ عنہ نے چونک کر کہا اگر تمہارا یہ خواب سچا ہے تو میں اب بہت جلد انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نکاح کرو گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا- اسی دن حضرت سکران رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے اور چند دنوں کے بعد وصال کر گئے- (زرقانی)
ایک بیٹا عبدالرحمن نامی یادگار چھوڑا جو مشرف بہ اسلام ہوئے اور خلافت فاروقی میں جنگ جلولاء میں شہید ہوئے-
چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئی تھیں- یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وصال کر گئی تھیں، بن ماں کے بچوں کو دیکھ دیکھ کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارک افسردہ اور غمگین رہتی تھی، آپ کی یہ حالت دیکھ کر ایک جاں نثار صحابیہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے ایک دن بارگاہ نبوی میں عرض کی :حضور کو ایک مونس اور رفیق حیات چاہئیے- اگر اجازت ہو تو آپ کے نکاح ثانی کے لئے کہیں پیام دوں؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کے اس مخلصانہ مشورہ کو قبول فرمایا اور فرمایا کہ کس جگہ پیام دینے کا خیال ہے؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اگر کنواری سے نکاح کرنا چاہیں تو آپ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں- اگر بیوہ سے چاہیں تو حضرت سودہ بنت زمعہ موجود ہیں، جو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی اتباع کیں- آپ نے فرمایا دونوں جگہ پیام دے دو- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چونکہ قریب قریب ایک ہی زمانہ میں ہوا، مورخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 10 نبوی میں ہوا نکاح کا خطبہ ان کے والد نے پڑھایا اور 400 درہم مہر مقرر ہوا- چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد امہات المومنین کے زمرے میں داخل ہو گئیں اور زندگی بھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجیت کے شرف سے سرفراز رہیں اور انتہائی والہانہ عقیدت و محبت کے ساتھ آپ کی وفادار اور خدمت گزار رہیں-
اس نکاح کی خبر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبداللہ بن زمعۃ کو ہوئی جو ابھی کافر تھے، انہوں نے اپنے سر پر خاک ڈالی، جب مشرف بہ اسلام ہوئے تو کہا : مجھے اپنی اس حماقت پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نکاح میری بہن کے ساتھ ہونے پر میں نے اپنے سر پر خاک ڈال لی-
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بے حد فیاض او رسخی تھیں- ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے درہموں سے بھری ہوئی ایک تھیلی بھیجی، انہوں نے پوچھا اس میں کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: درہم ، فرمائیں: تھیلی کھجوروں کی ہے اور اس میں درہم ہیں- یہ کہہ کر تمام درہم ضرورت مندوں میں اس طرح بانٹ دئیے جس طرح کھجوریں تقسیم کی جاتی ہیں-
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نہایت رحم دل اور سخی تھیں، اور جو کچھ آپ کے پاس آتا تھا اسے نہایت فراخ دلی سے حاجت مندوں میں تقسیم کر دیتی تھیں- حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے میں لکھا ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا دستکار تھیں اور طائف کی کھالیں بنایا کرتی تھیں- اس سے جو آمدنی ہوتی تھی اسے راہ خدا میں خرچ کر دیتی تھیں- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی عمر زیادہ ہو چکی تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ابھی نوعمر تھیں اس لئے انہوں نے اپنی باری بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی ، جسے انہوں نے خوشی سے قبول کر لیا- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ میں نے کسی عورت کو جذبۂ رقابت سے خالی نہ دیکھا سوائے سودہ رضی اللہ عنہا کے- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نہایت پاکیزہ اخلاق کی حامل تھیں ، ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سوائے سودہ رضی اللہ عنہا کے کسی عورت کو دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا نہ ہوئی کہ ان کے جسم میں میری روح ہوتی- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے مزاج میں ظرافت تھی، آپ کا قد دراز تھا، دراز قد ہونے کی وجہ سے آپ کی چال چلن دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسکراتے تھے اور آپ کی اداؤں پر تبسم فرماتے تھے- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا 10 ہجری میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئیں، چونکہ دراز قد اور فربہ اندام تھیں، اس لئے تیز چلنے سے مجبور تھیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مزدلفہ سے روانگی سے پہلے انہیں چلے جانے کی اجازت دے دی تاکہ بھیڑ بھاڑ سے تکلیف نہ ہو- حجۃ الوداع کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمام ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے فرمایا: اس حج کے بعد اپنے گھروں میں بیٹھنا چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشاد کا جو مطلب سمجھا اس پر سختی سے تعمیل کی- دوسری ازواج مطہرات ادائے حج پر اس حکم کا اطلاق نہیں کرتی تھیں لیکن سودہ رضی اللہ عنہا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال اقدس کے بعد بھی ساری عمر گھر سے باہر نہ نکلیں اور فرمایا کہ میں حج اور عمرہ دونوں کر چکی ہوں، اب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشاد کے مطابق گھر سے باہر نہ نکلوں گی-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صلب مبارک سے آپ کو کوئی اولاد نہیں تھی-
وصال مبارک: آپ کا وصال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ماہ ذوالحجہ 23 ھ میں ہوا، آپ کی نماز جنازہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور مدینہ منورہ جنت البقیع میں آپ کی تدفین عمل میں آئی-
آپ سے 5 احادیث شریفہ مروی ہیں، ایک صحیح بخاری میں اور 4 سنن اربعہ میں ہیں-

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا قریش کے خاندان عدی سے تھیں-
سلسلہ نسب یہ ہے: حفصہ بنت عمر فاروق بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی-
والدہ کا نام حضرت زینب بنت مظعون تھا، جو بڑی جلیل القدر صحابیہ تھیں، عظیم المرتبت صحابی حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ماموں اور فقیہ اسلام حضرت عبداللہ بن عمر ان کے حقیقی بھائی تھے-
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ اللہ عنہا بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ سال قبل عین اس سال جب قریش خانۂ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے، پیدا ہوئیں، آپ کا پہلا نکاح خنس بن حذافہ سہمی سے ہوا- حضرت حفصہ اور حضرت خنس دعوت حق کی ابتداء میں اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہو گئے اور مدینہ طیبہ کو ہجرت کی- حضرت خنس رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں زخم کھائے اور واپس آ کر ان ہی زخموں کی وجہ سے شہادت پائی- حضرت خنس رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے کوئی اولاد نہیں چھوڑی-
حضرت خنس رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، جب عدت کے دن پورے ہو گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے نکاح ثانی کی فکر لاحق ہو گئی، کیونکہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا عین جوانی کے عالم میں اچانک بیوہ ہو گئی تھیں، جس کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کافی مغموم رہتے تھے- چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہ صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غم کو محسوس کیا بلکہ اس کا مداوا کرنے کی سعی فرمائی اور وہ اس طرح کہ خود حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے عقد کی خواہش کی- یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لئے مژدہ تھا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے ماہ شعبان 3 ہجری میں نکاح فرمایا اور یہ ام المومنین کی حیثیت سے کاشانۂ نبوی کی سکونت سے مشرف ہو گئیں-
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، اس لئے مزاج میں ذرا تیزی تھی، حضرت امیر المومنین ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں ان کی کسی سخت کلامی سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دل آزاری نہ ہو جائے، چنانچہ بار بار آپ ان سے فرماتے تھے کہ جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے طلب کر لو ، اگر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تم سے ناراض ہو گئے تو تم خدا کے غضب میں گرفتار ہو جاؤ گی-
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی- جبریل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوئے-
ارجع حفصۃ فانھا صوامۃ قوامۃ وانھا زوجتک فی الجنۃ- ترجمہ: حفصہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کر لیجئے وہ بڑی روزہ دار اور عبادت گزار عورت ہے، اور جنت میں آپ کی بیوی ہے- (ابن سعد اور طبرانی)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بہت ہی شاندار بلند ہمت اور سخاوت شعار خاتون تھیں، حق گوئی، حاضر جوابی اور فہم و فراست میں اپنے والد بزرگوار کا مزاج پایا تھا- اکثر روزہ دار رہا کرتی تھیں اور تلاوت قرآن مجید اور قسم قسم کی عبادتوں میں مصروف رہا کرتی تھیں- صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا دجال کے شر سے بہت ڈرتی تھیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دجال کے خروج کا محرک اس کا غصہ ہو گا-
مسند احمد میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی تعلیم کا کافی اہتمام فرمایا، حضرت شفاء بنت عبداللہ عدوبہ رضی اللہ عنہا سے ان کو لکھنا پڑھنا سکھوایا اور مسند امام احمد میں ہے کہ حضرت شفاء نے ان کو چیونٹی کاٹنے کا منتر بھی سکھایا تھا-
رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قرآن حکیم کے تمام کتابت شدہ اجزاء کو یکجا کر کے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھوا دیا، یہ اجزاء حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد تا زندگی آپ کے پاس رہے، یہ ایک عظیم الشان شرف تھا جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہوا-
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اتنی سخی تھیں کہ وفات سے پہلے حضرت عبداللہ کو وصیت کی کہ ان کی غابہ کی جائیداد کو صدقہ کر کے وقف کر دیں-
وفات: شعبان 45ھ میں مدینہ منورہ کے اندر وفات پائی- اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کا زمانہ تھا اور مروان بن حکم مدینہ کا گورنر تھا، اس نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور نبی حزم کے گھر سے مغیرہ بن شعبہ کے گھر تک جنازہ کو کاندھا دیا، اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جنازہ کو قبر تک لے گئے، پھر ام المومنین کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور بھتیجوں نے قبر میں اتارا-
حدیثیں: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے 40 حدیثیں مروی ہیں، ان میں 4متفق علیہ ، 4 صحیح مسلم میں اور باقی دیگر کتب احادیث میں ہیں-
ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہا
آپ کا نام: حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا، لقب : ام المساکین-
نسب مبارک یہ ہے: زینب بنت خزیمہ بن حارث بن عبداللہ بن عمرو بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ کی بیٹی تھیں اور والدہ کا نام ہند بنتِ عوف تھا-
حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا شروع ہی سے نہایت دریا دل اور کشادہ دست تھیں، فقیروں اور مسکینوں کی امداد کے لئے ہر وقت کمربستہ رہتی تھیں، اور بھوکوں کو نہایت فیاضی سے کھانا کھلایا کرتی تھیں، ان صفات کی وجہ سے جاہلیت کے زمانہ ہی سے ام المساکین (مسکینوں کی ماں) کے لقب سے مشہور ہوئیں- حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبداللہ بن جحش سے ہوا ، جو جلیل القدر صحابی تھے- 3ھ میں جنگ احد کے موقع پر اس جوش سے حصہ لیا کہ تلوار ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی، اسی حالت میں لڑتے لڑتے رتبۂ شہادت پر فائز ہوئے-
حضرت زینب رضی اللہ عنہ اللہ عنہا کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوا اور مہر 12 اوقیہ قرار پایا- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نکاح کے بعد تین مہینے ہی گزرے تھے کہ پیغام اجل آ گیا- حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کے بعد دوسری زوجۂ مطہرہ یہی تھیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں وصال کیا-
حضرت زینب رضی اللہ عنہا پسندیدہ اخلاق کی مالک تھیں، لوگوں کو فائدے پہنچاتی تھیں، یتیموں اور بیواؤں کی خدمت کرتی تھیں، آپ کے بطن مبارک سے کوئی اولاد نہیں-
وصال مبارک: 4 ربیع الآخر میں 30 برس کی عمر پاکر وصال فرمائیں اور جنت البقیع کے قبرستان میں دفن ہوئیں، خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں میں رخصت ہوئیں ، دوسری ازواج مطہرات نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد وصال کیا-

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: ہند، کنیت: ام سلمہ، قریش کے خاندان مخزوم سے تھیں-
نسب مبارک یہ ہے: ہند بنت ابی مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم- والدہ کا نام عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ تھا ، خاندان قریش سے تھیں، آپ کے والد کا نام بعض مورخین کے نزدیک “سہیل” ہے-
آپ کے والد ایک دولتمند اور بے حد فیاض آدمی تھے، ان کی سخاوت اور دریادلی کی شہرت چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی، بیسیوں لوگ ان کے دسترخوان پر پلتے، کبھی سفر کرتے تو اپنے تمام ہمراہیوں کی خوراک اور دوسری ضروریات کی کفالت ان ہی کے ذمہ ہوتی، ان فیاضیوں کی بدولت لوگوں نے انہیں “زاد الراکب” کا لقب دے رکھا تھا، اور وہ تمام قبائلِ قریش میں نہایت عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے-
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنے باپ کی مانند بے حد سخی تھیں، دوسروں کو بھی سخاوت کی ترغیب دیتی تھیں، ناممکن تھا کہ کوئی سائل ان کے گھر سے خالی ہاتھ چلا جائے، زیادہ نہ ہوتا تو تھوڑا یا جو کچھ بھی ہوتا، سائل کو عطا کر دیتیں- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح آپ کے چچازاد بھائی ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی رضی اللہ عنہ سے ہوا- ان ہی کے ساتھ وہ مشرف بہ اسلام ہوئیں اور ان ہی کے ساتھ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کیں اور پھر وہاں سے مکہ واپس آ کر مدینہ کی طرف ہجرت کیں- آپ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ آپ سب سے زیادہ ہجرت کرنے والی خاتون تھیں- حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے-
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے راہ حق میں جو مصیبتیں اٹھائی تھیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس کا بے حد احساس تھا، چنانچہ عدت گزارنے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معرفت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے قبول کر لیا-
ماہ شوال 4ھ میں وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نکاح میں آ گئیں، نکاح کے وقت ان کی عمر 26 سال تھی، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو مہر میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کھجور کی چھال سے بھرا ہوا ایک چرمی تکیہ، دو مشکیزے اور دو چکیاں عطا فرمائیں، جو کسی ازواج مطہرات کو عطا نہیں فرمائی تھیں- نکاح کے بعد وہ حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے گھر لائی گئیں- ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے توبہ کرنے کی خوشخبری حجرہ کے دروازے پر کھڑی ہو کر آپ نے ہی دی تھی- ایک دن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے گھر تھے، آیت تطہیر اِنَّمَا یُرِیدُ اللہُ لِیُذْہِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ اَہلَ الْبَیتِ (سورۃ الاحزاب- 33 ) کا نزول ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد ازواج مطہرات میں حسن و جمال کے ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں-
امام الحرمین کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی عورت کو غیر معمولی دانشمند نہیں جانتا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کر کے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ منورہ واپس لوٹ جائیں، کیونکہ اس شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے، لوگ اس رنج و غم میں تھے، ایک شخص بھی قربانی کیلئے تیار نہیں تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کے اس طرز عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ خود قربانی ذبح فرمائیں، احرام کھول دیں اور سرمنڈوالیں- چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسا ہی کیا، صحابہ کرام نے یقین کر لیا کہ اب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلح حدیبیہ کے معاہدہ سے ہرگز ہرگز نہ بدلیں گے، صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اپنی اپنی قربانیاں دیں اور احرام اتار کر سر منڈوا لیا- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی دانشمندی اور عقل و ذہانت کی وجہ سے یہ مسئلہ حل ہو گیا- یہ آپ کی دانشمندی کی سب سے بہتر مثال ہے- (صحیح بخاری)
اللہ تعالی نے انہیں خوبروئی، علم و ذہانت اور اصابت رائے کی نعمتوں سے کافی حصہ دیا تھا- قرآن کریم کی قرات نہایت عمدہ طریقے سے کرتی تھیں اور آپ کی قرأت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قرات سے مشابہت رکھتی تھی-
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو حدیث سننے کا بہت شوق تھا، ایک دن بال گندھوا رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور خطبہ دینا شروع کیا، ابھی زبان مبارک سے “یا ایھا الناس” نکلا تھا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اٹھ کھڑی ہوئیں اور اپنے بال خود باندھ لیں، اور بڑے انہماک سے پورا خطبہ سنا، سرور عالم سے نہایت عقیدت تھی، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے موئے مبارک تبرکاً چاندی کی ڈبیہ میں محفوظ رکھے تھے-
صحیح بخاری میں ہے کہ صحابہ میں سے کسی کو تکلیف پہنچتی تو وہ ایک پیالہ پانی سے بھر کر ان کے پاس لاتے ، وہ موئے مبارک نکال کر اس پانی میں حرکت دے دیتیں، اس کی برکت سے تکلیف دور ہو جاتی-
مسند احمد میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے کہ ہمارا قرآن میں ذکر نہیں- حضو ر صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی بات سنکر منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی: ان المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خبرگیری کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں جاتی تھیں، ایک دن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو علیل پاکر ان کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے منع فرمایا- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی نہایت زاہدانہ تھی، عبادت الٰہی سے بڑا شغف تھا، ہر مہینہ میں تین روزے نفل رکھا کرتیں، اوامر و نواہی کی بے حد پابند تھیں-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صلب مبارک سے آپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک شیشی میں آپ کو مٹی عطا فرمائی تھی اور فرمایا جب اس کا رنگ سرخ ہو جائے تو سمجھ لینا کہ امام حسین شہید ہوئے- چنانچہ 61 ھ میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں شہید ہو گئے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے ،سر اور ریش مبارک گرد آلود ہے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : یا رسول اللہ! کیا حال ہے، آپ نے فرمایا: حسین کے مقتل سے آ رہا ہوں، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ کھلی اور اس مٹی کو دیکھا جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو دی تھی، وہ سر خ ہو چکی تھی اور بے اختیار رونے لگیں-
وفات: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے 63 ھ میں 84 سال کی عمر میں وفات پائی- تمام ازواج مطہرات میں آپ ہی سب سے اخیر میں انتقال فرمائی اور جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواج مطہرات کے پہلو میں دفن ہوئیں-
حدیثیں: علامہ ابن قتیم کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فتاوی سے ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہوسکتا ہے، آپ کے فتاوی بالعموم متفق علیہ ہے- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے 378 حدیثیں مروی ہیں-

ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام: رملہ، کنیت: ام حبیبہ
نسب مبارک یہ ہے: ام حبیبہ بنت سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس- والدہ کا نام صفیہ بنت العاص تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، گویا حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا امیر معاویہ کی حقیقی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی زاد بہن تھیں-
حالات زندگی اور نمایاں پہلو
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی سے سترہ سال قبل مکہ میں پیدا ہوئیں- حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح عبید اللہ بن جحش سے ہوا، دونوں بھی اسلام لانے کے بعد ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے- وہاں جانے کے بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام حبیبہ رکھا، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو شرف صحابیت حاصل ہے اور ان ہی کے نام پر ام حبیبہ کنیت رکھی گئی اور پھر اسی کنیت سے مشہور ہوئیں- چند روز کے بعد عبید اللہ مرتد ہو کر عیسائی بن گیا مگر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا برابر اسلام پر قائم رہیں-
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبید اللہ کے نصرانی ہونے سے پہلے آپ نے اس کو ایک نہایت بری طرح اور بھیانک شکل میں خواب میں دیکھا، بہت گھبرائی، صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ عیسائی ہو چکا ہے- میں نے خواب بیان کیا (شاید متنبہ ہو جائے) مگر کچھ توجہ نہیں کی اور شراب نوشی میں برابر منہمک رہا، حتی کہ اسی حالت میں مرگیا-
چند روز کے بعد خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص یا ام المومنین کہہ کر آواز دے رہا ہے، جس سے میں گھبرائی، عدت کا ختم ہونا تھا کہ یکایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پیغام آ گیا- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عالم غربت میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بیوہ ہونے کی اطلاع ملی تو ایام عدت پورے ہونے کے بعد حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی شاہ حبشہ کے پاس اسی غرض کے لئے بھیجا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے نکاح کا پیغا م دے- نجاشی نے اپنی ایک لونڈی کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پیغام نکاح حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا، انہیں بے حد مسرت ہوئی، اظہار مسرت میں لونڈی کو چاندی کی دو انگوٹھیاں، کنگن اور نقرئی انگوٹھیاں عطا کیں، اور خالد بن سعید بن العاص کو جو آپ کے ماموں کے بیٹے تھے، وکیل مقرر کیا- شام کو نجاشی نے حضرت جعفر بن ابو طالب اور دوسرے مسلمانوں کو بلاکر خود خطبہ نکاح پڑھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے 400 دینار مہر ادا کیا- رسم نکاح سے فراغت کے بعد حضرت خالد بن سعید نے سب کو کھانا کھلا کر رخصت کیا-
نکاح کے کچھ عرصہ بعد حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شراجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ام المومنین کا لقب پایا- اس طرح ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا-
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا پاکیزہ ذات ، حمیدہ صفات کی جامع اور نہایت ہی بلند ہمت اور سخی طبیعت کی مالک تھیں اور بہت ہی قوی الایمان تھیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں قدیم الاسلام کا شرف بخشا- ان کے والد ابو سفیان جب کفر کی حالت میں تھے، بے تکلف ان کے مکان میں جا کر بستر نبوت پر بیٹھنے لگے، فوراً ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بستر الٹ دیں، اور ابو سفیان کو ناگوار گزرا- اس بستر پر اپنے باپ کا بیٹھنا بھی تمہیں اچھا نہیں لگا؟ بولیں : بے شک مجھے پسند نہیں کہ ایک مشرک بستر نبوت پر بیٹھے- ابو سفیان خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا اور کہا میرے پیچھے تو بہت بگڑ گئی ہے-
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ابو سفیان اپنی بیٹی کے حسن و جمال پر فخر کیا کرتے تھے- مسند احمد میں ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بارہ رکعت نفل روزانہ پڑھے گا ، اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا- چنانچہ اس کے بعد حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ساری زندگی کبھی اس نماز کا ناغہ نہیں کیا-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ، انتقال کے وقت حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے اور آپ کے درمیان سوکنوں کے تعلقات تھے، اگر کوئی غلطی مجھ سے ہوئی ہو تو معاف کر دیجئے، اور حضرت ام سلمہ سے بھی یہی الفاظ کہے، اس کے بعد فرمایا: اللہ آپ کو خوش رکھے، آپ نے مجھے خوش کیا-
وفات: 44ھ میں 73 سال کی عمر پاکر اپنے بھائی امیر معاویہ کے عہد حکومت میں وفات پائی اور جنت البقیع میں ازواج مطہرات کے حظیرہ میں مدفون ہوئیں- (زرقانی، مدارج النبوۃ)
حدیثیں: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے 65 حدیثیں مروی ہیں- دو حدیثیں بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں، اور ایک حدیث وہ ہے جس کو تنہا مسلم نے روایت کیا ہے- باقی حدیثیں دیگر کتب احادیث میں ذکر ہیں-
ان کے شاگردوں میں ان کے بھائی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، ان کی صاحبزادی حضرت حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے بھانجے ابو سفیان بن سعید رضی اللہ عنہم بہت مشہور ہیں-
ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا
نام: زینب کنیت: ام الحکم ان کا تعلق قریش کے خاندان اسد بن خزیمہ سے تھا-
سلسلۂ نسب یہ ہے: زینب بنت جحش بن رتاب بن لعمیر بن صبرۃ بن مرۃ بن کثیر بن غم بن دودان بن سعد بن خزیمہ- ماں کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب تھا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پھوپھی تھیں، اس لحاظ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں-
حالات زندگی اور نمایاں پہلو: حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان خوش قسمت لوگوں میں تھیں جنہوں نے السابقون الاولون بننے کا شرف حاصل کیا- 13 سال بعد بعثت میں اپنے اہل خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا تھا – مگر چونکہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا خاندان عرب کی ایک بہت ہی شاندار خاتون تھیں اور حسن و جمال میں بھی یہ خاندان عرب کی بے مثال عورت تھیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے متبنیٰ بنا لیا تھا مگر پھر بھی چونکہ وہ پہلے غلام تھے، اس لئے حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان سے خوش نہیں تھیں اور اکثر میاں بیوی میں ان بن رہا کرتی تھی، یہاں تک کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان کو طلاق دے دی-
اس واقعہ سے فطری طور پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قلب نازک پر صدمہ گزرا، چنانچہ ان کی عدت گزرنے کے بعد محض حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی دلجوئی کے لئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس اپنے نکاح کا پیغام بھیجا- روایت ہے کہ یہ پیغام بشارت سن کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے دو رکعت نماز ادا کی اور سجدہ میں سر رکھ کر یہ دعا مانگی کہ خداوند! تیرے رسول نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے، اگر میں تیرے نزدیک ان کی زوجیت میں داخل ہونے کے لائق عورت ہوں تو یا اللہ! تو ان کے ساتھ میرا نکاح فرما دے- ان کی یہ دعا فورا ہی قبول ہو گئی- اس نکاح کے بارے میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کسی مخلوق سے مشورہ نہیں بلکہ فرمایا :اپنے پروردگار عزوجل سے مشورہ یعنی استخارہ نہ کر لوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں فرشتوں کی موجودگی میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا، اب زمین میں بھی اسی اعلان کی ضرورت تھی، چنانچہ جبریل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے- فَلَمَّا قَضٰی زَیدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا- ترجمہ: پس جب زید (رضی اللہ عنہ) اپنی حاجت پوری کرچکے اور ان کو طلاق دے دی تو اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہم نے زینب (رضی اللہ عنہا) کا نکاح تم سے کر دیا- (سورۃ الاحزاب- 37 )
اس آیت کے نزول کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور ان کو یہ خوشخبری سنائے کہ اللہ تعالی نے میرا نکاح ان کے ساتھ فرما دیا ہے- یہ سنکر ایک خادمہ دوڑتی ہوئی آئی اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچی اور یہ آیت سناکر خوشخبری دی- اذا تقول للذی انعم اللہ علیہ الخ وانعمت علیہ الخ-
حضرت زینب اس بشارت سے اس قدر خوش ہوئیں کہ اپنا زیور اتار کر اس خادمہ کو انعام دیا اور خود سجدہ میں گر پڑیں اور اس نعمت کے شکریہ میں دو ماہ لگاتار روزہ دار رہیں- روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے بعد ناگہاں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے مکان تشریف لے گئے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)! بغیر خطبہ اور بغیر گواہ کے آپ نے میرے ساتھ نکاح فرما لیا، آپ نے آپ کا نام پوچھا کیونکہ آپ کا اصلی نام “برہ” تھا تو آپ نے بجائے “برہ” کے زینب تجویز کیا- استیعاب
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تیرے ساتھ میرا نکاح اللہ تعالی نے کر دیا ہے اور حضرت جبریل اور دوسرے فرشتے اس نکاح کے گواہ ہیں- 4 یا 5 ہجری میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نکاح میں آئیں- اس وقت آپ کی عمر 35 سال تھی اور مہر 400 درہم مقرر ہوا-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح پر جتنی بڑی دعوت ولیمہ فرمائی اتنی بڑی دعوت ولیمہ ازواج مطہرات میں سے کسی کے نکاح کے موقع پر بھی نہیں فرمائی- آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دعوت ولیمہ میں تمام صحابہ کرام کو نان و گوشت کھلایا-
فضائل و مناقب: حضرت زینب رضی اللہ عنہا ازواج مطہرات سے بطور فخر کہا کرتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے اولیاء نے کیا، اور میرا نکاح اللہ تعالی نے سات آسمانوں میں کیا- (رواہ الترمذی)
شعبی نے ایک مرسل روایت نقل کی ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہا کرتی تھیں کہ یا رسول اللہ میں تین وجہ سے آپ پر ناز کرتی ہوں-
میرے اور آپ کے جد امجد ایک ہیں یعنی عبدالمطلب، ایک روایت میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں-
اللہ تعالی نے آپ کا نکاح مجھ سے آسمان پر فرمایا-
جبریل امین اس بارے میں ساعی رہے-
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فضائل و مناقب میں چند احادیث بھی مروی ہیں- چنانچہ روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد تم ازواج مطہرات میں سے میری وہ بیوی سب سے پہلے وفات پاکر مجھ سے آ کر ملے گی جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہے- یہ سن کر تمام ازواج مطہرات نے ایک لکڑی سے اپنا اپنا ہاتھ ناپا تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جو بلند قد کی مالک تھیں، اسی لئے آپ کا ہاتھ سب سے لمبا نکلا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد ازواج مطہرات میں سب سے پہلے زینب رضی اللہ عنہا نے وفات پائی، تو اس وقت پتہ چلا کہ ہاتھ لمبا ہونے سے مراد کثرت سے صدقہ دینا تھا- حضرت زینب رضی اللہ عنہا دستکاری کا کام کرتی تھیں، اس کی آمدنی فقراء و مساکین پر صدقہ کر دیا کرتی تھیں- حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کی خبر سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے ایک قابل تعریف عورت جو سب کے لئے نفع بخش تھی اور یتیموں او ر بوڑھی عورتوں کا دل خوش کرنے والی تھی، آج دنیا سے چلی گئیں- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ بھلائی اور سچائی میں اور رشتہ داروں کے ساتھ مہربانی کے معاملہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے متعلق فرمایا “میں نے اپنے دین کے معاملہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بہتر کوئی عورت نہیں دیکھی”-
واقعۂ افک کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم علیہ وسلم کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ سے استفسار فرمایا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بڑے وثوق کے ساتھ جواب دیا: مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اچھائیوں کے علاوہ کسی بات کا علم نہیں-
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہمسری کا دعوی تھا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح کئی خصوصیات کا مظہر تھا، جس میں مختصر اور چند یہ ہیں:
جاہلیت کی رسم کہ متبنیٰ حقیقی بیٹے کا درجہ رکھتا ہے مٹ گیا-
لوگوں کو حقیقی باپ کے علاوہ دوسرے (منہ بولے باپ) سے منسوب نہ کرو-
آیت حجاب نازل ہوئی اور پردہ کا رواج ہوا- (اور چند باتیں اوپر ذکر کی گئی تھیں)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا عبادت میں بہت خشوع و خضوع کے ساتھ مشغول رہتی تھیں- ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے متعلق فرماتی ہیں: “بڑی نیک، بڑی روزہ رکھنے والی اور بڑی تہجد گزار تھیں، بڑی کمانے والی تھیں جو کماتیں کل مساکین پر صدقہ کر دیتی تھیں”-
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب پہلی مرتبہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا سالانہ نفقہ جو بارہ ہزار درہم تھے، بیت المال سے آپ کے پاس آئے تو بار بار کہتی تھیں کہ اے اللہ! آئندہ یہ میرے پاس نہ آئے، چنانچہ اسی وقت تمام مال اقارب اور حاجت مندوں میں تقسیم کر دیا-
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ہوئی تو یہ فرمایا کہ کچھ ایسا نظر آتا ہے کہ اللہ کی طرف خیر اور بھلائی کا ارادہ ہے- فوراً ہزار درہم روانہ کئے اور سلام کہلا بھیجا کہ وہ بارہ ہزار تو خیرات کر دئیے، یہ ایک ہزار اپنی ضرورتوں کے لئے رکھ لیں- حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے وہ ہزار بھی اسی وقت تقسیم کر دئیے- جب سب مال تقسیم ہو گیا تو برزہ بنت رافع نے کہا: اللہ تعالی آپ کی مغفرت فرمائے، آخر ہمارا بھی اس مال میں کچھ حق ہے- آپ نے فرمایا: اچھا جو رقم اس کپڑے کے نیچے موجود ہو وہ تم لے لو- برزہ نے کپڑا اٹھاکر دیکھا تو پچاسی درہم تھے- جو مال آپ تقسیم کر رہی تھیں اس پر آپ نے کپڑا ڈال دیا تھا اور برزہ آپ کے حکم کے مطابق فلاں فلاں یتیم کو دے آؤ تو وہ دے کر آ رہی تھی- سب مال ختم ہونے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے اللہ اس سال کے بعد عمر کا وظیفہ مجھ کو نہ پائے-
آپ کی وفات کا سال: سن 20 ھ یا 21 ھ میں 53 برس کی عمر پاکر مدینہ منورہ میں دنیا سے رخصت ہوئیں- ان کی وفات سے مدینہ کے فقراء و مساکین میں حشر برپا ہو گیا، کیونکہ وہ مربی و دستگیر تھیں ، وفات کے وقت سوائے ایک مکان کے ترکہ میں کچھ نہیں چھوڑا، سب راہ خدا میں لٹا چکی تھیں، وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کپڑے خوشبو لگا کر کفن کے لئے بھیجے لیکن حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی سے جو کفن تیار رکھا تھا ان کی بہن حمنہ نے صدقہ کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے کفن میں ان کو کفنایا گیا- نماز جنازہ فاروق اعظم نے پڑھائی اور تمام کوچہ بازار میں فاروق اعظم نے اعلان کرایا کہ “تمام اہل مدینہ اپنی مقدس ماں” کی نماز جنازہ کے لئے حاضر ہو جائیں- وفات سے کچھ دیر پہلے وصیت کی کہ مجھے تابوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اٹھایا جائے- چنانچہ وصیت پوری کی گئی، وفات کے دن شدید گرمی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قبر کی جگہ پر خیمے لگوا دئیے اور محمد بن عبداللہ بن جحش، اسامہ بن زید، عبداللہ بن ابی احمد اور محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا اور جنت البقیع میں دوسری ازواج مطہرات کے ساتھ دفن ہوئیں-
حدیثیں: حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے 11 حدیثیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کی ہیں، جن میں سے دو حدیثیں بخاری ومسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہیں، باقی نو دیگر کتب احادیث میں لکھی ہوئی ہیں-

ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا
نام: جویریہ اور برہ نام تھا، قبیلہ خزاعہ کے خاندان مصطلق سے تھیں-
نسب مبارک یہ ہے: (جویریہ) برہ بنت حارث بن ابی ضرار بن خبیب بن عائذ بن مالک بن . . (مصطلق)
حالات زندگی اور نمایاں پہلو : حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ،حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں، جو قبیلۂ بنی مصطلق کا سردار تھا- پہلا نکاح اپنے عم مسافع بن صفوان (ذی شعر) سے ہوا جو غزوۂ مریسع میں قتل ہوا-
اس لڑائی میں کثرت سے لونڈی غلام مسلمانوں کے ہاتھ آئے ، ان ہی لونڈیوں میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، جب مال غنیمت کی تقسیم ہوئی تو وہ ثابت بن قیس بن شماس انصاری کے حصہ میں آئیں، چونکہ قبیلۂ کے رئیس کی بیٹی تھیں، لونڈی بن کر رہنا گوارا نہ ہوا، حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ مجھ سے کچھ روپیہ لے کر چھوڑ دو، وہ راضی ہو گئے اور 19 اوقیہ سونے پر کتابت ہوئی ہے-
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور کہا میں مسلمان، کلمہ گو عورت ہوں اور قبیلۂ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی بیٹی ہوں- 19 اوقیہ سونے پر ان سے عہد کتابت کیا- یہ رقم میرے امکان میں نہ تھی، لیکن میں نے آپ کے بھروسہ پر اس کو منظور کر لیا اور اب آپ سے اس کا سوال کرنے کے لئے آئی ہوں، ان کی فریاد سن کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رحم آ گیا اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کروں تو کیا تم اس کو منظور کر لو گی- تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ اس سے بہتر سلوک اور کیا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری کتابت کی رقم میں خود ادا کر دوں اور تم کو آزاد کر کے میں خود تم سے نکاح کر لوں تاکہ تمہارا خاندانی اعزاز و وقار باقی رہے- یہ سن کر حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کی شادمانی و مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی- انہوں نے اس اعزاز کو خوشی خوشی منظور کر لیا اور یہ ام المومنین کے اعزاز سے سرفراز ہو گئیں-
آپ کا نکاح 5 ھ شعبان میں ہوا، 400 درہم مہر مقرر ہوا- اس وقت آپ کی عمر 20 سال تھی، جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا، تمام مجاہدین ایک زبان ہو کر کہنے لگے کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نکاح فرما لیا اس خاندان کا کوئی فرد لونڈی غلام نہیں رہ سکتا-
چنانچہ اس خاندان کے جتنے فرد لونڈی غلام مجاہدین اسلام کے قبضہ میں تھے، فوراً ہی سب سے سب آزاد کر دئیے گئے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کسی عورت کا نکاح حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے نکاح سے بڑھ کر مبارک ثابت نہیں ہوا، کیونکہ اس نکاح کی وجہ سے بنی مصطلق کے سینکڑوں گھرانے آزاد کر دئیے گئے اور آزاد کردہ غلاموں کی تعداد ایک روایت کے مطابق 700 بتائی گئی- (زرقانی، جلد 3 )
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے میرے قبیلہ میں تشریف لانے سے 3 رات پہلے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ مدینہ سے ایک چاند نکلتا ہوا آیا اور میری گود میں گر پڑا، اس خواب کا ذکر میں نے کسی سے نہیں کیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مجھ سے نکاح کرنے کے بعد میں اس کی تعبیر سمجھ گئی (زرقانی)
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا اصلی نام برہ (نیکوکار) تھا لیکن اس نام سے بزرگی اور بڑائی کا اظہار ہوتا ہے اس لئے ان کا نام بدل کر جویریہ (چھوٹی لڑکی) رکھ دیا-
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو عبادت الٰہی سے نہایت شغف تھا، عبادت کے لئے مسجد کے نام سے گھر میں ایک جگہ مخصوص کر رکھی تھی- چنانچہ جامع ترمذی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم علیہ وسلم علی الصبح تشریف لائے نصف النہار کے بعد پھر تشریف لائے اور مجھ کو مشغول عبادت دیکھا، اور فرمایا: اس وقت سے اب تک اسی حالت میں ہو، آپ نے کہا: ہاں، تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو کچھ کلمات بتلائے دیتا ہوں، وہ پڑھ لیا کرو، ان کو تمہاری نفل عبادت پر ترجیح حاصل ہے- مسلم اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ چار کلمے تیرے بعد تین بار کہے ہیں کہ اگر ان کو تیری نمازوں سے جو تولا جائے جو تو نے صبح سے نصف النہار تک پڑھی ہیں، تمہاری نفل عبادت پر ترجیح حاصل ہے، وہ چار کلمے وزن میں بڑھ جائیں گے-
ایک دن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کچھ کھانے کو ہے؟ عرض کیا: میری کنیز نے صدقہ کا گوشت دیا تھا بس وہی موجود ہے، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: لے آؤ، جس کو صدقہ دیا گیا اس کو پہنچ چکا- حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو عزت نفس کا بہت خیال تھا-
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے دو بھائی اور والد اپنی قوم کے قیدیوں اور اپنی بیٹی جویریہ رضی اللہ عنہا کو چھڑانے کے لئے چند اونٹنیاں اور لونڈیاں ساتھ لائے- حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو اونٹ اور لونڈیاں فلاں پہاڑ کے پیچھے چھپا آئے ہو؟ یہ سننا ہی تھا کہ ان کے اندھیرے دل میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوت کا نور چمک اٹھا اور فوراً کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوئے- (کتاب استیعاب)
وفات: 50ھ میں 65 برس کی عمر پاکر مدینہ طیبہ میں وفات پائی اور حاکم مدینہ مروان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور جنت البقیع کے قبرستان میں مدفون ہوئیں- (زرقانی، جلد 2 )
حدیثیں: حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے 7 حدیثیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہیں، جن میں سے دو حدیثیں بخاری شریف میں اور دو حدیثیں مسلم شریف میں باقی تین حدیثیں دیگر کتب احادیث میں مذکور ہیں- آپ کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت جابر، حضرت عبد بن صباغ اور ان کے بھتیجے حضرت طفیل رضی اللہ عنہم وغیرہ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل ہیں- (مدارج النبوۃ، جلد 2 )

ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالی عنہا
نام صفیہ ہے ، آپ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے تھیں۔
سلسلۂ نسب یہ ہے: صفیہ بنت حیی بن اخطب بن شعیۃ بن ثعلبہۃ بن عامر بن عبید بن کعب بن خزرع بن ابی حبیب بن نجام بن ینحوم ۔
ماں کا نام: برہ (ضرہ) بنت سموئل تھا حییبن اخطب بنو نضیر کا سردار تھا۔
حیی بن اخطب ، حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہونے کی وجہ سے اپنی قوم میں بے حد معزز و محترم تھا۔ تمام قوم اس کی وجاہت کے آگے سرجھکاتی تھی، چودہ بر س کی عمر میں حضرت صفیہ کی شادی ایک مشہور اور نامور شہسوار سلام مشکم قرظی سے ہوئی لیکن دونوں میاں بیوی میں بن نہ آئی نتیجتاً سلام بن مشکم نے انہیں طلاق دے دی۔ اس طلاق کے بعد حیی بن اخطب نے ان کا نکاح بنی قریظہ کے مقتدر سردار کنانہ بن ابی الحقیق سے کر دیا وہ خیبر کے رئیس ابو رافع کا بیٹا تھا اور خیبر کے قلعہ القموس کا حاکم تھا، کنانہ معرکۂ خیبر میں مقتول ہوا، معرکہ کے بعد تمام قیدی اور مال غنیمت ایک جگہ جمع کیا گیا ، جب مال غنیمت کی تقسیم ہونے لگی تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے لئے پسند فرمایا، چونکہ وہ اسیران جنگ میں ذو صفت تھیں، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! صفیہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کی رئیسہ ہیں، خاندانی وقار ان کے لباس سے عیاں ہے، وہ ہمارے سردار یعنی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موزوں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشورہ قبول فرمایا اور حضرت دحیہ کلبی کو دوسری لونڈی عطا فرما کر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور انہیں یہ اختیار دے دیا کہ چاہیں وہ اپنے گھر چلی جائیں یا پسند کریں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آ جائیں۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنا پسند کیا اور ان کی رضامندی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی کو ہی ان کا مہر قرار دیا ، خیبر سے چل کر مقام صہبا‘‘ میں اترے اور ’’صہبا‘‘ کے مقام میں رسم عروسی ادا کی گئی، ولیمہ عجب شان سے ہوا، چمڑے کا دسترخوان بچھا دیا گیا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اعلان کر دو کہ جس کے پاس جو کچھ توشہ جمع ہے وہ لے آئے، کسی نے کھجور لایا، کسی نے پنیر، کسی نے ستو لایا، اور کسی نے گھی،جب اس طرح کچھ جمع ہو گیا تو سب نے ایک جگہ بیٹھ کر کھا لیا، اس ولیمہ میں گوشت اور روٹی کچھ نہ تھا۔ (بخاری، مسلم)۔ مقام ’’صہبا‘‘ میں تین روز قیام رہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا پردے میں رہیں، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو خود حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اونٹ پر سوار کر کے عبا سے ان پر پردہ کیا کہ کوئی نہ دیکھ سکے، گویا کہ یہ اعلان تھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ام المومنین ہیں، ام ولد نہیں۔ (بخاری،مسلم)
مدینہ طیبہ پہنچ کر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر اتارا، ان کے حسن و جمال کا شہرہ سن کر انصار کی عورتیں اور دوسری خواتین اور ازواج مطہرات انہیں دیکھنے آئیں، جب دیکھ کر جانے لگیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پہچان لیا اور فرمایا: عائشہ! تم نے اس کو کیسا پایا؟ جواب دیا: یہودیہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہو، وہ مسلمان ہو گئیں اور ان کا اسلام اچھا اور بہتر ہے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر چند ابھرے ہوئے نشانات تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ یہ نشانات کیسے ہیں؟ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ میں نے ایک خواب میں دیکھا کہ آسمان سے چاند ٹوٹا میری گود میں گرا، میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا تو اس نے زور سے میرے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا تو یثرب کے بادشاہ کی تمنا کرتی ہے، اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نہایت حلیم الطبع، خلیق، کشادہ دل اور صابرہ تھیں۔ جب وہ ام المومنین کی حیثیت سے مدینہ تشریف لائیں اور حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا انہیں دیکھنے آئیں تو انہوں نے اپنے بیش قیمت طلائی جھمکے اپنے کانوں سے اتار کر حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کو دئیے اور ان کی ساتھی خواتین کو بھی کچھ نہ کچھ زیور عطا فرمایا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت محبت تھی اور ہر موقع پر ان کی دلجوئی فرماتے تھے، ایک بار سفر میں ازواج مطہرات ساتھ تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا، وہ بہت غمزدہ اور پریشان ہو گئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تشریف لا کر ان کی دلجوئی کی اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایک اونٹ دے دو، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس زیادہ اونٹ تھے، وہ نہایت سخی اور با مروت تھیں، لیکن ان کی زبان سے نکل گیا ‘‘یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں’’ ۔ یہ کلمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آیا اور آپ نے دو تین ماہ تک حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے کلام تک نہ کیا، پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعہ اپنا قصور معاف کرا لیا۔ قبول اسلام کے بعد یہودیت کا طعن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لئے بڑی دل آزاری کا ہوتا تھا لیکن وہ نہایت صبر و تحمل سے کام لیتیں اور کسی کو سخت جواب نہ دیتی تھیں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پست قد کے بارے میں کہا کہ اتنی ہے اتنی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور فرمایا: اگر اس بات کو سمندر کے پانے میں ڈال دیا جائے تو سارا سمندر مکدر ہو جائے گا۔
ایک روز حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رو رہی تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کی؟ معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم تمام ازواج مطہرات میں افضل ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرہ ہونے کے علاوہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابتدار ہیں، لیکن تم یہودی ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی دلجوئی کے لئے فرمایا: حضرت عائشہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہما جب یہ کہتی ہیں کہ ان کا خاندان نبوت سے تعلق ہے تو تم نے کیوں نہ کہہ دیا کہ میرے باپ ہارون علیہ السلام اور میرے چچا موسی علیہ السلام اور میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو گئے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا جو اپنی باری کا دن کسی کو نہیں دیتیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے کر معاف کرا لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری وقت جب بہت علیل رہتے تھے، اکثر ازواج مطہرات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف لاتی تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بے چین دیکھا تو عرض کیا: ‘‘کاش آپ کی بیماری مجھے ہو جاتی’’۔ دوسری ازواج مطہرات نے ان کی طرف دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا اظہار عقیدت بالکل سچا ہے، دل سے بالکل وہ یہی چاہتی ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے اچھا کھانا پکانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی۔
عفو و درگزر
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ ام المومنین میں ابھی تک یہودیت کی بو پائی جاتی ہے، وہ ہفتہ کے دن کو اچھا سمجھتی ہیں اور یہودیوں سے دلی لگاؤ رکھتی ہیں۔ تحقیق کے لئے امیر المومنین خود تشریف لے گئے اور احوال معلوم کئے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جب سے خدا نے مجھے ہفتہ کے بدلہ جمعہ عنایت فرمایا مجھے ہفتہ کو دوست رکھنے کی ضرورت نہیں رہی، ہاں یہودیوں سے بے شک مجھے لگاؤ ہے کہ وہ میرے قرابتدار ہیں اور مجھے ان کے ساتھ صلہ رحمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ حضرت امیر المومنین ان کی حق گوئی سے بہت خوش ہوئے اور واپس تشریف لے گئے، اس کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی سے دریافت کیا کہ میری شکایت پر کس چیز نے تجھے آمادہ کیا، اس نے کہا: شیطان نے بہکایا، اس کے بعد ام المومنین نے راہ خدا میں لونڈی کو آزاد کر دیا۔
علم و فضل میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا مرتبہ بلند تھا، کوفہ کی عورتیں اکثر ان کے پاس مسائل دریافت کرنے آتی تھیں، بے حد درد مند تھیں، 35ھ میں خلیفہ سوم حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کا بلوائیوں نے محاصرہ کر لیا تو ان کو بہت رنج ہوا۔ حالات بگڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے مکان جانے سے رہ گئیں اور حضرت امام حسین بن علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہاتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانا بھیجا۔
وصال مبارک: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رمضان المبارک 50ھ میں 60 سال کی عمر میں وصال کیا اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ ذاتی مکان راہ خدا میں دے دیا تھا، ترکہ میں ایک لاکھ درہم نقد چھوڑے، وصیت کی کہ ان کے یہودی بھانجے کے لئے ہیں۔ لوگوں نے دینے میں تامل کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہلا بھیجا: اللہ سے ڈرو، چنانچہ ان کی وصیت کی تعمیل کر دی گئی۔
مروی احادیث مبارکہ: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے 76 حدیثیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، جن میں ایک حدیث بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے۔ اور باقی روایات دیگر کتب احادیث میں درج ہیں۔ ن کی حدیثوں کو حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ، حضرت اسحاق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت یزید بن معتب رضی اللہ عنہ اور حضرت مسلم بن صفوان رضی اللہ عنہ نے چند احادیث مبارکہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان کی ہیں۔
ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح میں آنے کے بعد آپ کا نام میمونہ رکھا جس کا معنی برکت دہندہ ہے ، آپ قبیلہ قیس بن عیلان سے تھیں۔
سلسلۂ نسب یہ ہے: میمونہ بنت حارث بن حزن بن بحیر بن ہزم بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ بن معاویہ بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان ۔ والدہ کا نام ہند بنت عوف بن زہیر بن حارث بن حماطہ بن جرش تھا۔
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی سے ہوا، انہوں نے کسی وجہ سے طلاق دے دی، پھر ابو رہم بن عبدالعزی کے نکاح میں آئیں۔ 7 ھ میں انہوں نے وفات پائی اور حضرت میمونہ بیوہ ہو گئیں، اسی سال حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، تو حضور صلی الہ علیہ وسلم کے عم محترم حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لینے کی تحریک کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم رضامند ہو گئے۔ چنانچہ احرام کی حالت میں ہی شوال 7ھ میں 500 درہم مہر پر حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا۔ عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ سے دس میل کے فاصلہ پر بمقام ‘‘سرف’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابو رافع رضی اللہ عنہ ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر اسی جگہ آ گئے اور یہیں رسم عروسی ادا ہوئی، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زوجۂ مطہرہ تھیں، ان سے نکاح کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اور نکاح نہیں فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نہایت خداترس اور متقی تھیں، ہم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والی اور صلہ رحمی کا خیال رکھنے والی تھیں۔
مدینہ طیبہ میں ایک دفعہ ایک خاتون سخت بیمار ہو گئی، اس نے منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو بیت المقدس جا کر نماز ادا کروں گی، اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کر لی، منت پوری کرنے کے لئے بیت المقدس جانے کا ارادہ کیا، سفر پر روانہ ہونے سے قبل حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے رخصت ہونے آئی اور تمام ماجرا بیان کیا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھایا کہ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ بیت المقدس جانے کے بجائے مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں نماز پڑھ لو منت بھی پوری ہو جائے گی اور ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ آپ کے اس مبارک مشورے سے سفر کی تکالیف سے بچ گئیں اور مسجد نبوی کی اہمیت سے بھی واقف ہو گئیں۔
ایک دن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو آپ کے بھانجے تھے، اس حال میں آئے کہ بال پراگندہ اور بکھرے ہوئے تھے‘ آپ نے فرمایا: یہ حالت کیوں ہے؟ تو بولے میری بیوی ایام میں ہے، کیونکہ وہ ہی مجھے کنگھا کرتی تھی تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کبھی ہاتھ بھی ناپاک ہوتے ہیں اور فرمایا: کہ ہم اس حالت میں ہوتی تھیں اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری گود میں سر رکھ کر لیٹتے تھے اور قرآن کریم تلاوت فرماتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہایت بلیغ انداز میں سمجھایا کہ عورتیں اس حالت میں حسی طور پر ناپاک نہیں ہوتیں بلکہ یہ ناپاکی حکمی ہوا کرتی ہے۔
شریعت کی خلاف ورزی پر جلال کا اظہار فرماتیں اور برائی سے بروقت منع فرماتیں، چنانچہ ایک دفعہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا ایک قریبی رشتہ دار اس حالت میں حاضر ہوا کہ اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی، وہ سخت غضبناک ہوئیں اور اسے جھڑک کر کہا کہ آئندہ کبھی میرے گھر میں قدم نہ رکھنا۔
راہ خدا میں انہوں نے لونڈی کو آزاد کر دیا، اس کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو فرمایا: خدا تم کو جزائے خیر دے۔
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بہت ہی مخیر اور فیاض تھیں، وقتاً فوقتاً قرض لینے کی نوبت آ جاتی تھی۔ ایک دفعہ بہت زیادہ رقم قرض لے لیں، کسی نے پوچھا: ام المومنین! اتنی زیادہ رقم کی ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟ فرمایا: میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت سے قرض لیتا ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کے قرض کی ادائیگی کے اسباب مہیا کر دیتا ہے۔
وصال مبارک: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے 51 ھ میں “سرف” کے مقام پر وصال فرمایا اور اسی چھپر میں آپ کی آرام گاہ ہے جہاں آپ کی رسم عروسی ادا ہوئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نماز جنازہ پڑھائی۔ محدث عطاء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جنازہ کو زیادہ حرکت نہ دو، یہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقۂ حیات ہیں۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس، یزید بن اصم، عبداللہ بن شداد اور عبداللہ خولانی رضی اللہ عنہم نے قبر شریف میں اتارا۔ (زرقانی، جلد 3)
روایت کردہ احادیث شریفہ: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے 76 حدیثیں مروی ہیں، ان میں سے 7 متفق علیہ ، ایک صحیح بخاری میں اور ایک صحیح مسلم میں ہے، بعض کا کہنا ہے کہ 5 احادیث صحیح مسلم میں منفرد ہیں۔ ان کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن شداد ، عبدالرحمن بن سائب رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ ازواج مطہرات کے علاوہ دو بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چار کنیزیں تھیں، جن میں سے دو مشہور ہیں۔

ام المومنین ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام : ماریہ قبطیہ بنت شمعون رضی اللہ عنہا ، آپ کو مقوقس کے شاہ اسکندریہ نے بطور نذرانہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، حضرت ماریہ مصر کی رئیس زادی تھیں، عزیز مصر، مقوقس نے قافلۂ ماریہ کو بڑے اہتمام اور عظیم الشان تحائف کے ساتھ رخصت کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قافلہ کا شاندار استقبال کیا اور حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ام سلیم بنت ملحان کے گھر اتارا جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا واپسی میں راستہ میں حاطب بن بلتعہ کی دعوت اسلام سے مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی بہن سیرین بھی آئی تھیں، جن کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بھی ازواج مطہرات جیسا سلوک کرتے تھے۔
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا بہت حسین و جمیل، نہایت خوش اخلاق اور بڑی دیندار خاتون تھیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ان کے خوبصورت بال اور حعد مشکیں بے حد پسند تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ماریہ کے بطن سے ایک نرینہ اولاد حضرت ابراہیم 8 ذو الحجہ میں پیدا ہوئے اور 18 ماہ رہ کر وصال فرمائے، حضرت ماریہ ، حضرت ابراہیم کے وصال پر اشکبار ہو گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اشکبار ہو گئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی زوجہ مطہرہ سے اولاد نہیں ہوئی۔
وصال مبارک: حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا 16 ھ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ امیر المومنین نے حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے اعزاز و اکرام کو باقی رکھا اور نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔

ام المومنین حضرت ریحانہ بنت شمعون رضی اللہ تعالی عنہا
نام ریحانہ ہے ، یہود کے خاندان بنو نضیر سے تھیں بعض نے بنو قریظہ کہا ہے۔
سلسلۂ نسب یہ ہے: ریحانہ بنت شمعون بن زید بن خنافہ
بعض روایتوں میں ا س طرح ہے: ریحانہ بنت زید بن عمر بن خنافہ بن شمعون بن زید۔ لیکن پہلا سلسلہ نسب اہل سیر کے نزدیک معتبر ہے۔’
حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے والد کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ حضرت ریحانہ کا نکاح پہلے بنو قریظہ کے ایک شخص “حکم” سے ہوا۔ غزوۂ بنو قریظہ کے بعد جن یہودیوں کو قتل کیا گیاحکم بھی ان میں شامل تھا۔ ریحانہ ان عورتوں میں تھیں جنہیں اس موقع پر مسلمانوں نے گرفتار کیا۔
ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرت ام المنذر بنت قیس رضی اللہ عنہا کے گھر ٹھہرایا۔ ان کے قبول اسلام کے بارے میں دو روایتیں ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم چاہو تو اسلام قبول کر لو اور چاہو تو اپنے مذہب پر قائم رہو۔ انہوں نے اپنے مذہب کو ترجیح دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر اسلام قبول کر لو تو اپنے پاس رکھوں گا، لیکن وہ یہودیت پر قائم رہیں۔ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رویہ سے بہت رنج ہوا۔ آپ نے ریحانہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا، ایک دفعہ آپ صحابہ کرام کی جماعت کے درمیان رونق افروز تھے۔ ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے قبول اسلام کی خوشخبری سنائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ دوسری روایت کے مطابق حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرتی ہوں، قبول اسلام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی ملک میں رکھا۔ بعض روایتوں کے مطابق انہیں آزاد کرنے کے بعد ان سے نکاح فرما کر ازواج مطہرات میں شامل کر لیا۔ بہر صورت وہ باپردہ رہتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہر فرمائش پوری کرتے تھے۔
حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا نے 5 سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفیقۂ حیات کی حیثیت سے گزارے۔ محرم 6 ھ میں بارہ اوقیہ اور ایک نش سونا مہر میں دیا کرتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اتنا ہی مہر ادا فرما کر حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا۔ اور جس طرح دوسری ازواج مطہرات کی باری مقرر تھی، اسی طرح حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کی بھی باری مقرر تھی، اس طرح ام المومنین کے زمرے میں شامل ہو گئیں۔
وصال مبارک: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے فارغ ہو کر واپس مدینہ تشریف لائے تو حضرت ریحانہ کا انتقال ہوا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے بعد یہ تیسری رفیقۂ حیات ہیں، جن کا انتقال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوا۔
٭٭٭

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s